Public trust is not built merely through reports but through accountability. Whoever has held a public office must openly explain their financial dealings and past questions so that every ambiguity is removed.
#لعنت_مولانا_ڈیزل
In politics, claims have their place, but the public also demands proof and clarification. If questions were raised in the past about assets, financial dealings, and other allegations, then providing comprehensive and documented responses is the requirement of transparency.
#لعنت_مولانا_ڈیزل
When international agencies from the U.S., Canada, and Europe coordinate a massive operation against networks allegedly run from India, this stops being a local crime story. It’s a global security story.
#CriminalIndians
1,000 kg of cocaine seized. Dozens of warrants executed. Arrests across continents. Yet some still claim concerns about transnational crime networks linked to India are “exaggerated.”
#CriminalIndians
It is regrettable to say that at the conclusion of the press conference, a few journalists adopted an unnecessarily aggressive, loud, and uncivil manner, contrary to journalistic principles and media ethics. Although DIG Operations was present to answer every question and was fully prepared to do so, the unprofessional behavior of a few individuals marred the atmosphere of the entire press briefing.
*ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی پریس کانفرنس میں صحافیوں کا جرنلزم اور میڈیا ایتھکس کا اپنے ہاتھوں جنازہ*
آج ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے دو غیر ملکی خواتین کی محفوظ بازیابی کے حوالے سے ایک اہم پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے نہایت ذمہ داری، شائستگی اور تفصیل کے ساتھ میڈیا کو تمام حقائق سے آگاہ کیا۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پریس کانفرنس کے اختتام پر چند صحافیوں نے صحافتی اصولوں اور میڈیا ایتھکس کے برعکس غیر ضروری جارحانہ، بلند آواز اور غیر مہذب انداز اختیار کیا۔ حالانکہ ڈی آئی جی آپریشنز ہر سوال کا جواب دینے کے لیے موجود تھے اور پوری آمادگی کے ساتھ جواب بھی دینا چاہتے تھے، مگر چند افراد کے غیر پیشہ ورانہ رویے نے پوری پریس بریفنگ کا ماحول متاثر کر دیا۔
صحافت میں سخت سوال پوچھنا ہر صحافی کا حق ہے، مگر اخلاقیات، شائستگی اور پیشہ ورانہ وقار کا دامن کسی بھی صورت نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اختلافِ رائے یا تنقید کبھی بھی بدتمیزی، اشتعال یا غیر مہذب رویے کا جواز نہیں بن سکتی۔
یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض افراد کو میڈیا ایتھکس، پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور ذمہ دار صحافت کے حوالے سے مزید تربیت اور آگاہی کی ضرورت ہے، تاکہ سوالات بھی مؤثر ہوں اور صحافت کا وقار بھی برقرار رہے۔
اس تمام صورتحال کے دوران ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کا رویہ انتہائی بردبار، مدبرانہ اور باوقار رہا۔ انہوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور ہر سوال کا جواب دینے کی کوشش کی، مگر چند افراد کے غیر ذمہ دارانہ رویے نے ایک اہم اور کامیاب پریس کانفرنس کی سنجیدگی کو متاثر کیا۔
بدقسمتی سے بعض افراد کے رویے سے محسوس ہوتا ہے کہ انہیں میڈیا ایتھکس، پیشہ ورانہ آداب اور ذمہ دار صحافت کے حوالے سے مزید تربیت اور آگاہی کی ضرورت ہے، تاکہ صحافت کا وقار برقرار رہے اور عوام تک درست معلومات ایک مہذب اور باوقار ماحول میں پہنچ سکیں
ریاستی اداروں اور میڈیا دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام تک درست معلومات باوقار اور ذمہ دارانہ انداز میں پہنچائیں۔ باہمی احترام، برداشت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات ہی مضبوط اداروں اور ذمہ دار صحافت کی بنیاد ہیں۔
صحافت صرف سوال کرنے کا نام نہیں، بلکہ اخلاق، برداشت، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ وقار کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ اختلافِ رائے ہر صحافی کا حق ہے، لیکن کسی بھی صورت میں صحافتی اخلاقیات اور مہذب رویے کی حدود سے تجاوز نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کہیں ان اصولوں کی کمی نظر آئے تو اس کا حل مزید تربیت اور پیشہ ورانہ آگاہی ہے، نہ کہ غیر مہذب طرزِ عمل
https://t.co/f2fMDLP6Zm
مجھے آپ کو یہ بتاتے ہوئے اور آپ کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے انتہائی خوشی ہو رہی ہے کہ ترکیہ سے ہمارے بھائی، وزیرِ توانائی، یہاں موجود دیگر رفقائے کار سمیت پاکستان کی مدد کے لیے بہت پرعزم ہیں۔ صدر رجب طیب اردوان سے لے کر ان کی کابینہ کے تمام ارکان، اور ترکیہ کے کاروباری حضرات (خواتین و حضرات) پاکستان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔
چنانچہ ہمیں امید ہے کہ آنے والے وقت میں ہم بزنس ٹو بزنس (B2B) سطح پر اس شعبے میں سرمایہ کاری لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
استنبول، پاکستان ترکیہ بزنس ٹو بزنس کانفرنس
*وزیراعظم محمد شہبازشریف کا کانفرنس سے خطاب*
@BSWarraich@CMShehbaz@PakPMO Prime Minister Shehbaz Sharif's arrival in Tehran and participation in the funeral rites of the Iranian Supreme Leader is a resounding message of this eternal bond, shared grief, and Islamic brotherhood.
@CMShehbaz Standing with Iran in this hour of grief, and the participation of a high-level delegation, is a symbol of the eternal brotherly bond between Pakistan and Iran.
Today, Tehran serves as the voice of the sentiments of the Pakistani nation under the leadership of Prime Minister Shehbaz Sharif. With the presence of Field Marshal Syed Asim Munir, this message became clear that Pakistan stands in solidarity with Iran's grief, honor, and dignity. 🇵🇰🇮🇷
@ShazaFK Pakistan’s digital story is changing. Better connectivity, improved infrastructure and a 20% rise in the ICT Development Index prove that PM Shehbaz Sharif’s Digital Pakistan vision is turning into visible progress.
https://t.co/HaYP4dkL3c
آج ہم سب مل کر یہ عزم کرتے ہیں کہ ہم تمام بین الاقوامی فورمز پر، قانونی اور دیگر ہر ممکن طریقوں سے یہ یقینی بنائیں گے کہ پاکستانی عوام کا پانی کا حق نہ صرف محفوظ رہے، بلکہ دنیا ہندوستان کی جانب سے اس معاہدے کو تبدیل کرنے کی ان غیر قانونی کوششوں کو بھی دیکھے، جنہیں وہ عملی جامہ نہیں پہنا سکتا۔
پانی کا حق ہمیشہ بہت مقدس رہے گا۔ پاکستان کے عوام، جن میں سے اکثریت اپنی روزی روٹی کے لیے زراعت پر انحصار کرتی ہے، اور پورے پاکستان کے مفادات اس سے جڑے ہیں۔ زراعت ہمارے ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور ہمیں موسمیاتی تبدیلی (climate change) جیسے سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔
*سندھ طاس معاہدے سے متعلق بین الاقوامی سیمینار*وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا خطاب
#IndusWatersTreaty
جو ملک ڈیفالٹ کے خوف سے نکل کر 452 ارب ڈالر کی معیشت، 3.7 فیصد گروتھ اور ریکارڈ ترسیلات تک پہنچے، اسے صفر کہنا تجزیہ نہیں، سیاسی ضد ہے، وزیراعظم شہباز شریف کو سراہا جانا برحق ہے۔
ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کی خوشنودی حاصل کرنے کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف صاحب کی چار سال کی کارکردگی صفر ہے۔کسی کو اختلاف ہے تو ازراہِ کرم اُن کے باقی کارنامے بھی گنوا دے۔
The accusation that the government is not providing relief is against the facts. During the war, petrol reached 458 and diesel 520 rupees, but today the prices are much lower; in Pakistan, the prices are already at that level. The Prime Minister's promise is that every financial capacity in this regard will be converted into public relief.