کوئٹہ میں ایک ہی خاندان کے دو معصوم بچے صُبح اپنے بستروں پر مُردہ پائے گئے۔
ان کی موت کی مُمکنہ وجہ کی تفتیش کے بعد ان کے کھانے پینے پر سوال کیا گیا تو بچوں کی ماں نے کہا کہ بچوں نے باہر سے کُچھ نہیں کھایا، لیکن سونے کے وقت انہیں معمول کے مطابق دودھ کا گلاس دیا گیاتھا۔
جب فریج میں رکھے دودھ کے برتن کا مُعائنہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ 3/4 انچ کا زہریلے سانپ کا بچہ برتن میں نیچے مُردہ پڑا ہوا ہے۔
یہ فریج تک کیسے پُہنچا اور دودھ کے جگ میں گِر گیا؟؟؟
گھر والوں کو یاد آیا کہ وہ سبزی منڈی سے پالک لائے تھے اور پالک کا بنڈل کھولے بغیر فریج میں رکھ دیا تھا۔
مُمکنہ طور پر سانپ کا بچہ اسی بنڈل سے باہر آنے کے بعد دودھ کے جگ میں گِرگیا ہو گا۔
بچوں کی موت کی وجہ واضح ہو گئی مگر خاندان نے اپنے دو بچوں کو کھو دیا۔
لہٰذا ہمیں فریج میں کُچھ بھی رکھتے ہوئے پتیوں والی سبزیاں اور فرج میں ڈھانپنے والی چیزوں کا خاص خیال رکھنا چاہیئے۔
اپنے فرج کو ہمیشہ صاف رکھیں، کچن میں کوئی بھی کھانا کُھلا نہ چھوڑیں۔
*اس حادثے سے سبق لیں اور اس پیغام کو صِرف پڑھنے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے شئیر کرکہ انسانیت کی خدمت میں اپنا بھی چھوٹا سا حِصّہ ڈالیں
جس ملک میں اقتدار پر قابض لوگوں کو ہزاروں افراد اور درجنوں کیمروں کی موجودگی میں برستی گولیوں میں کسی شخص کے زندہ بچ نکلنے میں اللہ کی نشانی اور فضل نظر نہ آئے ، وہ اس المیے کا تمسخر اڑایں اور جواب میں مظلوم کو اپنے زخم دکھانے پڑ جائیں ، وہاں انصاف مانگنا نہیں چھنینا پڑتا ہے
تفتیش میں ان لوگوں کو شامل کرنا ہو گا کہ آخر یہ کس کے کہنے پر جرم کو Divert کرنے کی کوشش میں مصروف ہوئے؟ کون تھا جس نے ان سب کو اکٹھا ہی بیانیہ بنانے کا حکم دیا؟
ذرائع کیمطابق مبینہ طور پر یہ جنرل فیصل نصیر کا آپریشن تھا جسے ہائ کمانڈ ؛ وفاقی حکومتی رہنماؤں کی مکمل حمایت حاصل تھی اور زمینی ذمہ داری سیکٹر کمانڈر پنجاب بریگیڈیر راشد نصیر کی تھی جسے گن مین 'ن لیگی' رہنما میاں جاوید لطیف نے مہیا کئے تھے۔
This is unprecedented.
A Pakistan army tank, displayed as a symbol of the military’s might in Peshawar — and so many other cities across the country — is vandalised by angry protestors after the attack on Imran Khan.
Not in 75 years of history has this been witnessed in Pak.