میرے علاقے میں کل صبح بجلی گئی اور آج صبح واپس آئی۔ اس شدید گرمی میں رات کیسے گزری، یہ صرف میں ہی جانتا ہوں۔ واپڈا والوں کی کام کرنے کی رفتار دیکھ کر مجھے حیرت ہو رہی تھی، کیونکہ ہیوی لوڈ کی وجہ سے ٹرانسفارمر پھٹ گیا تھا۔ 2026 میں بھی لوڈ کی وجہ سے ٹرانسفارمرز پھٹ رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ بجلی کا نظام اَنڈر گراؤنڈ کیا جائے، آج بھی کھمبوں پر ہی تاریں لگی ہوئی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ایک ٹرانسفارمر تبدیل کرنے میں اتنا وقت کیوں لگتا ہے؟ اگر آپ لوگوں کو کام کرنا نہیں آتا تو براہِ کرم اہل اور قابل افراد کو تعینات کریں۔
تاہم، اس سب کے دوران ایک بات میرے ذہن میں بار بار آتی رہی کہ وہ لوگ جو جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور جن کے پاس بجلی کی سہولت بھی نہیں، وہ اس شدید گرمی میں کیسے سوتے اور کیسے گزارا کرتے ہوں گے؟ ان شاء اللہ وہ وقت ضرور آئے گا جب پاکستان میں ہر فرد کو سستی اور قابلِ رسائی بجلی میسر ہوگی، اور کوئی بھی شخص گرمی میں تڑپنے پر مجبور نہیں ہوگا۔ یہ دن میں ضرور دیکھوں گا۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔
I’ll forever cherish those childhood evenings when the power would go out and the whole family would gather in the lawn, sipping tea, gossiping, and sharing jin stories. no phones, just everyone being present. best times fr.