کچھ مقدمات عدالتی تاریخ کا سیاہ دھبہ بنے جیسے بھٹو کیس ، مولوی تمیز الدین کیس اور ایسے دیگر جن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ عدالتوں نے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے جھک کر فیصلے کیے۔
حسان نیازی اور دیگر 104 افراد کے ملٹری ٹرائل کو جب سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو جسٹس امین الدین اور اس کے بنیچ نے اس کو آئین کے مطابق درست قرار دیا کہ سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوسکتا ہے اس سے صرف ہم اختلاف نہیں کرتے بلکہ ہمارے عدالتی فیصلوں کی مثالیں اور عالمی قوانین بھی اس کے خلاف ہیں ۔ سینئر قانون دان @SalmanKNiazi1 کی ملٹری ٹرائلز کی قانونی حیثیت بارے تفصیلی گفتگو
“یہ جو عاصم منیر اور ان کی ٹیم عمران خان کی صحت کے ساتھ کھیل رچا رہی ہے، اس سے وہ اپنے آپ کو بھی رسک پر ڈال رہے ہیں۔ عمران خان اس وقت پاکستان کی ہی نہیں ان سب ظالموں کی بھی انشورینس پالیسی ہیں۔ اگر صحت مند عمران خان جیل سے واپس نہیں آتے تو پاکستانیوں کی نسلیں ان سب سے بدلہ لیں گی ہر قانونی طریقے سے بشمول آرٹیکل ۶ کے۔ جب سٹیٹ کسٹڈی میں صحت خراب ہوجائے تو ہسپتال شفٹ میں کرنا انتہائی ضروری ہے فیملی اور نجی ڈاکٹرز کی رسائی کے ساتھ۔”
- @agentjay2009
#ImranKhanHealthMatters
𝐅𝐑𝐄𝐄 𝐈𝐌𝐑𝐀𝐍 𝐊𝐇𝐀𝐍
History is unambiguous on this: Every oppressive system that denies the basic human right to think and speak eventually collapsed under the weight of its own contradictions.
From the most rigid dictatorships of the last century to the hybrid military-civilian setups of toda, people will not forever accept being treated as subjects instead of citizens.
Ideas cannot be permanently imprisoned. The demand for dignity is a universal human constant.
Powerful words by Justice (Retired) Anwaarul Haq Pannun.
#PakistanUnderAsimLaw
میرے بیٹے کو بائیس مئی کو دوکان سے پولیس گرفتار کرکے تھانے لے گئی وہاں سے جیل منتقل کیا گیا ہم تیس مئی کو ضمانت کے سلسلے میں گئے تو کہا گیا سات جون کو ضمانت ہوگئی بعد میں بتایا گیا کہ اس کو فوج لے گئی ہے کہاں لے گئی کسی کو پتہ نہیں۔
ملٹری کے کالے قانون کے تحت چار سال قید کی سزا پانے والے ،تیں معصوم بچوں کے باپ فریج ٹیکنیشن اکرام اللہ کے والد کی گفتگو
#PakistanUnderAsimLaw
“The concept of a ‘hard state’ that Asim Munir is attempting to implement in Pakistan is entirely misguided. In its true sense, a “hard state” is one where the Constitution reigns supreme, justice remains independent, democratic freedoms are protected, and the national interest outweighs personal gain.
In contrast, Asim Munir’s notion of a ‘hard state’ signifies a system in which the pillars of democracy are dismantled and ‘Asim Law’ prevails. No ‘hard state’ can ever be established without the support and will of the people. The atrocities being perpetrated under ‘Asim Law’ are not strengthening the state. They are, in fact, eroding its very foundations. No country can become strong by turning its guns on its own citizens, as witnessed on November 26th (2024) and in Muridke, where the army, paramilitary Rangers, and the police opened fire on their own people.
The people of Khyber Pakhtunkhwa have given a clear and overwhelming mandate to Pakistan Tehreek-e-Insaf. This mandate grants me the constitutional and democratic authority to determine the province’s policies, for my accountability lies solely with the people. It is also the right of the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa, Sohail Afridi, to ensure the implementation of the policies, formulated in consultation with me, for which the people reposed their trust and cast their votes in our favor.
During PTI’s tenure, prudent policies fostered peace across Khyber Pakhtunkhwa and beyond. Yet, since the regime change, the nation has witnessed a consistent deterioration in stability. Over the past three years, I have consistently emphasized the need for wisdom and foresight in dealing with Afghanistan through peaceful means. The current strained relations with Afghanistan are deeply concerning. Hatred and confrontation serve no one’s interests; only policies framed by genuine representatives of the people can bring about a lasting solution to terrorism.
The baseless and fabricated cases against me are being deliberately prolonged. In the Al-Qadir University Trust case, justice has been systematically denied for the past ten months. After an extended delay, the case was finally scheduled for hearing, yet the decision on bail continues to be postponed. I instruct all PTI political leaders, members of assemblies, and lawyers to regularly attend and remain present during all court proceedings of my cases, and to continue their presence until justice is served. Participation in open-court hearings is your legal and democratic right.
During PTI’s tenure in government, Nawaz Sharif was allowed daily meetings with numerous political figures in jail, with unrestricted access to family members. Even formal dinners were arranged. In stark contrast, I am being held in complete isolation. There is no precedent for such political vendetta in Pakistan’s history.
I am not being provided the basic facilities guaranteed under prison regulations. Over the past ten months, I have been allowed to speak to my sons only once, and that too for two brief intervals of three minutes each. I am being deprived not only of my fundamental human rights but also of my rights as the head of a political party, to meet party officials and consult with them. Hurdles are constantly placed to obstruct my meetings with lawyers, political colleagues, and family members. This is a blatant violation of my fundamental and legal rights.”
Message from former Prime Minister Imran Khan, delivered through his sisters and lawyers from Adiala Jail (October 21, 2025)
لکڑی کے کاریگر شاکر اللہ جن کو ملٹری کورٹ کے کالے قانون کے تحت دس سال کی بے جرم سزا سنائی گئی ان کے گھر کے حالات جانئیے ان کے بیٹے حمزہ سے۔
#PakistanUnderAsimLaw
اس وقت صورتحال 1977 والی ہے
قبر ایک ہے اور بندے دو۔
پی ٹی آئی کی قیادت بھی اس وقت کی پیپلز پارٹی والی ہے ۔ یہ فیصلہ قوم نے کرنا ہے کہ وہ ایک اور بھٹو چاہتے ہیں یا اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔
جنرل ضیاء کا تو کوئی سالا بھی نہیں تھا
یہ جو عاصم منیر اور ان کی ٹیم عمران خان کی صحت کے ساتھ کھیل رچا رہی ہے، اس سے وہ اپنے آپ کو بھی رسک پر ڈال رہے ہیں۔ عمران خان اس وقت پاکستان کی ہی نہیں ان سب ظالموں کی بھی انشورینس پالیسی ہیں۔ اگر صحت مند عمران خان جیل سے واپس نہیں آتے تو پاکستانیوں کی نسلیں ان سب سے بدلہ لیں گی ہر قانونی طریقے سے بشمول آرٹیکل ۶ کے۔ جب سٹیٹ کسٹڈی میں صحت خراب ہوجائے تو ہسپتال شفٹ میں کرنا انتہائی ضروری ہے فیملی اور نجی ڈاکٹرز کی رسائی کے ساتھ۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو:
“ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے۔ جعفر ایکسپریس کا سانحہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے- اس قسم کی منظم دہشتگردانہ کاروائیاں کسی بھی ملک کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات میں فوجی اور سویلینز کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا جتنا دکھ ہمیں ہے کسی کو نہیں ہوسکتا کیونکہ تحریکِ انصاف وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس سے تمام صوبوں کی اکثریت جڑی ہے- افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام ایجینسیاں دہشتگردی کی روک تھام کی بجائے تحریک انصاف کو ختم کرنے پر لگائی ہوئی ہیں-
تحریک انصاف کی جانب سے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے بائیکاٹ کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ اس اجلاس میں نہ مجھے بلایا گیا، نہ میری رائے لی گئی اور نہ ہی بلوچستان کے نمائندوں کو بلایا گیا- ان کی نیت اس معاملے میں صاف ہوتی تو میری جماعت کے ارکان کو سب سے پہلے مجھ سے مشاورت کرنے کی اجازت دیتے۔ اس وقت تحریک انصاف پاکستان کی واحد جماعت ہے جس کی سپورٹ تمام وفاقی اکائیوں میں موجود ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ سندھ اور پنجاب کے چند مخصوص علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں- ملک کی سب سے بڑی جماعت اور فیڈریشن کی علامت واحد سیاسی پارٹی کے سربراہ کو باہر رکھ کر کون سا اتفاق رائے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
اردلی حکومت کی خارجہ و داخلی پالیسیاں ملک کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف تب حل ہو گا جب اس کا سیاسی حل دریافت کیا جائے گا اور لوگوں کی منشاء کے مطابق ان کے فیصلے ہوں گے۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف فوجی حکمت عملی (Kinetic Operations)سے حل نہیں ہو سکتا۔ ہمسایہ ممالک کو لے کر ہماری خارجہ پالیسی آزاد اور خود مختار ہونی چاہیے۔ افغانستان کے ساتھ معاملات بھی بات چیت سے حل ہونے چاہئیے۔ رجیم چینج کے بعد ان کی غیرسنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ بلاول نے پوری دنیا کے دورے کیے لیکن ایک بار بھی افغانستان نہیں گیا- فوجی آپریشنز کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے، بڑی بڑی جنگوں کا حل بھی مذاکرات اور امن و استحکام کی کوشش سے ہی نکلتا ہے۔
ملک صرف تب ہی متحد اور مضبوط رہ سکتا ہے جب عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، سیاسی جماعتوں کو ان کی جگہ دی جائے اور اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت سے باز رہے۔ اکہتر میں بھی ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا گیا پھر جو ہوا وہ تاریخ بھلا نہیں پائی-تب بھی اگر سیاسی جماعتوں کو متوازن مواقع ملتے تو ملک دو لخت نہ ہوتا۔ آج بھی لوگوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور ان کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں یہی ماڈل نافذ کیا گیا جس کی وجہ سے آج وہاں کے حالات بے قابو ہیں۔ جب تک عوام کی نمائندہ حکومتوں کو اقتدار منتقل نہیں کیا جائے گا یہ مسائل جوں کے توں رہیں گے بلکہ بڑھتے جائیں گے۔
اردلی حکومت مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے تمام غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ میری اہلیہ کو بے جا جیل میں ڈالا گیا ہے۔ نہ تو یحیٰی خان نے مجیب الرحمٰن کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، نہ جنرل ضیا نے بھٹو کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، اور نہ ہی مشرف نے کلثوم نواز کو جیل میں ڈالا، مگر اس اسٹیبلشمنٹ نے اخلاقی پستی کی بدترین سطح پر پہنچ کر میری اہلیہ کوبھی جعلی کیسز میں پابندِ سلاسل کر رکھا ہے۔
پچھلے قریباً ایک ہفتے سے میری مواصلات کے ذرائع تک رسائی پر کڑی بندش ہے۔ حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے ٹی وی دیکھنے پر پابندی عائد ہے اور اخبار اور کتابوں کی ترسیل بھی معطل ہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی گئی۔ بار بار یاددہانی کے باوجود مروّجہ طریقے کے مطابق 90 دنوں میں میری اہلیہ سے 72 گھنٹے کی ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔ میرے ذاتی معالج کو مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی نہ ہی ڈینٹسٹ کو ملوایا جا رہا ہے۔ میرے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات بھی نہیں کروائی گئی۔ مجھے مکمل طور پر بے خبر رکھا گیا تا کہ اے پی سی کے بارے میں مجھے علم نہ ہو سکے۔
یہ جو کچھ بھی کر لیں میں ان کی فسطائیت کے آگے نہ ہی پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا- میں پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا تھا، کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا ۔ چاہے مجھے تمام عمر جیل کاٹنی پڑے۔ میں انشاللہ اپنے ملک اور اپنی قوم کی خودمختاری کے لیے آخری سانس تک لڑوں گا۔”
میں ان تمام لوگوں کامشکور ہوں جو کل ہمارے راولپنڈی آزادی مارچ میں اتنی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ جب تک ہم (ملک میں) قانون کی حکمرانی قائم نہیں کر لیتے اور حقیقی آزادی کی مراد نہیں پا لیتے،ہماری تحریک جاری رہے گی۔
شورشرابے ، چیک چاڑے اور کھینچا تانی کے اس موسم میں ہرگز مت بھولیں کہ عمران خان کو قید پاک فوج نے کیا۔ ملاقاتوں پر پابندی پاک فوج نے لگائی۔ علاج معالجے میں رکاوٹ پاک فوج ہے۔
جی ٹی روڈ پر ہمارے مارچ کے ہمراہ عوام کا سمندر۔ میں 6 ماہ سےملک میں ایک انقلاب کا مشاہدہ کررہا ہوں۔سوال صرف یہ ہے کہ آیا یہ بیلٹ باکس کےذریعے نرم ہوگا یا خونریزی کے ذریعے تباہ کن؟
علیمہ خانم نے ابتداء میں عمران خان کی آنکھ کے متعلق خبر کو جھوٹا پراپگنڈہ کیوں قرار دیا تھا؟
قاسم خان نے بتایا کہ انہیں دو دفعہ بتایا گیا کہ عمران خان کی جیل میں وفات ہوگئی ہے۔ خاندان کے لوگوں کو کتنی ہی ایسی جھوٹی خبریں ادھر ادھر سے پہنچائی جاتی ہوں گی۔ علیمہ خانم کا ایسی ایک اور خبر کو پراپگنڈہ سمجھنا ایک قدرتی اپروچ تھی۔
عسکری پراپگنڈے کے جھانسے میں ہر گز مت آئیں۔ مائنس عمران نامنظور۔
ایک طرف کہتے ہیں عمران خان جیل میں معافیاں مانگ رہا ہے، چیخ اور چلا رہا ہے۔ دوسری طرف کہتے ہیں علیمہ خانم لکھ کر دیں کہ عمران خان کا پیغام باہر نہیں آئے گا۔ اگر وہ معافیاں ہی مانگ رہا ہے تو جاکر تحریری ضمانت بھی اسی سے لے لو۔
علیمہ خانم خاموش نہیں خاموشی سے دیکھ رہی ہیں کہ کیسے عمران خان کی قید تنہائی ، سختیوں اور ہسپتال نہ لیجانے کا ذمہ دار انہیں ٹھہرانے کی ہوا بنائی جارہی ہے۔
علیمہ خانم کا قصور تحریری ضمانت نہ دینا نہیں ہے۔ علیمہ خانم کا قصور عمران خان کا پیغام من و عن پہچانا ، سہیل آفریدی کا ریلیوں کا بند کیا گیا سلسلہ شروع کرنا اور سخت سے سخت حالات میں اڈیالہ جانا ہے۔
قید کرنے سے پہلے؛ ہم عمران خان سے معافی منگوائیں گے ہم اس کو توڑ کر رکھ دیں گے
اب ؛ عمران خان بہن صرف یہ ضمانت دے کہ عمران خان کا پیغام باہر آکر نہیں بتائے گی
ڈٹ بے غیرتا ڈٹ
"میرا بیٹا 18 مئی کو گرفتار ہوا گرفتاری کے دو تین ماہ بعد تک تو ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کہاں ہے۔سلمان اکرم راجہ اور دیگر ہمارے وکلاء نے سپریم کورٹ میں اپیلیں کیں اس کے بعد ہمیں ملاقات کی اجازت ملی ۔ہمیں کچھ پتہ نہیں ٹرائل کس طرح چلا کیا ہوا، وکیل بھی سیکرٹ آرمی ایکٹ کا کہہ کر کچھ نہیں بتاتے تھے۔ ڈیڑھ سال بعد کوٹ لکھپت جیل منتقل کرکے سزائیں سنائی گئیں"۔
ملٹری کورٹ سے 6 سال بے جرم سزا پانے والے فہیم حیدر کے والد بزرگوار کی گفتگو
عمران خان بتائے کہ ان پر جسمانی تشدد ہوا
علیمہ خانم پیغام باہر نا لاسکیں کیونکہ تحریری ضمانت دے رکھی ہو
عمران خان جیل سے کہے اسمبلیاں چھوڑ دو
باہر عمل نا ہو کیونکہ علیمہ خانم نے تحریری ضمانت دے رکھی ہو
عمران خان جیل سے کہیں کہ سہیل آفریدی کو ہٹا دو
پیغام پر عمل در آمد ہی نا ہو کہ علیمہ خانم نے پیغام باہر نا لانے کی تحریری ضمانت دے رکھی ہو
ایسی کوئی بھی ضمانت دینا عمران خان کیساتھ غداری ہے۔