تھوڑی سی محنت لگی مگر میں نے ولی خان کا خط بھی ڈھونڈ لیا ہے اور چودھری محمد علی کی لکھی دستاویز بھی۔
پہلے ذرا اصل دستاویز پڑھیں۔ چودھری محمد علی لکھ رہے ہیں کہ پورا مغربی پاکستان ایک معاشی وحدت ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
"سرحدی صوبے (فرنٹیئر) کے بجلی کے وسائل پنجاب کی صنعتوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں، پنجاب میں جمع ہونے والے سرمائے کو بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں ترقی کے ذریعے خوش حالی کے فرق کو کم کرنا چاہیے"
محترم ولی خان نے ترجمہ کیا کہ:
پنجاب سرحد کی بجلی، بلوچستان کے کوئلے اور گیس اور سندھ کے وسائل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے مغربی پاکستان پر حکمرانی پنجاب کی ہونی چاہیے"
ہمارے محبوب قائد ایمل ولی خان صاحب نے اصلی دستاویز پڑھنے کے بجائے ولی خان کے غلط ترجمے پر کیوں اکتفا کیا یہ سمجھنے سے میں بہرحال قاصر ہوں۔
* ادارے کا بیٹا جنرل ساحر شمشاد مرزا *
جنرل ساحر شمشاد مرزا کے والدین بچپن میں وفات پا گۓ تھے اور اِنہوں نے یتیمی میں پرورش پائ ۔ محنت کرتے کرتے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی ،جس دن پاک فوج میں شمولیت کے فارم پر دستخط کیے تو والدین کے خانے میں " پاکستان آرمی " لکھا جس کا اُنہوں نے آخری دن تک حق ادا کیا
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اپنی سیاسی وابستگی پی ٹی آئ کے ساتھ ہونے کے باوجود اپنے ادارے کے وقار اور سلامتی کو ترجیح دی
۹ مئ پاک فوج کے اندر بغاوت کی کوشش کو ناکام بنانے پر جب مکمل تاریخی حقائق سامنے آئیں گے تو جنرل ساحر شمشاد مرزا کا نام سُنہرے حروف میں لکھا اور یاد رکھا جاۓ گا
۹ مئ کی بغاوت کو ناکام بنانے میں جنرل ساحر شمشاد مرزا کا اہم کردار تھا ۔عمران خان ،فیض حمید اور عمراندار ججز سب جانتے تھے کہ جنرل ساحر شمشاد مرزا پی ٹی آئ اور عمران خان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں
جنرل قمر جاوید باجوہ نے پروجیکٹ عمران خان کے تسلسل کے لیے ساحر شمشاد مرزا کو آرمی چیف نا لگانے کے نتیجے میں مارشل لأ لگانے کی دھمکی بھی دی تھی جسے نواز شریف نے مسترد کرتے ہوۓ جواب دیا کہ شوق سے لگائیں مارشل لأ مگر اس بار آرمی چیف کی تعیناتی سو فیصد میرٹ پر ہو گی
فیض،خان اور عمراندار ججز کا منصوبہ تھا کہ خان کی گرفتاری ہوتے ہی پاک افواج کی تنصیبات پر حملے کراۓ جائیں گے ،پولیس ،رینجرز ممکنہ طور پر سخت جوابی ردِ عمل دے گی اور فائرنگ کے تبادلے میں شہریوں ،پولیس اور رینجرز کی ہلاکتیں ہوں گی جس کے بعد حالات کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے
۹ مئ کے دن آرمی چیف عاصم مُنیر پاکستان میں نہیں بلکہ عمان دورے پر موجود تھے جسے بہانہ بنا کر جنرل ساحر شمشاد مرزا سے درخواست کی جاۓ گی کہ آپ فورا کمان سمبھالیں اور حکومت پر پریشر ڈال کر اسمبلی تحلیل اور نۓ الیکشن کا اعلان کروا دیں اور اگر حکومت آپکی بات مان کر ایسا نہیں کرتی تو مختصر وقت (۹۰ دن)کے لیے مارشل لأ یا ایمرجنسی نافذ کر کے نۓ الیکشن کا اعلان آپ خود کر دیں اس میں عمر عطا بندیال سمیت تمام ہمخیال ججز آن بورڈ ہیں اور آپکے اس اقدام کی توثیق سپریم کورٹ بھی کر دے گی جس سے مستقبل میں آپکے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کاروائ بھی نہیں کی جا سکے گی اور ویسے بھی حکومت پی ٹی آئ کی بنوائ جاۓ گی اور آپ ۶ سال کے لیے آرمی چیف ہوں گے
سب کُچھ منصوبے کے مطابق ۹۹ فیصد درست جا رہا تھا باقی کے ایک فیصد نے سارا منصوبہ ناکام بنا دیا اور وہ ایک فیصد یہ تھا کہ اس سارے منصوبے پر جنرل ساحر شمشاد مرزا کو پیشگی اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا بلکہ اُنکی ادارے سے جذباتی وابستگی پر بھروسہ کیا گیا کہ ایسے حالات میں ساحر شمشاد مرزا ادارے اور پاکستان کو بچانے آگے ضرور آئیں گے اور ساحر شمشاد مرزا ادارے اور پاکستان کے تحفظ کے لیے سامنے آۓ بھی لیکن سازشی عناصر کی توقعات کے برعکس
ہنگاموں کے دوران منصوبے کے مطابق فیض حمید کے حمایتی کچھ لوگ ساحر شمشاد مرزا کو ساری صورتحال سے آگاہ کرتے ہیں اور ان سے کمان سمبھالنے کی درخواست کی جاتی کہ ادارے کو اس وقت آپ جیسے سربراہ کی ضرورت ہے لہذا آگے آئیں
ساحر شمشاد مرزا ایک منجھے ہوۓ جنرل تھے لہذا انہوں نے کھیل کو سمجھتے ہوۓ تھوڑی سی مہلت مانگی اور فیض حمید کے حمایتیوں کے جانے کے فوری بعد عمان میں موجود آرمی چیف عاصم مُنیر سے رابطہ کر کے ساری کہانی بیان کر دی جس کے بعد معاملات عاصم مُنیر اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور فوری طور اسلام آباد راولپنڈی کی سڑکوں پر فوجی دستے مارچ کے لیے نکل آتے ہیں
سازشیوں کو تاثر دیا جاتا ہے کہ انکا منصوبہ کامیاب جا رہا ہے مگر پسِ پردہ ایم آئ اور آئ ایس آئ سازشیوں کے خلاف متحرک ہو چُکی ہوتی ہے ۔نچلے درجے کے کئ افسران کو گرفتار اور اعلیٰ افسران کو نظربند کر دیا جاتا ہے
۹ مئ کو جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اپنی سیاسی ہمدری کو ایک طرف کر کے اپنے والدین کی حثیت رکھنے والے ادارے کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیا اور آج ۴۰ سال اپنے والدین (ادارے) کی خدمت کرنے کے بعد فخر اور شان کے ساتھ اپنا دامن داغدار کیے بغیر گھر واپس چلے گۓ
آج بھی ادارے میں ہزاروں لاکھوں ساحر شمشاد مرزا موجود ہیں جو اپنے نفس ،اپنی سیاسی وابستگی کی بجاۓ پاکستان اور ادارے کی سالمیت کو ترجیح دیتے ہیں اور پاکستانی قوم ایسے جوانوں کو سلام پیش کرتی ہے 🫡🇵🇰
پہلے نام پڑھیں جو مسلم لیگ نواز شریف کو چھوڑ گے۔ عمر ایوب۔ شیخ رشید۔ شاہ محمود۔ حامد ناصر چھٹہ۔ پرویز الہی۔ چوھدری نثار ۔ شاھد خاقان۔ لیاقت جتوئی۔ غوث علی شاہ۔ شیخ وقاص اکرم۔ منظور وٹو۔ جاوید ھاشمی۔ زبیر عمر۔ ظفراللہ جمالی سمیت 30 سے زائد نامی گرامی شخصیات نے نواز شریف کا ساتھ چھوڑا مسلم لیگ کو چھوڑا۔ ان میں سے کسی ایک نے کبھی نواز شریف کے کردار اخلاق بددیانتی پر کوئی بات کی ھے۔ کوئی الزام کبھی لگایا کہ نواز شریف نے ان سے اسمبلی ٹکٹ کے بدلے پیسے لیے کبھی کسی نے کہا کوئی فائل سائن کرنےکےعوض نواز شریف یا کلثوم نواز حسن یا حسین نواز نے کوئی پرسنٹیج گاڑی ھیرے کی انگوٹھیاں یا پلاٹ کا تقاضا کیا؟ نوازشریف کا ساتھ چھوڑنے والے کسی ایک شخص نے کبھی کہا نواز شریف اس سے پیسے لیتاتھا؟ یا اسکا کچن اس نےچلایا نواز شریف نے اسکی گاڑی استعمال کی؟ کوئی ایک شخص ایسا نہیں ملےگا جو نواز شریف کےساتھ رھاھو اور اس نےنوازشریف کے خلاف بات کی ھواگرچہ چھوڑ کرچلابھی گیاھو۔
لیکن جو شخص عمران خان کوچھوڑ ر گیا جہانگیر ترین علیم خان محسن بیگ اسکی سابقہ اھلیہ فیاض الحسن پرویز خٹک زبیدہ جلال وغیرہ جس جس کا نام لکھیں اس نے خان کا کٹھا چھٹا کھولا کہ کچن سے لیکر گاڑیوں تک اور پھر ٹکٹ سے لیکر عہدوں تک شوکت خانم اور پارٹی فنڈ کے نام پرکھان سانپ پیسے لیتےرھے۔
یہ ھے فرق۔ گواہ دنیا میں سب کےسامنے.
سال 1993سے نواز شریف کے خلاف مقدمات چل رھے مشرف نے سارا ریکارڈ چھان مارا 25کروڑ عوام میں سے کوئی 1 بندہ کسی عدالت میں نواز شریف کے خلاف گواہ نہیں بنا کہ اس نے نواز شریف کو چوری پلاٹ قبضہ کرپشن لینڈمافیہ غبن کرتے کمیشن لیتے دیکھا ھو
۔
جبکہ کھان سانپ کے خلاف عدت کیس میں 13 گواہ۔ 190 ملین پاونڈ میں 33 گواہ ان میں سے 7خان سانپ کی کابینہ کے وزیروں نےآکرگواھی دی توشہ خانہ ون میں 17 گواہ توشہ خانہ ٹومیں 28 گواہ پیش ھوئے باقی ریحام خان کی کتاب الگ ھے جس کودنیا کی کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا گیا کہ جھوٹ لکھا ھے۔؟
شہباز صاحب جس سپیڈ سے جا رہے ہیں عین ممکن ہے ٹرمپ انہیں امریکی صدارت کا نہیں تو کم از کم اپنی جائیداد کا کچھ وارث بنا دے 😀
مذاق (اور اختلافات) اپنی جگہ لیکن تمام حقائق ملحوظِ خاطر رکھیں تو حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت اچھی سفارتکاری ہے۔
اس بچے کا نام ذوالقرنین ہے
ذوالقرنین آج سے تین چار سال قبل اپنے گھر سے بچھڑا تھا اور لاوارث حالت میں بہاولپور کے ایک ادارے کو ملا تھا۔
اپنا ایڈریس یاد نہیں ہے۔جوجو علاقے بتائے تھے وہاں ادارے والے لیکر گئے تھے لیکن وہاں انکے ورثاء نہیں ملے۔
ذوالقرنین کے والد کا نام یاسین ہے جو ایک میڈیسن کمپنی میں کام کرتا تھا پھر بینک میں جاب شروع کی۔
والدہ کا نام نادیہ ہے۔
بھائیوں کے نام اویس، سنی اور حسنین یاد ہیں۔
بہنیں فاطمہ،گڑیا اور ثریا یاد ہیں۔
چچا کا شاہ نواز بسکٹ کمپنی میں کام کرتا تھا۔
قوم بھٹی ہے۔
پنجاب بھر کے تمام دوست اس پوسٹ کو خوب شئیر کریں تاکہ ذوالقرنین اپنے پیاروں کو مل جائے اور ماں باپ کے دلوں کو سکون پہنچے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر واٹس ایک کریں۔
+923162529829
7 Oct 2025
پاکستان کے نام
میری پیدائش آزاد کشمیر ، بھمبر کے ایک گاؤں میں ہوئی-
تمام تعلیم پاکستان کے مختلف شہروں کے بہترین سکولوں سے حاصل کی- پاکستان نے میرے آباؤ اجداد کو پہچان دی ، مجھے شناخت دی ، اور میری اولاد کو حفاظت کے ساتھ اپنی آغوش میں لپیٹ لیا-
پاکستان نے مجھے اعلیٰ ادارے میں خدمات کا موقع دیا اور ایک اعلیٰ عہدے تک ترقی دی اور یہ سفر آج بھی جاری ہے-
ساری زندگی ، پاکستان کے کسی شہری نے کسی مقام پے ، کسی جگہ ، کبھی بھی غیر محفوظ ہونے کا احساس نہیں دلایا-
اپنی ملازمت اور عہدے کے پیش نظر بہت اعلیٰ میٹنگز میں بیٹھنے کا موقع ملا ؛ میں حلفاً یہ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان نے بحیثیت ریاست ، آزاد کشمیر کو سگی اولاد سے زیادہ پیار دیا ہے- اپنا پیٹ کاٹ کا آزاد کشمیر کا خیال رکھا ہے-
میرے پاس پاکستان کی آزاد کشمیر کے لئے خدمات کی تفصیلات اتنی زیادہ ہیں کہ شاید جگہ کم پڑ جائے-
اپنے بچپن میں مجاہد اول ، سردار عبدل قیوم صاحب سے ایک مرتبہ ملاقات کا موقع ملا جب وہ آزاد کشمیر کے صدر تھے- میں نے اُس دفتر سے لے کے ہر گلی ، شہر اور اپنے گاؤں کی ہر بیٹھک میں ہمیشہ ایک ہی نعرہ سنا ہے ؛ کشمیر بنے گا پاکستان-
پاکستان سے ہماری وابستگی صرف زمین کی نہیں، ایمان اور احساس کی ہے۔ 1947 سے آج تک پاکستان نے ہر مشکل گھڑی میں آزاد کشمیر کا ساتھ دیا — چاہے زلزلہ ہو، سیلاب یا مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کی آواز اُٹھانا۔
ہمیں فخر ہے کہ ہم اُس ملک کے وفادار ہیں جو ہماری آزادی، ہماری شناخت اور ہمارے مستقبل کی ضمانت ہے۔ پاکستان ہماری منزل بھی ہے اور ہمارا مان بھی۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
آزاد کشمیر کا کل بجٹ 310 ارب روپے ہے۔
آزاد کشمیر کے آمدن ٹیکس 67 ارب،
دیگر ٹیکس 17 ارب،
داخلی محصولات 25 ارب،
پانی استعمال چارجز 1 ارب
کشمیر کا اپنے بجٹ میں حصہ 111 ارب روپے بنتا ہے۔باقی 199 ارب روپے بجٹ میں حکومت پاکستان کی طرف سے
شامل کیے جاتے ہیں ۔
جس طرح باقی تین صوبوں کہ قوم پرستوں کو لگتا ہے کہ پنجاب انہیں کھا رہا ہے
بلکل اسی طرح
کچھ پوسٹیں دیکھیں کہ کچھ کشمیری بھائیوں کو لگتا ہے کہ پاکستان ہمیں کھا رہا ہے ۔
سوشل میڈیا کہ آنے کہ بعد جس کا جو دل چاہتا ہے ۔جو مرضی لکھ کر زہر اگلنا شروع کر دیتا ہے ۔پاکستان کیا کروڑوں لوگوں کا لاوارث ملک ہے۔جو مرضی جب مرضی زہر اگلو ۔سب تماشہ دیکھیں گئے آپس میں جو مرضی مطالبے کرو پاکستان پر بکواس کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے ۔
پاکستان ہمشہ ذندہ باد
عشق عمران میں مبتلا جامی صاحب نےکپتان کی محبت میں کہا:
"چاہےوہ گورنمنٹ ہو، میرےحکمرانوں اور میرےٹاک شوز کی گفتگو بھی عمران خان کےبغیر ادھوری ہے."
--
پھر شفقت صاحب نےایک جملے میں دریا کو کوزےمیں بند کردیا.
شفقت صاحب !
آپکو 37 توپوں کی سلامی. 😂
Don't miss this 39 seconds clip.😂👌
آپ سے بس اتنی گزارش کروں گا کہ اسوقت جو عروج پاکستان کو مل رہا ہے اُس ساری کہانی میں خدارا شہباز شریف کی زہانت ، دور اندیشی اور قربانی کو نا بھول جانا جس نے اُس وقت اپنی سیاست اور مُلک کی خاطر اپنی عزت داؤ پر لگا دی تھی جب فیض گروپ نے ہر قدم پر سازش کا جال بچھایا ہوا تھا❤️🇵🇰✌️
سب دوست یہ ویڈیو سیو کر لیں!
بھارت نے ہمارے اکاونٹس پر تو پابندی لگا دی لیکن اب اگر کوئی بھارتی اکاونٹ آپ کے سامنے آیا جو پاکستان کے خلاف باتیں کر رہا ہو تو آپ کا فرض ہے کہ اسکے کمنٹس میں یہ ویڈیو لازمی لگائیں۔
ہم سب نے پاکستان کی یہ جنگ ملکر لڑنی ہے!
زیادہ سے زیادہ شئیر کریں