احمر رشید بھٹی کا تعلق رائے ونڈ سے ھے لاھور اور کینڈا سے اعلی تعلیم حاصل کی واپس آکر سی ایس ایس کیا سول سروس چھوڑ کر سیاست میں آئے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رائے ونڈ سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہو��ے کل لاھور میں پرامن مظاہرہ پر گرفتار ہوئے ان کے ساتھ پولیس آفیسر کا سلوک اور رکن اسمبلی کی تذلیل ملاحظہ فرمائیں ھمیں نوجوانوں کو سیاسی عمل سے مایوس نہیں کرنا چاھئے ۔
جی بالکل۔۔ آپ کے لئے گیارہ کو گیارہ سو بنانا بھی مسئلہ نہیں۔ تین کو آٹھ بنانا بھی مسئلہ نہیں۔ سترہ کو ایک سو ستر بنانا بھی مسئلہ نہیں۔ فروری دو ہزار چوبیس میں سب نے دیکھا کہ ن لیگ کو گنتی الٹی سیدھی کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں۔
علامہ اقبالؒ کے فلسفۂ خودی میں عوام کے مینڈیٹ کا احترام تھا یا فارم 47 کے سہارے اقتدار؟ قائداعظمؒ کے وژن میں ووٹ کی حرمت تھی یا انتخابی نتائج بدل کر وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنے کا راستہ؟ اقبالؒ اور قائدؒ کے نام لینے سے پہلے ان کے اصولوں پر بھی عمل کر لیا کریں۔
Whether it’s international or domestic media both are facing unprecedented restrictions in Pakistan. The harassment of journalists through PECA is carried out at whims by the govt and judiciary which ought to protect freedom of expression is now merely a tool in the hands of the oppressors!
The list is long @AsadAToor , @AzazSyed being the latest victims.
اس درجہ سنیارٹی کے ساتھ اگر کوئی محض ڈاکیا بن جائے تو کس قدر قابل رحم حالت ہے ۔ کبھی مریم کی تعریفیں کبھی جوڑی سلامت رہنے کی دعائیں ۔ ہائے صحافت تیری۔۔۔۔۔
Hello @IESCOIslamabad
Why the Tax certificate for commercial users still not updated on your website ? It's causing delay with regard to submission of tax return to @FBRSpokesperson
ضلع اوکاڑہ کے تھانہ سنگھرہ کی حدود میں محنت کش امجد علی کی کم عمر بیٹی کو مبینہ طور پر عمران ولد سعید احمد اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ ورغلا کر گھر سے لے گیا۔ پولیس نے درخواست موصول ہونے پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365-B کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی۔ تاہم بعد ازاں اہل خانہ کو معلوم ہوا کہ ملزم نے مبینہ طور پر ان کی بیٹی کے ساتھ نکاح کر لیا ہے۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں نافذ Punjab Child Marriage Restraint Act, 2025 کے تحت 18 سال سے کم عمر بچی کا نکاح قانوناً ممنوع ہے، اس لیے یہ نکاح غیر قانونی قرار دیا جانا چاہیے۔ خاندان نے اپنے ویڈیو بیان میں الزام عائد کیا کہ پولیس اس معاملے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اب تک نہ تو کم عمر بچی سے نکاح کرانے والے نکاح خواں اور نہ ہی نکاح کے گواہان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کی گئی ہے۔ متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے معاملے کا فوری نوٹس لینے، بچی کی بازیابی کو یقینی بنانے، پولیس کو شفاف اور تیز رفتار کارروائی کی ہدایت دینے اور کم عمر بچی کا نکاح پڑھانے، اس میں معاونت کرنے اور بطور گواہ شریک ہونے والے تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
@MaryamNSharif@OfficialDPRPP
یہ حکومت بھی انہی کی لگائی ہوئی ہے جن کے وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ ہیں۔ تحریک انصاف کے لوگ مارے گئے موصوف محسن نقوی کو شاباش دے رہے تھے اپنی دم پر پاؤں آیا تو چیخیں نکل رہی ہیں۔ تم سب ایک ہی ٹوکری کے گندے پھل ہو۔
بلاول کی تقریر کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ بلاول زرداری اور پیپلزپارٹی اس نظام کا پارٹ اینڈ پارسل ہیں، اس نورا کُشتی سے عوام کو کوئی دلچسپی نہیں۔
یہ”ہارڈ سٹیٹ “ کی تھیوری پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔ جِس خِطہ میں مختلف قومیں اور زبانیں بولنے والے لوگ ہوں وہاں ہارڈ سٹیٹ نہیں بنا کرتے۔ ہم مصر و چین نہیں اور نہ ہی شمالی کوریا۔ یہاں صرف ایک دوسرے سے تعاون کی بنیاد پر ہی ریاست چل سکتی ہے اور افراد اور قوموں کے درمیان تعاون کا ہی دوسرا نام آئین ہے۔
آزاد کشمیر ، بلوچستان ، خیبر پختونخواہ لہو لہان ہیں۔ آزادیاں چھین لی گئی ہیں۔ الیکشن بے معنی ہو گئے ہیں اور معیشت تباہ حال ہے۔ یہ”فیلڈ سٹیٹ “ کی نشانیاں نہیں تو اور کیا ہے؟ ہمیں ہارڈ سٹیٹ کی نہیں ، ایک آئینی سٹیٹ کی ضرورت ہے۔ لوگوں اور قوموں کے حقوق کی ضامن۔
ہر بات کا جواب جیل یا گولی نہیں ہوتا۔ عقل کو ہاتھ دیں، پاکستان کسی بڑے سانحہ”Implosion “ سے اَب کُچھ زیادہ دور نہیں۔
پیپلز پارٹی ریاست سے ضرور سوال کرے لیکن پہلے اپنی راہیں ن لیگ سے جدا کر کے دکھاۓ،
تاکہ پتا تو چلے کہ جعلی اقتدار کے جس گٹر پر تنقید کر رہے ہیں، پہلے اس سے خود تو باہر آ چکے ہوں۔
ورنہ خود بھی اسی گٹر میں ڈبکياں لگانی ہیں اور پھر اسی گٹر پر تنقید بھی کرنا کچھ جچتا نہیں۔
ڈی سی لاہور کیپٹن ریٹائرڈ علی اعجاز جلسے کی ا��ازت کے سلسلے میں سب سے بڑی عوامی جماعت کے نمائندوں سے مل رہے ہیں۔ صرف ڈی سی کی باڈی لینگویج اور کرسی پر جھولے بہت کچھ بتا رہے ہیں۔
تنخواہ دار سرکاری ملازمین کا رویہ کیا ایسا ہونا چاہیے؟