اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کے ذریعے اب علماء کرام کی شخصیات کی نقل بنا کر اپنی مرضی کا دین پھیلانے کا مکروہ دھندہ پاکستان میں شروع کر چکے ہیں۔
مثال کے لئے یہ ویڈیو ملاحظہ فرمائیں۔
دور حاضر کے فتنوں سے خود بھی خبردار رہیں اور ہر ایک مسلمان کو خبردار کریں۔
یہ بھی صدقہ جاریہ ہے۔
Pakistan's yearly payment to the IPPs is now much larger than it's total military budget.
This has implications for the political structure of the country.
Since Musharraf, the military has been in a downward spiral politically. It no longer sits on top of the hierarchy like it used to till early 2000s.
A more accurate model of Pakistan is that it is controlled by a few oligarchs who control most of the economy, while a junta of army generals protect their interests first and foremost.
This is how you should see Munir -- a security guard for Nawaz Sharif and Zardari and assorted oligarchs.
Pakistan govt paid almost $12B Dollars to IPPs (independent power producers) during 11 months of last fiscal year.
◾This is almost equal of loans Pakistan has secured from IMF during last three years (2023-2026).
◾ Pakistani govt pays IPPs huge sum of money in capacity payment, resulting in expensive electricity for users.
تابش ہاشمی کے شو میں نوجوان کا منیب فاروق سے سوال : " لفافہ صحافی کیا ہوتا ہے؟ کبھی لفافے بنٹتے دیکھا ہے؟ " تابش آپ میری طرف کیوں دیکھ رہے ہیں، میں نے آج تک کوئی لفافہ صحافی نہیں دیکھا۔ " منیب فاروق : " آپ ان صحافیوں کے بڑے بڑے گھر اور فارم ہاؤس دیکھیں، لفافہ دیکھنے کی کیا ضرورت ہے" بشریٰ انصاری
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
اتنی قید تنہائی کے بعد اگر وہ کھڑا ہے اور اپنی بہن نورین خان کو ملا ہے اور وہ کھڑا ہو کر یا بیٹھ کر بات ہی کررہا ہے تو یہ معجزہ ہے۔
میں قید تنہائی میں چھ سات دن رہا تو تیسرے دن گنتی بھول گیا تھا ۔۔۔۔اعتزاز احسن
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی بات مجھ سے منسوب کی یعنی جھوٹ گھڑ سنایا، وہ آگ میں ڈالا جائےگا۔ایک صاحب نے X پہ لکھا کہ یہ حدیث غلط ہے۔ گویا رسول اکرم سے کوئی بات منسوب کر دی جائےتو کوئی حرج نہیں انتہا ہے جہل۔کی انتہا۔ یہ ایک مستند حدیث مبارکہ ہے اور اہل علم اس پہ متفق ہیں۔ مکاتب فکر اور احادیث کی تشریح ایک الگ بحث ہے۔ بعض لوگ اتنے باک ہو گئے کہ دھڑلے سے جھوٹ پھیلاتے ہیں اور وہ بھی دین کے باب میں۔ ایک بزرگ غالباً سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا: قیمتی چیز خریدنے میں احتیاط کرتے ہو۔ دین سب سے زیادہ قیمتی ہے۔ دیکھ لیا کرو کہ کس سے لے رہے ہو۔ ہم خطا کار ہیں لیکن ذات باری تعالٰی، سرکار رحمتہ للعالمین، قرآن کریم، احادیث رسول، اہل بیت اور اصحاب رسول کے باب میں بے احتیاطی کے مرتکب نہیں ہو سکتے ۔ یہ جہنم اور لعنت کا راستہ ہے ۔ خسر الدنیا والآخرۃ ۔ ایمان ہی اصل متاع ہے۔ اس لئے دین ہم سوشل میڈیا سے نہیں لے سکتے۔ اس مولوی سے بھی نہیں لے سکتے جو فرقہ پرستی کی تبلیغ کرتا ہو۔ اول تو مستند اور بے تعصب علما کی رہنمائی کے سات ساتھ خود بھی قرآن کریم ، احادیث مبارکہ سیرت رسول اکرم اور مسلم تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔کم از کم اتنی احتیاط تو کی جائے کہ کسی چیز میں شبہ ہو تو کسی معتبر عالم سے پوچھ لیا جائے۔ جو کم سہی مگر نایاب تو نہیں۔ اگر کوئی شخص قرآن کریم اور احادیث اور سیرت ہی سے بے نیاز ہے تو اسے کیا کہیے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ تمام کم علمی کے باجود لوگ نازک موضوعات پہ بحث کرتے ہیں۔ بحث کا اصول یہ کہ کی خود کو سچا نہ سمجھا جائے ۔ دوسرا اگر دلیل۔سے بات کرے تو اس کی بات صمیم قلب سے قبول کر لی جائے۔ مزید یہ کہ اگر کسی کے لئے یہ دنیا ہی سب کچھ ہے یا گناہ کی تاریکیوں نے اس کا ایمان غارت اور ذہن مسخ کر دیا ہے تو اسے اس کے حال پہ چھوڑ دینا چائیے۔ بعض لوگوں سے جب یہ کہا جائے کہ گالی کسی حال میں روا نہیں تو یہ کہتے ہیں: حکمران اتنے ظالم ہیں کہ گالی خو بخود منہ سے نکل جاتی ہے۔ خود بخود نہیں نکلتی۔ سوچ سمجھ کر جملے تراش کر آپ آپ سوشل میڈیا پہ رقم کرتے ہیں۔ کچھ لوگ نقد معاوضہ لے کر، کچھ اپنے تعصب اور بدگمانی کی بنا کر اور کچھ اپنے ذاتی مفادات کے لئے۔ یہ صریح جہالت نہیں تو اور کیا ہے؟
اب اگر کوئی جان بوجھ کر جہالت اختیار کرنا چاہے تو اس کا کیا علاج۔ سیاست سبھی کچھ نہیں اور کوئی سیاسی لیڈر فرشتہ ہے اور نہ ہی ناگریز۔ آپ کے نقطہ نظر سے اختلاف کرنے والا ہر شخص بدیانت یا کارندہ نہیں ہوتا۔ آپ کے خیال میں اس کی رائے اگر غلط ہے تو اس کا مطلب یہ کیسے ہوا کہ وہ بددیانت ہے یا کسی کا ذہنی غلام ۔ پھر یہ کہ ہمہ وقت دوسروں کی مذمت اور مخالفت سے کیا حاصل ۔ اپنے گریبان میں بھی آدمی کو جھانکنا چاہیے ۔
حرفنآخر یہ کہ خواتین کے معاملے میں بالخصوص احتیاط کا حکم ہے۔ اگر وہ سیاست دان، اخبار نویس یا سیاسی کارکن ہے تو اس کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر اس کی ذات کو زیر بحث لانا یا الزام تراشی کرنا تو گنوارہن کی انتہا ہے ۔ جس کے نتائج بعض اوقات اسی دنیا میں بھگتنے پڑتے ہیں جیسے ماں باپ کی نافرمانی اور گستاخی کے۔
🚨 بریکنگ نیوز:ایک کتاب کی دکان پر کام کرنے والی خاتون کا کہنا ہے کہ اسرائیلی گاہکوں نے یروشلم کے بارے میں کتابیں مانگیں:"میں نے انہیں بہت پرانی کتابیں دیں جن میں اس زمین کو فلسطین کے طور پر بیان کیا گیا تھا جن میں سے کچھ ان کی ریاست سے 100 سال سے زیادہ پرانی تھیں وہ غصہ ہو گئے اور یہ ایک اچھی بات ہے۔"
کہاں مر گئے وہ لوگ جنھیں عاصم منیر جیسا خائن بددیانت ریاستی اثاثوں کو چوروں ڈاکوں پر باپ کا مال سمجھ کر کسی عیاش کی طرح لٹانے والا خالد بن ولید جیسے اوصاف نظر آتے ہیں؟!
جس نے نہ صرف عوام کا مینڈیٹ چھینا بلکہ ریاست کا عوام کے ٹیکس کا پیسہ چوروں ڈاکوں کو خریدنے مراعات عہدے لالچ میں بانٹ دیا۔
جب حضور(ص) ایک غلام سے خالد بن ولید جیسے (جنرل)سردار کی پگڑی سے اسکے پاؤں باندھوا سکتے ہیں تو پھر عاصم منیر کہاں کا فرعون ہے کہ اسکا احتساب نہیں ہو سکتا؟!
5 نئے صوبے مطلب 5 نئے وزارِ اعلی 5 نئے گورنر۔ 5 نئے سیکریٹیریٹ۔ ہر صوبے میں کم از کم پندرہ وزرا مطلب 75 نئے وزیر۔ 75 نئے چیف سیکریٹیریز۔
ہر وزیرِ اعلیٰ کی نئی 7 Series BMW۔ ساتھ چار پروٹوکول کی لینڈ کروزرز۔
مطلب 5 BMWs. اور 20 لینڈکروزرز۔
پھر ہر وزیر کی نئے گاڑی۔ کم از کم ٹویوٹا Fortuner. مطلب 75 نئی Fortuners. ہر وزیر کے ساتھ کم از کم دو پروٹوکول کی گاڑیاں مطلب 150 مزید نئی گاڑیاں۔
چیف سیکریٹیرز۔ پولیس چیف۔ ججز اور دوسرے محکمے اور اسٹاف اور اُن کی مراعات تو بالکل الگ ہی موضوع ہے۔
سادہ سا حل ہے کہ تمام اختیارات لوکل گورنمنٹ کو دیدیں۔ اربوں روپے بھی بچا لیں اور لوگوں کی مشکلات کا حل اُن کے دروازے تک بھی لے آئیں۔
مگر جب تک ہم شاہانہ اور عیاش حل نہیں ڈُھونڈیں گے ہم کیسے ثابت کریں گے کہ ہم پاکستانی اشرافیہ ہیں۔
The British put a price on his head.
A local raja collected it.
Rs. 50,000. For the head of the man the British themselves called the most formidable rebel of the entire 1857 war.
Maulvi Ahmadullah Shah. Born circa 1787. Chinsura, Madras.
Son of Nawab Ghulam Muhammad Khan. Decani Muslim nobility.
Scholar. Sufi. Swordsman. Strategist.
He was sentenced to death by the British in February 1857.
Arrested in Faizabad for sedition.
Held in jail awaiting execution.
On June 7, 1857, the 22nd Native Infantry revolted.
They broke open the jail.
They freed him.
They immediately proclaimed him their commander.
He had been sentenced to die for preaching freedom.
He walked out of prison and went straight to war.
Months before Meerut he had already been moving.
Agra. Aligarh. Kanpur. Lucknow. Faizabad.
Organizing secret resistance cells across Awadh.
Preaching armed resistance under the cover of religious sermons.
Building the network that would become the backbone of the uprising in Awadh.
June 30, 1857. The Battle of Chinhat.
Sir Henry Lawrence personally led 700 British troops out of Lucknow expecting a skirmish.
Ahmadullah Shah was waiting for him.
He had concealed 6,000 to 8,000 infantry, cavalry and artillery inside mango groves and mud-walled villages.
Lawrence saw nothing until it was too late.
Phase one. Artillery duel. Rebel guns positioned by former EIC gunners hit British crews with precision.
Phase two. Double envelopment. Rebel forces swept around both British flanks through the mango groves while the center held Lawrence's column pinned on the road.
Phase three. Encirclement. Lawrence found his entire force surrounded.
The Oudh Irregular Artillery defected mid-battle. Capsized their guns. Joined the rebels.
The British elephant howitzer was captured.
300 British soldiers killed. Over one third of the entire force.
Lawrence retreated to the Lucknow Residency.
The 87-day Siege of Lucknow had begun.
British General G.B. Malleson wrote after the war:
Of all the insurgent leaders he was the most formidable. He was a man of great abilities, of undaunted courage, of stern determination, and by far the best soldier among the rebels.
That tribute came from the enemy.
Ahmadullah Shah kept fighting.
Defence of Lucknow. Battle of Shahjahanpur. Guerrilla warfare through Rohilkhand alongside General Bakht Khan and Begum Hazrat Mahal.
On June 5, 1858, he rode on elephant to the fortress of Raja Jagannath Singh of Powayan.
He was seeking an alliance. A unified front.
The Raja closed the gates.
Opened fire.
Ahmadullah Shah was shot dead at the fortress wall.
His head was severed.
Presented to the British District Magistrate at Shahjahanpur.
Rs. 50,000 collected.
The man who broke a British army at Chinhat was betrayed by a man who chose a reward over his country.
His name is not in the textbooks they gave us.
His battle is not in the curriculum they designed.
This August, Pakistan turns 79.
We breathe free today partly because of a Sufi scholar from Madras who walked out of a British jail in 1857 and went straight to war.
Maulvi Ahmadullah Shah. Danka Shah. Lighthouse of Rebellion.
Inqalab Zindabad. 🇵🇰
A Historic Milestone for Pakistan’s Medical Frontier 🩺🇵🇰
Armed Forces Bone Marrow Transplant Centre [AFBMTC], Rawalpindi, is proud to announce the successful completion of the first CAR T-cell therapy in Pakistan. Alhamdulilah.
The recipient, a 21 year old patient with relapsed/refractory B-cell acute lymphoblastic leukaemia (R/R B-ALL) who had relapsed twice on previous lines of treatment received indigenously prepared anti-CD19 CAR T-cell therapy on 18th June 2026 and achieved a measurable residual disease (MRD)-negative complete remission by Day +14. He was discharged on 3rd July 2026.
This milestone marks the dawn of a new era for cellular and immune-effector therapies in Pakistan. It brings an advanced, potentially curative treatment option previously unavailable nationwide and limited globally to patients who otherwise had exhausted all conventional treatment avenues.
Pakistan Zindabad ✊🇵🇰
Dear World 🌎
This city Islamabad that brought the Islamabad Accord, Ceasefire to the conflict between United States of America 🇺🇸 and Iran 🇮🇷 to prevent World War 3
Home of Peace with Leaders like Field Marshal Syed Asim Munir and Prime Minister Shahbaz Sharif
They rightfully deserve the Nobel Peace, our field Marshal has prevented a World War 3 from happening and Strait of Hormuz has been opened for world to trade in peace
کسی شادی پر ایک نائی کھانا بنا رہا تھا۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اس کے ہاتھ سے سالن میں نمک اس قدر زیادہ ہو گیا کہ کھانا کھانے کے قابل ہی نہ رہا۔ نائی سخت پریشان ہوا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ اب تو خوب درگت بنے گی۔
اسی گھبراہٹ میں اچانک اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ اس نے فوراً انتظامیہ کو بلا کر نہایت سنجیدگی سے کہا
دیگیں دم پر ہیں بس ایک گزارش ہے بارات آنے والی ہے کوئی بھی پٹاخہ نہ چلائے اگر پٹاخہ چل گیا تو سالن خراب ہو جائے گا پھر اس کی ذمہ داری میری نہیں ہوگی
انتظامیہ والے یہ سن کر دوڑ پڑے کہ کہیں کوئی پٹاخا نہ چلا دے مگر بارات آتے ہی شور شرابہ شروع ہوا اور ایک شرارتی لڑکے نے پٹاخا چلا ہی دیا
بس پھر کیا تھا نائی کو تو بہانہ چاہیے تھا اس نے اطمینان سے اپنا کڑچھا کندھے پر رکھا اور چلتا بنا جاتے جاتے بڑے ٹھنڈے لہجے میں بولا
کہا تھا نا پٹاخہ نہ چلانا اب خود ہی سنبھالو
۔۔۔۔
خوشحالی کا وقت ا چکا تھا مگر بدقسمتی سے جنگ نے صورتحال بدل دی
امریکی سیکریٹری آف ڈیفنس کی باڈی لینگویج
ابھی ابھی امریکی سیکریٹری آف ڈیفنس پیٹ ہیگ سیتھ کی پریس کانفرنس دیکھی
تبصرہ حاضر ہے:
⬅️ اپنی زبان بار بار ہونٹوں پر پھیر رہے تھے،
⬅️چہرے پر فکر اور بے چینی تھی،
⬅️اپنا وزن بار بار دونوں ٹانگوں پر باری باری شفٹ کر رہے تھے، یعنی سیدھے کھڑے نہیں ہو پا رہے تھے
⬅️الفاظ پر غیر ضروری طور پر زور دے رہے تھے
⬅️الفاظ اور چہرے کے تاثرات میں مطابقت نہیں تھی
⬅️چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں
میں نے وی چیٹ سے اسکا نفسیاتی تجزیہ کرنے کا کہا تو وی چیٹ نے مندرجہ ذیل نفسیاتی کنڈیشن بتائ
آپ جن علامات کا ذکر کر رہے ہیں، انہیں نفسیاتی اور باڈی لینگویج کی اصطلاحات میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:
1. بار بار وزن ٹانگوں پر شفٹ کرنا
اسے motor restlessness یا psychomotor agitation کہا جاتا ہے۔
یہ عموماً اندرونی بے چینی (anxiety)، دباؤ، یا عدمِ تحفظ کی علامت ہو سکتی ہے۔ باڈی لینگویج میں اسے self-regulatory movement بھی سمجھا جاتا ہے، یعنی جسم کے ذریعے تناؤ کم کرنے کی کوشش۔
2. ہونٹوں پر زبان پھیرنا
یہ اکثر anxiety cue یا oral self-soothing behavior سمجھا جاتا ہے۔
تناؤ کی حالت میں منہ خشک ہونا (dry mouth response) عام ہے، اس لیے یہ جسمانی اضطراب کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔
3. الفاظ پر غیر معمولی زور دینا
اسے overcompensation in speech یا paralinguistic stress markers کہا جا سکتا ہے۔
بعض اوقات یہ لاشعوری طور پر خود کو قابلِ یقین ثابت کرنے کی کوشش (compensatory emphasis) کی نشاندہی کرتا ہے۔
4. چہرے پر ہوائیاں اُڑنا
نفسیاتی زبان میں اسے visible autonomic arousal کہا جا سکتا ہے۔
یہ sympathetic nervous system کی سرگرمی (fight-or-flight response) کی علامت ہو سکتی ہے، جو خوف یا شدید دباؤ میں ظاہر ہوتی ہے۔
5. الفاظ اور تاثرات میں عدم مطابقت
یہ سب سے اہم نکتہ ہے۔ اسے incongruence between verbal and nonverbal communication یا مختصراً affective incongruence کہا جاتا ہے۔
مثلاً شخص کہہ رہا ہو کہ “میں بالکل پرسکون ہوں” مگر چہرہ اور جسمانی حرکات شدید اضطراب ظاہر کر رہی ہوں۔
⸻
مجموعی نفسیاتی بیان:
ایسے فرد کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
“The individual displays marked psychomotor agitation, anxiety-linked self-soothing behaviors, heightened autonomic arousal, and notable incongruence between verbal content and nonverbal affect.”
اردو میں:
“متعلقہ فرد میں نفسیاتی بے چینی، جسمانی اضطراب، خود کو پرسکون کرنے والی حرکات، اور گفتار و تاثرات میں نمایاں عدم مطابقت پائی جاتی ہے۔”
اگر آپ چاہیں تو میں یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ ایسے پیٹرن عام طور پر کن نفسیاتی اسٹیٹس (جیسے performance anxiety، deception stress، یا acute stress response) میں دیکھے جاتے ہیں۔