@purani_kitab حجاب کے ساتھ بے حیائی آئی کیونکہ کس کے سر کو بند کرنا ہی حیا کے لئے کافی سمجھا گیا۔
جب تک سیدھے سیدھے دوپٹے اور چادریں تھیں معاشرہ زیادہ حیادار تھا کیونکہ تب فوکس اصل حیا سیکھنے پہ تھا۔
@Farishtay4 پہلے کے سیدھی سادھی عورتیں ایسی چادر لیتی تھی سارا جسم ڈھک جاتا تھا
آج کل سر چھپا کہ باقی ایسے قسم کے عبائے پہنے ہوتے کہ بس ۔۔۔
اللہ رحم کرے
دماغی کمزوری اور موسمی اثرات سے حفاظت کا نسخہ
شیخ العرب والعجم عارف باللہ مجدد زمانہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمة اللّٰہ علیہ
#khanqahorg
حضرت امام جنید رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا:
"اخلاص اللہ اور بندے کے درمیان ایک ایسا راز ہے، جسے نہ کوئی فرشتہ جانتا ہے کہ اسے لکھ سکے، نہ کوئی شیطان جانتا ہے کہ اسے بگاڑ سکے، اور نہ کوئی نفسانی خواہش جانتی ہے کہ اسے مائل (بیجا رخ) کر سکے۔"
(الرسالة القشيرية للإمام القشيري، ص: 209)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ کیا میں تمہیں ایسی چیز سے آگاہ نہ کروں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے اور درجات بلند فرماتا ہے ؟ ‘‘ صحابہ نے عرض کی :
اے اللہ کے رسول کیوں نہیں !
آپ نے فرمایا :’’ ناگواریوں کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا ، مساجد تک زیادہ قدم چلنا ، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، سو یہی رباط ( شیطان کے خلاف جنگ کی چھاؤنی ) ہے ۔‘‘
(مسلم، 587)
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللّہ عنہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے اور یہ دعا مانگ رہے تھے اے اللہ مجھے میرے نفس کی حرص سے بچا اس سے زائد وہ کچھ نہیں کہتے تھے جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا جب مجھے میرے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا گیا تو نہ میں چوری کروں گا نہ زنا کروں گا اور👇
اے میرے پیارے بیٹے!مسکینی و محتاجی کےباوجود گناہ کرنا کتنی قبیح بات ہے، اور ہدایت مل جانے کے بعد گمراہ ہو جانا اس سے بھی زیادہ قبیح ہے،اور فلاں فلاں چیزیں کتنی قبیح ہیں،لیکن ان تمام باتوں سےبھی زیادہ قبیح وہ شخص ہےجو پہلے تو عبادت گزار تھا اورپھراس نےاپنے رب کی عبادت ہی چھوڑ دی۔
اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو لوگوں کی تعریف و توصیف سے فتنے میں پڑ جاتے ہیں، اور اللہ کی طرف سے اپنے عیبوں کی پردہ پوشی پر دھوکے کا شکار ہو جاتے ہیں، اور اللہ کی نعمتوں کی وجہ سے استدراج (تدریجی پکڑ) میں مبتلا کر دیے جاتے ہیں؛ جبکہ یہ تمام چیزیں درحقیقت سزائیں اور ذلت ہیں،
”تین صحابی صرف ایک غزوے میں اللہ کے رسول ﷺ سے پیچھے رہ گئے، تو اُن کے ساتھ جو معاملہ ہوا وہ تم جانتے ہو۔ تو اس شخص کے بارے میں کہا خیال ہے جس نے ساری عمر ہی پیچھے رہ کر گزار دی ہو!“
(بدائع الفوائد لابن القيم : ١٢٠٨/٣)
تم پختگی کے اس درجے پر پہنچ جاؤ گے جہاں تم کسی عارضی تعلق، بے کیف دوستی، احمقانہ بحث، یا مخلص نہ ہونے والوں سے وابستگی میں الجھنے سے انکار کر دو گے۔
دوستووسکی
اللهم أعدني إليك بحبال امتنانك، لا بحبال امتحانك
اے اللہ! مجھے اپنی نعمتوں اور احسان کے رشتوں کے ذریعے اپنی طرف واپس لے آ، اپنی آزمائشوں کے ذریعے نہیں۔
بندے کی اصل خوبی تین عادات میں ہے
اپنی تنگدستی کو اس حد تک چھپانا کہ لوگ آپ کی خود داری کی وجہ سے آپ کو امیر سمجھیں، غصے کو اتنا دبانا کہ لوگ سمجھیں کہ آپ راضی ہیں، اور اپنی تکلیف و پریشانی کو اس حد تک پوشیدہ رکھنا کہ لوگ سمجھیں کہ آپ بڑے عیش و آرام میں ہیں
امام شافعی رحمه اللّٰه تعالیٰ
گناہ کرنے کے تین بڑے نقصان ہیں: یا تو یہ دل کو بالکل مار (مردہ کر) دیتا ہے، یا اسے بہت سخت بیمار کر دیتا ہے، یا پھر اس کی اچھے کام کرنے کی طاقت کو کمزور کر دیتا ہے۔
امام ابن القیم رحمہ
[الداء والدواء: 178/1]
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں !
"اگر دنیا کی آزمائشیں اور مصائب نہ ہوتے، تو بندہ تکبر، خود پسندی، فرعونیت اور سخت دلی جیسی ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا جو دنیا اور آخرت میں اس کی ہلاکت کا سبب بنتیں۔"
[زاد المعَاد از ابن القیم: 4/179]