سولہ آنے درست بات۔ ورنہ جاوید ہاشمی کے گھر پولیس جا سکتی ہے ۔ نورین نیازی کو رات 12 بجے پیش ہونے کا نوٹس جا سکتا ہے تو مولانا کو کوئی کیوں نہیں چھیڑ رہا۔
ایک اور بھی کردار ہے جس پر نظر رکھیں۔ علی احمد کرد۔ وکلاء موومنٹ کا ڈرامہ ۔ وہ بھی سب کچھ کہتا ہے مگر اسے کوئی کچھ نہیں کہتا
یہ سب جانتے بوجھتے مون سون کی تباہ کاریوں کی نظر ہونے کے لئیے ہنسی خوشی نکلتے ہیں ۔
فیملیاں بچے سب ساتھ ہوتے ہیں ۔
ناجانے کونسی آگ انہیں حفاظتی اقدامات سوچنے پر راضی نہی ہونے دیتی ۔۔
ناران۔جھیل سیف الملوک روڈ کلاوڈ برسٹ کے باعث بند ہوگئی۔6 گھنٹے بعد روڈ کلیئر کر کے سینکڑوں سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
بھارت میں طالب علموں کا احتجاج ساری رکاوٹیں توڑ کر پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گیا ادھر ہمارے ہاں کسی سے راوی پار نہیں ہوتا تو کوئی 12 ضلعے پھلانگ کر گھر پہنچ جاتا ہے
مگر ۔۔۔
احتجاج کا رخ کبھی صحیح سمت میں شروع ہی کوئی نہیں کرتا
سب فیک ہے
کاکروچ بھارتی پارٹی کے نوجوان پارلیمنٹ کے احاطے میں داخل ھو گئے ہیں فوج تعینات کر دی گئی ہے بھارتی ارمی چیف کی جانب سے مظاہرین کو روکنے کے لیے گولی نہ چلانے کا حکم بھی سامنے ایا ہے اب تک لاکھوں نوجوان اس وقت پارلیمنٹ کے باہر موجود ہیں لیکن فوج نے گولی نہیں چلائی ڈی چوک میں پاکستانی نہتے نوجوانوں پر فوج نے گولی چلا کر کئی نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا
🚨🚨ایسی حرکتوں سے مسلمان کے خلاف گورے ملکوں میں نفرت بڑھ رہی ہے ۔
سن باتھ بیچ پر ایک گروپ ا کر نماز پڑھنے لگتا ہے ۔
کیا یہ ٹھیک کر رہے ہیں ؟
ننگی عورتوں کے سامنے نماز باجماعت پڑھی جا رہی ہے ۔
جبکہ یہ سب کو پتہ ہے یہ سن باتھ بیچ ہے ۔
پھر یہ سارے بھی سن باتھ ہی کرنے ائے ہوں گے ۔
اب گورے مطالبہ کر رہے ہیں ان کو ملک سے نکالو ۔۔۔
پاکستان میں کرکٹ کا سب بڑا لیجنڈ "عمران خان" ہے جسے عالمی سطح پر ابتک کا مضبوط ترین کپتان مانا جاتا ہے جسکی کرکٹ خدمات کو پوری دنیا سراہتی ہے۔ آج اسی کے نام پر بننے والی حکومت نے اسی کھیل کے میدان میں اپنے لیجنڈ کو فراموش کر دیا۔ شاباش KPK سرکار👍🏻
پہلے بیرسٹر گوہر کمپنی اور آج سہیل آفریدی کی طرف سے احتجاج شروع کرنے کے اعلانات علیمہ خان کے اچانک متحرک ہونے سے پیدا ہونے والا ردھم توڑنے کیلئے ہیں
ان تلوں میں تیل تھا ' نہ ہے ' نہ ہو گا
جب تمہارے دفاع میں طاہر اشرفی،مفتی عبدالقوی اور عائشہ گلالئی جیسے چہرے صفِ اول میں نظر آئیں تو سمجھ لیجیے کہ کردار و دلیل کا خزانہ خالی ہو چکا ہے،جو قوم اپنے دفاع کے لیے ایسے سہاروں کی محتاج ہو ،یقین جانئیے کہ ان سے جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی توقع رکھنا بے وقوفی ہے۔