مقام عشق سے لوٹے ہوئے بتاتے ہیں
غبارِ راہ میں سب کچھ گنوایا جاتا ہ
بنا ہے کار محبّت بھی کاروبار یہاں
کمائی یہ ہے کہ کتنا بچایا جاتا ہے
بتاؤں کیا میں تجھے شام ہجراں کا منظر
دیا جلے نہ جلے دل جلایا جاتا ہے
کریں یہ کس سے شکایت ک کچھ تدارک ہو
وہ بھولتا ہی نہیں جو بھلایا جاتا ہے