اب کے دیوار میں دروازہ رکھوں یا نہ رکھوں
اجنبی پھر نہ کوئی درپئے آزار آ جائے
ایک دستک میں مری ساری فصیلیں ڈھا جائے
اب کے دیوار میں دروازہ رکھوں یا نہ رکھوں
خود سے جدا ہوئے نہ تیری ذات میں رہے
ہم یونہی شام ِغم کی حوالات میں رہے
اک شہر ِخواب ہم نے بسایا تھا اور پھر
اس میں رہے نہ اس کے مضافات میں رہے
ہر بار کوئی بات ادھوری رہا کرے
ہر بار تشنگی سی ملاقات میں رہے