“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ ہی اسلام کی سمجھ۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔
اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے۔”
- عمران خان
#FreeBushraBibi
#FreeImranKhan
@PromoBoostX ترکش کہاوت ہے!
اگر آپ کی بحث بد تمیز شخص سے ہوتو ہار مان لینی چاہیے کیونکہ؛
آپ کی آواز کتنی ہی دمدار ہو آپ ایک کتے سے اچھا نہیں بھونک سکتے۔۔۔۔
آئی ٹی منسٹری کی وضاحتیں صرف ایک دھوکہ اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر ہیں! منسٹر صاحب میڈیا پر آ کر فرما رہے ہیں کہ "رائٹ آف وے" (Right of Way) کا مطلب زبردستی قبضہ نہیں ہے۔ لیکن حضور، عوام پاگل نہیں ہے! بل کا اصل متن آپ کے اس جھوٹ کی کھلم کھلا چغلی کھا رہا ہے۔
اس قانون کی شق 27A (Section 27A) کو پڑھیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ ان کی نیت کیا ہے۔ اس میں واضح طور پر عوام کی ذاتی جائیدادوں، نجی زمینوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اگر کسی شہری نے ان کی درخواست کا جواب نہیں دیا، تو یہ اسے "خاموشی کا مطلب ہاں" (Deemed Approval) سمجھ کر آپ کی پراپرٹی میں گھس جائیں گے۔
اس سے بھی زیادہ خوفناک اور ظالمانہ حد شق 27B (Section 27B) میں پار کی گئی ہے۔ اگر کوئی شہری اپنی ذاتی زمین کی حفاظت کے لیے ان کے سامنے کھڑا ہوا یا کام میں تاخیر کی، تو اس غریب پر 5 کروڑ روپے تک کا بھاری جرمانہ ٹھونک دیا جائے گا! کیا یہ کوئی اصلاحات ہیں یا عوام کو ان کی اپنی ہی زمینوں پر ہراساں کرنے کا لائسنس؟