ایک معـذور بچـی کو سڑکوں پر گھسیٹنے پر خاموش رہنے والے عسکری ٹاوٹ آج کرنل کے دفاع میں عـورت کی عزت کی بات کرتے ہیں
کیا یہ کسی کی بہن بیٹی نہیں تھی
کیا یہ پاکستان کی شہری نہیں تھی
کیا یہ دہشت گرد تھی
اس معذور بیٹی کا آخر قصور کیا تھا
واہ واہ بندوق لے کر یونیورسٹی میں گھس کر سٹوڈنٹس کے ساتھ مار پیٹ تم کرو اور پھر اپنی عورتوں کو آگے کر کے کہو کہ ہماری عورتیں متعبر ہیں وہ تو کچھ کر ہی نہیں سکتی اور گولیاں چلاؤ سٹوڈنٹس پر اور پھر اپنے گناہ ماننے کی بجائے لفافے چھوڑے جاتے جنہیں عورت کی عزت یاد آتی ہے ، کیا یہ عورتیں نہیں سابق پرائم منسٹر اور سب سے بڑے لیڈر اور ملک کے ہیرو کی بہنوں کو روڈز پر گھسیٹا گیا تب سارے یزیدی لفافے کہاں مر جاتے؟؟
کیا اس ملک میں صرف حرامخوروں کی عزت و تکریم ہے ؟ حرام خور متعبر ہیں اور بلڈی سویلینز کی کوئی عزت نہیں؟؟؟
سنو تم پر لازم ہے عوام کا احترام ۔۔
سب سے پہلے پاکستان کی عوام ، سب سے پہلے پاکستان کی عوام کے فیصلے، سب سے پہلے پاکستان کی عوام کا احترام
ناپاک فوج کی طرف سے یہ بیانیہ بنایا جارہا ہے کہ اس فوجی کی بیوی کو ہراساں کیا گیا تھا اس لیے اس نے غیرت میں ایسا کیا اس لیے یہ سب جائز ہے۔ اگر یہ بات ہے تو پھر جب جب تم نے سویلینز کو ہراساں کیا تھا تو سویلنز کو بھی حق حاصل ہونا چاہئیے ان فوجیوں کو ٹھکانے لگانے کا۔
یہ عورت نہیں ہے؟ یہ بھی ٹیکس دیتی ہے یہ بھی آئی ایم ایف کی قرض دار ہے ، یہ بھی اس گندے ششٹم کو پالتی ہے تو ہمارے پیسوں سے تنخواہیں لینے والے بڑے متعبر اور بلڈی سویلینز کی یہ اوقات ہے؟؟؟
عورت کی عزت کے ٹھیکیدار ، جب سویلینز سوری بلڈی سویلینز کی عزتیں تار تار کی جاتی ہیں ، چادر چار دیواری تک کے تقدس پامال کر کے گریبان پھاڑے جاتے،بزرگ ماؤں کے بازو مروڑے جاتے، تب یزیدی لفافے کہاں مر جاتے؟؟؟
سرکاری گاڑی اس ملک کو نوچ کر کھا گئی ہیں ۔
پٹرول کا بے جا بے تحاشہ غیر ضروری استعمال ، ڈیڑھ گھنٹے سے کھڑی سرکاری گاڑی جو کہ سٹارٹ کھڑی ہوئی تھی AC چل رہا تھا لیکن اس میں کوئی بندہ تک نہیں بیٹھا ہوا تھا اینکر نے پکڑ لی۔
اس شخص کے گھر کی خواتین کی بھی تو عزت ہے۔ انکا کیا قصور ہے؟ کیا یہ بھی بندوق اٹھا لیں؟ یا پھر خاموش رہیں کیونکہ انکی عزت پر حملہ کرنیوالے کوئی اور نہیں سرکاری لوگ تھے۔
ٹیچر نے اپنے شوہر کو بلایا، برگیڈئیر ہیں یا جو بھی رینک ہے ہمیں نہیں معلوم
ہم نے کسی کو کسی قسم کی گالی نہیں دی
ان کے شوہر نے یہاں آکر لڑکوں کو مارا ہے
لڑکیوں کو بھی مارا گیا ہے
اس کے بعد فائرنگ کی گئی ہے
اگر گولی کسی کو لگ جاتی تو کیا ہوتا؟
پولیس ایکشن نہیں لے رہی۔
طلبہ کی گفتگو۔۔۔۔
اسلام آباد پولیس کہتی ہے کہ ہم انہیں ہتھکڑیاں نہیں پہنا سکتے آخر کیوں نہیں پہنا سکتے ہماری ماؤں بہنوں کے دوپٹے کھینچے جا سکتے ہیں خواتین پر تشدد ہو سکتا ہے مگر اس شخص کو ہتھکڑیاں نہیں پہنائی جا سکتیں
بہادر اسلام آباد کے طلبہ کا دوٹوک بیان
جب چند نوجوان فلسطین کے حق میں دھرنا دے رہے تھے تو ایک بریگیڈیر کے بیٹے نے ان میں سے دو نوجوانوں کو کچل کر شہید کر دیا تھا
سینٹر مشتاق کوشش کے باوجود FIR تک نہ کٹوا سکے کیونکہ وہ ایک بریگیڈیر کا بیٹا تھا
آج تو سرحد یونیورسٹی میں بریگیڈیر صاحب خود تھے