امام حسن بن علی نے نے حضرت امیر معاویہ سےصلح فرما خاتم الانبیاء ﷺ کے اس فرمان کو عملاً پورا فرمایا: میرایہ بیٹا سردار ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی بدولت مسلمانوں کی دوبڑی جماعتوں میں صلح فرمائے گا۔
(بخاری،2/214،حدیث:2704)
الفاتحہ
یوم عرس : 5 ریبع الاول
رضی اللہ عنہم
حضرت سیدنا امام حسن بن علی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُم نے 5ربیع الاول 49 ہجری کومدینۂ منورہ میں شہادت کا جام نوش فرمایا۔ایک قول50ہجری کا بھی ہے۔(المنتظم، 5/226، صفۃ الصفوة،1/386)
امامِ اہل سنت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ”آتش بازی جس طرح شادیوں اور شبِ براءت میں رائج ہے بیشک حرام اور پورا جُرم ہے کہ اس میں تضییعِ مال(مال کو ضائع کرنا) ہے، قرآنِ مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی فرمایا: قال اللہ تعالٰی﴿
وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(۲۶) اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ ل��رَبِّهٖ كَفُوْرًا(۲۷)﴾(پ15،بنی اسراءیل:26-27)
(ترجمۂ کنزالایمان: اور فضول نہ اڑا، بیشک اُڑانے والے(فضول خرچی کرنے والے ) شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب
آتش بازی کے متعلق مشہور یہ ہے کہ نمرود بادشاہ نے ایجاد کی جبکہ اُس نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو آگ میں ڈالا اور آگ گلزار ہوگئی تو اسکے آدمیوں نے آگ کے اناربھر کر اُن میں آگ لگا کر حضر ت خلیلُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام کی طر ف پھینکے۔(اسلامی زندگی، ص77)