@MoeedNj اب سائنس نے ترقی کر لی ہے۔ اب ایسا نہیں ہوتا۔ قانون اب رنڈی خانہ ہے کوئی پوچھنے والانہں لائبیہ کیس میں ملزم نعمان پولیس مقابلے میں ہلاک۔
ملتان واقع میں بھی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک۔
کھیل ٹھیک کھیلا جا رہا ہے اس عوام کے ساتھ 😡
@hinaparvezbutt لائبیہ کیس میں ملزم نعمان پولیس مقابلے میں ہلاک۔
ملتان واقع میں بھی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک۔
کھیل ٹھیک کھیلا جا رہا ہے اس عوام کے ساتھ 😡
وہ عام ملزم تھے مفرور قاتل نہیں تھے جو تمھاری کسٹڈی سے بھاگ گے۔ سب جھوٹ سب بکواس
#Multanincident
لائبیہ کیس میں ملزم نعمان پولیس مقابلے میں ہلاک۔
ملتان واقع میں بھی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک۔
کھیل ٹھیک کھیلا جا رہا ہے اس عوام کے ساتھ 😡
وہ عام ملزم تھے مفرور قاتل نہیں تھے جو تمھاری کسٹڈی سے بھاگ گے۔ سب جھوٹ سب بکواس
#Multanincident
کیا آپ کو معلوم ہے کہ شداد کی جنت دریافت ہو گئی ہے ؟
جی ہاں ، عمان کے شہر صلالہ کے قریب یہ جنت دریافت کر لی گئی، وہ جنت کہ جس میں ٹنوں کے حساب سے سونا چاندی موجود ہے
آج کے حساب سے کھربوں ڈالرز کی دولت ہے
تو پھر سوال یہ کہ عوام یا کوئی حکومت یہ سونا چاندی نکالتی کیوں نہیں ؟؟
کیونکہ نکال ہی نہیں سکتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جس جگہ یہ جنت دھنسی تھی ، اس جگہ پر گندھک کی بھاری مقدار موجود ہے ، یہ پوری جنت گندھک کے ایک بڑے ذخیرے کے اندر دھنسی ہوئی ہے ، اللہ نے انتظام ایسا کیا ہے کہ نہ کوئی اندر جا سکتا ہے نہ ہی سونا چاندی نکال سکتا ہے
لوگ جاتے ہیں ، دور سے دیکھ کر واپس آ جاتے ہیں
ایسے ہی اللہ نے زمین اور کائنات کے درمیان ماحولیاتی توازن کیلئے بہت سے نایاب معدنیات کو زمین کے اندر چھپا رکھا ہے ، اگر یہ معدنیات نکالنے کی کوشش کی جائے تو تابکاری پھیل جائے گی اور ایسی تباہی لائے گی کہ کوئی شخص اس کا سامنا نہیں کر سکے گا ، اس تباہی کے براہ راست اثرات سورج تک پہنچیں گے اور پوری دنیا کا توازن خراب ہو جائے گا
کروڑوں لوگ مر جائیں گے
خیبرپختونخوا میں نایاب معدنیات کی یہی کہانی ہے
لہذا بھول جائیں کہ یہ معدنیات نکالی جا سکیں گی
قدرت اپنے اثاثوں کی حفاظت کرنا بہتر جانتی ہے
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
یہ پشاور ہے۔ جرنیلوں کو اتنی آسانی سے خیبر پختونخوا کی حکومت اور خیبر پختونخوا کی معدنیات پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ مزاحمت کریں گے۔ خیبر پختونخوا میں صرف عمران خان کا راج چلے گا۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی اندر سے پھٹی ہوئی ہے۔ لگا دیں ایمرجنسی، لگا دیں گورنر راج، فوج کو اچھے طریقے سے پتہ ہے کہ وہ ٹی ٹی پی سے بغیر پی ٹی آئی کی مدد کے لڑ نہیں سکتے۔
ہماری ISI نے ایک اور امریکہ دریافت کر لیا ہے؛ یہ خود کو کولمبس سمجھ بیٹھے ہیں۔ وہ میری دیوار کو برلن کی دیوار سمجھ کر گرا رہے تھے، لیکن آگے سے دیوارِ چین نکل آئی۔ کولمبس اُن لوگوں سے میرے خلاف پریس کانفرنس کر رہا ہے، جنہیں اپنی کھڑدادی، کھڑدادے، کھڑنانی یا کھڑنانے کی زمین بھی کسی اور سے لینی ہے۔
Bloody nincompoops! تمہاری نااہلی اور ناکامی کی وجہ سے پاکستان دہشتگردی کے معاملے میں دنیا میں صفِ اول پر آ گیا ہے، اور تم لوگ یہ حرکتیں کر رہے ہو۔ کوئی تو شرم کرو! جو کام ہے، وہ کرو۔ دنیا میں تمہارا مذاق بن رہا ہے۔
میں دبئی سے ایک مرتبہ واپس آ رہا تھا تو میرے ساتھ بیٹھے شخص نے کہا کہ میں ریٹائرڈ جنرل ہوں۔ مشرف کے کہنے پر آپ پر ٹارچر کیا، میرا ارادہ نہیں تھا اور میں شرمندہ ہوں۔ میں نے اُس سے پوچھا، بھائی، تمہارا تعارف کیا ہے؟ اُس نے کہا، میں ریٹائرڈ آئی ایس آئی افسر احسان الحق ہوں۔ یہ ان کی اوقات رہ جاتی ہے، یہ ان کی کل اوقات ہے۔ اب گورنر راج لگا کر اُسے گورنر KPK لگائیں گے۔
عاصم منیر صاحب، واپس آؤ! اپنی اوقات میں واپس آؤ۔ جو تمہاری حیثیت ہے، وہیں واپس آؤ۔ تم عوام کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ عوام سویا ہوا شیر ہے، اُسے مت جگاؤ۔ تمہاری کوئی اوقات نہیں، تم بھسم ہو جاؤ گے
یوٹیوب ڈاکومینٹریز میں پاکستان کا تقریبا سب سے بڑا چینل TheKohistani نے اپنے ڈاکومینٹری The rise Of hitler میں ہٹلر کو آج کے پاکستانی نظام سے تشبیہ دے دی ! ہلٹر بھی بلیک ویگو میں بندے غائیب کرتا تھا !
احسن بھون کی ڈگری پر کیپٹن صفدر اکیلا لڑ رہا ہے۔ یہ ILF والے دوست کیا دھنیا پی کر سو رہے ہیں ؟
انکی زمہ داری صرف عہدے ٹکٹیں اور ملاقاتوں اور دوسرے معملات ہی ہیں۔ یا وکلا کے کسی معاملے سے بھی کوئی لینا دینا ہے۔
اب یہ کنڈا بھی ہمیں ہی کھولنا پڑنا ہے ؟
اگر اگلے 24 گھنٹے میں ILF نے اپنی پوزیشن واضح نہ کی تو name and. Shame کیا جائے گا۔
یہ فوج ہی پاکستان اور پاکستانیوں کو انڈیا سے زیادہ اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ ہمیں کچلنے کے لیے دہشت گرد بناتی ہے۔ پختونخوا حکومت گرانے کے لیے اپنے ہی لوگوں کو کیوں مار رہے ہو؟ تمہاری یہ ذہنیت کب بدلے گی؟ مجھے افسوس ہے، نہیں بدلے گی۔
تمہاری پالیسی پہلے دن سے یہ ہے کہ امریکا کی دلالی کرو اور ڈالر گھر لے جاؤ۔ 9/11 کے بعد امریکا ہماری معاونت کرتا تھا کہ افغانیوں کو پکڑ کر ان کے حوالے کرو ۔ آج وہ معاونت ہمیں افغانیوں سے بچانے کے لیے کر رہا ہے۔
میں نے مشرقی پاکستان میں تمہیں نہتے بنگالیوں کو شکار کے شوق میں مارتے دیکھا ہے۔ وہ وزیرستان ہو یا تربت، سانحہ APS کا مجرم ہو یا دہشت گرد، وہ تمہارے گھروں میں پناہ لے رہے ہوتے ہیں! اپنی دہشت گردی سے باز آ جاؤ۔
محترم وفاقی وزیر داخلہ
تو آپ کو یہ معلوم ہوتا کہ ممبران اسمبلی کو دیے گئے تحفظات کوئی نئی ایجاد نہیں، ہمیشہ سے پارلیمانی روایات اور قومی و صوبائی قوانین کا حصہ رہے ہیں۔اگر آپ کسی منتخب اور عوام کے نمائندہ پارلیمانی نظام کا حصہ رہے ہوتے
پارلیمانی استحقاق، بشمول صوبائی اسمبلی کے ممبر کو کسی فوجداری الزام پر گرفتار کرنے سے پہلے اسپیکر کی پیشگی اجازت، خیبر پختونخوا کی کوئی نئی ایجاد نہیں۔ یہ استحقاق مقننہ کی آزادی کے تحفظ، ایگزیکٹو کو پولیس کے ذریعے منتخب نمائندوں کو دھمکانے یا خاموش کرنے سے روکنے، اور اسمبلی کو بغیر خوف و خطر کام کرنے کے لیے ہیں۔
یہ تحفظات طویل عرصے سے چلی آ رہی پارلیمانی روایات اور پہلے صوبائی قوانین پر مبنی ہیں۔ یہ کسی ایم پی اے کو قانون سے بالاتر نہیں بناتے۔ الزام زدہ ممبر تحقیقات، مقدمہ اور عدالتی عمل سے مشروط رہتا ہے۔ اسپیکر کا کردار صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی گرفتاری سیاسی انتقام یا ایوان میں خلل ڈالنے کی نیت سے نہ ہو۔
جب آپ رات کی تاریکی میں استثنیٰ (immunity) کا قانون پاس کروا لیں تو وہ آپ کے نزدیک بالکل درست ہے۔ جب آپ پارلیمنٹیرینز کو اغوا کریں، رشوت دیں اور فلور کراسنگ کروا کر صرف اپنے لیے قانون پاس کروا لیں تو وہ قانون بن جاتا ہے۔
لیکن جب تمام حکومتی اور اپوزیشن پارٹیاں اتفاقِ رائے سے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون پاس کریں تو وہ قانون نہیں رہتا؟ ہاں نا کمال ہے؟ ذرا سوچیں کہ آپ کیا موازنہ کر رہے ہیں اور کیا ٹویٹ کر رہے ہیں۔
آج ہم جمہوریت پر اس سے کہیں زیادہ سنگین حملہ دیکھ رہے ہیں: بغیر وارنٹ، چہرے ڈھکے ہوئے افراد منتخب ایم این ایز، ایم پی ایز اور پی ٹی آئی قیادت کے گھروں پر چھاپے مار کر اغوا کر رہے ہیں تاکہ پرامن احتجاج روکا جا سکے۔ کیا یہ جمہوریت ہے؟ جب 24 نومبر، 9 مئی اور 25 مئی کو گولیاں چلائیں گئیں اور قتل عام ہوئے تو یہ واضح ہو گیا کہ یہ جمہوریت نہیں بلکہ چند افراد کی چلائی ہوئی ریاست ہے، جہاں آئین محض کاغذ بن کر رہ گیا ہے۔
آپ دنیا کو پاکستان کے بارے میں کیا پیغام دے رہے ہیں؟ لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ امید دم توڑ رہی ہے۔ سرمایہ کار خوفزدہ ہیں۔ دریں اثنا اقتدار والے ہر قسم کے استحقاق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ہم یہاں رہیں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ جیسے لوگ حقیقی جمہوریت آنے پر اس ملک سے چلے جاتے ہیں۔ اب پاکستان کے لوگ ایک بار اور ہمیشہ کے لیے فیصلہ کریں گے کہ جمہوریت کیا ہے: عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے۔
آپ جن استحقاقات پر تنقید کر رہے ہیں، وہی آپ اور آپ کے ساتھی بھی مزے لے رہے ہیں۔ آپ میں سے کچھ نے پارلیمنٹ کے ذریعے خود کو استثنیٰ دلا رکھا ہے تاکہ کوئی ان سے سوال نہ کر سکے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا قانون ریاستِ مدینہ میں قابلِ قبول ہے؟ اگر یہ واقعی اسلامی ریاست ہے اور اس کا آئین اسلامی قانون کے تحت بنا ہے تو اسلامی تاریخ سے صرف ایک مثال بتائیں جہاں کسی فرد کو قانون سے استثنیٰ دیا گیا ہو۔ بس ایک مثال دے دیں۔
آپ اور آپ والے اکثر سوچتے ہیں کہ آپ کے الفاظ ہی قانون ہیں۔ نہیں میرے عزیز! صرف وہی قانون غالب آئے گا جو اسلامی شریعت کے مطابق ہو۔
چند روز قبل خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کو ریکارڈ قانون سازی پر ایک بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا — ایسی قانون سازی جو عوام کی حقیقی نمائندگی اور جمہوریت کا عکس ہے۔ اس اسمبلی کے قیام کے بعد کسی پچھلی اسمبلی نے اس قسم کی ترقی پسند قانون سازی نہیں کی۔ یہ اعزاز نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے۔ اس بڑی کامیابی اور پاکستان کے عالمی سطح پر اچھے نام کی تعریف کرنے اور خوشی منانے کے بجائے آپ نے میرا پاسپورٹ بلاک کر دیا اور کئی ایم این ایز و ایم پی ایز کو اس کانفرنس میں شرکت سے روک دیا۔ وہ کانفرنس 56 ممالک، 186 اسمبلیوں اور تقریباً 80 ہزار پارلیمنٹیرینز کی نمائندگی کرتی تھی۔ مگر آپ کی واحد ترجیح یہ ہے کہ اپنے غیر قانونی فارم 47 کی نام نہاد حکومت کو انسانی حقوق اور اخلاقیات کو پامال کر کے کیسے طول دیا جائے۔
میں نے پاکستان کی ہر اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے منظور شدہ قانون کے مطابق آئی جی پی اور اضافی چیف سیکرٹری (ہوم) کو خط لکھا کہ کسی بھی گرفتاری سے پہلے میرے دفتر کو مطلع کیا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے یا خوف و ہراس سے بچا جا سکے۔ یہ میرا آئینی فرض ہے۔ ایوان کے محافظ ہونے کے ناطے خیبر پختونخوا کے لوگ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں ان کے منتخب نمائندوں کے حقوق کا تحفظ کروں۔