پی ٹی آئی میں دو قسم کے لوگ ہیں
ایک پی ٹی آئی کا کارکن ہے جو عمران خان سے محبت کرتا ہے ۔۔جو عمران خان کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہے
ایک ان کی مصلحت پسند قیادت ہے
محمود خان اچکزئی
مراد سعید ملک کی طاقتور اور منافع بخش ترین وزارتوں میں سے ایک، وزارتِ مواصلات کے وفاقی وزیر رہے، مگر ان کا بھائی آج بھی خیبر پختونخوا حکومت میں گریڈ 9 کا ملازم ہے اور سرکاری کوارٹر میں رہتا ہے۔ کیا موروثی سیاست میں ایسی مثال مل سکتی ہے؟ یہی عمران خان کا پاکستان کے لیے تحفہ ہے؛ ایسے لوگ جو اقتدار میں آکر اپنی ذات اور خاندان نہیں، اصولوں اور عوام کی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ مراد سعید صرف ایک سیاست دان نہیں، دیانت داری اور سادگی کی علامت ہیں۔ یہی تحریکِ انصاف کی اصل پہچان ہے
سلمان اکرم راجہ نے بلکل درست وقت پر ٹویٹ کیا ہے ، اسٹیبلشمنٹ کی ہر چال اور ہر سازش کے متعلق وقت پر آگاہ کرنا لازم ہے ، تاکہ عوام ان کی سازش کو پہلے ہی سمجھ جائے اور پھر اس کو ناکام بنانے کیلئے کوشش کرسکے
ملی مشر محترم آفتاب احمد خان شیرپاؤ صاحب گورنر راج کہ نفاذ کہ بعد کی صورتحال بتا رہیں ہیں،
گورنر راج کب تک رہے گا، پی ٹی آئی کہ علاوہ دوسری سیاسی جماعتوں کہ لئے کیسے اسپیس پیدا کی جائے گی۔
لوجی مروت مشال یوسفزئی گنڈاپور گروپ سہی لگے ہیں ،،
خان کا انتخاب کیا ہوا ،
وزیراعلی، سپیکر ، صوبائی صدر ۔اور صوبائی اسمبلی ممبران اسٹبلشمنٹ نے 10 دن سے اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے
یہ لوگ وائس ایپ گروپ کے چسکے کے رہے ہیں ،،
سہیل آفریدی سچ پے کھڑا ہے ،،
آپ لوگوں پھر سے لات پڑی گی ۔
ٹیشن نا لو @SupariKhan
سپلائر
اس لڑائی میں کون ٹھیک ہے کون غلط یہ فیصلہ تو وقت بہت جلد کردے گا لیکن سلمان اکرم راجہ کا جو ٹویٹ میں نے دیکھا ہے اس میں پارٹی کو نہیں بلکہ غیر جمہوری قوتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے آخر اتنا سخت ردعمل کیوں آرہا ہے؟
اسے کہتے ہیں اصلی تے نسلی گرفتار ۔۔جس نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو چھوڑیں سہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کے لیے ایک لفظ تک منہ سے نہیں نکالا لیکن پی ٹی آئی پر شب خون مارنے کے لیے کٹھ پتلی بن کر عوام میں آ گیا
ممبران پنجاب اسمبلی ممبران قومی اسمبلی ممبران صوبائی اسمبلی ان سب میں اتنی ہمت نہ ہوئی آج کے دن تک کہ وہ سہیل آفریدی بابر سلیم سواتی جنید اکبر فضل شکور خان ڈاکٹر امجد و دیگر وزراء اراکین اسمبلی پارٹی عہدیداران و کارکنان کی جبری گمشدگی پر لب کشائی کر لیں
لعنت ان سب پر جو خاموش بیٹھے ہیں مذمت تو کر سکتے ہو بیشرموں وہ تو کر لو
سیکٹر کمانڈر، کور کمانڈر کے احکامات پر تحریک انصاف خیبر پختونخواہ میں الیکٹڈ ایم پی اے ایز کو یہ ٹارگٹ مشن دیا گیا ہے کہ آپ اپنا نیا صوبائی صدر اور چیف منسٹر نامزد کریں۔ آپکی سسٹم میں واپسی کا واحد طریقہ یہی ہے۔ سہیل آفریدی مراد سعید جنید اکبر سلمان اکبر راجہ اب قابل قبول نہیں ہیں ۔ علی امین کا نام اس لیے سامنے آتا ہے کہ جب آپ کسی کے در پر جا کر بیٹھتے ہیں، اسکے ہاتھ سے کھاتے ہیں تو فیصلہ بھی وہی کرے گا۔ علی امین کو سمجھنا چاہیے کہ آخری موقع پر آپکے بدلے کوئی اور نامزد ہو جائے اسی لیے راجہ صاحب فرسٹریشن میں یہ منصوبہ لیک کیا ہے۔
سلمان اکرام خود ہمت کرنے کے بجائے چاہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا رینک اینڈ فائل ورکر ہے وہ اس گروہ سے حساب لے سوشل میڈیا کی چڑھائی کے بعد عین ممکن ہے یہ معاملہ رک جائے ۔
راجہ صاحب یہ کھل کر نہیں کہہ سکتے کہ یہ سب کچھ سیکٹر کمانڈر اور کور کمانڈر کے حکم پر ہو رہا ہے کیونکہ یہ فیلڈ مارشل کی خواہش ہے ۔ راجہ صاف کی غلطی یہ ہے انھوں نے کمزوری دیکھائی،مشعال کو نکالنے کا دو ٹوک حکم عمران خان نے دیا ۔ آپ نے اور بیرسٹر گوہر نے اسکو نہیں نکالا، ماضی میں اس قسم کی غداریوں کو برداشت کیا گیا ۔ یہ لوگ عمران خان سے ملاقاتوں کا لیبل لگا کر سب کر رہے ہیں
تحریک انصاف صرف عمران خان کا نام ہے۔ اسکی جگہ کوئی نہیں لے سکتا ۔
میں یہاں ناں دوستیاں بنانے آیا ہوں نا کسی عہدے کا خواہشمند ہوں اور نا ہی سیاست میرا اوڑھنا بچھونا ہے، میں جہاں بیٹھا ہوں بڑا مستحکم بیٹھا ہوں
مجھے عمران خان نے عہدہ دیا ہے اور جب تک عمران خان منظر عام پر نہیں آ جاتے جو مجھے صیح لگے گا میں کروں گا،
سلمان اکرم راجہ @salmanAraja
آج دوپہر جم میں گزاری ہے علی امین کا ردعمل نہیں سنا۔ مجھے نہیں پتہ کہ میرے ٹوئٹ کا اشارہ کس نے اپنی طرف سمجھا اس کا کسی پارٹی ممبر سے کوئی تعلق نہیں۔ میں نے پارٹی سے باہر کے فیصلہ سازوں کا کہا کہ وہ غیر جمہوری بیانیہ پھیلا رہے ہیں۔ میں نے اس جھوٹے بیانیے کا جواب دیا تاکہ ہمارے غیور ایم پی ایز، ایم این ایز کو علم ہو کہ ہمارا اس جھوٹے بیانیے سے کوئی تعلق نہیں، سلمان اکرم راجہ
سلمان اکرم راجہ صاحب کے ٹوئٹ کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ گورنر راج پر خاموش خیبرپختونخوا کے ایم پی ایز بھی بول پڑے ہیں۔
رُکیں ۔۔۔
یہ گورنر راج کے خلاف نہیں بولے، علی امین گنڈاپور کے دفاع میں بول رہے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ کا شکریہ
ان کی وجہ سے جو اراکین اسمبلی کئی روز سے غائب تھے وہ سب ایک دم سے نمودار ہو گئے۔
اپنے خلاف لگنے والے گورنر راج پر خاموشی اختیار کرنے والے اراکین آج بھرپور منظرعام پر۔
@Khadimhussain4 Sahib, with due respect, you are treating the opinion of an individual senator as the official position of an entire political party. Political parties function through collective decisions and institutional positions, not the personal opinions of individuals.
Consider the Mines and Minerals Bill. Despite pressure from certain quarters within the party to support it, many PTI members stood firm against its passage, viewing it as a serious threat to provincial autonomy and the rights of Khyber Pakhtunkhwa over its natural resources. In Balochistan, the provincial assembly passed a similar bill despite opposition, and following public backlash, ANP legislators were reportedly issued show-cause notices. This illustrates that individual actions and party positions are not necessarily the same.
Similarly, Chief Minister Sohail Afridi has stood firm against pressure to accept federal policies concerning the proposed imposition of emergency measures in 12 districts of Khyber Pakhtunkhwa. Despite assurances of political facilitation, including efforts to arrange meetings with Imran Khan, he has maintained his opposition to compromising the province’s constitutional rights and authority.
Therefore, Khadim Hussain Sahib, I respectfully request that you distinguish between an individual senator’s statement and the official policy of PTI. As a party, we will not compromise on the 18th Amendment, provincial autonomy, the constitutional rights of Khyber Pakhtunkhwa, or the province’s ownership and control of its natural resources.
The struggle for Imran Khan’s release and the struggle for the constitutional rights of our province are not mutually exclusive. Neither should be used as a bargaining chip at the expense of the other.