’’پہلے ہمارے ہاں مذہبی عدم برداشت کو فروغ دیا گیا اور صورتحال یہاں تک جا پہنچی کہ لوگ مسلکی یا مذہبی موضوعات پر بات کرنے سے گریز کرنے لگے اور اب سیاست کو ایک مذہب اور مسلک کا درجہ دیکر سیاسی گفتگو کو بھی شجر ممنوعہ بنا دیا گیا۔”
@mbilalghauri https://t.co/v8pnyO7AGv