True Promise [1, 2, 3] showcased one of the largest air defense and missile showdowns in the world. Yet, a key military aspect of the Al-Aqsa Flood [October 7] often overlooked was the unprecedented rocket and missile barrages launched from Gaza by Joint Operations Room.
Fatah-4 is a terrain hugging missile which flies at only 50m altitude and can strike a target 750 km away with a 5m accuracy!
Terrain hugging: Uses terrain imagery for navigation even when all communication/GPS is denied i.e. fire and forget.
50m altitude: Not visible on long range radar. Little time for air defence or drone to intercept.
750 km range with 5m accuracy: Precision weapon, to take out specific targets like S-400.
PIERS: Do you think he’s a war criminal, Benjamin Netanyahu?
QATAR PM: Well, of course, what’s being committed in Gaza is war crimes, and whoever is responsible for this is a war criminal
PIERS: So he is?
PM: Yes
Hafiz Naeem will change the political outlook of Pakistan! He's the only politician fighting for the masses while all others are busy fighting for their egoes!
Blessed are the Peacemakers! Good luck to Turkiye & Qatar in their mediation initiatives to promote peace & rapprochement between Pakistan & Afghanistan!
مولانا ابوالحسن علی ندوی کے کراچی یونیورسٹی میں دیے گئے خطبے سے اقتباس:
”اگر مجھ سے کوئی کسی ملک کی تعریف کرے اور بتائے کہ وہ بڑی فوجی طاقت کا مالک ہے، اس کی معاشیات بڑی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، دنیا کی بڑی طاقتوں سے اس کے بڑے اچھے تعلقات ہیں اور ان کی نظر میں اس کا بڑا احترام ہے، تو مجھے یہ سن کر اطمینان نہیں ہوگا۔ میں کہوں گا کہ مجھے یہ بتائیے کہ وہاں کے اسکولوں اور کالجوں سے لے کر یونیورسٹیوں کے طلبہ تک، نئی نسل کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں کس درجے کا احساسِ ذمہ داری پایا جاتا ہے؟ ان میں ضبطِ نفس کی کتنی طاقت ہے؟ ان میں اپنے تاثرات کو حدِ اعتدال میں رکھنے کی کتنی صلاحیت اور قانون کے احترام کی کتنی عادت ہے؟ اگر وہ صاحب کہیں گے کہ اس کی طرف سے تو میں اطمینان نہیں دلا سکتا، تو میں کہوں گا کہ پھر مجھے اس ملک کے حال و مستقبل کے بارے میں کوئی اطمینان نہیں ہے۔“
(بانگ ِدرا، لکھنؤ، مئی، جون، جولائی، ۲۰۰۰ء، سے ماخوذ بشکریہ عبد الاحد ندوی)
جب پاکستان میں نظام بدلے گا شریعت نافذ ہوگی اور تکمیل پاکستان ہوگا تو پھر پرچم بھی وہی ہوگا جس کی بشارت سیدی رسول اللہ نے عطا فرمائی اور جو تحریک پاکستان کا اصل گہرا سبز پرچم تھا۔ یہ قائدا اعظم کا پرچم تھا۔۔
یہ مسلم لیگ کا پرچم تھا تحریک پاکستان کے وقت۔
اسی پرچم کے بارے میں وہ مشہور ترانہ بنایا گیا تھا۔۔ برسوں کے بعد اڑے پرچم ہلال کے۔
مشرقی پاکستان الگ ہونے کے بعد ہم نے پاکستان کا نقشہ تبدیل کیا۔ بنگلہ زبان کو خارج کیا۔ تو مشرقی پاکستان میں رہ جانے والے 33 فیصد ہندوؤں کو بھی جھنڈے سے نکال دینا چاہیے تھا۔ پاکستان میں اقلیت 33 فیصد نہیں ہے کہ جھنڈے پر اتنی بڑی جگہ ان کو دی جائے۔ اپنی اوقات میں رکھیں انہیں۔
یہ سبز ہلالی پرچم جو سیدی رسول اللہ کا پرچم ہے وہ اقلیتوں کو ان کے پورے حقوق دیتا ہے۔۔ ہمیں اللہ اور اس کے رسول سے اگے پیش قدمی کرنے کی ضرورت نہیں ہے