کشمیری، برطانیہ اور تعصب کی عینک!
آٹھ دہائیوں سے جیسے ہم ایک دوسرے کو غداری اور حب الوطنی کے سرٹیفکیٹس دے رہے ہیں ،کیا اب یہ فیصلہ بھی ہم اسلام آباد میں بیٹھ کر کرینگے کہ کس کی کیا قومیت ہے؟کون کشمیری ہے یا نہیں؟ اگر کسی کے احتجاج یا موقف سے ہم متفق نہیں تو اس پر تنقید ضرور ہوسکتی ہے، قانون شکنی پر قانونی کارروائی بھی ضرور ہو، لیکن جیسے لاکھوں کشمیریوں کے حوالے سے توہین آمیز بیانات دیے جا رہے ہیں وہ تنقید نہیں Hate speech کے زمرے میں آتے ہیں۔ برطانیہ میں مقیم کشمیریوں کے حوالے سے چند افراد کی مثالیں دے کر جس قسم کی توہین آمیز گفتگو کی جا رہی ہے وہ کوئی زمینی حقائق سے نابلد اور تعصب کی عینک سے دیکھنا والا شخص ہی کرسکتا ہے۔ کشمیری برطانوی سوسائٹی کا ایک متحرک حصہ ہیں،برطانوی پارلیمنٹ سے لے کر یورپی پارلیمنٹ تک برطانوی کشمیری آپ کو نظر آئینگے۔ اس وقت بھی برطانوی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں آدھا درجن سے زیادہ کشمیری نژاد اراکین موجود ہیں۔ ڈاکٹر، پولیس افسران، ٹیچر۔۔برطانوی سماج کے ہر شعبے میں کشمیری آپ کو نظر آئینگے ، لیکن یہ سب دیکھنے کے لئے آپ کو تعصب کی عینک اتارنی پڑے گی۔ وہ عینک آپ کو حقائق تو نہیں دیکھاتی لیکن آپ کا تعصب دنیا کو ضرور دیکھا رہی ہے۔
🚨🚨Confession of rigging from the chief executive of the country!
If 2018 govt was legitimate, 2024 govt also legitimate, say PM @CMShehbaz https://t.co/n2HMP0hFs5
فیک اکاونٹس الرٹ 🚨
خان صاحب کی بہنوں اور بیٹے سلیمان خان کے یہ real اکاؤنٹس ہیں اس کے علاوہ ان کے ناموں سے منسوب سارے اکاؤنٹس فیک ہیں
@Aleema_KhanPK علیمہ خان
@Noreen_KhanPK نورین خان
@DrUzma_KhanPK عظمٰی خان
@Kasim_Khan_1999 قاسم خان
یہ دارلحکومت مظفر آباد کی ویڈیو ہے جہاں اے سی کی گاڑی میں ہوا پوری نہ بھرنے کے جُرم میں ایک سرکاری ملازم دیہاڑی دار مزدور کو اُٹھا کر گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ویڈیو بشکریہ: وقاص کاظمی
اللہُ اکبر۔ نیویارک سٹی میں دہائیاں گَزاریں ہیں مگر ہزار سال میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ اُس شہر میں جہاں اسرائیل کے بعد دُنیا کے سب سے زیادہ صیہونی رہتے ہیں وہاں ایک اسرائیل کے حامی حاضر کانگریسمین کو فقط 3 فیصد ووٹ ملنے کی پیشنگوئ اور ایک فلسطین کے حامی گانگتیسمین کو 97 فیصد ووٹ ملنے کی پیشنگوئ۔
اللہُ اکبر۔ امریکی قوم جاگ چُکی ہے اور اُنھیں علم ہے کہ صیہونیت ایک کینسر ہے۔
نام سے شک ہوا تھا کہ اوپری منزل پر توڑی بھری ہو گی۔ اگر عدالت سے انصاف کی توقع ہی نہیں تو ہر سال سوا کھرب روپے ان پر خرچ کرنے کی ضرورت کیا ہے ؟ اور عدالتوں سے انصاف کس ڈنگر نے ناممکن بنایا ؟
یہاں کچھ نہٰں آپ کے لیے، یہ ہمارے اقتدار کے لیے ہے صرف، آپ جاہیں اور باہر سے ہمیں ڈالرز، ریال، دینار بھیجیں تا کہ ہم لوٹ مار جاری رکھیں۔۔۔۔۔بیان یہ ہے۔
ایف بی آر نے قطر میں مقیم پاکستانی شہری ارسلان آردم کے بینک اکاؤنٹ سے 2 کروڑ 26 لاکھ روپے نکال لیے
اوورسیز پاکستانی ارسلان آدم کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے میرے بینک اکاؤنٹ سے 2 کروڑ 26 لاکھ روپے نکال لیے ہیں ایف بی آر نے متعلقہ بینک کو فوری رقم ادا کرنے کا حکم جاری کیا میرے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکالنا دن دیہاڑے ڈکیتی ہے ایف بی آر اوورسیز پاکستانیوں کی تضحیک کر رہا ہے حالانکہ میں گذشتہ 26 سال سے بیرون ملک میں مقیم ہوں میری ساری آمدن پاکستان سے باہر ہے بیرون ملک سے کمائی گئی آمدن پاکستان میں سرمایہ کاری کی گئی ہے بیرون ملک کمائی گئی آمدنی پر ایف بی آر ٹیکس وصول کر رہا ہے میں بینک آف امریکہ ، کے پی ایم جی ، سعودی عرب اور دوحا بینک میں ملازمت کر چکا ہوں ایف بی آر کی جانب سے جاری کیا گیا ٹیکس نوٹس غیر قانونی ہے ایف بی آر کی ہراسانی کے باعث پاکستان میں سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے۔ ایف بی آر اوورسیز پاکستانیوں سے ٹیکس وصول کر رہا ہے۔ ارسلان آدم نے معاملے کی انکوائری کرنے کا مطالبہ کیا ہے
ایف بی آر کے مطابق پاکستانی شہری ارسلان آدم کو ٹیکس ڈیفالٹ کا نوٹس جاری کیا گیا۔ ارسلان آدم نے 2 کروڑ 26 لاکھ روپے کا ٹیکس ادا کرنا ہے
@FBRSpokesperson
#FBR #Taxes #Overseaspakistani
یہ ایک فریم میں آپ کو تین تصویریں نظر آرہی ہیں یہ تینوں عمران خان کے گاڈز تھے جن میں سے ایک عارف خٹک ہیں جو سرکاری ملازم ہیں اور دوسرے دونوں گارڈز عمران خان کے ذاتی سکیورٹی کا حصہ تھے جن میں سے ایک کا نام زاہد خان ہے جن کو اس وقت چھ گولیاں لگی تھیں
@SohailAfridiISF@MeenakhanAfridi@YarMKNiazi
جب عمران خان پہ فائرنگ ہوئی تھی یہ ایک بہت بڑی قربانی تھی دوسرے گارڈ کا نام حافظ محمد ارشد ہے جو اکثر عمران خان کے خطاب سے پہلے تلاوت بھی کرتے تھے اور عمران خان کے ساتھ 40 کلو کی لوہے کی بڑی پلیٹ اٹھا کر بھی کھڑے ہوتے تھے حافظ محمد ارشد پانچ اگست کو عمران خان کے ساتھ زمان پارک سے گرفتار ہوئے اور بعد میں ان کو 9 مئی میں ڈال کر 10 سال کی سزا سنا دی گئی یہ بھی ایک بہت بڑی قربانی ہے
آج یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ عارف خٹک کو وزیراعلی سہیل آفریدی نےاسمبلی فلور پر بلا کر ان کی قربانی کا ذکر کیا لیکن جب سے حافظ ارشد کو سزا ہوئی ہے اس کی تنخواہیں بند کر دی گئی ہیں اب 10 ماہ ہو چکے ہیں کہ حافظ ارشد کو ایک بھی تنخواہ نہیں ملی ایک طرف ایک بندےکو اتنا پروٹوکول اور دوسری طرف حافظ ارشد 10 سال سزاکے بعد سے ابھی تک در بدر کیوں ؟؟ وہ اس وقت کدھر ہیں ان کی فیملی کس حال میں ہے۔۔۔ امید ہے آپ ان کے لئیے کچھ کریں گے