یہ تصویر میں نے دو دن پہلے بھی پوسٹ کی تھی بطور نفسیات کے طالبعلم میرے لیے یہ بہت حیران کن تھی اور اس وقت میں بھی بہت کنفیوژ تھا یہ تصویر پاکستان کے طاقتور ترین شخصیت کے حوالے سے کچھ عجیب تھی یہ fig leaf باڈی پوسچر سخت ترین دباؤ ، برداشت کچھ کنٹرول کرنے کو ظاہر کرتا ہے میں نے اس وقت محتاط طور پر یہ سوچا کہ شاید مزاکرات کا شدید ترین دباؤ ہے مگر آج پتہ چلا کہ فیلڈ مارشل کے قتل کا پلاٹ پکڑا گیا تھا اور پاکستان اسرائیل کو مٹانے کی دھمکی دے چکا تھا اب یہ باڈی لینگویج مکمل سمجھ آ رہی ہے باڈی لینگویج کبھی غلط نہی ہوتی ہے یہ انسان کے subconscious کو شو کرتی ہے
اور اس لیکچر کے بعد دلہا دلہن اپنی ماؤں کے قدموں تلے سونے چلے گئے ۔ آنٹی بجائے آس موقع پر میاں بیوی کے ایکدوسرے پرحقوق سمجھانے کے ماؤں کو پہلے دن بیچ میں لے آئی ہیں ۔ یہ کمپنی نہیں چلے گی ۔
میں آپ کو بولنے نہیں دوں گا آپ باہر جا کر پریس کانفرنس کریں آپ کو 15 سے 20 گھنٹے بولنے دیا تھا آپ پیناڈول کی طرح ہیں 4 گھنٹوں بعد احسان اتار دیتے ہیں ۔ اسپیکر ایاز صادق 😂😂
یہ کوٹ عبدالمالک تھانے کے اے ایس آئی ہیں جو ایک فحاشی کے اڈے پر پاؤں دبوا رہے ہیں پنجاب پولیس کے جوان خود جرائم میں ملوث ہیں انہوں نے خاک کرائم کنٹرول کرنا ہے ۔۔
ایل پی جی صارفین کو قیمتوں میں شدید فرق کا سامنا ہے۔ اوگرا کا سرکاری نرخ 309 روپے فی کلو گرام ہے، جبکہ مارکیٹ میں صارفین 500 سے 550 روپے فی کلو گرام ادا کر رہے ہیں۔ شہریوں نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ قیمتوں پر موثر کنٹرول کو یقینی بنائیں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے درمیان ریلیف فراہم کریں۔
مائ مینڈک کا پوتا اور عثمان ڈار کا بیٹا امریکہ میں انجوائے کر رہا
اور پاکستان میں اسکی دادی اور باپ عوام کے بچوں کو اجتجاج ، انتشار اور لاٹھیاں کھانے کیلئے باہر نکلنے کیلئے کہتے 🤷♂️
آج قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان اور وزیراعظم شہباز شریف کا دلچسپ اور شائستہ مکالمہ اسی جمہوری روایت کی خوبصورت مثال تھا۔ اختلاف اپنی جگہ، مگر احترام اور برداشت ہی مضبوط جمہوریت کی پہچان ہے
میں قاہرہ میں تھا، سعودی شہزادے کو کہا واپسی پر ایک ڈیڑھ گھنٹے کیلئے مدینہ رُکنا ہے، وہ کہنے لگا تم نے مدینہ منورہ رُکنا ہو گا، ایک عرب وزیر خارجہ نے کہا میں ساری زندگی میں ایک دفعہ مدینہ گیا ہوں، ایک عمرہ کیا ، یہ تو بلاوے ہوتے ہیں وہاں جانے کے، یہ اللہ کا کرم ہے، اسحاق ڈار
ہائبرڈ سسٹم چلنا چاہئے، جب بھی اسلام آباد اور پنڈی میں تناؤ کی صورتحال ہوئی اُس سے پاکستان کو نقصان پہنچا، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم مُنیر کو اس بات کا شدید احساس ہے کہ ملک آئینی، معاشی اور سیاسی طور پر پٹڑی پر رہنا چاہیے،خواجہ آصف
مورخ لکھے گا کہ سردار ایاز صادق بھگو بھگو کر مارے جارہے ہیں اور بھرے ایوان میں عمرانی کلٹ کو آئینہ دکھا رہے ہیں اور سلام ہے ایاز صادق کو جنہوں نے انتہائی مودبانہ انداز میں دوسری مرتبہ محمود خان اچکزئی کی “ دال والی آندر پاڑ “ دی ہے
اچکزئی ہون چنگا ریا ایں
وزیراعظم نے ایرانی صدر کے سامنے یہ فارسی شعر پڑھا۔۔جس کا مفہوم یہ تھا کہ
"خوشی میں تو سب ہی آپ کے آس پاس آ جاتے ہیں
اصل دوست وہ ہے جو مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو"
ایرانی صدر نے مسکراتے
اثبات میں سر ہلایا
ہماری پری ہنستی مسکراتی ،کھیلتی کودتی پھر رہی تھی ، ہمیں کیا معلوم تھا آج وہ مر جائے گی ۔۔۔۔ مجرم ایک نہیں ہے یہ کہانی کچھ اور ہے ۔۔۔۔ منتہا زہرہ کو قران مجید پڑھانے والے قاری صاحب کے انکشافات ۔۔۔ میں صبح ساڑھے سات بجے منتہا کو قران پڑھانے انکے گھر گیا ، اس نے انتہائی سکون کے ساتھ مجھے سبق سنایا اور آگے سبق لیا ، وہ اتنی مطمئن تھی اس کے چہرے پر اتنا نور تھا جیسا میں نے اس سے پہلے نہ دیکھا تھا ، میں اسے سبق پڑھا کر چلا گیا ، 12 بجے اسکی والدہ نے مجھے فون کیا قاری صاحب منتہا گم ہو گئی ہے 1 گھنٹہ ہو گیا اسے تلاش کرتے ہوئے ، مل نہیں رہی آپ کے گھر تو نہیں چلی گئی ، میرا گھر زیادہ دور نہیں ہے میں فوری یہاں آیا گلیوں میں دیکھا اور پھر اس دکان پر گیا جہاں بقول والدہ وہ چیز لینے گئی تھی ، میں جب دکان پر پہنچا تو مالک موجود تھا اور 3 چار لڑکے بھی ، میں نے ان سے پوچھا کہ منتہا یہاں آئی تھی؟ تو وہ بولے آئی تو تھی لیکن پتہ نہیں کدھر گئی ، میں نے پوچھا تم اندھے ہو یا نشا کیا ہوا ہے 5 بندے ادھر کھڑے ہو بچی دکان میں آئی اور باہر واپس نہیں نکلی غائب ہو گئی اور تم کہتے ہو پتہ نہیں کہاں گئی، اس پر مالک دکان اور لڑکے ہنسنے لگے ، میں نے انکی آنکھوں میں شیطان ناچتا دیکھا ۔۔۔۔ اسکے بعد آدھے گھنٹے میں پولیس نے بچی کی لا۔ش چھت سے برآمد کر لی ۔۔۔ قاری صاحب اور اہل محلہ کے بقول ۔ ایک مجرم پار ہو چکا لیکن ہمیں پورا یقین ہے اصل واقعہ اور ہے اور یہ ایک لڑکے کا کیا دھرا نہیں اس میں زیادہ لوگ شامل ہیں ، ایک ملازم لڑکے کی کیا مجال کہ وہ دکان مالک اور اسکے بیٹوں کی موجودگی میں بچی کو دکان کے اوپر کمرے میں لے جائے اور اسکے ساتھ درندگی کرے ، لازمی طور پر ملازم دکاندار کا چہیتا تھا اگر اتنا چہیتا تھا اور وہ اسکے کردار سے بھی واقف تھے ۔ ۔۔۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ان باقی ملزموں سے بھی پولیس روایتی طریقے سے تفتیش کرے ، جیسا کہ ہمیں شک ہے یہ ایک بندے کا کام نہیں تو پھر باقی ملزمان کو بھی قرار واقعی سزا دی جائے ، گو۔لی سے سیکنڈوں والی موت سے ہمارے سینے ٹھنڈے نہیں ہونگے ، ملزمان کو دکان کے سامنے بازار میں لایا جائے اور ان پر پٹرول چھڑک کر انہیں آ۔گ لگا کر پورے بازار میں دوڑایا جائے وہ مدد کے لیے پکاریں تو ان پر اور تیل پھینکا جائے ۔۔۔ ایسے ہمارے سینوں میں لگی آگ بجھے گی اور دیکھنے والوں کو بھی عبرت حاصل ہو گی ۔۔۔
چودہ سو سال بعد پہلی مرتبہ، فارس اور عرب ایک دوسرے سے پر امن تعلقات قائم کرنے پر راضی ہوئے ہیں اور یہ کارنامہ حافظ سید عاصم منیر شاہ صاحب اور پاکستان کے ہاتھوں سرانجام پایا ہے۔
پاکستان زندہ باد