تجھ سے بچھڑے ہیں مگر عشق کہاں ختم ہوا
یہ وہ جیتی ہوئی بازی ہے جو ہاری نہ گئی
تو ہے وہ خواب جو آنکھوں سے اتارا نہ گیا
تو وہ خواہش ہے جو ہم سے کبھی ماری نہ گئی.
ورنہ یہ تیز دھوپ تو چھپتی ہمیں بھی ہے
ہم چپ کھڑے ہوئے ہیں کہ تو صاحباں ہے..
تجھ سے بچھڑے ہیں مگر عشق کہاں ختم ہوا
یہ وہ جیتی ہوئی بازی ہے جو ہاری نہ گئی
تو ہے وہ خواب جو آنکھوں سے اتارا نہ گیا
تو وہ خواہش ہے جو ہم سے کبھی ماری نہ گئی.