کل یوم عاشور ہے۔ یزید نے جب امام حسین کو راستے سے ہٹانا چاہا تو اُس نے لالچ اور خوف کے ہتھیار استعمال کئے، ابن زیاد جیسے ظالم کو کوفہ کا گورنر لگا کر Reign of Terror کے ذریعے لوگوں کو خوفزدہ کیا، لوگ سہم گئے کیونکہ انکی عزتوں پر حملے کئے، جاسوس پھیلا دیئے، سرکاری خزانے کے منہ کھول دیئے، جُھکنے والوں کو عہدوں سے نوازا، جج خریدے تاکہ امام کو ریاست کا باغی قرار دیکر انکے قتل کا فتوی لے، مورخ، صحافی، علما اور دانشور خریدے، ریاست کی پروپیگنڈہ مشینری استعمال کر کے لوگوں کو قائل کیا کہ حسین ریاست کا باغی ہے۔ یہ روش 1400 سال سے آج تک جاری ہے
#عاشوراء
#Karbala
ایک طرف خان کے زخم ٹی وی پر دکھائے جا رہے ہیں دوسری طرف پنڈی میں حقیقی آذادی مارچ کے لیئے بڑے پیمانے پر استقبال کی تیاریاں ہو رہی ہیں
مظاہرین کے قیام وطعام کے لیئے شادی ہال اورہوٹل بک کروائے جا رہے ہیں
سوال یہ ہے کہ یہ اخراجات کون کر رہا ہے اور اس کےلیئے پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟
وہ کامران شاہد جو اپنی مرضی سے ٹویٹ نہیں کر سکتا ،وہ کسی ایجنڈے یا حکم کے بغیر اتنی اہم رپورٹ حاصل کرکے کیسے چلا سکتا ہے؟
اس سب کے پیچھے کوئی بڑا کھیل ہے.
یہ رپورٹ خود چلوائی گئی ہے.
اسی نظام کے ننگے پن سے آپ کے قائد عمران خان نہ جانے کیا کچھ روند کر نہ صرف اقتدار میں آئے بلکہ حکومت بھی اسی نظام کے زور پر کی۔ پہلے اس کی معافی مانگئیے ورنہ یہ منافقت نہ کیجئیے۔ #HypocrisyRejected
میری موجودہ اسمبلی سے اپیل ہے کہ فوجداری قانون میں ریمانڈ کے ساتھ ننگا کرنے والی شق کو بھی قانون کا حصہ بنا دئے تاکہ عام شہری کو پتہ ہو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اک نیا شوق پیدا ہوا ہے
اعظم سواتی صاحب کا یہ کلپ چیئرمین سینیٹ اور تمام پارلیمان کے منہ پر طمانچہ ہے۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ہماری انٹیلیجنس والے اس حد تک بے غیرت ہو جائیں گے اور ہماری دینی، معاشرتی اخلاقیات کی اس طرح دھجیاں بکھیر دیں گے۔ کسی کی عزت نفس محفوظ نہیں۔خدا کی لعنت ہو ان لوگوں پر۔