بعض رشتے خون سے بنتے ہیں، بعض کردار سے امر ہو جاتے ہیں۔
فاطمہ جناح نے اپنے بھائی کے ساتھ کھڑے ہو کر تاریخ لکھی۔ آج ایک اور بھائی کی بہنیں آزمائش کے دور میں اسی استقامت کی علامت بنی ہوئی ہیں۔
یہ اسی تاریخی تسلسل کا ادبی تصور ہے، ایک تخیلاتی خط، جو شاید مادرِ ملت آج ہوتیں تو لکھتیں۔ جذبے، استقامت اور وفا ہماری قومی تاریخ کے انہی اوراق سے جنم لیتے ہیں جہاں بہنیں کبھی ہار نہیں مانتیں۔
#خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان
@ibnehussain03 ہمارے ملک کے لیے دعا کریں جس نے بھی اس کو نقصان پہنچایا
یا جو بھی پاکستان میں آئین اور قانون کو روندتا رہا یا روند رہا ہے اللہ پاک اس کو غرق کرے۔ آمین
آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
2 دسمبر 2025
#RetweetImranKhan
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
گجرات سے عمران خان کے جانثار ورکر ذیشان گل سیٹھی کو وفات کے ڈیڑھ سال بعد آج عدالت نے بے گناہ قرار دے کر با عزت بری کر دیا۔
کینسر کا موذی مرض جسم کو چاٹتا رہا، لیکن وہ شخص دو سال تک گرتا پڑتا عدالتوں میں پیش ہوتا رہا اور بالآخر اسی نظام کی چوکھٹ پر دم توڑ گیا۔ گجرات کا ذیشان گل سیٹھی تو سرخرو ہو کر مٹی تلے جا سویا، لیکن یہ مہرِ انصاف اس اندھے نظام کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔
مسلسل 55 برس میں یہ پہلا موقع ہے کہ عمران خان پاکستانی عوام کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ عمران خان یزیدِ وقت عاصم منیر کی غیرقانونی قیدِ میں ہیں۔ 3 جون 1971 سے لے کر 5 اگست 2023 تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پاکستانی قوم اپنے محبوب بیٹے، بھائی اور شفیق باپ کو اتنے طویل عرصے تک دیکھنے سے محروم رہی ہو خوش آئیند بات یہ ہے کہ قوم نے تہیہ کر رکھا ہے کہ #خان_کی_رہائی_تک_لڑتے_رہنا_ہے
@Markhorr313 کیا پاکستان میں انصاف قائم ہے؟
کیا پاکستان میں طاقتور اور کمزور دونوں قانون کے سامنے ایک جیسے ہیں؟
کیا پاکستان میں لوگوں کو بنیادی ضروری حقوق مل رہے ہیں؟
@mianphaja@JAAC__Official بُزدل ہمیشہ سازشیں کرتے ہیں ڈیلیں اور لین دین کرتے ہیں
ان کے نزدیک ذاتی مفاد اہم ہوتے ہیں
ہماری تاریخ حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے صورت میں سامنے ہے جو کم تعداد کے باوجود بھی ڈٹے رہے
ٹیپو سلطان کی صورت میں ہےرائے احمد خاں کھرل کی
صورت میں ہے
قائدِ اعظم محمد علی جناح کیصورت میں ہے
The moment that defined Pakistan’s sporting history, led by the man who would later lead the nation.
Imran Ahmed Khan Niazi, a champion on the field and Pakistan's legitimate Prime Minister, inspired generations with one unwavering belief: never stop fighting.
پاکستان کا فخر ہے عمران خان ،جسکی تصویر سے بھی تم ڈرتے ہو ،اللہ نے عمران خان کو یہ عزت دی ہے کیونکہ عمران خان عزت کے قابل ہے دلوں پر راج کرتا ہے تم چاہ کر بھی چھین نہیں سکتے ۔۔
امریکی اوور سیز پاکستانی ڈاکٹرز نے "Apnaa" تقریب کے دوران عمران خان کی یہ تصویر بغیر فیس کے لگا کر پاکستانی عوام کی توہین کی ہے،
آپ سب اس تصویر کو زیادہ سے زیادہ وائرل کریں۔
عمران خان کی تصویر برداشت نہیں عمران خان کی اواز برداشت نہیں عمران خان کا پیغام برداشت نہیں
ائیں مل کر ایک دفعہ پوری دنیا میں دوبارہ سے اس ہیش ٹیگ کو پھیلائیں خان صاحب کی تصویروں کے ساتھ
ایسے ہی جیسے ہم نے امپورٹڈ حکومت نامنظور کا ہیش ٹیگ چلایا تھا
#FreeImranKhan