ہم سوئے حشر چلے گے شاہِ ابرار کے ساتھ
اور قافلہ ہوگا رواں قافلہ اے سالار کے ساتھ
یہ تو طیبہ کی محبت کا اثر ہے ورنہ
کون روتا ہے لپٹ کر در و دیوار کے ساتھ
اے مظہر ہم بھی سنیں گے کوئی نعتِ رنگیں
اگر ملاقات ہوگئی شاعرِ دربار کے ساتھ
37 سال گزر گئے، مگر پی آئی اے کی فلائٹ 404 کا معمہ آج بھی حل نہ ہوسکا ✈️..
پی آئی اے کا وہ جہاز جو37سال قبل اڑتے اڑتے ہی پر اسرار طور پر غائب ہوگیا جس کا آج تک پتہ نہیں چل سکا۔
25 اگست 1989 کو گلگت سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پرواز 404 آج بھی پاکستان کی تاریخ کے سب سے پراسرار فضائی حادثات میں شمار ہوتی ہے۔ فوکر ایف 27 طیارے پر سوار 54 افراد، جن میں 49 مسافر اور عملے کے 5 ارکان شامل تھے، پرواز کے چند ہی منٹ بعد پراسرار طور پر لاپتا ہوگئے اور تین دہائیاں گزرنے کے باوجود طیارے کا ملبہ یا کوئی قابلِ تصدیق نشان نہیں مل سکا۔
پرواز 404 میں فوکر ایف 27-200 طیارہ استعمال کیا گیا تھا، جس کا رجسٹریشن نمبر AP-BBF تھا۔ یہ طیارہ 1962 میں تیار ہوا تھا اور لاپتا ہونے تک تقریباً 44 ہزار 524 پروازی گھنٹے اور 41 ہزار 524 سائیکلز مکمل کرچکا تھا۔
25 اگست 1989 کی صبح تقریباً 7 بج کر 36 منٹ پر طیارے نے گلگت ایئرپورٹ سے اسلام آباد کے لیے پرواز کی۔ گلگت سے اسلام آباد کا فضائی سفر ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں مکمل ہونا تھا۔
پرواز کے تقریباً چار منٹ بعد، 7 بج کر 40 منٹ پر طیارے کے عملے نے معمول کے مطابق ریڈیو رابطہ کیا۔ مواصلاتی رابطے میں کسی ہنگامی صورتحال یا خرابی کی اطلاع نہیں دی گئی۔ عملے کی جانب سے معمول کی پرواز سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں، تاہم یہ پیغام بعد میں طیارے سے موصول ہونے والا آخری رابطہ ثابت ہوا۔
اس کے بعد ایئر ٹریفک کنٹرول کی جانب سے طیارے سے دوبارہ رابطے کی کوشش کی گئی، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ طیارہ اسلام آباد بھی نہیں پہنچا اور کسی ہنگامی پیغام یا مے ڈے کال کا بھی کوئی ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔
طیارے کی گمشدگی کے بعد پاکستان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ پاک فوج کے سی 130 طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سمیت مختلف ذرائع سے تلاش کی گئی، جبکہ سول ایوی ایشن کے طیاروں نے بھی ممکنہ علاقوں میں سرچ آپریشن میں حصہ لیا۔
گلگت کے گرد موجود بلند و بالا پہاڑوں، گہری وادیوں اور انتہائی دشوار گزار جغرافیے کے باعث تلاش کا کام غیر معمولی طور پر مشکل تھا۔ مختلف ممکنہ علاقوں میں طیارے کے ملبے کی تلاش کی گئی، تاہم کوئی ایسا ملبہ یا شواہد سامنے نہیں آسکے جنہیں حتمی طور پر پرواز 404 سے منسلک کیا جاسکے۔
پرواز 404 کی گمشدگی کو 37 سال مکمل ہوئے ہیں، لیکن آج بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ گلگت سے اسلام آباد جانے والا طیارہ آخر کہاں گیا؟
نہ طیارہ ملا، نہ مسافروں اور عملے کا کوئی قابلِ تصدیق سراغ، اور نہ ہی ایسا حتمی ثبوت سامنے آیا جس سے اس پراسرار گمشدگی کی اصل وجہ معلوم ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ پی آئی اے فلائٹ 404 آج بھی پاکستان کی ہوا بازی کی تاریخ کا ایک ایسا معمہ ہے جس کا جواب وقت گزرنے کے باوجود سامنے نہیں آسکا۔
غزہ میں پانی کی قلت۔
اسرائیل نے غزہ کا پانی مکمل طور پر بند کر دیا ہے فلسطینیوں کے لیے کربلا قائم ہوگیا اور امت مسلمہ کوفی بن کر بیٹھی ہے بس تم ایک آگے شئیر کر دو تاکہ شاہد کوئی ان کی بات سن سکے !
فسطین ہم شرمندہ ہیں