سٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2200 ارب روپے کے بلا سود (0% سود) قرضے حاصل کرنے والے 628 بااثر افراد کی فہرست اور ان کے ناموں کی تفصیلات ظاہر کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے
سوچنے کی بات یہ ہے کہ عام شہری کو اگر ایک لاکھ کا قرضہ بھی چاہیے ہو تو درجنوں کاغذات ضامن اور زبردست سود ادا کرنا پڑتا ہے
پھر ان 628 افراد کو اتنی بڑی رقم بغیر کسی سود کے کس بنیاد پر دی گئی؟
اور اب ان کے نام کیوں چھپائے جا رہے ہیں؟
یہ وہ رقم ہے جو پاکستان کے غریب اور محنت کش عوام کا پیسہ ہے لیکن فائدے صرف مخصوص امرا اور بااثر حلقوں کو پہنچائے جا رہے ہیں یہ ہیں وہ اصل لٹیرے جو عوامی وسائل پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ عوام کا پیسہ شفاف ہونا چاہیے اور ان 628 لٹیروں کے نام سامنے آنے چاہئیں تو اس پیغام کو آگے شیئر کریں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں
#Afaqwrites
انٹرویو ود ہسٹری
اندراگاندھی ۔۔کیا تم جانتی ہو کہ میں یہ جنگ کیوں جیتی؟ کیونکہ میری فوج اس کی قابلیت رکھتی تھی، ہاں لیکن اس لیے بھی کیونکہ امریکہ پاکستان کی طرف تھا۔
اوریانا، میں سمجھی نہیں۔
اندرا.۔میں وضاحت کرتی ہوں ۔امریکہ ہمیشہ سوچتا ہے کہ وہ پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔لیکن یہ اگر پاکستان کی مدد نہ کرتا تو پاکستان زیادہ مضبوط ہوتا۔آپ کسی ملک کی مدد اس کی فوج کے راستے نہیں کر سکتے کیونکہ وہاں جمہوریت نام کو نہیں ہوتی۔اور جس بات نے پاکستان کو شکست سے دوچار کیا وہ اس کی فوجی حکومت تھی۔اس حکومت کو امریکیوں نے سہارا دے رکھا تھا۔کبھی کبھار دوست بھی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ہمیں اس مدد کو بڑے محتاط طریقے سے لینا چاہیئے جو ہمیں دوست فراہم کرتے ہیں۔اگر امریکیوں نے کوئی گولی چلائی ہوتی، اگر ساتویں بیڑے نے بے آف بنگال پر کھڑے رہنے کے علاوہ کوئی حرکت کی ہوتی ٍٍٍٍِتو ہاں تیسری جنگ عظیم پھوٹ پڑتی۔
اوریانا۔۔میں اس جنگ کو بھائیوں کی جنگ سمجھتی ہوں ۔یہی بات جنرل اروڑا اور جنرل نیازی سے بھی کی تھی۔اور دونوں نے مجھے یہی جواب دیا، بنیادی طور پر ہم بھائی ہیں۔
اندراگاندھی ۔۔بنیادی طور پر نہیں کلی طور پر ۔مجھے پتہ ہے کہ تمہیں سن کر حیرانی ہو گی کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستانی اور انڈین افسران نے آپس میں ہاتھ ملاےً تھے۔کیا تمہیں اندازہ ہے کہ1965 سے پہلے ایسا بھی ہوتا تھاکہ ہماری فوج کا کوئی جنرل اور پاکستانی فوج کا ایک جنرل آپس میں سگے بھائی ہوتے تھے۔یا تم دیکھ سکتی تھی کہ چچا ایک فوج میں ہوتاتھا اور بھتیجا دوسری فوج میں نوکری کرتا تھا۔ایک کزن اس طرف تو دوسرا کزن دوسری طرف ۔ایک ایسا وقت بھی تھا جب سوئزرلینڈ میں تعنیات پاکستانی اور انڈیا سفیر آپس میں سگے بھائی تھے۔
اگر باہر والوں کی دخل اندازی نہ ہوتی تو یقین کرو ہم دونوں زیادہ ترقی یافتہ ممالک ہوتے۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ کوئی ہمیں ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔اس ،،کوئی،، کی ترجیحات کی بدولت ہم ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتے رہیں گے۔بالکل میں پاکستانیوں کو اس کے لیے زمہ دار نہیں ٹھہراتی۔
(یہ ،،کوئی کون ہے کیا آپ اسے جانتے ہیں؟)
(اوریانا فلاشی کے اندراگاندھی سے کئے گئے انٹرویو interview with history سے اقتباس)
"میرا نام نہی ' اپنا کام بدلو "(کیوں کہ یہ طب اور میڈیسن ہے کوئی کریانہ سٹور کوئی کھیلو ' جیتو پاکستان نہی)
(پاکستان میں ادویات کے کیمکل نام کی جگہ برینڈ اور کمپنی نام تجویز کرنے کے رجحان کے نقصانات کے بارے میں ایک تحریر )
آپ کو کیسا لگے گا اگر آپ کے گھر میں اردو کی جگہ سپینش زبان کا اخبار آتا ہو ؟
سڑکوں اور شاہراہوں پر سائن بورڈ اردو کی جگہ فرنچ زبان میں لکھے ہوں ؟
جس گلی محلے میں آپ رہتے ہیں اگر ان کے نام بدل دیے جائیں تو کیا آپ وہاں آسانی سے پہنچ پائیںگے ؟
پٹرول پمپ پر آپ جائیں اور وہاں میٹر "لیٹر " کی جگہ "گیلن " میں لکھا ہو تو کیا آپ کو پٹرول بھروانے میں دقت نہی پیش آئیگی ؟
اگر آپ کو آپ کے اصل نام کی جگہ "چھوٹا ' ' لمبو ' ببو ' ' بیبی ' وکی یا ' ہنی " کہ کر پکارآ جائے تو کیا وہ بندہ آپ کو پہنچان پائیگا جو آپ کو اتنا قریب سے نہی جانتا ؟
ان سب سوالوں کا جواب یہی ہے کہ ایسا کرنے سے زندگی دشوار ہوجائیگی اور راستہ بھولنے اور غلطی کرنے کا امکان بہت بڑھ جائیگا - لیکن پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ پاکستان جہاں کی شرح خواندگی 65 فیصد کے قریب ہے اور جہاں میڈیکل لیٹریسی نہ ہونے کے برابر ہے وہاں ایک ہی دوائی کے پچاس پچاس نام ہیں ؟
میرا آج کا کالم اس مسلے کے بارے میں ہے جس کو ہماری میڈیکل کومیونٹی نے کبھی مسلہ سمجھا ہی نہیں ہے - یعنی ادویات کے جینریک (generic ) ناموں کی جگہ کمپنیوں کے برینڈ نام -
' کیا آپ کے یا اپ کے کسی عزیز کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ وہ کسی ڈاکٹر کے پاس گیا ہو اور اس ڈاکٹر نے بلڈ پریشر ' شوگر یا ہارٹ کی کوئی دوائی شروع کروائی ہو ' اور کچھ عرصے بعد آپ کو معلوم ہو کہ آپ تو وہ Risek پہلے سے لے رہے تھے جو ڈاکٹر صاحب نے Omega کے نام سی شروع کروائی ہے ؟
کبھی ایسا ہوا کہ شوگر کی جو دوائی آپ کھا رہے تھے اس کی جگہ کسی ڈاکٹر نے ایک اور دوائی شروع کروادی اور آپ کو بعد میں پتا چلا کہ دونوں کا کیمیکل نام یا ادویات کی فیملی ایک ہی تھی بس کمپنی کا فرق تھا ؟ جو میڈیسن آپ loplat کے نام سے کھا رہے تھے کسی ڈاکٹر نے سب بدلنے کے نام پر plavix شروع کروادی اور آپ دونوں میڈیسن کھاتے رہے اور کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ وہ ایک ہی تھی ؟
حال ہی میں میرے ایک عزیز کو انجائنا کا پرابلم ہوا - ان کو کارڈیولوجی کے پا س بھیجا تو انہوں نے اس کو tritace (Ramipiril ) کی دوائی شروع کروادی یہ پوچھے بغیر کہ وہ پہلے سے ہی ezi day (losartan ) کھا رہا تھا - اس کو rosulin شروع کروادی جب کہ وہ پہلے سے Rovista لے رہا تھا - نتیجہ یہ ہوا کہ وہ Rosulin اور Rovista دونوں کھاتا رہا اور اوور ڈوز کی وجہ سے اس کے پٹھوں میں درد (myalgia ) شروع ہوگیا جس نے مجھے یہ کلام لکھنے پر مجبور کیا -
یہ موضوع اتنا اہم ہے کہ اس پر پوری کیمپین چلانے کی ضرورت ہے - پاکستان میں میڈیکل لیٹرسی کی شرح بس 17 فیصد ہے - یعنی باقی 83 فیصد مریضوں کو اپنی ادویات کے بارے میں کچھ نہیں پتا ہوتا - ان کے کیمیکل نام تو بہت دور کی بات ان کو اس کا مقصد اور سائیڈ ایفکٹ غرض کچھ بھی نہیں پتا ہوتا - اس پر سونے پر سہاگہ ڈاکٹر مریضوں سے بات کرتے ہویے میڈیکل ہسٹری لینے کی زحمت نہی کرتے - ایک ریسرچ کے مطابق کراچی کے tertiary ہسپتالوں اور پرائیوٹ سیٹ اپ میں اوسطا ایک ڈاکٹر اپنے مریض سے آٹھ سے دس منٹ سے زیادہ بات نہی کرتا - مجھے یقین ہے یہ ٹائم سرکاری او پی ڈی میں کچھ منٹوں کا ہوگا - مریض کی میڈکل ہسٹری اور میڈیکل reconcilliation کیا ہوتی ہے اس کا پاکستان کے میڈکل سیٹ اپ میں یا تو تصور ہی نہی ہے یا اپلائی نہی کیا جاتا -
دوا ساز کمپنیوں کے نمائندے ہسپتالوں اور کلینکس میں منڈلاتے رہتے ہیں جن کے پاس کبھی عمرے کا ٹکٹ ہوتا ہے کبھی ملیشیا میں فیملی ٹرپ کا پیکج - ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ایک میڈیکل ریپ روزانہ پندرہ ڈاکٹروں کا وزٹ کرتا ہے - ceftriaxone کو Ctrox کی شکل میں لگادو یا rocephin والا چمکیلا لباس پہنادو ' مریض کو نہی پتا ہوتا کہ یہ antibiotic ایک ہی کیمیکل کی تھی اور اس کو کس مقصد کیلئے دی گئی ' نو ایڈیا -- یہاں تک کے فارمیسی میں بھی ادویات کو کیمیکل نام سے زیادہ برینڈ نام سے جانا جاتا ہے اور کئی دفعہ ایک عام سے دوائی یہ کہ کر نہی ملتی کہ یہ دوائی دستیاب نہی ہے جبکہ وہ اس فارمیسی میں موجود ہوتی ہے لیکن برینڈ نام ہی اصل نام ہونے اور فارمیسی میں فارما سیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے فارمیسی بھی کریانہ سٹور بنی نظر آتی ہے -
چلیں - اب امریکا چلتے ہیں - امریکا میں literecy ریٹ پاکستان سے بہت زیادہ ہے - یہاں ایوریج ایک ڈاکٹرپچیس سے تیس منٹ ایک مریض کے چیک پر پر لگاتا ہے اور اگر مریض نیا ہو تو یہ وقت چالیس سے پچاس منٹ تک بھی ہوتا ہے - اس کے باوجود یہاں ادویات کا جینرک (کیمیکل ) نام عمومی طور پر استعمال کیا جاتا ہے - یہاں rovista یا rosulin نہیں rosuvastatin لکھا جاتا ہے - (کچھ ادویات بہت ہی مشھور ہوتی ہیں جیسے کے flagyl یا augmentin میں ان کی بات نہی کر رہا )- لیکن عمومی طور پر جینریک اور کیمیکل نام استعمال ہوتا ہے -
جب ڈاکٹر کسی مریض کو کوئی نئی دوائی شروع کرواتا ہے تو اس کو اس کی وجہ (indication )' اس کا فائدہ ؛ اس کے سائیڈ ایفکٹ اور متبادل (alternative ) کا بھی بتاتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کسی کی جگہ شروع کروا رہا ہے اور عکس کسی اور دوائی سے کیا انٹریکشن ہوسکتا ہے اور اس کو لیتے ہویے کونسی دوائی بند کرنی ہے - اس عمل کو "medication reconcilliation " کہا جاتا ہے - ایسا نہیں ہے کہ ان پڑھ مریض بس پاکستان میں ہی ہوتے ہیں - یہاں بھی ایسے دیہاتی مریض ہوتے ہیں جن کے پاس نہ کوئی ریکارڈ ہوتا ہے نہ ادویات کا کوئی اندازہ پھر بھی ڈاکٹر کم سے کم medication reconcilliation ضرور کرتا ہے کیوں کہ مریض کی جہالت اور ان پڑھ ہونا اور ریکارڈز کا نہ ہونا ڈاکٹر کو اس کو ذمے داری سے مبرا نہی کرت بلہ اس سے اس کی ذمے داری اور بھی بڑھ جاتی ہے -
امریکا کے ہسپتالوں اور کلینکس میں میڈیکل ریپس (میڈیکل Rep ) کا عمومی طور پر کوئی تصور نہی ہے - فارن ٹرپس اور عمرے کے ٹکٹ کو یہاں "conflic of interest " سمجھا جاتا ہے اور اس بارے میں "FDA " ور ہسپتالوں کی بہت سخت پالیسیاں ہوتی ہیں - فارمیسی میں کوالیفائیڈ فارما سیسٹ ہوتا ہے اور دوائی کو عمومی طور کیمیکل نام سے پہچانا جاتا ہے - دوائی کے بوتل کے اوپر موٹا موٹا کیمیکل نام لکھا ہوتا ہے - اس طرح مریض کو کونفیوزن نہیں ہوتی کہ ڈاکٹر نے کونسی دوائی بند کروائی ہے اور کونسی دوائی شروع کروائی ہے - وہ ڈبل ڈبل دوائی نہی کھاتا اور سب ایک زبان بولتے اور سمجھتے ہیں جس کو "کیمیکل نام " کہا جاتا ہے -
مجھے حیرت ہے کہ آج تک پاکستان میں اس موضوع سے متعلق کوئی کمپین کوئی تحریک کیوں نہی چلی - بھانت بھانت کی ادویات لکھی جاتی ہیں جن کا کیمیکل نام ایک ہی ہوتا ہے - مریض اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے دوائی بدل دی ہے اب آرام آئیگا ' لیکن وہ پہلے ہی اسی دوائی کو کسی اور نام سے یا اس دوائی کا چھوٹا یا بڑا بھائی کھا رہا ہوتا ہے - ادویات والی کمپنیوں کا بزنس چلتا رہتا ہے اور میڈیکل کا فیلڈ کمرشلائز ہو کر کوئی "کھیلو جیتو پاکستان " کا شو بن جاتا ہے جہاں انعام اور پرائز کے چکر میں مریض کا حرج ہوتا ہے -
اس کالم کو پڑھ کر اگر آپ کچھ تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو ان تجاویز پر عمل کریں :
1 . جب آپ کسی ڈاکٹر کے پاس جائیں یا آپ کا کوئی عزیز جائے اور وہ کوئی نئی دوائی لکھیں تو ان سے پوچھیں کہ اس دوائی کا کیمیکل نام کیا ہے - یہ کس مقصد کیلئے دی جارہی ہے اور یہ کس کی جگہ دی جارہی ہے ؟ اس کے کیا فائدے اور کئی سائیڈ ایفکٹ ہیں ؟
2 . ڈاکٹر اگر نہ بھی پوچھے تو خود سے اپنی تمام ادویات جو آپ لیتے ہیں ان کی لسٹ بنا کر ایک پرچی پر اس کے سامنے رکھیں اور یہ ضرور پوچھیں اور چیک کریں کہ کیا آپ پہلے سے تو یہ دوائی یا اسی فیملی کی کوئی اور دوائی تو نہیں کھا رہے ؟ کئی اس کا آپ کی کسی اور دوائی سے "interaction " تو نہیں ہوگا ؟
3 . جب آپ فارمیسی میں جائیں تو دوائی کے نیچے موجود کیمیکل نام ضرور پڑھیں اور اس سے دوائی کیمکل نام میں طلب کرنے کی کوشش کریں -
4 . اور میری ان سب ڈاکٹروں سے بھی درخواست ہے کہ اپنے مریضوں کی medication reconcilliation ضرور کریں - مریض کو جاہل اور ان پڑھ سمجھ کر بس قلم نہ چلائیں بلکہ اس بات کو سمجھیں کہ ہر مریض کو اپنی دوائی کا ضرور اندازہ ہوتا ہے جو وہ روز کھاتا ہے اور اگر اس کو اندازہ نہی ہے تو یہ آپ کی میڈیکل ذمے داری میں شامل ہے کہ آپ آسان لفظوں میں اس کو اس کی دوائی سمجھائیں -
5. ڈاکٹروں کو یہ تبدیلی لانا ہوگی کہ وہ میڈیسن کا کیمیکل نام عمومی طور پر استعمال کریں تاکہ لکھنے والے ڈاکٹر سے لے کر دوائی دینے والے فارماسسٹ اور دوائی نکال کر دینے والی فیملی سے لے کر دوائی کھانے والے مریض تک سب ایک ہی زبان بولیں اور سمجھیں - ایک ہی پیمانہ ایک ہی میٹر فالو کریں اور یوں ان کا وہ نقصان نہ ہو جو کسی دوائی کی ڈبل ڈوز کھانے سے ہوسکتا ہے اور ہوتا رہا ہے -
6. پاکستان میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی یعنی DRAP کو ہسپتالوں میں میڈیکل ریپس کے رجحان کو ختم کرنا چاہیے اور اس پر "کانفلکٹ آف انٹرسٹ " کا قانون لاگو کروانا چاہیے اور ایسے قوانین متعارف کروانے چاہیے کہ سب ڈاکٹرز کیمکل نام میں میڈیسن پرسکرائب کریں -
مجھے معلوم ہے میری تحریر پڑھ کر کچھ ڈاکٹرز کو اچھا نہی لگا ہوگا - کچھ کو یہ لگا ہوگا کہ یہ پاکستان ہے - یہاں یہ سب ممکن نہیں ہے - تو میرا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ پاکستان ہے - یہاں تو یہ اور بھی شدت سے لاگو ہونا چاہیے کہ جو مریض ایک دوائی کا نام نہیں پڑھ سکتا ' یاد نہیں رکھ سکتا اس کو بھانت بھانت کے ناموں سے دوائی دینے کی کیا سینس بنتی ہے ؟
اور اگر یہ رجحان ٹھیک ہے اور ایسے ہا چلتے رہنا چاہیے تو کل سے آپ کا وزن کلو گرام نہی پونڈز میں ؛ آپ کو پٹرول کا ریٹ لیٹر میں نہی گیلن میں ؛ پانی کی گہرائی "فیٹ" میں نہیں "میٹر" میں اور فاصلہ اور سفر کلومیٹر میں نہی "میل" میں لکھا اور بتایا جائیگا - اس کے بعد آپ نے بس اتنا کرنا ہے ہے کہ ایمانداری سے اپنی کونفیوزن اور غلطیاں بتانی ہیں جو یہ پیمانے تبدیل کرنے کی وجہ سے آپ کو دیکھنی پڑیں جب کہ ابھی آپ پڑھے لکھے بھی تھے -
شکریہ
قلم کی جسارت وقاص نواز
-------------------------------------------------------
@MoeedNj@draffanqaiser@faizanMD4@ImranRiazKhan@noshigilani
This is an instructional video for all pregnant women to learn what harms the baby and what benefits it. It's a wonderful and beneficial initiative for the community. Bravo! Protect your children's health and your own.
پلے بیک سنگنگ کی دنیا میں محمد رفیعؒ شاید اس صدی کے عظیم ترین گلوکار تھے۔ اُن کی آواز میں ایسی مٹھاس، وسعت اور تاثیر تھی کہ ہر نغمہ سننے والوں کے دلوں پر سحر طاری کر دیتا تھا۔
رفیع صاحب صرف گاتے نہیں تھے، اپنے احساسات کو آواز دے دیتے تھے!
*پلاسٹک کا ڈبہ... جس میں آپ گرم گرم بریانی، چاول یا سالن گھر لے جاتے ہیں۔*
*ہوٹل، ڈھابے یا ٹھیلے والا دیگ سے ابھی ابھی اترا ہوا، بھاپ چھوڑتا ہوا کھانا نکالتا ہے، اسے فوراً ایک باریک پلاسٹک کے ڈبے میں ڈال کر ڈھکن بند کرتا ہے اور چند سو روپے لے کر آپ کے حوالے کر دیتا ہے۔*
*لیکن جس لمحے تقریباً 90 ڈگری سینٹی گریڈ گرم کھانا اس پلاسٹک سے ٹکراتا ہے اسی لمحے ایک ایسا عمل شروع ہو جاتا ہے جو آپ کو نظر تو نہیں آتا مگر آپ کے جسم تک ضرور پہنچ جاتا ہے۔*
*پاکستان میں ٹیک اوے کے لیے استعمال ہونے والے بہت سے پلاسٹک کے ڈبے اور تھرموپول (فوم) کے برتن زیادہ گرمی برداشت کرنے کے لیے بنائے ہی نہیں جاتے۔*
*جب ان میں گرم کھانا، خاص طور پر تیل یا تیزابیت والی چیزیں رکھی جاتی ہیں، تو پلاسٹک آہستہ آہستہ اپنے کیمیائی اجزا کھانے میں شامل کرنا شروع کر دیتا ہے۔*
*ان میں اسٹائرین (Styrene)، بسفینول اے (BPA)، فتھیلیٹس (Phthalates) اور نہایت باریک مائیکرو پلاسٹکس شامل ہیں، جو آنکھ سے تو نظر نہیں آتے، لیکن خاموشی سے جسم کے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔*
*اسٹائرین کو ممکنہ طور پر کینسر سے منسلک مادہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ یہ اعصابی نظام اور جگر کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔*
*بسفینول اے (BPA) ہارمونز کے نظام میں مداخلت کرتا ہے اور جسم میں ایسٹروجن ہارمون کی نقل کرتا ہے۔*
*مردوں میں یہ ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم کر سکتا ہے۔*
*خواتین میں یہ ایسٹروجن کے عدم توازن کو بڑھا سکتا ہے، جس کا تعلق رحم کی رسولیوں (فائبرائیڈز) اور ماہواری کی بے قاعدگی جیسے مسائل سے جوڑا جاتا ہے۔*
*بچوں میں یہ جسمانی نشوونما کے قدرتی عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔*
*فتھیلیٹس نہایت معمولی مقدار میں بھی ہارمونز کے نظام میں خلل ڈال سکتے ہیں، چاہے ان کی مقدار ارب میں ایک حصے کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔*
*یعنی آپ کے پہلا نوالہ لینے سے پہلے ہی یہ کیمیکل آپ کے کھانے میں شامل ہو چکے ہوتے ہیں۔*
*ہر وہ گرم بریانی یا چاول جو پلاسٹک کے ڈبے میں پیک کیے جاتے ہیں۔*
*ہر وہ گرم سالن یا شوربہ جو پلاسٹک کے شاپر میں ڈالا جاتا ہے۔*
*اور ہر وہ گرم چائے جو تھرموپول یا فوم کے کپ میں پیش کی جاتی ہے۔*
*گرمی پلاسٹک سے کیمیکلز کو کھانے میں منتقل ہونے پر مجبور کرتی ہے۔*
*کھانے میں موجود تیل اس عمل کو مزید تیز کر دیتا ہے جبکہ ٹماٹر یا دوسری تیزابیت والی چیزیں اس خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔*
*جب تک کھانا ٹھنڈا ہو کر کھانے کے قابل ہوتا ہے تب تک کیمیکل اس کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں۔*
*یہ پلاسٹک کا ڈبہ صرف آپ کے کھانے کو سنبھال نہیں رہا ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ خود بھی آپ کے کھانے کا حصہ بنتا جا رہا ہوتا ہے۔*
کینیڈا امریکہ میں گھروں کی چھتوں پر پانی کی ٹینکیاں کیوں نہیں ہوتیں؟
#قومی_زبان
کینیڈا آنے کے چند دن بعد ایک پاکستانی نے اپنے دوست سے بڑی حیرت سے پوچھا:
"یار، ایک بات سمجھ نہیں آئی۔ یہاں کسی گھر کی چھت پر پانی کی ٹینکی نظر نہیں آتی، نہ موٹر چلتی دکھائی دیتی ہے۔ پھر پانی آتا کہاں سے ہے؟"
دوست مسکرایا اور بولا:
"یہی تو اصل فرق ہے۔ یہاں ہر گھر اپنا پانی نہیں سنبھالتا، بلکہ شہر یہ ذمہ داری اٹھاتا ہے۔"
پاکستان میں اکثر گھروں کی اپنی ٹینکی، موٹر اور پانی ذخیرہ کرنے کا الگ انتظام ہوتا ہے۔ لیکن کینیڈا میں یہ کام شہری حکومت کرتی ہے۔ پانی جھیلوں، دریاؤں یا زیرِ زمین ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے، جدید واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس میں اسے انتہائی سخت معیار کے مطابق صاف کیا جاتا ہے، پھر طاقتور پمپوں کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر طویل زیرِ زمین پائپ لائنوں کے جال سے ہر گھر، اسکول، اسپتال، دفتر اور پارک تک پہنچایا جاتا ہے۔
وہ حیران ہو کر بولا:
"یعنی مجھے موٹر چلانے کی بھی ضرورت نہیں؟"
دوست ہنس کر بولا:
"نہ موٹر، نہ ٹینکی، نہ پانی ختم ہونے کی فکر۔ بس نل کھولو... پانی حاضر!"
لیکن اس کے ذہن میں ایک اور سوال آیا۔
"اچھا، جب سردیوں میں درجہ حرارت منفی 30 یا 40 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے تو پانی جم کیوں نہیں جاتا؟"
دوست نے جواب دیا:
"کیونکہ پانی کی لائنیں زمین کے کافی نیچے بچھائی جاتی ہیں، فراسٹ لائن سے بھی نیچے، جہاں مٹی مکمل طور پر نہیں جمتی۔ گھروں کے اندر پائپ بھی گرم حصوں سے گزارے جاتے ہیں، اس لیے عام حالات میں پانی مسلسل بہتا رہتا ہے۔"
وہ ابھی بھی متاثر تھا۔
"اتنا بڑا نظام آخر سنبھالتا کون ہے؟"
دوست نے کہا:
"شہر کی میونسپل حکومت۔"
مثال کے طور پر صرف ٹورانٹو واٹر تقریباً 36 لاکھ افراد اور کاروباروں کو پانی فراہم کرتا ہے۔ ہر سال تقریباً 435 ارب لیٹر صاف پانی سپلائی کیا جاتا ہے، جبکہ تقریباً 400 ارب لیٹر استعمال شدہ پانی کو دوبارہ صاف کرکے ماحول میں واپس چھوڑا جاتا ہے۔
یہ کوئی معمولی منصوبہ نہیں۔ صرف ٹورانٹو نے اپنے پانی، سیوریج اور اسٹورم واٹر کے نظام کی بہتری کے لیے آئندہ برسوں میں 15 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ اس پورے انفراسٹرکچر کی مالیت 90 ارب ڈالر سے بھی زیادہ سمجھی جاتی ہے۔
پھر اس نے پوچھا:
"کیا پورے کینیڈا میں یہی نظام ہے؟"
دوست نے جواب دیا:
"اصول تقریباً ایک ہی ہے، صرف پانی کا ذریعہ بدل جاتا ہے۔"
ٹورانٹو اپنا زیادہ تر پانی لیک اونٹاریو سے لیتا ہے۔
وینکوور پہاڑوں کے قدرتی ذخائر سے پانی حاصل کرتا ہے۔
کیلگری میں باؤ اور ایلبو ریور بنیادی ذریعہ ہیں۔
جبکہ مونٹریال زیادہ تر سینٹ لارنس ریور پر انحصار کرتا ہے۔
یعنی شہر بدل جاتا ہے، لیکن نظام وہی رہتا ہے: صاف پانی، جدید ٹریٹمنٹ پلانٹس، زیرِ زمین پائپ لائنیں اور چوبیس گھنٹے مسلسل سپلائی۔
لیکن اس کہانی کا سب سے دلچسپ حصہ ابھی باقی تھا۔
پاکستان میں ہم اکثر نلکے کا پانی پینے سے گھبراتے ہیں، فلٹر، کولر یا بوتل والا پانی استعمال کرتے ہیں۔ مگر کینیڈا میں صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔
یہاں گھروں، اسکولوں، کالجوں، دفاتر، اسپتالوں، پارکوں اور عوامی مقامات کے نلکوں سے آنے والا یہی پانی براہِ راست پینے کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ روزانہ یہی پانی پیتے ہیں، اپنی دوبارہ استعمال ہونے والی بوتل ساتھ رکھتے ہیں اور جہاں نل نظر آئے، وہیں بھر لیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹورانٹو میں پانی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ہر سال ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار لیبارٹری ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ پانی کو پلانٹ سے نکلنے کے بعد بھی مختلف مقامات پر مسلسل چیک کیا جاتا ہے تاکہ ہر نل تک محفوظ پانی پہنچے۔
اسی لیے بوتل والا پانی یہاں ضرورت نہیں بلکہ زیادہ تر سہولت، سفر یا ذاتی پسند کی چیز ہے۔ روزمرہ زندگی میں لوگوں کی اکثریت نلکے کا پانی ہی استعمال کرتی ہے۔
یہ سب دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ملک صرف اونچی عمارتوں، خوبصورت سڑکوں یا بڑی گاڑیوں سے نہیں بنتا۔
اصل ترقی وہ نظام ہوتے ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو سوچنا ہی نہ پڑے۔
جب پانی وقت پر آئے، صاف ہو، محفوظ ہو، ہر موسم میں دستیاب ہو، اور ہر شہری کو برابر ملے، تو لوگ اپنی توانائی زندگی، تعلیم، کاروبار اور ترقی پر صرف کرتے ہیں، پانی جمع کرنے پر نہیں۔
ہم صرف نل کھولتے ہیں... مگر اس ایک گلاس پانی کے پیچھے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، ہزاروں کلومیٹر پائپ لائنیں، جدید ٹیکنالوجی، مسلسل نگرانی اور ہزاروں انجینئرز، سائنس دانوں اور ماہرین کی محنت کام کر رہی ہوتی ہے۔
کبھی کبھی ترقی کا راز اونچی عمارتوں میں نہیں، بلکہ زمین کے نیچے چھپے ہوئے ان مضبوط نظاموں میں ہوتا ہے، جنہیں ہم دیکھ بھی نہیں پاتے
ٹیلی نار ہیڈ آفس کی نام پلیٹ اتار دی گئی — پاکستان میں ایک دور کا اختتام
ٹیلی نار پاکستان کا سفر اپریل 2004 میں شروع ہوا، جب ناروے کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ٹیلی نار گروپ نے پاکستان میں جی ایس ایم موبائل سروس کا لائسنس 291 ملین ڈالر میں حاصل کیا۔ 15 مارچ 2005 کو اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی سے باقاعدہ کمرشل سروسز شروع کی گئیں، جبکہ چند ہی دن بعد لاہور، فیصل آباد، حیدرآباد اور کراچی تا حیدرآباد ہائی وے تک نیٹ ورک کو وسعت دے دی گئی۔
2006 میں نوجوانوں کے لیے ڈی جوس متعارف کرایا گیا۔ 2009 میں ٹیلی نار پاکستان اور تعمیر مائیکروفنانس بینک نے مشترکہ طور پر ایزی پیسہ شروع کیا، جسے پاکستان کی پہلی برانچ لیس موبائل منی ٹرانسفر سروس قرار دیا جاتا ہے۔ ایزی پیسہ نے رقم بھیجنے، بل ادا کرنے اور مالیاتی خدمات تک رسائی کا طریقہ بدل دیا، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کے پاس روایتی بینک اکاؤنٹ موجود نہیں تھا۔
یہ کہنا تکنیکی طور پر درست نہیں کہ ٹیلی نار نے ان تمام ٹیکنالوجیز کو خود “ایجاد” کیا، البتہ کمپنی نے پاکستان میں متعدد ڈیجیٹل خدمات کو پہلی مرتبہ یا بڑے پیمانے پر متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان میں ایزی پیسہ، موبائل زرعی معلومات، محفوظ انٹرنیٹ آگاہی، معذور افراد کے لیے اوپن مائنڈ پروگرام، بچوں کی ڈیجیٹل برتھ رجسٹریشن، خواتین کسانوں کے لیے خوشحال آنگن، نوجوان کاروباروں کے لیے ٹیلی نار ویلاسٹی اور دور دراز علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ کی توسیع شامل ہیں۔
2014 میں ٹیلی نار نے پاکستان میں 3G سروسز شروع کیں۔ 2015 میں کنیکٹڈ ڈیوائس منصوبے کے ذریعے انٹرنیٹ آف تھنگز پر کام کیا، جبکہ خوشحال زمیندار کے ذریعے کسانوں کو مقامی موسم، فصلوں، مویشیوں، منڈی اور زرعی مشوروں کی معلومات فراہم کی گئیں۔ 2016 میں پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے ٹیلی نار ویلاسٹی پروگرام شروع ہوا اور 2017 میں یونیسیف اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ڈیجیٹل برتھ رجسٹریشن منصوبے کو آگے بڑھایا گیا۔
ٹیلی نار کے سرکاری تاریخی ریکارڈ کے مطابق کمپنی 2019 میں پاکستان میں VoLTE فعال کرنے والی پہلی موبائل آپریٹر بنی، گلگت بلتستان میں 4G سروس شروع کی اور پاکستان کا پہلا Narrowband Internet of Things یعنی NB-IoT نیٹ ورک متعارف کرایا۔ بعد میں ہنزہ جیسے دور دراز علاقوں تک 4G پہنچایا اور پاکستان کا تیز ترین 5G ٹرائل کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔
اپنے عروج پر ٹیلی نار پاکستان نے کروڑوں صارفین کو موبائل اور ڈیجیٹل خدمات فراہم کیں۔ کمپنی کے مطابق اس کا نیٹ ورک ملک کی 80 فیصد سے زائد آبادی تک پہنچا اور اس کے صارفین کی تعداد 42 ملین سے زیادہ رہی۔ ٹیلی نار نے شہری علاقوں کے ساتھ دیہی، پہاڑی اور کم سہولیات والے علاقوں میں بھی رابطے اور مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا۔
دسمبر 2023 میں PTCL نے ٹیلی نار پاکستان اور اورین ٹاورز کے 100 فیصد حصص خریدنے کا معاہدہ کیا، جس میں ٹیلی نار پاکستان کی انٹرپرائز ویلیو 108 ارب روپے مقرر کی گئی۔ تمام قانونی اور ریگولیٹری مراحل مکمل ہونے کے بعد 31 دسمبر 2025 کو ٹیلی نار گروپ نے ٹیلی نار پاکستان کی فروخت باضابطہ طور پر مکمل کردی۔
جولائی 2026 میں ٹیلی نار پاکستان کو پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ یعنی PTML، آپریٹنگ بطور Ufone 5G میں باضابطہ طور پر ضم کردیا گیا۔ اس انضمام کے بعد ٹیلی نار پاکستان کی الگ قانونی شناخت ختم ہوگئی اور اس کے نیٹ ورک، انفراسٹرکچر، صارفین اور آپریشنز نئے مشترکہ ادارے کا حصہ بن گئے۔
آج ہیڈ آفس سے ٹیلی نار کی نام پلیٹ اتارنے کا یہ منظر صرف ایک بورڈ ہٹانے کا منظر نہیں، بلکہ پاکستان کی ٹیلی کام تاریخ کے ایک بڑے باب کے اختتام کی علامت ہے۔
دو دہائیوں سے زائد عرصے میں ٹیلی نار نے لاکھوں لوگوں کو پہلی موبائل کال، پہلا انٹرنیٹ کنکشن، رقم کی پہلی ڈیجیٹل منتقلی اور دنیا سے رابطے کی بے شمار یادیں دیں۔
الوداع ٹیلی نار پاکستان۔
آپ کا نام ختم ہوسکتا ہے، لیکن آپ سے وابستہ یادیں پاکستان کی ٹیلی کام تاریخ کا حصہ رہیں گی۔
#TelenorPakistan #Telenor #الوداع_ٹیلی_نار #TelenorHistory #Ufone5G #PTML #PTCL #TelecomPakistan #PakistanTelecom #Easypaisa #DigitalPakistan #MobileNetwork #TelecomMerger #5GinPakistan
@UrduVirsa آہا کیا یاد کروا دیا
میں اس وقت آٹھویں میں تھا
خوبصورت دن
ساڑھے سات بجے تک سب کام نمٹا کے ٹی وی آگے پورا گھر بیٹھ جاتا تھا کہ ڈرامہ لگنے والا اور ڈرامے ہوتے بھی لازوال تھے
آخری ڈرامہ ایک امید دا کیسل دیکھا تھا جو مکمل نہیں دیکھا اور آج تک نہیں دیکھ پایا جس کا افسوس ہے
🚨بھارت میں مودی مخالف احتجاج دیکھ کر ایک سوال ضرور ذہن میں آتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
نریندر مودی مئی 2014 سے مسلسل بھارت کے وزیرِاعظم ہیں۔ اس دوران بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 312 ارب ڈالر سے بڑھ کر 676 ارب ڈالر تک پہنچے، معیشت تقریباً دو ٹریلین ڈالر سے چار ٹریلین ڈالر کے قریب جا پہنچی، غربت میں کمی آئی، متوسط طبقہ پھیلا، کئی ریاستوں میں فلاحی اسکیمیں متعارف ہوئیں بجلی کے دو تین سو یونٹ مفت ہوئے اور معاشی استحکام کے کئی اشاریے بہتر ہوئے۔ حالیہ جنگ میں پیٹر ول سستا ہوا کسی بھی غیر جانبدار تجزیہ کار کے لیے ان معاشی تبدیلیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
لیکن پولیٹیکل سائنس ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ریاستیں صرف معاشی ترقی سے نہیں بلکہ سماجی معاہدے (Social Contract)، جمہوری آزادیوں اور ادارہ جاتی توازن سے بھی مستحکم رہتی ہیں۔ جب حکومت اکثریتی قوم پرستی کو ریاستی شناخت بنا دے، مذہبی شناخت سیاست کا محور بن جائے، اختلافِ رائے کو قومی وفاداری کے پیمانے پر پرکھا جانے لگے، اور ناقدین، صحافیوں یا اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھنے لگے، تو معاشی کامیابیاں بھی سماجی بے چینی کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتیں۔
مودی حکومت کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ گزشتہ بارہ برسوں میں بھارت میں ہندو قوم پرستی کو غیر معمولی سیاسی طاقت ملی، سیکولر ریاست کا توازن کمزور ہوا، اور اداروں کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھے۔ ان کے نزدیک آج کے احتجاج صرف کسی ایک پالیسی کے خلاف نہیں بلکہ اس سیاسی ماڈل کے خلاف ردِعمل ہیں جس میں معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی تقسیم بھی گہری ہوئی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب کسی معاشرے میں معاشی کامیابی اور سیاسی شمولیت ایک ساتھ نہ چلیں تو بالآخر عوام سڑکوں پر آ کر صرف مہنگائی نہیں بلکہ اپنے حقوق، شناخت اور ریاست کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔
درود شریف عربی کا نہیں فارسی کا لفظ ہے. عربی میں اس کا متبادل لفظ "الصلاة على النبی" ہے.
اگر درود شریف کا جائزہ لیا جائے تو یہ امر کھل کے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ اپنے معنوں اور حقیقت دونوں کے اعتبار سے ایک دعا ہے. ایک ایسی دعا جس میں ہم رب کائنات سے یہ التجا کرتے ہیں کہ وہرسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مزید رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے
دعا ہمیشہ مانگی جاتی ہے پڑھی نہیں جاتی افسوس یہ ہے کہ ہمیں درود پڑھنا تو سکھا دیا گیا لیکن مانگنا کسی نے نہ سکھایا
ضرورت ہے اس امر کی کہ درود کے الفاظ ادا کرتے ہوئے یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ ہم اپنے پروردگار سےدعا مانگ رہے ہیں. یہ سوچ ان الفاظ میں آپ کی دلچسپی اور لطف دونوں بڑھا دیگی.
ایک اور پہلو جو ہماری توجہ کا طالب ہے وہ یہ کہ جب ہم اس درود میں ' آل رسول ' کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد محض آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاندان نہیں ہوتا بلکے اپنے وسیع معنوں میں یہ لفظ تمام امترسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احاطہ کرتا ہے.
یہ قرآن اور عربی دونوں کا اسلوب ہے کہ لفظ ' آل ' سے مراد قبیلہ یا امّت ہوتا ہے. اسی لیے قرآن پاک میں جب فرعون کے ماننے والو کا ذکر ہوا تو انہیں ' آل فرعون ' کہہ کر مخاطب کیا گیا.
لہٰذا آئندہ جب ہم درود میں آل رسول کا ذکر کریںتو یہ جانتے ہوے کریں کہ اسمیں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان والے بھی شامل ہیں اور تمام امتی بشمول میں خود بھی شامل ہوں.
کروڑوں درود و سلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر_______🌺
میں ایک عرصے سے اسلام آباد کی پراپرٹی/کنسٹرکشن مارکیٹ میں ان ہوں،
شوق ہے، تجسس ہے، چل ہے تو پوچھتا پاچھتا رہتا ہوں،
اب ایک دلچسپ لیکن "مجرمانہ" سچائی،
اسلام آباد جو پورے پاکستان کی پراپرٹی کا حب سمجھا جاتا ہے، کے یہاں کے سودوں میں کروڑ روپے کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے، یہاں ہزاروں پراپرٹیز ہیں جنکی مالیت ارب روپے سے بھی زیادہ ہے،
اسلام آباد میں 20-30 کروڑ روپے کا فقط گھر تو ایک عام سی بات ہے،
اسی طرح 20-30 کروڑ کی ایک دکان بھی عام آئٹم سمجھا جاتا ہے،
اور یہاں کا سب سے بڑا انویسٹر،
بلوچستان، خیبر پختونخوا کے وڈیرے/سردار/خان وغیرہ ہیں،
اس سے بڑا ننگا اور "ذلیل" سچ یہ ہے،۔
کے دوسرے نمبر پر جو گروپ بڑا انویسٹر ہے وہ ہے دیوبندی مدارس کے مہتمم، اہل تشیعوں کی امام بارگاہوں کے کرتا دھرتا، اور پاکستان بالخصوص پنجاب کے جنوبی اضلاع اور سندھ میں موجود درباروں کے پیر صاحبان۔
سمجھ سے بالاتر ہے کے انتہائی غریب اور پسماندہ علاقوں کے بڑوں کے پاس اتنا مال اور اتنا ہی مال آخر کہاں سے آتا ہے...!!
#نجم_نامہ