تحریک کوصرف ایک تنظیم چلاسکتی ہے۔ شخصیات صرف تنظیم، قانون اور ڈسپلن دیتےہیں۔ اوپر دس ایسے بندے رکھیں جو اس قابل ہو کہ نیچھے تنظیم بناسکے۔ لوگوں کو جیت کی یقین دہانی کرواسکیں۔ اوپر دلبرداشتہ یا کمزور یا بزدل لوگ ہوں تو نیچھے کبھی لوگ نا جڑینگے۔
2016 میں جب پنجاب میں کوئلے اور LNG کے پاور پلانٹ لگائے جا رہے تھے تو اس وقت کے سیکرٹری پاور یونس ڈھاگہ نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ ہم کیپسٹی چارجز کے گھن چکر میں پھنس جائیں گے ، 24 گھنٹے کے اندر یونس ڈھاگا کو کھڈے لائن لگا دیا گیا تھا ! ثناءاللہ خان ۔۔
@KhawajaMAsif سن لیں
یہ کوشش کوئی 100 بار ناکام ہوئی ہے۔ 1000 بار مزید ناکام ہوگی۔ جب تک تنظیم نہیں بنتی۔ عمران خان بند اڈیالہ میں ہے۔ لیکن عمران خان کو رہائی لاہور، کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ، فیصل آباد، حیدرآباد، ملتان، سیالکوٹ وغیرہ کی روڈوں سے ملےگی۔ وہ لوگ آپکے اڈیالہ آنے پر خوش ہیں۔ ایک روڈ سنبھالنا پڑتاہےانکو۔
ہمارا ایک ضلعی صدر ایک فاتحہ میں ایک کزن کے ساتھ آگیا۔ ہم نے اسکو کہا آپ ضلع نہیں چلاسکتے، استعفی دے دو۔ جو بندہ ساتھ 20 بندے فاتحہ پر نہیں لاسکتا اسکا حق نہیں ضلعی صدارت کا۔ ادھر ہمارا مرکزی جنرل سیکریٹری اکیلا اڈیالہ جاتا ہے، اکیلا گلگت جاتا ہے۔ چئیرمین اکیلا آتا جاتا ہے۔ ایسی نااہلی تانگہ پارٹیوں میں بھی نہیں ہوتی۔
بلوچستان میں
1۔ ملازمین احتجاج کی وجہ سے جیلوں میں ہیں
2۔ ٹرانسپورٹرز ہڑتال پر ہیں
3۔ تاجر ہڑتال پر ہیں
3۔ سرانان، مانگی، منگلہ، شاہرگ، یارو علاقے احتجاج پر ہیں
4۔ تمام بلوچ بیلٹ بندہے
5۔ تمام قومی شاہرائیں رات میں بند ہیں۔ دن میں غیرمحفوظ ہیں۔
6۔ سیاسی جماعتیں احتجاج پر ہیں۔
7۔ ٹارگیٹ کلنگ روزمرہ کی بنیادپر جاری ہے
8۔ منشیات کی تاریخ ساز فصل ہوئی صوبے میں
9۔ دھماکے مسلسل جاری ہیں۔
10۔ سمگلنگ جاری ہے، تجارت بند ہے۔
11۔ فارم 47 کےعلاوہ تمام صوبہ خوف اور بےیقینی کا شکار ہے۔
🚨عمران خان کی قید تنہائی فوری ختم کی جائے اور انھوں ہسپتال منتقل کرکے فیملی اور ذاتی معالجین کی موجودگی میں علاج کروایا جائے ورنہ ہم ب خاموش نہیں بیٹھیں گے،
علیمہ خان
بلوچستان جس آگ میں جل رہا ہے، اس ضمن میں ماہرنگ بلوچ کی عمر قید کی سزا ایک عندیہ ہے کہ یا تو ہم سیکھنے سے گریزاں ہیں یا ہم موجودہ حالات سے خوش ہیں۔ اور یہ ایک بہت خطرناک بات ہے۔
خیبر پولیس نے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں گھریلو تشدد کے ایک مبینہ واقعے پر کارروائی کرتے ہوئے ایک فرانسیسی شہری خاتون کو بحفاظت بازیاب کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق 18 جون 2026 کو موصول ہونے والی مصدقہ اطلاع پر تھانہ باڑہ کی حدود میں ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں مبینہ طور پر 54 سالہ فرانسیسی خاتون سلوی یاسمینہ کو تشدد اور سخت گھریلو پابندیوں کا سامنا تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق خاتون نے ایک پاکستانی شہری سے شادی کی تھی اور 2014 سے باڑہ میں مقیم تھیں۔
خاتون نے پولیس کو بیان دیا کہ انہیں طویل عرصے سے مبینہ بدسلوکی کا سامنا تھا، اور انہیں گھر سے باہر جانے یا آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ ان کے پانچ بچے ہیں، جن میں ایک بچہ سماعت اور گویائی سے محروم ہے۔
پولیس نے خاتون کو ان کے چار بچوں سمیت محفوظ مقام پر منتقل کرتے ہوئے ویمن پولیس اسٹیشن پشاور منتقل کر دیا ہے جہاں مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات جاری ہیں۔ خاتون نے وطن واپسی یعنی فرانس جانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے۔
ہماری ذندگی کا کوئی پتہ نہیں کہ ہم ذندہ بچیں یا نہ بچیں اور ہمیں بھی خواہش ہے اور وہ خواہش شہادت کی ہے-
یہ تحریک کور ممبران کی نہیں، بلکہ پوری کشمیری قوم کی تحریک ہے- ہمیں شہید کیا جاتا ہے یا ہمیں جیلوں میں ، ٹارچر سیلز میں بھیجا جاتا ہے آپ نے اس تحریک کو ہر صورت جاری رکھنا ہے-
سردار عمر نذیر کشمیری
مہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا ہو جانا پاکستان کے ساتھ غداری ہے، جیسے شیخ مجیب کو اگرتلہ سازش کیس میں سزا دینا اس ملک کے ساتھ غداری تھی۔ ایوب خان سے لے کر عاصم منیر تک، سب جرنیلوں نے پاکستان میں علیحدگی پسندوں کو فروغ دیا ہے۔ غدار مہرنگ نہیں، غدار تم ہو!
ایک آرمی چیف دنیا کے اسٹیج پر ہمارے ملک کے وزیرِ اعظم کی آئینی حیثیت کو ثانوی کر رہا ہے، جو پہلے ہی غیر آئینی وزیرِ اعظم ہے۔
اس کی آئینی سزا عاصم منیر کو ہی بھگتنی پڑے گی!
نظام کو پہلے یہ لگتا تھا یہ جو سوشل میڈیا ہے یہ چند سو لوگ ہیں جو پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا چلاتے ہیں ہم ان کو کنٹرول کرلیں گیں اس کے لئے انہوں نے چالیس ارب کی فائروال بھی لگائی
لیکن بعد میں ان کو سمجھ آیا یہ کروڑوں لوگ ہیں اور یہ ٹویٹر فیس بک انسٹاگرام ہر جگہ ہیں نظام کی یہ غلط فہمی دور ہو گئی یہ چند لوگ ہیں اور فائر وال بھی ناکام ہو گئی
یہ نظام جو لایا گیا اس کی تمام خامیاں اسٹبلشمنٹ کے کھاتہ میں جاتی ہیں اسٹبلشمنٹ اس سے پریشان ہے اب سسٹم یہ چاہتا ہے خان صاحب کہیں نہ کہیں اس پارٹ کا حصہ بن جائیں تو ان کو جو بہت زیادہ محبت ملی ہے وہ جب ٹپکے گی تو تھوڑی سی ہمارے حصّے میں بھی آ جائے گی
سید ذیشان
کل بروز منگل 2 بجے دوپہر سینیٹرز۔ایم این ایز۔ایم پی ایز۔ ٹکٹ ہولڈرز۔ پارٹی عہدیداران۔آئی ایل ایف۔آئی ایس ایف۔یوتھ ونگ۔وومن ونگ۔منیارٹی ونگ۔ٹریڈرز ونگ ہم سب اڈیالہ جیل کے سامنے اکھٹے ہوں گے، انشااللہ۔..
قومی اسمبلی میں بِل منظوری کا مضحکہ خیز منظر دیکھا ہے؟
سپیکر ایک شخص کو کھڑا کرتا ہے، جو بِل کا عنوان انگریزی میں پڑھتا ہے۔ سپیکر کہتا ہے کہ جو لوگ بِل کے حق میں ہیں وہ ہاں بولیں، جو مخالفت میں ہیں وہ ناں بولیں۔
پھر سپیکر بغیر گنے کہتا ہے کہ ہاں والوں کی تعداد ناں والوں سے زیادہ ہے اس لیے یہ بِل منظور کیا جاتا ہے۔
25 کروڑ بھیڑ بکریوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے قوانین ایسے منظور ہوتے ہیں۔ منظور کرنے والوں میں سے 99 فیصد کو اس بِل کا مطلب بھی معلوم نہیں ہوتا۔
آزاد کشمیر سے ایک دوست نے بتایا کہ کئی تھانوں سے معلومات لی ہیں مگر احمد فرہاد صاحب نہ تھانوں میں ملے اور نہ ہی انکے جیل پہنچنے کی اطلاع آئی ہے۔ پہلے خبر آئی کہ انہیں 3MPO کے تحت پکڑا گیا اور اب وہ لاپتہ ہیں۔
شوکت نواز میر صاحب کے گھر پر حملہ قابلِ مذمت ہے
گھر توڑنا، سامان چوری کرنا اور دریا میں پھینکنا بزدلی ہے۔ اختلاف رائے کا جواب توڑ پھوڑ سے دینا کمزوری کی نشانی ہے۔ اس شرمناک عمل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔