Brexit promised control. It delivered paralysis, contraction and a generation of broken trust between the neighbours.
The UAE, Pakistan, and the OIC - watch carefully. History is rhyming again.
https://t.co/6pCgi06KxW
Perhaps the world is not only broken by grand wars and political failures, but by the small cruelties of self: our tones, our judgements and our refusal to suffer even slightly for others.
I wrote on the false god and the path back to peace.
https://t.co/0j0QmpycTQ
The Pakistani labourer. The Emirati-Pakistani business partners have spent 30 years living abroad. The Iranian family with cousins in Saudia. States rearrange power, and ordinary people inherit the damage.
A chance of peace.
https://t.co/6pCgi06KxW
1,000,000 views
When I published this piece three days ago, I hoped it might reach a few thousand people. A million of you read it. Ministers, ambassadors, journalists, students, traders in Karachi, doctors in Chicago, teachers in Lahore, accountants in London. Thank you for reading it, sharing it, arguing about it, and most of all for seeing yourselves in it. Pakistan deserved a proper introduction to the world. You made sure it got one.
حضور یہ برطانوی جج سنوڈن کے فیصلے کا ہی ایک پیراگراف ہے جس کیمطابق این سی اے کو اچھے سے معلوم تھا کہ یہ رقم سپریم کورٹ سے عائد جرمانہ ادا کرنے کیلئے ہی جا رہی ہے اور وہ جرمانہ بھی بحریہ ٹاؤن کیلئے پیپلز پارٹی کی سندھ سرکار سے تقریباً مفت حاصل کی گئی زمین کے اسکینڈل پر ریاست نے سپریم کورٹ میں کیس کے نتیجے میں کیا تھا۔برطانوی عدالتی فیصلے کے مطابق بھی ریاست کو رقم واپسی کا مطلب یہی تھا۔
جو بات آپ کر رہے ہیں وہ اس کیس کا عمومی تاثر جو یہاں بنایا گیا وہ ہے اور اگر وہ درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا شہزاد اکبر نے برطانیہ کو بھی دھوکا دیا، این سی اے کو غلط اکاؤنٹ نمبر دیا اور اب برطانیہ میں ہی قیام پذیر ہے اور پھر برطانیہ اس کی حوالگی کی درخواستیں بھی نہیں مان رہا نہ خود اس کے خلاف دھوکہ دہی کی کارروائی کر رہا ہے؟
یہ کیس بالکل بنتا تھا اگر اس کا مرکز و محور صرف رقم کی واپسی کے بجائے اس کے باہر جانے سے شروع ہوتا، نیب اپنے کیس میں خود لکھتا ہے اس کا آغاز برطانیہ میں فلیٹ کے سودے سے شروع ہوتا ہے مگر وہ کردار ملزم ہی نہیں بنائے جاتے کیونکہ وہ 2017 کی اپنی حکومت میں ہی اس کو ایمنسٹی میں ڈیکلئیر کر چکے تھے اور ایسے ڈیکلیریشن کے بعد پاکستان میں قانون کریمنل کارروائی کی اجازت ہی نہیں دیتا اسی لیے نیب نے 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ میں بند کر دیا تھا، حیران کن طور پر اس کو دوبارہ کھول کر عمران خان کےخلاف صرف بنا دیا جاتا ہے، حقائق چھپائے جاتے ہیں، ملزمان کو پک اینڈ چوز کیا جاتا ہے، وزیر اعظم کے سابق قریبی ساتھیوں کو گواہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، کہا جاتا ہے یہ ملک ریاض اور این سی اے کے درمیان معاہدہ شہزاد اکبر کی موجودگی میں نومبر 2019 میں برطانیہ میں ہوا مگر ریکارڈ پر آتا ہے کہ اس دوران وہ برطانیہ گئے ہی نہیں، یہ چار پانچ نکات ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے کی روشنی میں اس کیس کو غیر شفاف ٹرائل بنا دیتے ہیں مگر آپ ایک عمومی بیانیی پر اس کو اوپن اینڈ شٹ کیس قرار دے رہے ہیں ۔ یہ اوپشن اینڈ شٹ کیس ہوتا تو ٹرائل بند سلاخوں کے پیچھے چلتا؟ ہائیکورٹ اپیل آنے سے پہلے مرضی کے جج ٹرانسفر کرکے لائے جاتے؟ سپریم کورٹ اپیل جانے سے پہلے قانون بدل کر اپیل کا فورم ہی بدلا جاتا کہ اب آئینی مقدمات کیلئے بنی آئینی عدالت نیب کیس کی اپیل سنے گی؟ساری بحث چھوڑیں، جج سنوڈن کے فیصلے کا پیراگراف 45حاضر ہے، پڑھیے اور خود فیصلہ کیجئے
The cholesterol wars are over.
LDL won.
New guidelines. Four landmark trials. An oral PCSK9 inhibitor that matches injectables. And data proving we should be treating patients we currently aren't.
Here's everything clinicians need to know. 🧵
پنڈت کی باتیں جس سے شرمائے مسلمان 🔥
ہم نے بہادری کے قصے سنے تھے اج دیکھ بھی لیے ۔ہم نے ہمیشہ سوچا کوئی تو ہوگا جو امریکہ کو پانی پلائے گا ایران نے پلا دیا۔ یہ بات حق ہے جو اللہ اور اس کے رسول پہ بھروسہ رکھتا ہے اللہ اس کو کبھی نہیں ہارنے دیتا۔🥹👊