جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے اقبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
اللہ کی فوج کا ایک اور عظیم کارنامہ، مراد سعید کے گھر کی چادر و چار دیواری پامال کر کے گھر کا تمام سامان باہر نکال کر پھینکا گیا اور گھر میں موجود مراد سعید کی معذور والدہ محترمہ و بھائی کے معصوم بچوں کو گھر سے نکال کر گھر چھوڑنے کا کہا گیا، مراد سعید کی بزرگ والدہ محترمہ گزشتہ 17 سال سے معذوری کی حالت میں گھر پر ہیں، مراد سعید کا بھائی گزشتہ تین سالوں سے کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور آج بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہے، مراد سعید خود پچھلے تین سالوں سے روپوشی کی بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہے کیونکہ فوج اس کی جان کی دشمن ہے، آج جو کچھ مراد سعید کی فیملی کے ساتھ کیا گیا وہ صرف اسرائیل معصوم و نہتے فلسطینیوں کے ساتھ کرتا ہے، نہ عاصم منیر اور اس کی فوج میں کوئی انسانیت باقی رہی ہے اور نہ ہی کوئی شرم و حیاء، ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنی ہی عوام پر ظلم کی تمام حدیں پار کر چکی ہے، ملک پر قبضہ، عوام کے مینڈیٹ پر قبضہ، عوام کے ووٹوں سے بنی واحد حکومت کے صوبے پر قبضہ اور اب مراد سعید کے گھر پر قبضہ، عاصم منیر اینڈ کمپنی تم اور کتنا گرو گے؟ کیا پاکستان اسرائیل کو ٹھیکے پر دے دیا گیا ہے؟ کیا تمہارا کوئی دین، مذھب اور ایمان ہے؟
تحریکِ انصاف اور پاکستانی قوم گزشتہ چار سالوں سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے بدترین مظالم برداشت کر رہی ہے اور ہر روز ظلم و جبر کی ایک نئی داستان رقم ہوتی ہے، پچھلے چار سالوں میں چوک اور چوراہوں میں نہتے معصوم لوگوں کو فوج کے سنائپرز نے سروں اور سینوں میں گولیاں ماریں، لوگوں کے گھروں، دفتروں، فیکٹریوں کو بلڈوزر کیا گیا ان کے قیمتی اثاثوں کو توڑا گیا، نوکریوں سے نکالا گیا، جھوٹے مقدمات میں ہزاروں لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، غیر آئینی و غیر قانونی فوجی عدالتوں سے سزائیں دلوائی گئیں، عورتوں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا گیا، جیلوں میں بیگناہ لوگوں پر اتنا ظلم کیا گیا کہ کئی جیلوں سے رہا ہو کر بیماری کی حالت میں شہید ہو گئے، معصوم لوگوں کو تیل کی ابلتی ہوئی کڑاہی میں پھینکا گیا، 90 فیصد عوام کے لیڈر عمران خان پر 300 سے زائد جھوٹے مقدمات درج کر کے تین سال سے بیگناہ قید اور گیارہ ماہ سے بدترین قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، ان کی اہلیہ پچھلے اڑھائی سال سے بغیر کسی جرم کے جیل میں بیگناہ قید ہے، عمران خان کی تینوں بہنیں جیل میں ہیں، بھانجہ بیرسٹر حسان خان نیازی تین سال سے بیگناہ جیل میں قید ہے، کزن قاسم زمان خان جیل میں قید ہے، ان چار سالوں میں کوئی ظلم و جبر ایسا نہیں رہ گیا کہ جو فوج نےاپنی ہی عوام پر نہ کیا ہو۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
انڈیا سے تجارت بند ہے۔ افغانستان سے تجارت بند ہے۔ سی پیک کو تقریبا ختم کردیا ہے ایران سے بھی تجارت بند کردی ہے۔ ہمسائے میں ایک بحیرہ عرب بچا ہے اس میں حکومت اور جرنیل شرم سے ڈوب کر مر جائیں۔
چار ہمسائے ہیں۔ تین دشمن بنا لیے ہیں۔ تینوں سے تجارت بند ہے۔ چوتھے سے مہنگے قرضے لیے اب اسکے پراجیکٹس بھی ویران کردیے۔ پانچ صوبے ہیں۔ ایک میں فوج موومنٹ نہیں کرسکتی۔ دوسرے میں گورنر راج ، تیسرے میں کٹھ پتلی حکومت اور چوتھا حمایت کے بدلے ٹھگوں کو دے رکھا ہے پانچویں میں بھی عوامی نماندہ حکومت نہیں۔ ملحق ریاست میں شدید احتجاج دھرنے چل رہے ہیں۔
کچھ عرصے بعد کوئی جرنیل کہے گا یہ سارا سیاسی مسئلہ تھا۔ سیاستدانوں کی کمزوریاں تھیں۔ ملک ہی ایسا تھا۔ گرمی ہے بہت تھی۔ دور ہی بہت تھا۔
نثار باز نے اپنے اس ٹویٹ میں سب کچھ واضح کر دیا۔ اب ہمیں سمجھ آیا کہ عمران خان صاحب نے اپنے صوبائی حکومت کو مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو کیوں رکھا ہوا تھا۔
سب سے بڑا لیز تو ملٹری کی FWO کمپنی کے پاس ہے۔ جو خیبرپختونخوا حکومت کو صرف 14-16 کروڑ روپ ادا کیے جو کہ اصل میں 34 ارب روپے بنتے ہیں۔
اسکو تو کہتے ہیں قابض ہونا خیبرپختونخوا کی معدنیات پر۔
شکریہ نثار باز (@khannisar930) بھائی اپ نے تفصیل سے سمجھایا اور سب واضح کیا اپنے ٹویٹ میں۔
اپنا خیال رکھیں!
عمران خان کی حکومت امن تھا۔ جب رجيم چینج ہوا اور طالبان دوبارہ لاۓ گئے۔ تو مراد سعید نے آواز اٹھائی۔ تو اس کے خلاف پرچے ہوے ۔ اور اس کو دھمکیاں ملی
گورنر خیبر پختون خوا اس وقت کہاں تھا ؟
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کا آج یومِ شہادت ہے۔ قائداعظم سے جان چھڑوانے کے بعد یہ جرنیلی ٹولہ اقتدار پر مکمل اختیار چاہتا تھا۔ لیاقت علی خان کا قاتل سید اکبر ایک فوجی سپاہی تھا، جسے انکوائری اور گرفتاری میں لینے کی بجائے گولی مار دی گئی۔ اس کے خاندان کی اسی دن فوج سے پنشن لگ گئی۔ اس کی بیوی، جس کا انتقال چند سال پہلے ہوا، کو فوج نے گھر بھی دیا، اور آج بھی اس کی اولاد اس پنشن کے مزے لے رہی ہے اور امریکہ میں مقیم ہے۔
ہماری مادرِ ملت، جنہوں نے جمہوریت کا علم بلند کیا اور متحرک ہو گئیں، ان کے مقابلے پر آمر ایوب خان کی رعونت اور جسارت تو دیکھیے کہ اُس نے فاطمہ جناح کو غدار اور انڈین ایجنٹ قرار دے دیا۔ ایوب خان دھاندلی کرکے ان سے الیکشن جیت گیا، لیکن پھر بھی جرنیلی رعونت ختم نہ ہوئی۔ فاطمہ جناح کو زندگی ہی میں رسوا کرنا شروع کر دیا گیا، ان کے اوپر پانی چوری جیسے مقدمے بنائے گئے۔ تب بھی بدلے کی آگ ختم نہ ہوئی تو اس جرنیلی ٹولے نے مادرِ ملت فاطمہ جناح کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پڑھیں تو آپ کا دل لرز اٹھے گا۔
میرے پاکستانیوں، خصوصاً میرے نوجوانو! میں آپ کو دہائیوں سے ان کے کردار اور ان کی حرکتوں کی طرف متوجہ کرتا آ رہا ہوں۔ خوشی ہے کہ ان کا یہ کردار عمران خان کے تسلسل سے آپ تک پہنچا۔ ان کے منہ کو آپ کا خون لگ چکا ہے۔
عاصم منیر کی رعونت اور فرعونیت کا بھی وہی عالم ہے۔ انہوں نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کی تذلیل سے بھی کچھ نہیں سیکھا۔
جب جنرل ایوب امریکہ کو پختونخوا میں فوجی اڈہ دے رہا تھا، عمران خان اسکول پڑھ رہا تھا۔ جب بھٹو پشاور کے قلعہ بالا حصار میں افغان شدت پسندوں کو جنگی ٹریننگ کرا رہا تھا،عمران خان کرکٹ کھیل رہا تھا۔ جب جنرل ضیا الحق افغانستان میں امریکہ کا جہاد لڑ رہا تھا،عمران خان دنیا کا بہترین آل راونڈر بن رہا تھا۔ جب نواز شریف مستقبل کے دہشت گردوں کی فتح پر کابل ایئرپورٹ پر سجدے کر رہا تھا اور ان کی مدد سے کشمیر آزاد کروا رہا تھا،عمران خان پاکستان کے لئے ورلڈ کپ جیت رہا تھا، جب بے نظیر بھٹو طالبان بنا کر انہیں اپنے لڑکے کہلوانے کا کریڈٹ لے رہی تھی،عمران خان غریب مریضوں کے لئے کینسر اسپتال بنا رہا تھا۔ جب جنرل مشرف امریکہ کی جنگ میں کود کر فاٹا اور پختونخوا میں آگ لگا رہا تھا،عمران خان اس ظلم کے خلاف عملی طو پر سڑکوں پر تھا، جیل بھی گیا۔
1956 سے لیکر 2001 تک فوجی اسٹیبلشمنٹ، ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی پالیسیاں پختونخوا میں دہشت گردی اور آگ لگانے کی ذمہ دار ہیں
عمران خان کو پختونخوا میں دہشت گردی کا ذمہ دار کہنے والے جعلی دانشورو، گودی صحافیو اور جرنیلی سیاست دانو !!!
تم اپنی پیدائش کا ذمہ دار بھی عمران خان کو کیوں نہیں قرار دے دیتے۔ یقین کرو، وہ، اللہ کا ایک سادہ اور گناہ گار بندہ ہے،مائنڈ نہیں کرے گا۔
دہشت گردی کی رٹ لگا کر گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے والی اس جفا کار فوج کا مقصد اب سامنے آ چکا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ خیبر پختونخوا ریئر ارتھ منرلز کے ذخائر سے بھرا ہوا ہے۔ مائنز بھی ہیں۔ عاصم منیر نے ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس جا کر وہ ذخائر دکھائے تھے اور دنیا کے سامنے اپنا CV پیش کیا تھا۔ پوری دنیا نے دیکھا تھا۔
عمران خان نے اس کو اجازت نہیں دی تھی! اور اس لیے نہیں دی تھی کیونکہ اس کی تاب کاری ہزاروں سال تک پھیلے گی۔ ہزاروں سال تک پشتون کینسر جیسی موذی بیماریوں سے گزرے گا!
اب جب امریکی سفارت خانے کی ناظمُ الامور اپنے عزائم لے کر سامنے آ گئی ہیں اور 7 کھرب ڈالر کا تخمینہ بھی لگایا ہوا ہے، تو پیچھے کیا رہ گیا ہے؟ یہ چین ہے جو وہاں تمام SOPs کی پاسداری کرتے ہوئے کام کر رہا ہے۔ ان کو وہاں سے نکالنے اور امریکہ کو مسلط کرنے، گورنر راج لگانے اور پاکستان کی تاریخ کی سب سے پاپولر حکومت کو اقتدار سے نکالنے کا عمل اسی لیے کیا گیا ہے۔ یہ اپنے گھناؤنے عزائم پورے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
میرے پختونوں! اس فوج نے آپ کو امریکہ کو بیچنے کے لیے دنیا کے سامنے دہشت گرد بنا کر پیش کیا ہے۔ عمران خان واقعی ان کے اور آپ کے بیچ آخری دیوار ہے۔ ان کے اس عمل کا نقصان آپ کی نسلوں کو ہوگا۔
یہ ہر ایک کے تن سے کپڑے اتارنا چاہتی ہے۔ وہ سب کچھ بیچ دے گی۔ آپ مریں یا آپ کی نسلیں تباہ ہوں، ان کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ غرض ہے تو ڈالروں سے ہے۔
یہ جو کچھ ہو رہا ہے، اگلی باری پنجاب کی ہے اور اس کے بعد سندھ کی۔ یہ صوبے کے صوبے امریکہ کو پیش کر رہے ہیں۔ بلوچستان تو یہ پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔ آزاد کشمیر کے پاس بھی ریئر ارتھ منرلز ہیں، اسی لیے وہ بھی ان کی تاب کاری سے نہیں بچے گا۔ افغانستان میں بھی ان کے یہی عزائم تھے، مگر انہوں نے انہیں پورا نہیں ہونے دیا۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔مرادسعید 🔥✌️
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
مشرف نے نواز شریف کو رکھ کر دبایا تو نواز شریف جدے تھا۔ اسمبلی میں سولہ نشستیں تھیں اور لاہور میں ن لیگ کے پاس امیدوار نہیں تھا۔ ضیاء دور میں بینظیر کان میں درد کا کہہ کر چلی گئی ، پھر ستانوے میں نواز شریف کی حکومت کے خوف سے خودساختہ جلاوطن ہوگئی۔ پچھلے تین الیکشنز میں پیپلزپارٹی نے پنجاب سے دو ، پانچ اور صفر نشستیں جیتی ہیں۔انکی روانگیاں سعودی بادشاہوں نے کروائیں ، واپسیاں کونڈا لیزا رائس اور مشرف یا عاصم منیر نے کروائیں۔ آج تک اقتدار انکے خاندان سے باہر نہیں نکلا۔ تبصرہ پاڑ آپ کو بتائیں گے کہ یہ سیاسی جماعتیں ہیں۔
تحریک انصاف کا لیڈر ملک سے فرار نہیں ہوا۔ گیارہ مہینوں سے قید تنہائی میں ہے۔ یہ جماعت بغیر نشان ، بغیر کیمپین ، بغیر تصویر کے الیکشن جیت گیا۔ لیڈر نے پانچ وزرائے اعلی لگائے ایک بھی رشتہ دار نہیں تھا۔ یہ پارٹی بدترین وحشت کا سامنا کرنے کے باوجود انٹیکٹ ہے۔ اس پارٹی کے نام پر آج بھی لاکھوں لوگ نکلتے ہیں۔ لوگ اسکے جھنڈے قیمتاً خریدتے ہیں۔ پاکستان کی واحد بڑی جماعت ہے جو کراوڈ فنڈنگ کرتی ہے۔ اسکے ممبرز کے ووٹ لینے کے لیے انکے نابالغ بچے اغواء کیے جاتے ہیں۔ لیکن تبصرہ پاڑ آپکو بتائیں گے کہ یہ جماعت نہیں ہے یہ کلٹ ہے۔
واہ تبصرہ پاڑو واہ
میرے پاکستانیو! لیڈر ہمارا ناحق قید میں، اس کا پورا خاندان مقید، سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ مینڈیٹ ہمارا چرایا، جعلی لوگ مسلط کرکے جعلی لوگوں سے، جعلی قانون سازی کروا کر عدالتیں کنٹرول کیں، جبر اتنا کہ ہلاکو خان بھی شرما جائے۔ گھر توڑے خواتین کو ہراساں کیا، کارکنان، اراکین اسمبلی، ان کے بچوں تک کو اغوا اور لاپتہ کیا۔ اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آئینی و قانونی ہر راستہ اپنایا اور بار بار اپنایا۔ اب جب سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت نہ ملی، نو مہینے کی بے رحمانہ قید تنہائ، اپیلوں کی سنوائی کے لیے اور نا حق اسیری کے خلاف پر امن لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جعلی مسلط شدہ ٹولہ اور ان کی ڈوریاں ہلانے والوں نے اس کے نام پر شروع؛ آئین و قانون کے مطابق اور پر امن مارچ کے سامنے پختونخواہ کی عوام کا سودا کرنے کی شرط رکھ دی۔ وہ جس نے ملک و قوم کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمی قربان کی، تین سال سے ناحق اسیری کاٹ رہا ہے۔
شرط ہے کہ اپنی عوام کو میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن بناؤ یعنی لشکر کشی میں ساتھ دو۔ عوام کو بے گھر کرکے فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے، قطاروں میں ذلیل کرنے کی تاریخ دہراؤ۔ اُن پر بے دریغ بمباری کی اجازت دو، تو ہی آپ کے لیے آسانی ہوگی ورنہ آسانی تو دور پختونخواہ حکومت ختم کرکے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔عمران خان کی حکومت میں اس بات کا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ تو کوئ جواب مل نہیں سکتا تھا۔ جواب یہی ملا کہ لعنت تمہاری ایسی آسانی پر جو اپنے لوگوں کے خون کا سودا کرنے سے مشروط ہو۔
لعنت ایسی ہوسِ اقتدار پر جو اپنے لوگوں کو آگ کا ایندھن بنادے۔ملک کو تو تباہ کر دیا آپ کی اس ہوس نے۔ بلوچستان میں لشکر کشی کے بعد آپ کا وزیر اعلی اور کور کمانڈر کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا لیکن پختونخواہ پر لشکر کشی کرنی ہے۔ امن مقصد ہوتا تو صوبائی اسمبلی میں پختونخواہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ ہوا جس میں صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز شامل تھے، دیرپا امن کے لیے ان کی بتائ پالیسی پر عمل ہوتا لیکن فوج و وفاقی حکومت نے اس جرگے پر بغاوت غداری اور وفاق کو تقسیم کرنے کا فتوی لگایا۔جن کی زندگیاں وابستہ ہیں، جن پر ان حالات کا براہ راست اثر ہونا ہے۔ ان کی پالیسی قبول نہیں کیونکہ مقصد امن نہیں۔
مقصد؛ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے کی گئی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے پختونخواہ کو ایندھن بنایا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر دور کے جنرل و ڈکٹیٹر کا طاقت کے طول کا آزمودہ فارمولہ؛ پاکستان کو نئی پیکنگ میں سیکورٹی سٹیٹ بنا کر پیش کرنا ہے۔ رہی بات ایمرجنسی کی تو کون نہیں جانتا جن دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی یہ عقلِ کُل لے کر آئے تھے اُن کے مطالبات کا تیسرا نکتہ فاٹا کو وفاق کے زیر انتظام دینا یعنی فاٹا مرجر کو واپس کرناتھا۔ وہی مرجر جس کے حوالے سے انہی کا بیانیہ تھا کہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار فاٹا انضمام کے خلاف ہیں۔ تو کیا اب یہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں؟
مارچ عمران خان کی رہائی کا تھا ہے اور یہی مطالبہ ہے۔ رہی بات دہشت گردی کے حالیہ بیانیے کی تو حقیقت یہی ہے کہ موجودہ لہر آئی نہیں لائی گئی، دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے، صرف لائے نہیں گئے باقاعدہ رُوٹ لگا کر اپنی نگرانی میں پھیلائے گئے۔ اور جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔ ایک بار پھر ہر میدان میں ناکامی کے بعد بالآخر جمال، کمال کا نام استعمال کرکے پاکستان کو دلدل میں دھکیلا جارہا ہے مگر یہ قوم نہ تو مزید کسی کی جنگ میں ایندھن بنے گی نا ہی بے گھر ہوگی نا ہی مارٹر گولوں، ڈرون اور لڑاکا طیاروں کا نشانہ بن کر کولیٹر ل ڈیمج بنے گی، نا ہی اپنے گھر میں قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ کے ہاتھوں ذلیل ہوگی۔ جب نکلنا ہی ہے تو اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھری کیوں جھیلیں، تمہارے ان گھناؤنے منصوبوں کے خلاف نکل کر اپنے مسیحا عمران خان کو واپس لانے کے لیے نکلیں گے۔
گزشتہ رات اپنی تقریر میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنی ہی عوام کے خلاف یکطرفہ طور پر فوجی آپریشنز شروع کرنے کے تباہ کن نتائج پر بات کرتے ہوئے بلوچستان کی صورتحال کی مثال دی، جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب کا حوالہ بھی دیا۔
"میرے پاکستانیو 1970 کی دھائی میں پہلا ملٹری آپریشن بلوچستان میں ہوا جب ذولفقار علی بھٹو کی حکومت تھی تب کہا گیا ہم ملٹری آپریشن سے بلوچستان میں امن لائیں گے پچاس سال ہوگئے امن نہیں آیا یہ ذولفقار علی بھٹو اپنی کتاب میں لکھتا ہے آپریشن کے وقت وہاں سے سویلین کو سائیڈ پر کیا گیا وہاں کے وسائل سمیت سب کچھ ملٹری کے ہاتھ میں آگیا یہ سہیل آفریدی نہیں کہہ رہا یہ عمران خان نہیں کہہ رہا یہ جو گورنر راج لگانے پر تُلا ہوا ہے اس کا لیڈر کہہ رہا ہے"۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی
۱۹۴۸ سے لے کر آج دن تک پاکستان کے دفاع کے لیے بنا وردی بنا کسی تمغے کی تمنا کے سربکف رہے ہیں ہم۔
کشمیر آزاد کرانا تھا تو اپنی منشاء سے آپ سے آگے چلے ہم۔
افغانستان کو غاصب روسیوں سے نجات دلانی تھی تو آپ کا تھمایا اسلام کا علم سینے سے لگایا ہم نے۔
امریکہ کی خوشنودی آپ کو مطلوب تھی، سلامیاں ہماری ماؤں کو ملیں۔ ہم نے قبول کیں۔ ایک بھرم تھا جانے کم فہمی تھی یا خوش فہمی۔ جو اس حقیقت سے آنکھیں موڑے بیٹھے رہے ہم کہ تم مرو تو شہید۔ ہم مریں تو کولیٹرل ڈیمج۔
ہمارے لیے بے گھری۔ تمہاری لیے پلاٹ۔
تم ملک بیچ کھاؤ تو بھی سینے پہ تمغے سجاؤ۔
ہم سر بھی واریں اور اپنے گلے میں لٹکیں بغاوت کی دفعیں بھی گنیں۔
ہم بے موت مرنے سے انکار کریں تو دہشت گرد ہیں۔
امن کا سوال کریں تو غدار ہیں۔
تو پھر وفادار کون ہے؟ تم؟
یا تمہارے قدم بوس یہ زباں دراز؟
جنید اکبر کے سومنات والے بیان پر جس کی جنید اکبر نے وضاحت بھی کی کچھ لوگ غصہ ہیں ان کو غصہ اور غیرت اس وقت کیوں نہ آئی جب چھبیس نومبر کو نہتے معصوم لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں جب مریدکے میں معصوم نہتے لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں،ان کو غصہ اور غیرت تب نہیں آئی جب ماڈل ٹاؤن میں معصوم لوگوں کو شہید کررہے تھے۔تب غیرت نہیں آئی جب کشمیر میں معصوم کشمیریوں پر گولیاں چلا رہے تھے۔
ان کو غصہ اور غیرت تب نہیں آتی جب معصوم پختون معصوم بلوچ شہید ہوتے ہیں۔ ان کو غصہ اور غیرت تب نہیں آتی جب پی ٹی آئی ورکرز کی چادر چاردیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہیں، عمران خان کی غیر سیاسی بہنوں کو جیل میں بند کرتے ہیں۔
ان کو غصہ اور غیرت تب نہیں آتی جب یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سروائیور کو جیل میں ڈالا جاتاہے، ہماری ماؤں بہنوں کو گھسیٹا جاتا ہے، کسان تباہ ہورہا ہے، معیشت تباہ ہورہی ہے، صنعت تباہ ہورہی ہے، نوجوان ملک کو چھوڑ کر جارہے ہیں۔۔: ان کو غصہ نہیں آتا ان کو تب بھی غیرت آتی نہ غصہ جب پنجاب کی جعلی وزیر اعلیٰ کہتی ہے کہ “ہمیں انڈیا سے کوئی خطرہ نہیں باقی صوبوں سے خطرہ ہے” وزیراعلی @SohailAfridiISF
وزیراعلی سہیل آفریدی کا ن لیگ اور اسٹبلشمنٹ کو کھلا چیلنج!!!
پوری ن لیگ اور اسٹبلشمنٹ کو کھلا چیلنج ہے کہ پاکستان میں جگہ آپ سلیکٹ کرے پھر آپ بھی جلسہ کرے میں بھی جلسہ کرتا ہوں اگر تم جیت گئے تو میں میرا استعفیٰ اور اگر میں جیت گیا تو تم ناک رگڑ رگڑ کر عمران خان سے معافی مانگو گے!!!🔥✊