ایک اردو اخبار سے لی ہے یہ تصویر!
یہ بچہ صبح سے شام گئے تک کچھ بیچتے بیچتے تھک گیا اور سڑک کنارے پارک کی گئی ایک بائیک پر سر رکھ کے سوگیا!
لوگ تا ٹھیک کہتی نیند بستر نہیں دیکھا کرتی! اسی شہر کے ایک شاعر کا بہت سچا شعر!
ہم کو ۔۔۔ہماری نیند بھی پوری نہیں ملی!
لوگوں کو ان کے خواب جگا کر دیے گئے
!!!🖊😔🙏🖤
क्या इनके लिए कानून नहीं है ?
क्या इनके लिए बुलडोजर नहीं है ?
क्या ये अब शासन प्रशासन से ऊपर है ?
अंजना को इस गुंडई पर डिबेट करनी चाहिए दक्ष चौधरी और उसके पंटरों का एक और वीडियो सोशलमीडिया पर वायरल है। इनको देखकर लगता नहीं कि पुलिस का खौफ है।
وہاڑی میں بیلف کے اچانک چھاپے میں مبینہ پولیس ٹارچر سیل بے نقاب، کئی مرد و خواتین غیرقانونی طور پر قید پائے گئے۔ ذرائع کے مطابق رہائی کے بدلے بھاری رقوم طلب کیے جانے کا انکشاف۔
جھنگ تھانہ سیٹیلائٹ سترہ سالہ بچی ایشال فاطمہ کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد حالت غیر ہونے پر ملزمان ہسپتال چھوڑ کر فرار
معصوم بچی دوران علاج دم توڑ گئی
وانہ میں 7 سالہ معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔
تھانہ بھوانہ میں مقدمہ درج ہو چکا ہے،
مگر اصل ضرورت صرف کارروائی نہیں بلکہ فوری اور سخت انصاف ہے۔
ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت کو مؤثر اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ معصوم بچوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
In Juhapura, Ahmedabad, Gujarat, a 70-year-old man identified as Zaheer Shaikh died after being taken into police custody, leading to serious allegations of custodial torture and conflicting claims from police and family members.
Zaheer Shaikh had reportedly been arrested in connection with a case involving alleged possession of around 500 kg of beef. Earlier, videos showing police action against some accused in the case had circulated widely on social media.
Before his death, a video recorded by his son surfaced online in which Zaheer claimed that police personnel assaulted him in custody. In the video, he alleged that officers beat him, pulled his beard, kicked him in his private parts, and demanded money as a bribe. He specifically named an officer identified as Akshay in the recording.
Family members and local residents have alleged that Zaheer was subjected to custodial violence and abuse. According to them, he named several police personnel before he died while undergoing treatment at SVP Hospital in Ahmedabad.
Police, however, have denied the torture allegations and stated that Zaheer’s condition deteriorated after he allegedly consumed a high dose of medication while in custody, which they say led to his hospitalisation and subsequent death.
@TheObserverPost
پاکستان عدالتی نظام دنیا کا وہ واحد عجوبہ ہے جہاں پیسے کی طاقت سے ہر گناہ دھویا جا سکتا ہے ۔ شاہ رخ جٹوئی نے ۲۰۱۲ء میں سرِعام معصوم شاہزیب کا خون بہایا، لیکن نظام کی دلالت دیکھیئے کہ سزائے موت کا قیدی ۲۰۲۲ء میں جیل سے باعزت رہا ہو کر گھر چلا گیا۔ ماڈل ایان علی ۲۰۱۵ء میں لاکھوں ڈالرز کی اسمگلنگ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی مگر قانون کو ٹھینگا دکھا کر بیرونِ ملک فرار ہو گئی اور آج تک مفرور ہے۔
کہانی کی سفاکی اس وقت اپنی حدیں پار کر جاتی ہے جب ہم ارمغان قریشی کے کردار کو دیکھتے ہیں۔ ڈی ایچ اے (DHA) کے پوش علاقے میں رہنے والا یہ وہ بااثر مجرم ہے جو کھلے عام کوکین اور دیگر مہنگی منشیات کا کاروبار کرتا تھا۔ ارمغان نے کسی غیر سے نہیں، بلکہ اپنے ہی ۲۳ سالہ دوست مصطفیٰ عامر سے غداری کی۔ ذاتی جھگڑے پر ارمغان نے مصطفیٰ کو اپنے بنگلے پر بلایا، لوہے کی راڈ سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، اسے باندھ کر سیڑھیوں سے گھسیٹا اور پھر ادھ موئی حالت میں گاڑی کی ڈگی میں بند کر کے حب (بلوچستان) کے علاقے میں لے جا کر زندہ جلا دیا۔
جب پولیس کو مصطفیٰ عامر کے اغوا کا سراغ ملا اور انہوں نے فروری ۲۰۲۵ء میں ارمغان کے بنگلے پر چھاپہ مارا تو اس قانون سے بے خوف مجرم نے پولیس کے سامنے سرنڈر کرنے کے بجائے سرِعام چار گھنٹے تک پولیس مقابلہ کیا ارمغان نے خودکار جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر پولیس ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ کی دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں پولیس افسر پر گولی چلانے اور اپنے دوست کو زندہ جلانے والے کو چند دنوں کے اندر پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا جاتا لیکن پاکستان میں پیسے اور اثر و رسوخ کی وہ "سہولت" موجود ہے کہ فروری ۲۰۲۶ء میں دہشت گردی کی عدالت (ATC) میں فردِ جرم تو عائد کی گئی لیکن ارمغان نے عدالت میں کھڑے ہو کر اپنے ہی وکیل کو مسترد کر دیا اور ڈرامے بازی شروع کر دی حد تو یہ ہے کہ اس پر درج غیر قانونی کال سینٹر اور ڈیٹا چوری کے دیگر مقدمات میں اسے جنوری ۲۰۲۶ء میں ضمانت تک مل گئی ۔۔۔۔
منظر نامے پر نٹاشا اقبال نمودار ہوئی۔ ۲۰۲۴ء میں کارساز کی سڑک پر اپنی کروڑوں کی گاڑی تلے ایک غریب باپ اور بیٹی کو کچلنے والی یہ خاتون چند ہی ہفتوں میں "اللہ کے نام پر" معافی نامہ حاصل کر کے قتل کے مقدمے سے صاف بچ نکلی۔ اگرچہ آئس (منشیات) کا کیس اب بھی چل رہا ہے، لیکن عوام جانتی ہے کہ انصاف بک چکا ہے۔
اور آج انمول عرف پنکی اس کے نیٹ ورک سے جڑی منشیات کی ملکہ "کوکین کوئین" انمول پنکی مئی ۲۰۲۶ء میں کروڑوں روپے کے ڈرگ نیٹ ورک کے ساتھ پکڑی گئی۔ لیکن گرفتاری کا تماشہ دیکھیئے؛ اسے ہتھکڑی تک نہیں لگائی گئی، جس پر سوشل میڈیا پھٹ پڑا اور پولیس والوں کو معطل کرنا پڑا۔
دنیا کے کسی بھی مہذب ملک میں اگر کوئی سرِعام قتل کرے، معصوموں کو گاڑی تلے کچلے، یا نوجوان نسل کی رگوں میں منشیات کا زہر اتارے، تو اس کا انجام پھانسی کا پھندا ہوتا ہے لیکن پاکستان کا یہ بوسیدہ نظام دنیا کا واحد عجوبہ ہے جہاں یہ سہولت کھلے عام دستیاب ہے کہ: "جرم کرو، عیاشی کرو، بس تمہاری جیب میں پیسہ ہونا چاہیئے
یہاں قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں صرف کمزور مکھیاں پھنستی ہیں، جبکہ مگرمچھ اسے پھاڑ کر نکل جاتے ہیں ۔۔۔۔ !!!
🚨انتہائی دل خراش ظلم کی انتہا
وزیر آعلیٰ خیبر پختون خواہ @SohailAfridiISF صاحب اس پر فوری طور ایکشن لیں
@YarMKNiazi اسکو ضرور نوٹس میں لے کر ایں تمام پختون قوم کو اس پر ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہئے
ایک ماں اپنی11سالہ خوب صورت بچی کی بازیابی کے لیے کچے پہنچ گئی وہاں درندو نے ایک پختون بیٹی کے ساتھ 8 دن زنا بالجبر کیا سنئے والدہ کی زبانی
11 سالہ معصوم بچی آج بھی ڈاکوؤں کے قبضے میں، انصاف کی اپیل 💔
ایک 11 سالہ پختون بچی آج بھی کچے کے خطرناک ڈاکوؤں کے قبضے میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق جب بے بس ماں اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے گئی تو ظالموں نے انسانیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے اسے کئی روز تک اذیت کا نشانہ بنایا، مگر پھر بھی معصوم بچی کو واپس نہیں کیا گیا۔
یہ صرف ایک خاندان کا درد نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔ آخر کب تک معصوم بچیاں ظلم کا شکار بنتی رہیں گی؟ اور کب تک مجرم کھلے عام دندناتے پھریں گے؟
آج ایک ماں کی فریاد ہر انصاف پسند انسان سے مدد مانگ رہی ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل کسی اور گھر کی بیٹی بھی اسی ظلم کا شکار ہو سکتی ہے۔
تمام پشتون بھائیوں انسانی حقوق کے کارکنوں اور انصاف پسند لوگوں سے اپیل ہے کہ اس مظلوم خاندان کی آواز بنیں تاکہ معصوم بچی کو جلد بازیاب کرا کے ظالموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
🚨 پاکستان آرمی نے انسانی اعضاء کا مکروہ دھندہ کرنے والے ثاقب چدھڑ کو فارم 47 کے ذریعے MPA بنا دیا۔
🔴 ن لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ اپنے کزن کے ساتھ مل کر غیر قانونی طور پر گردے بیچنے کا دھندہ کرتا تھا، رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور تب تک 15 سے 18 ٹرانس پلانٹ کر چکا تھا
کراچی کے علاقے فیروز آباد میں ڈالے کو راستہ نہ دینے پر بااثر اور بگڑے امیر زادے آپے سے باہر، گاڑی میں سوار میاں بیوی کے ساتھ بدسلوکی اور توڑ پھوڑ کی، متاثرہ فیملی نے تھانے میں درخواست جمع کروادی
#ZarayeNews#Karachi
جنرل باجوہ قومی مجرم ہے
اسنے شریف خاندان کو قاضی فائض عیسی کیساتھ ملکر، واپس لاکر ملک کا ستیا ناس کیا ہے
اعتزاز احسن کا یہ بیان ہمارا ٹاؤٹ بکاؤ میڈیا کبھی نہیں دکھائے گا۔۔
انڈیا میں لوگوں کو اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ سفیدہ کس قدر خطرناک ہے
لیکن پاکستان میں اب بھی سفیدہ کے ان گنت درخت پائے جاتے ہیں
اس درخت کو کاٹ پھینکیں
بیٹے کے سامنے باپ کو تھپڑ مارنے والے موصوف پہلے اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھے سزا کے طور پر انکے عہدے میں تنزلی کر کے انسپیکٹر بنایا گیا اسکے بعد ایک اور محکمہ جاتی انکوائری کے نتیجے میں سزا کے طور پر دوبارہ عہدے میں تنزلی کر کے سب انسپیکٹر بنایا گیا ۔ سب انسپیکٹر ہونے کے باوجود محمد اقبال انسپکٹر کے رینک لگا کر چھاپہ مار کاروای میں دھڑلے سے وردی پہنے ہوے ہیں۔ کوی پوچھنے والا ہے ؟ کہاں ہیں وفاقی وزیر ء داخلہ محسن نقوی ؟ کہاں ہیں DG FIA ڈاکٹر عثمان انور؟ کہاں ہیں ڈائریکٹر FIA کراچی ژون منتظر مہدی ؟ کیا جنگل کا قانون ہے یا کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔؟
🚨🚨
کیا بےشرم اور نیچ نسل کا پولیس آفیسر ہے ایک مقتولہ ڈاکٹر کی گاڑی پر قبضہ کرکے چلا رہا ہے؟ بالکل حیرت نہیں ہوگی اگر سی ایس ایس کرکے پولیس جوائن کی ہے۔