@ChotiSheikhni آوارگی کے نقش ابھر کر بکھر گئے
وہ شب گزار لوگ نہ جانے کدھر گئے
وہ دن بھی تھے کہ مد مقابل نہ تھا کوئی
یہ دن بھی ہے کہ آئنہ دیکھا تو ڈر گئے
ہمدرد غم گسار مزاج آشنا رفیق
کچھ لوگ آس پاس تھے جانے کدھر گئے
سربستہ راز ہی رہی ہم پر ہماری ذات
ہم بے خبر ہی آئے تھے اور بے خبر گئے