بہت جلدی کر گئے ہو
آنکھ ہماری بھر گئے ہو
یتیم یہ کیسا لفظ ہے بابا
یعنی آپ مر گئے ہو ؟؟
جب میں آپکا پوچھتا تھا
ماں ستارا دیکھانے لگتی تھی
اب کوئی تمہار�� پوچھے تو
میں آسمان دیکھانے لگتا ہوں
بتاؤں اس وقت مری عمر کتنی تھی
بس اُس دن میں سب سے چھوٹا تھا
پھر بچپن میرا کھو گیا تھا
میں گھر کا بڑا ہو گیا تھا
مالک! یہ ایک اذیت ہے
جب شادی کارڈ آتا ہے
باپ کا نام لکھتے وقت
مرحوم ساتھ لکھتے ہیں
ہاں یہ حقیقت ہے
مگر
ذہن تسلیم کرلے اگر ،خیر وہ دماغی ہے
دل تسلیم نہیں کرتا ، دل میرا باغی ہے
زید شیر
Pakhtunkhwa is trapped in a cycle of chronic governance failures, widespread corruption, collapsing law and order, and complete neglect of public services. Sadly, the very representatives elected in the name of releasing their leader have instead turned to looting the province and chasing personal privileges, leaving the common people to suffer in silence.
28 فروری کو ایران جنگ سے قبل عالمی منڈی میں خام تیل (Crude Oil) کی قیمت تقریباً 67 ڈالر فی بیرل تھی۔ تیل کی قیمتیں بھی اسٹاک مارکیٹ کی طرح ایک معمول کی رینج میں اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں۔ عام حالات میں اگر خام تیل 65 سے 70 ڈالر کے درمیان رہے تو پاکستان کی معیشت اور زرمبادلہ کے ذخائر اتنی گنجائش رکھتے ہیں کہ حکومت کو پیٹرول کی قیمت بڑھانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
جب عالمی منڈی میں خام تیل دوبارہ جنگ سے پہلے والی سطح پر آ گیا تو پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمت تقریباً 255 روپے فی لیٹر تک واپس آنی چاہیے تھی، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس قیمت کو تقریباً 300 روپے فی لیٹر کے قریب برقرار رکھا گیا۔
یعنی 45 روپے فی لیٹر کا یہ فرق آج بھی عوام سے وصول کیا جا رہا ہے۔ اس اضافی بوجھ کی وجہ سے عوام پر روزانہ تقریباً 1.2 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے، جبکہ پاکستان میں سالانہ پیٹرول کی کھپت تقریباً 11 ارب لیٹر ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی عرصے کے دوران تیسری سہ ماہی (3nd Quarte) میں صرف PSO کو Inventory Gains (Stock Revaluation) کی مد میں تقریباً 65 ارب روپے کا فائدہ ہوا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کم لاگت پر موجود ذخائر کی قدر میں اضافے سے آئل مارکیٹنگ سیکٹر کو نمایاں فائدہ پہنچا۔
اگر یہ تمام اعداد و شمار درست ہیں تو سوال یہ بنتا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں معمول پر آنے کے باوجود اس کا مکمل فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچایا گیا؟
وجہ 1,730 ارب روپے کا پیٹرولیم لیوی ہدف ہے؟
#petrolpriceinpakistan #crude #iranwar #CDF #Pakistan #petrol
#CDFTrustedworldwide #Rangers
I have received numerous complaints from young doctors across Pakhtunkhwa regarding serious irregularities in the recent recruitment drive.
I strongly urge the Chief Secretary to immediately suspend the entire recruitment process and thoroughly address the concerns raised by the medical community.
Medicine is a noble profession that demands the highest standards of integrity. All doctors must be appointed purely on merit. Any corruption or malpractice in the health sector is criminal, as it puts human lives at direct risk.
جو کام اقوام متحدہ نا کر سکا ،یورپی یونین نا کر سکا ، دولتمند عرب ریاستیں نا کر سکیں، ایران کا دوست انڈیا نا کر سکا وہ پاکستان نے کر دیکھایا ہے جنگ معمولی نہی تھی ایران کا نقصان معمولی نہی تھا مگر اس پیچیدہ صورتحال سے امن کا راستہ نکالا معمولی بات نہی ہے
پاکستان کی تعریف دنیا کر رہی ہے اور جو اس وقت بھی ساڑ پھونک رہے وہ اپنا تماشہ بنا رہے ہیں
Following intensive talks, we are pleased to announce that the Peace Deal between the United States of America and Islamic Republic of Iran has been REACHED. Both sides have declared the immediate and permanent termination of military operations on all fronts, including in Lebanon.
The official signing ceremony will be on Friday, 19 June in Switzerland.
We would like to thank the United States of America and the Islamic Republic of Iran for their commitment to finding a diplomatic solution to the conflict. We would also like to extend our sincere appreciation to our brothers in this mediation effort, the great leadership of State of Qatar, for their support in reaching this agreement. I would also especially thank the visionary leadership of Kingdom of Saudi Arabia and Republic of Türkiye for their immense contributions in this regard.
With the agreement now in place, mediators will facilitate a series of meetings this week. These pre-implementation discussions will lay the foundation for the technical talks and the official signing ceremony.
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
" بھارت آخری مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس 1991 میں گیا تھا، پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو ہر سال آئی ایم ایف کے پاس جاتا ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ چل رہا ہے ، یہ آئی ایم ایف سے نکلنا ہی نہیں چاہتا، مفت کے پیسے مل رہے ہیں خرچ کیے جا رہے ہیں ، قرضے سود پر مل رہے ہیں لیکن آنے والی نسلیں سود دیں گی " معروف اکانومسٹ ڈاکٹر قیصر بنگالی
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
There are alarming reports of settler violence coming from the occupied West Bank: the demolition of homes, relentless expansion of illegal Israeli settlements, ongoing displacement of Palestinians, the threat of an attempted annexation that would – like the decades-long occupation – have no legal validity.
The risk of making a two-State solution impossible – when there is no other viable option.
And throughout, the presumption of impunity.
These injustices must stop.
Countries must comply with all their obligations under international law.
No exceptions.
اسلام آباد میں اسٹامپ فروشوں کی لوٹ مار
آج مجھے بچے کے اسکول کی جانب سے ایک تیار شدہ انڈرٹیکنگ (بیانِ حلفی) ��ا متن ملا، جسے 100 روپے کے اسٹامپ پیپر پر پرنٹ کروا کر جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ میں آبپارہ مارکیٹ کے ایک اسٹامپ فروش کے پاس گیا، جس نے 5 منٹ میں آن لائن اسٹامپ پیپر نکال کر پرنٹ دے دیا۔
میرا خیال تھا کہ 100 روپے کے اسٹامپ پیپر پر وہ زیادہ سے زیادہ 100 روپے سروس چارجز لے گا، لیکن جب میں نے بل پوچھا تو اس نے کہا کہ 1000 روپے بنتے ہیں۔ میں حیران رہ گیا اور پوچھا، "1000 روپے؟" جواب ملا، "جی ہاں!" میں نے کہا کہ یہ تو کھلی ناانصافی ہے، مواد میں نے خود فراہم کیا ہے، آپ نے تو صرف پرنٹ نکالا ہے۔ خیر، بحث و تکرار کے بعد اس نے 100 روپے کم کر کے 900 روپے طلب کیے۔ جب میں نے پکی رسید مانگی تو اس نے کارڈ پر اضافی سروسز درج کر کے 1000 روپے کی رسید میرے حوالے کر دی۔ میں نے یہ رسید اس نیت سے اپنے پاس رکھ لی کہ اس معاملے کو کم از کم حکومت کے نوٹس میں لایا جائے۔
دو روز قبل، میرے سالے سے بھی صرف ایک صفحے کے بیانِ حلفی کی تیاری کے لیے 2500 روپے وصول کیے گئے تھے۔
ہم خوش تھے کہ حکومت نے اسٹامپ پیپر آن لائن کر دیے ہیں، جس سے سائلین کا فائدہ ہوگا اور فیس براہِ راست سرکاری خزانے میں منتقل ہوگی۔ مگر حکومت نے اسٹامپ فروشوں کو اس لوٹ مار سے روکنے کے لیے کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا اور نہ ہی اسٹامپ کی قیمت کے ساتھ سروس چارجز مقرر کیے ہیں۔
سرکار سے اپیل ہے کہ اسٹامپ پیپر کی فیس کے ساتھ اس کے مناسب سروس چارجز بھی مقرر کیے جائیں تاکہ اس کرپشن اور ناجائز منافع خوری کا قلع قمع ہو سکے۔
@ICT_Police @dcislamabad
I'm deeply alarmed by the renewed escalation in the Middle East.
All attacks must stop immediately.
The ceasefires in Lebanon, Iran & Gaza must be fully respected.
Any steps that could undermine ongoing diplomatic efforts must be avoided.
I'm also deeply concerned by Israel's decision to close crossings into Gaza & reiterate my call for the immediate reopening of all crossings to ensure the rapid, safe & unhindered passage of humanitarian assistance at scale throughout Gaza.
The exercise of navigational rights & freedoms, in accordance with international law, must be respected.
Everyone must uphold their obligations under international law & take all feasible precautions to protect civilians.
There is no military solution to the conflicts in the Middle East.
The only way forward is through dialogue & negotiations.
I urge all concerned to work towards diplomatic solutions that advance regional & international peace & security.
آئی پی پیز بند پڑے ہیں اور انکے مالکان کو ماہانہ ادائیگیاں ہو رہی ہیں ان مالکان میں بہت سے حکومتی عہدوں پر ہیں یا ان کی قریبی رشتے داریاں ہیں۔ان کے خلاف ایک زور دار مہم شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ معاہدے فل فور ختم ہوں اور قوم کے ٹیکس کا پیسا تعلم صحت اور ملکی ترقی پر خرچ ہو ناکہ ان لُٹیروں کے جیبوں میں جائے۔
👀 میں مردہ باد 👀
آج فیروز پور روڈ لاہور پر مائیکل اپنے لوڈر رکشہ پر جاتا دکھا، اظہار راۓ کے لیے موجود گھٹیا ترین حالات میں بھی کیا شاندار طریقہ ڈھونڈا ہے مائیکل نے احتجاج کا۔مجھے سو فیصد یقین ہے کہ عام آدمی سے مکمل طور پر کٹا ہوا “بچہ جمہورا نظام” مائیکل کے یہ فلیکس بھی برداشت نہیں کر پاۓ گا۔ اللہ ہمارے سائکلیں کھینچتے، بوریاں لوڈ کرتے، مزدوری کرتے، کھیت سینچتے، اپنے خاندان کے لیے خواب دیکھتے مائیکلوں کی خیر رکھے، زندہ رہنے کے حالات تو نہیں رہے لیکن شام کے سب پروگراموں میں ملک اونچی اڑان بھرتا ہے ہر روز۔اسی لیے مائیکل نے لکھ دیا کہ سب زندہ باد بس میں مردہ باد۔
“BJP has proved Jinnah right—that his fears of the inevitability of Hindu consolidation weren’t just imagined but real; that such a consolidation would ultimately lead to the establishment of a “Hindu Raj” or Hindu rule, under which religious minorities would be reduced to subservience.” — Frontline. Link below.
عربوں کو اونٹ کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان کی طبیعت میں نخوت ، غيرت اور سختی کا عنصر بہت پایا جاتا ہے ...
ترکوں کو گھوڑے کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان میں طاقت ، جراءت اور اکڑ پن کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے....
انگریزوں کو خنزیر کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان میں فحاشی, بدکرداری وغیرہ کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے ....
حبشی افریقی بندر کھاتے ہیں اس لیے ان میں ناچ گانے کی طرف میلان زیادہ پایا جاتا ہے....
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
جس کو جس حیوان کے ساتھ انس ہوتا ہے اس کی طبیعت میں اس حیوان کی عادتیں غیر شعوری طور پر شامل ہوجاتی ہیں... اور جب وہ اس حیوان کا گوشت کھانے لگ جائے تو اس حیوان کے ساتھ مشابہت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ....
ہمارے زمانے میں فارمی مرغی کھانے کا رواج بن چکا ہے... چنانچہ ہم بھی ان فارمی مرغیوں کی طرح صبح و شام چوں چوں تو بہت کرتے ہیں لیکن ایک ایک کرکے ہمیں ﺫبح کرد��ا جاتا ہے ...
فارمی مرغی کا گوشت کھانے کی وجہ سے ہم میں سستی کاہلی کی، ایک جگہ بیٹھے رھنے کی ،زندگی میں دوڑ دھوپ نہ کرنے کی، سر جھکا کر چلنے کی، مزاحمت نہ کرنے کی،زیادتی برداشت کرنے کی اور پستی اور ذلت میں رہنے کی عادتیں پیدا ہوچکی ہیں.
زمین صرف انسانوں کی نہیں، پرندوں، جنگلات، دریاؤں اور بے زبان مخلوق کی بھی امانت ہے۔
اگر جنگلات کٹتے رہے، پانی ضائع ہوتا رہا اور فطرت سے یہی بے رحمی جاری رہی، تو سرسبز زمین بنجر صحرا میں بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔
آج “حیاتیاتی تنوع کے عالمی دن” پر عہد کریں:
ایک درخت، ایک قطرہ پانی، اور ایک ماحول دوست عادت… شاید یہی آنے والی نسلوں کی زندگی آسان بنا دے۔
#Biodiversity #WorldBiodiversityDay
قرآن کریم میں فطرت کی اہمیت کو کئی واقعات کے ذریعے اجاگر کیا گیا ہے- حضرت م��سیٰ اور حضرت یونس (علیہ السلام) کے مچھلیوں کا واقعات ، ہدہد کا واقعہ جو حضرت سلیمانؑ کیلئے ملکہ بلقیس کی خبر لاتا ہے، ابابیل کا واقعہ جو حق کے محافظ کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، اور شہد کی مکھی، جس کے بارے میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے، یہ سب ظاہر کرتے ہیں کہ ہر مخلوق اپنی حیثیت میں اللہ تعالیٰ کے تخلیق کائنات کےمنصوبے کا حصہ ہے اور ہر مخلوق میں ایک مخصوص کردار اور اہمیت موجود ہے-
جانوروں کا احترام فطرت سے محبت کا لازمی جز ہے اور مخلوقات کی قدر اور حفاطت کرنا محبتِ فطرت کا قرآنی تصور ہے-
مکمل مضمون: موسمیاتی تبدیلیاں اور ہماری زمین: قرآن کریم اور سیرت النبیﷺ سے اخلاقی زاویہ نظر (مرآۃ العارفین انٹرنیشنل، فروری، 2026)