جاوید ہاشمی تم ہو کون؟؟؟
باپ دادا تمہارا قبروں کا مال کھاتا آیا۔ انگریز سرکار کو جب تم لوگوں نے اپنی عزت اور بہو بیٹیاں بیچی تو اس نے تمہیں جاگیریں عطا کی۔
ملتان کا بہادر رائے احمد کھرل جب انگریز کے خلاف جنگ کر رہا تھا تب تمہارا باپ انگریز کے ساتھ مل کر رائے کھرل کو باغی اور انگریز حکومت کو جائز قرار دے رہا تھا۔
تم اور شاہ محمود ایک ہی جماعت میں ہو کر ایک دوسرے کے مخالف اس لیے ہو کیونکہ صدیوں سے تم لوگوں میں جنگ اس بات کی چل رہی ہے کہ انگریز کا بڑا نوکر کون؟
اس ملک کے ہر آمر کے در پر تم نے ماتھا ٹیکا، بھر فیض حمید کی گود میں بیٹھ کر تم نے ہاں میں باغی ہوں کے جعلی نعرے مار کر یہوتیوں کو پاگل کیا، جب مانی مینٹل کی حکومت جانے لگی تو تم نے اس سے بھی بغاوت کی اور نواز شریف کے پاؤں پکڑنے چاہے لیکن نواز شریف نے تمہیں دھتکارا۔ اب تم دھوبی کے وہ کتے بن گئے جو نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔ تمہاری بیٹی کو کوئی جماعت اپنا نہیں رہی تو اب پھر باغی پن کی پوسٹیں کر کے ہیرو بننا چاہا رہے ہو۔
سات نسلیں تمہاری ��نگریزوں سے وظیفے اور قبروں کا مال کھا رہی ہیں لیکن تمہاری ہڈ حرامی ایسی کے آج بھی چوری کی بجلی استعمال کرتے ہو۔
جاوید ہاشمی دنیا کی فکر چھوڑو اور سوچو اپنے انجام کو جب تم سے قبروں کے مال کھانے، انگریزوں کی چاکری میں ہم وطنوں سے غداری کرنے، چوری کی بجلی کھانے اور سیاسی گلاٹیاں مارنے کا حساب ہو گا۔
پوسٹیں نہ کرو اور بجلی کا بل دو، جعلی باغی‼️‼️
@PTIofficial یہ 27 ستمبر والا ڈرامہ بھی پہلے والے ناکام مارچوں کی طرح مٹی میں مل جائے گا۔پی ٹی آئی والے صرف نعرے بازی جانتے ہیں، ملک چلانا نہیں آتا۔
قابض مافیا کا رونا رونے والے خود سب سے بڑے قاتلوں اور لوٹیروں کے ساتھی بنے ہوئے ہیں۔
داغی....
جاوید ہاشمی میاں نواز شریف کے دوسرے دور (1997ء-1999ء) میں وفاقی وزیرِ صحت رہے
صوابدیدی کوٹے پر نوکریاں بیچی کروڑوں کمائے
جب پکڑے گئے
کہتا ہاں میں باغی ہوں
اپنی تین وزارتوں کے دوران ملتان (موضع مخدوم رشید) اور پڑوسی ضلع مظفر گڑھ میں تقریباً 500 ایکڑ قیمتی زرعی اراضی پر قبضہ کیا
پھر اسے اہلیہ اور دیگر اہل خانہ کے نام پر منتقل کیا
مشرف نے نیب بنائی ہاشمی زد میں آیا
اور بلبلا کر چلایا
تو کون. صرف چوکیدار
میں جو کھاؤں جتنا چاہے مال دباوں
.. میں باغی ہوں
عمران خان کا سورج چڑھتے دیکھا
بھاگ کر عمران خان کی طرف آیا
دربار مخدوم عبد الرشید حقانی کی 60 سے 61 ایکڑ زرعی اراضی قبضہ کرکے کھائی بیٹی سے اوقاف کی زمین پر میرج ہال بنوائے
جب عمران خان حکومت نے پکڑوایا
کہتا عمران خان ہے ہی جرنیلوں کی پیداوار
.. میں باغی ہوں
لیکن عوام نے ملتان کے الیکشن میں ضمانت ضبط کروا کر بتایا تو باغی نہیں تو داغی ہے
تو وہ داغی ہے جس کی چندے کی صندوکڑی پر تین دہائیاں شاہ محمود قریشی سے جنگ کی
اور پھر اسی کے نیچے اس کی پارٹی میں شامل ہو کر اسے نکلوانے کی کوشش میں تشریف پر لات مار کر نکالا گیا
جب نکلا تو کہتا میں باغی ہوں
جاوید ہاشمی نے 22 سال پارلیمنٹ سے تنخواہیں اور مراعات لی،ملتان کی مشہور طوائفیں پالیں اور جب طوائف کے قابل نہ رہا تو طواف کو چل دیا
کہ میں باغی ہوں
جاوید ہاشمی نے کنڈا لگا کر لاکھوں روپے کی بجلی کھائی جب پکڑا گیا تو کئ کرنلز کو کئ جرنلز کو جگہ جگہ فون ملایا جب کسی نے ہاتھ نہ پکڑایا
تو سو��ل میڈیا پر روتا ہوا آیا
تم ہو ہی کون کیا اوقات ہے تمھاری...
میں باغی ہوں
جاوید ہاشمی ہر اس وقت باغی ہے جب قبضے کی زمین پر، لوٹی گئ دولت پر اور اس کے جرائم پر ہاتھ پڑے
یہ کل عمران خان کے خلاف تھا اس کے بقول عمران خان جرنیلوں کی پیداوار تھا اج اس کے انڈر وئیر( سہیل آفریدی)کو بھی چومتا ہے تاکہ یوتھیے اس کے کرائم کو اسی طرح ڈیفینڈ کریں جیسے عمران خان کے کرائم کو کرتے ہیں
جاوید ہاشمی صاحب قائد اعظم نے بمبئ میں محل بنوایا بیٹی کو نہیں دیا پھر اپ نے سرکاری زمینوں پر قبضہ کر کے اپنی بیٹی میمونہ ہاشمی کو میرج ہال، ایلیٹ سکول اور بنگلے کیوں بنا کر دئیے؟؟
اپ نے سیاست کی بند��ق عوام کے سر پر رکھ کر درجنوں محلات کیوں بنائے رب کا قہر دیکھیے کہ اپ ان میں رہ بھی نہیں سکے
تمھاری حیثیت محض ایک مزار کے چندہ چور کی ہے کیا تم بتا سکتے ہو ڈی ایچ اے میں بنگلہ کہاں سے آیا اسلام آباد اور لاہور اور ملتان میں بنگلے کیسے بنائے؟؟
تم اج ��ک GHQ کے گیٹ کے کُنڈے کے ساتھ لٹکے ہر آرمی چیف کو دہائی دیتے آئے ہو پاپا مجھے گودی لے لو،
جب نہیں لیتے تو زمین پر ایڑیاں رگڑ کر روتے ہو
جاؤ تم چوکیدار ہو
سوال یہ ہے کہ تم تو سیاسی ورکر تھے پھر جب تم نے علی الاعلان عوام کو بتایا عمران خان جرنیلوں کی پیداوار ہے ان کے حکم کا غلام ہے پھر تم ن لیگ کو چھوڑ کر عمران خان کی طرف کیسے آئے
پھر تم نے بتایا کہ عمران خان کو چھوڑنے کے لیے اس کے ورکرز پر دباؤ ہے
تو تم نے عمران خان کو کیوں چھوڑا
اج عمران خان کو لیڈر کہنے والے جاوید ہاشمی نے اپنی کتاب ’’زندہ تاریخ کے صفحہ نمبر 37 پر صاف صاف لکھا ہے عمران خان نہ کبھی لیڈر تھا نہ آئندہ کبھی بن سکے گا یہ ڈرپوک ہے
تم کبھی باغی تھے ہی نہیں تم تھالی کے بیگن ہو
حجاب رندھاوا
پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہے اور اس کی عوام کسی وڈیرے، سردار یا سیاستدان کی غلام نہیں اب حساب ہوگا، اور فیصلے بھی، جو ریاست دنیا کی تمام تر پابندیوں اور مشکلات کے باوجود 'ایٹمی طاقت' بن سکتی ہے، کیا وہ اپنے شہریوں کو پینے کا صاف پانی، ہسپتالوں میں بہتر علاج اور ادویات اور سکولوں میں چھت نہیں دے سکتی؟
بالکل دے سکتی ہے۔۔! مسئلہ صلاحیت کا نہیں، نیت اور اس پرانے فرسودہ نظام کا ہے جس پر وڈیروں، سرداروں اور مفاد پرست سیاستدانوں کا قبضہ ہے جنہوں نے عدالت جو ریاست کا نظام چلاتی ہے اس انصاف کے ادارے کو اپنی لونڈی بنا رکھا ہے۔
صرف سندھ کو گزشتہ 18 سالوں میں 23 ہزار ارب روپے سے زائد کا بجٹ ملا، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ کہاں گیا؟
اور باوی صوبوں کا بھی حال کچھ اسی طرح ہے جہاں نہ ہسپتالوں کی حالت بدلی، نہ سکول بہتر ہوئے، اور نہ ہی عام آدمی کی زندگی میں کوئی انقلاب آیا۔
عدالتیں مقدمات کے انبار تلے دبی ہیں اور طاقتوروں کا احتساب کرنے سے قاصر ہیں۔ اب یہ ڈرامہ چند مٹھی بھر افراد کے ہاتھ میں مزید نہیں چلے گا،
جب تک حکمرانی کا نظام عام آدمی کی دہلیز تک نہیں پہنچے گا، یہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس کا واحد حل انتظامی بنیادوں پر نئے اور چھوٹے صوبے بنانا ہے تاکہ پاور اور وسائل نچلی سطح پر منتقل ہوں۔
نہ اب کسی وڈیرے کی دھمکی چلے گی، نہ کسی سردار کا حکم، نہ سیاسی سودے بازی ہوگی اور نہ ہی عوامی حقوق پر ڈاکا ڈالا جائے گا۔
پاکستان کسی ایک خاندان، وڈیرے یا سیاسی لاٹ کی جاگیر نہیں ہے۔ یہ ملک ان کروڑوں غیرت مند عوام کا ہے جو اب اپنے حق کے لیے بیدار ہو چکے ہیں، اگر کسی کو شک ہے تو ریفرنڈم کروا لے عوام کی رائے لے سکتا ہے، اب بنے گا وہ اصل پاکستان جس کا خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا اور جس کی بنیاد قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے رکھی تھی۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
Taliban “justice” in Kabul Afghanistan Force a man to crawl like a dog and eat your leftovers. A regime that treats people as animals has no claim to morality, religion, or legitimacy.
تاتنگ درہ، سنٹرل کرم | انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے 8 ستمبر کو ایک مسجد میں ٹی ٹی پی خوارج کی موجودگی میں آپریشن کیا۔ 4 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ ایک ایس ایچ او سمیت 2 قیدیوں کو بازیاب کرایا گیا۔
She is eager to go to school, but she is not allowed to attend. Afghanistan is the only country in the world where girls are deprived of education and the right to work due to cruel Afghan Taliban. This is nor Islamic sharia its total barbarism and hypocrisy.
Defence & Martyrs Day of Pakistan commemorated in London
Pakistan High Commission, London held an impressive ceremony to commemorate the Defence and Martyrs Day of Pakistan. General (R) Zubair Mahmood Hayat, former Chairman Joint Chiefs of Staff Committee, attended as guest-of-honor. The event was attended by a large number of distinguished guests, including British Parliamentarians, senior UK government officials, Ambassadors, Defence Attaches, Media representatives and friends of Pakistan.
The High Commissioner of Pakistan to UK, @Tipuusman Mr. Tipu Usman, paid tribute to the Armed Forces of Pakistan and to the sacrifices of martyrs. He stated that the entire world saw the courage and success of Pakistan during Marka-e-Haq. Our Armed Forces, under the civilian and military leadership and with the unwavering support of the people of Pakistan, demonstrated once again the resolve and capability of Pakistan’s defence forces. He said that the success of Operation Bunyanum Marsoos has not only added another glorious chapter to our military history but also revitalized the nation’s spirit.
The High Commissioner highlighted that Pakistan’s internationally recognized mediation efforts in the Middle East as well as the Makkah Joint Defence Agreement with the Kingdom of Saudi Arabia and Türkiye are manifestations of Pakistan’s commitment to regional security and stability.
High Commissioner Usman said that Pakistan is committed to further strengthening Pakistan-UK defence and security cooperation in the service of regional and international peace.
On the occasion, it was resolved to continue political, moral and diplomatic support for the Kashmiri people facing unprecedented human rights violations in Indian Illegally Occupied Jammu & Kashmir.
It was pledged that the entire nation stands united, alongside the Pakistan Defence Forces to thwart all kinds of nefarious designs and to protect the sovereignty of Pakistan at all costs.
Guests also paid glowing tributes to the dedication and professionalism of Pakistan armed forces.
RAW- and GDI-backed anti-Pakistan accounts are peddling a fake narrative around a video, falsely claiming that Pakistan Army soldiers fought over a water dispute in Waziristan.
The reality is that the video captures a minor scuffle between two opposing teams during a local volleyball match.
The incident has been deliberately misrepresented to create a false impression of discord within the Pakistan Army.
نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام صرف انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کا عملی ذریعہ ہے۔ جب یونٹ بڑا ہو تو مرکز سے دور کے علاقے اکثر نظرانداز رہ جاتے ہیں، فیصلے دیر سے ہوتے ہیں اور وسائل بھی چند بڑے شہروں تک محدود رہتے ہیں۔ چھوٹے یونٹس میں حکومت عوام کے قریب آ جاتی ہے، مسائل جلد سنے جاتے ہیں اور حل بھی تیزی سے نکلتا ہے۔
تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں میں سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ چھوٹے صوبے یا ڈویژن میں سکول، کالج، ہسپتال اور بنیادی صحت مراکز کی نگرانی آسان ہو جاتی ہے، اساتذہ اور ڈاکٹروں کی حاضری بہتر ہوتی ہے اور مقامی ضروریات کے مطابق سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ صفائی، پینے کا پانی، نکاسی آب اور سڑکوں کی مرمت جیسے روزمرہ کے کام بھی جلد مکمل ہوتے ہیں کیونکہ فیصلہ سازی کا سلسلہ مختصر ہو جاتا ہے۔
معاشی طور پر بھی یہ تبدیلی اہم ہے۔ پسماندہ علاقے، جو بڑے صوبوں میں وسائل کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں، اپنے وسائل، زراعت، صنعت اور سیاحت کو خود ترقی دے سکتے ہیں۔ مقامی سطح پر روزگار کے منصوبے بنتے ہیں، سرمایہ کاری بڑھتی ہے اور نوجوانوں کو اپنے علاقے میں کام کے مواقع ملتے ہیں۔ اس سے ہجرت کم ہوتی ہے اور دیہی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔
وسائل کی تقسیم بھی زیادہ منصفانہ ہو جاتی ہے۔ بڑے صوبے میں بجٹ اکثریتی آبادی والے یا سیاسی طور پر بااثر علاقوں کی طرف چلا جاتا ہے، جبکہ چھوٹی یونٹ میں ہر علاقے کی ��پنی ترجیحات کے مطابق بجٹ لگایا جا سکتا ہے۔ اس سے علاقائی عدم توازن کم ہوتا ہے اور ہر خطے کو اپنی ترقی کا موقع ملتا ہے۔
قانون و نظم، قدرتی آفات اور مقامی تنازعات سے نمٹنے میں بھی چھوٹی انتظامیہ زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے۔ پولیس، انتظامیہ اور مقامی نمائندے عوام کے قریب ہوتے ہیں، شکایات جلد سننے میں آتی ہیں اور احتساب بھی آسان ہوتا ہے۔ نتیجتاً عوام کو ریاست سے تعلق محسوس ہوتا ہے اور اعتماد بڑھتا ہے۔
مجموعی طور پر چھوٹی اور موثر انتظامی تقسیم عوام کو بہتر خدمات، تیز ترقی اور زیادہ باعزت زندگی دے سکتی ہے۔
#PublicRejectsPTI
#RefrendemForProvince
#آفریدی_ذہنی_مریض
#SindhRejectsSohailAfridi
🚨 UN Map Reaffirms the Legal Reality of Kashmir
The latest UN map depicts Azad Kashmir as under Pakistan’s administration, while Indian Illegally Occupied Jammu & Kashmir (IIOJK) is shown as a disputed territory. Ladakh is depicted separately, with the area under Chinese control shown accordingly.
The map once again underscores a fundamental reality: Kashmir is an internationally recognized dispute, not an “internal matter” of India. New Delhi’s unilateral claims cannot erase the dispute or change its status through cartography.
Empty slogans, borrowed politics, and zero performance at home , yeh formula Sindh mein bilkul fail ho gaya. Logon ne notice kiya ke asal issues ignore kiye ja rahe hain. Clear message: not welcome here.#SindhRejectsSohailAfridi
#SindhRejectsSohailAfridi
Sindh does not need political tourism. It needs serious leadership that focuses on real problems. Sohail Afridi’s attempt to create space here has been firmly rejected by the people.
#SindhRejectsSohailAfridi
سندھ نے ثابت کر دیا کہ وہ سیاسی تجربات کے لیے تیار نہیں۔ سہیل آفریدی کی مہم کو مسترد کر کے عوام نے اپنی ترجیحات واضح کر دی ہیں — امن اور ترقی، انتشار نہیں۔
#SindhRejectsSohailAfridi
وزیرِ اعلیٰ ہونے کا مطلب ہے اپنے صوبے کے ہر شہری کی ذمہ داری۔ جب گھر کے مسائل نظرانداز کر کے دوسرے صوبے میں سیاست کی جائے تو نتیجہ صرف عوامی مستردی ہی نکلتا ہے۔
پشاور میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھیاں چل گئیں، فائرنگ ہوئی، موبائل چھینے گئے اور گاڑیوں سے طلبہ کو کچلا گیا۔ یہ ہے عمران خان کی وہ ’’مثالی پولیس‘‘ جس کے گن گائے جاتے تھے. کیا احتجاج کا جواب گولی اور تشدد ہے؟ #SindhRejectsSohailAfridi