عمران خان، وہ نام جو 1992 میں پاکستان کے ہر دل کی دھڑکن بن گیا تھا۔ وہ ہیرو جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور ہمیں وہ ورلڈ کپ جیت کر دیا جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ ان کی قیادت، ان کا جذبہ، اور ان کی محنت آج بھی ہماری یادوں میں تازہ ہے۔
لیکن آج... وہی چہرہ، وہی ہیرو، حکومت کے ڈر اور خوف کی وجہ سے چھپایا جا رہا ہے۔ ایک ایسا لیڈر جس نے ملک کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا، اسے آج ایک قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے۔
کیا یہ انصاف ہے؟ کیا ہم اپنے ہیروز کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں؟
علیمہ خان کا اہم پیغام: 🚨🚨
"اطلاعات ہیں کہ عمران خان سے ایک 'خاموش ملاقات' کی پلاننگ کی جا رہی ہے تاکہ باہر آ کر سچ نہ بولا جا سکے، اور پھر مستقل طور پر خان صاحب تک رسائی کا راستہ ہی بند کر دیا جائے۔ یاد رکھیں! خان صاحب کا عوام اور پارٹی سے رشتہ کوئی ڈیل یا بند کمرے کی سازش ختم نہیں کر سکتی۔ ہم ڈرنے والے نہیں!"
کل بروز منگل 2 بجے دوپہر سینیٹرز۔ایم این ایز۔ایم پی ایز۔ ٹکٹ ہولڈرز۔ پارٹی عہدیداران۔آئی ایل ایف۔آئی ایس ایف۔یوتھ ونگ۔وومن ونگ۔منیارٹی ونگ۔ٹریڈرز ونگ ہم سب اڈیالہ جیل کے سامنے اکھٹے ہوں گے، انشااللہ۔..
Yesterday, our family met with KP ministers at the Islamabad High Court. We held a detailed discussion on the steps being taken to restore all of Imran Khan’s legal and lawful prison rights.
During the meeting, Ministers provided the following update:
1. There will be no surplus budget, as Imran Khan has consistently directed that all available funds be utilized for the development and uplift of the people of Khyber Pakhtunkhwa.
2. The KP Government will not sign any agreement to transfer the Rs. 175 billion requested by the Federal Government unless the following demands are met:
• Khyber Pakhtunkhwa must receive its full share for the merged districts (formerly FATA) for the current fiscal year, amounting to approximately Rs. 300 billion. These funds are essential for the economic development and stability of the merged areas.
No agreement will be signed until all of Imran Khan’s legal and lawful rights are fully restored, including
1. The immediate transfer of Imran Khan to Shifa International Hospital for proper diagnosis, examination, and treatment by qualified specialists.
2. An immediate end to Imran Khan’s eight-month isolation and solitary confinement.
a) Restore weekly meetings with 6 family members, 6 members of his legal team, and 6 friends (political associates)
b) Restore his weekly phone calls with his sons.
c) Restore his access to books, newspapers, and other reading material.
These are the basic legal and human rights that must be respected and restored without further delay.
🚨بجٹ کو پیش نا کیا جائے بجٹ کو دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کم از کم عمران خان سے ملاقات ہو انکا علاج تو اس میں کیا مشکل کام ہے ۔
علیمہ خان۔۔
بریکنگ نیوز 🚨شاہد میتلا کے تہلکہ خیز انکشافات 🔥🔥🔥
فرح گوگی تو بیچاری بدنام ہوگی۔مریم اورنگزیب 100 فرح گوگیوں پر بھاری ہیں۔500-500صفحات کے دو سکینڈلز تو میرے پاس دو تین مہینوں سے پڑے ہیں۔اتنے تو پنجاب میں شہر نہیں ہیں جتنی بسیں لے لی ہیں اور لی جارہی ہیں۔
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے
جب تک خانصاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا ، بہنوں سے ملاقات نہیں کروائی جاتی:
1- آپ نے سر پلس بجٹ پاس نہیں کرنا
2- اربوں روپے جنرلز کو نہیں دینے
3- بجٹ ایک یا مہینے سے زیادہ پاس نہیں کروانا
سب باتیں چھوڑ کر اس ایک بات پر فوکس کرنا ہے ہم سب نے۔
1۔ علیمہ خانم کا ٹویٹ 🚨
"جون کا مہینہ پی ٹی آئی (PTI) کے پاس واحد موقع ہے جس میں وہ عمران خان کی تنہائی کو ختم کرنے اور انہیں مناسب طبی علاج کے لیے ان کے خاندان اور ذاتی ڈاکٹروں کی موجودگی میں 'شفا انٹرنیشنل ہسپتال' منتقل کروانے کے لیے کافی دباؤ بڑھا سکے۔"
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
نورین خان کا خدشہ 🚨
مجھے اتنا پتہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ اندر کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا اس لئے یہ ملاقات نہیں کروانے دے رہے ہیں اور کچھ چھپا رہے ہیں۔
یہ لوگ عمران خان کو کھانے میں کچھ بھی دے سکتے ہیں، ہمیں بہت پریشانی ہے