Security camera footage shows illegal Israeli settlers assaulting a security guard before setting fire to heavy vehicles and equipment at a stone-cutting center near Ramallah on July 26. The attack took place in the Ein Samia area near Kafr Malik, where several Palestinian workers were reportedly injured. The incident comes amid a broader surge in settler violence and arson attacks targeting Palestinian property and mosques across the occupied West Bank
پاکستان کے پانی۔۔
انجینیئر ظفر وٹو
سندھ طاس کا نہری نظام پاکستان کا سب سے بہت بڑا آبی اثاثہ ہے جوکہ 3 بڑی جھیلوں ، 18 بیراجوں، 12 دریائی رابطہ نہروں اور 44 بڑے نہری نظاموں پر مشتمل ہے جن کی لمبائی 44,000 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اتنے بڑے نہری نظام پر اب تک 300 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں۔
اس نظام کی کمزور ترین کڑی یہ ہے کہ یہ سارے کا سارا نظام سندھ طاس کے پانیوں پر انحصار کرتا ہے جس کے معاون دریا ملک سے باہر (انڈیا) سے نکلتے ہیں۔ سندھ کے کل طاس کا صرف آدھا علاقہ پاکستان میں ہے، چالیس فی صد انڈیا میں ہے جب کہ بقیہ آٹھ فی صد چین اور چھ فی صد افغانستان میں ہے۔
پاکستان کا تقریباً 95% زرعی رقبہ سندھ طاس میں واقع ہے اور زرعی پیداوار ملک کی جی ڈی پی میں 22% حصہ ڈالتی ہے اور 45 % آبادی کو کام پر لگاتی ہے۔لہٰذا دریائے سندھ کے پانیوں میں کسی بھی قسم کی کمی پاکستان کو غذائی قلت سے دوچار کرسکتی ہے۔
پاکستان کے اندر حالت یہ ہے کہ ہم سندھ طاس کے نہری نظام کے ذریعے اپنے دریائی پانیوں کا 90% دریاوں سے باہرنکال لیتے ہیں لیکن اس پانی کا بہت بڑا حصہ ( 80% ) صرف چار بڑی فصلوں (گندم، چارل، گنا، مکئی) کو پیدا کرنے پر خرچ کر بیٹھتے ہیں جو ملکی جی ڈی پی میں صرف 5% فی صد حصہ ڈالتی ��یں۔
اس سے بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ ہم نہری پانی کا بہت بُرا استعمال کرتے ہیں۔ ہماری نہری پانی کی پیداواری صلاحیت ساوتھ ایشیا میں سب سے کم ہے۔مثلاً ایک کیوبک میٹر پانی سے ہم 1/2 کلو چاول پیدا کرتے ہیں جب کہ انڈیا اتنے پانی سے 1.25 کلو چاول پیدا کرلیتا ہے۔ اسی طرح گندم کی پیداوار بھی ہم انڈیا سے آدھی لیتے ہیں۔
سندھ طاس کے نہری نظام کی صلاحیت ناکافی مرمت، کم ہوتے پانی کے ذخیرے اور کمزور محکمانہ اختیار کی کمی کی وجہ سے دن بدن کم ہوتی جارہی ہے ۔ یہ نظام اب زیادہ تر “جہاں ہے، جتنا پانی میسر ہے “ کی بنیاد پر چل رہا ہے جس کی وجہ سے زیرزمین پانی پر انحصار بڑھا ہے۔ پاکستان اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ زیرزمین پانی کھینچنے والا چوتھا بڑا ملک ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نہ صرف اپنے سیلابی پانیوں کو ذخیرہ کریں، ان سے دریاؤں کی آبی گزرگاہوں کو بھریں، زمینی پانی کو ریچارج کریں بلکہ نہری پانی کی بھی بہتر مینیجمنٹ بھی کریں اور اس کی پید��واری صلاحیت کو بھی بڑھائیں۔
نہری پانی کی موجودہ وارابندی سسٹم کو بہتر کرکے پانی کی کھیت کی سطح مینیجمنٹ کو بہتر بنائیں۔
اپنے کھیتوں کو ہموار کریں اور اریگیشن کے جدید طریقے اپنائیں۔
پاکستان میں اس وقت 45 ملین ایکڑ اراضی کو نہری پانی فراہم کیا جا رہا ہے جس کو ہمیشہ اوسطاً 25 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ نہری پانی کی تقسیم کا نظام کا حساب کتاب بھی وقت اور حجم کی بنیاد سے ہٹا کر کہ کھیت میں لگی فصل کی حقیقی ضروریات پر استوار کریں ۔
فصلوں کی کاشت سائنسی بنیادوں پر ہو نہ کہ سیاسی فصلیں (گنا، چاول وغیرہ؟) کاشت ہوں ۔
ہر کھیت /فارم کے شروع میں واٹر ٹینکس یاتالاب بنا کر پانی سٹور کرکے بوقت ضرورت استعمال کریں۔
نہروں کے شروع میں (ہیڈ پر) ٹیوب ویل کا پانی اور آخر میں (ٹیل پر) نہری پانی زیادہ استعمال کریں ۔
ضرورت سے زائد آب پاشی کا پانی اور بارش کا پانی گندے نالوں میں بہانے کی بجائے ریچارج ویل (پانی چوس ) کنوؤں سے ریچارج کریں۔
#zafariqbalwattoo
سر درد
اس کی بہت ساری وجوہات ہیں. یاد تر مندرجہ ذیل ہیں
ٹینشن یا تناؤ کی سر درد
مائیگرین
سائنوسائٹس [Sinusitis ]
کلسٹر ہیڈیک [ Cluster headache ]
پانی کہ کمی
بخار
نیند کی کمی
دھوپ کی تپش
ریباؤنڈ ہیڈیک
1👇
بیس بائیس سالہ جوڑے نے دس لاکھ میں گھر لیا اور پھر دو کروڑ نوے لاکھ باقی دو ماہ میں ایمازون سے کما کردے دیے۔اب وہ گھر ساڑھے تین کروڑ کا ہے۔
For Clinical Appointment;
03003580709
03003580707
03333580707
What Palestinian done in two days illegal child of western world was doing it from last 75Years, Why they are silent and become deaf when it comes to Muslims. Palestinian life matters too 🤲🏻☝🏻 #طوفان_الاقصي
I made a video showing how Palestinians have a right under international law to armed struggle against Israeli colonialism, just as South Africans did against apartheid.
Gaza suffers under an Israeli blockade that even a British PM admitted is a "prison camp".
Full video below
مصر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعة الازہر جانے کا اتفاق ہوا۔
ہر لیکچر کے آخر میں کانفرنس کے شرکا علماء سے اس سے بھی زیادہ سخت سوال کر رہے تھے
جو بچپن سے میرے دل میں تھے
اور عالم جو دراصل جامعۃ الازہر کے پروفیسرز تھے
ہر سوال کا خندہ پیشانی سے جواب دے رہے تھے۔
ایک صاحب نے وہی سوال پوچھ لیا
جس کی بنیاد پر میرے علاقے کے مولانا نے محمود صاحب کو گستاخ قرار دے دیا تھا۔
میری حیرت کی انتہاء نہ رہی جب پروفیسر نے کہا میری خواہش تھی کوئی یہ سوال کرے
اور پھر قرآن کی آیات سے سوال کا جواب دیا۔
اب میری بھی ہمت بڑھی
میں نے پوچھا
جناب جب خدا جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے جسے چاہے ہدایت دے
جسے چاہے گمراہی میں مبتلا کر دے
تو میں اسے مانوں نہ مانوں کیا فرق پڑتا ہے۔
پروفیسر صاحب تھوڑے سے مسکرائے اور بولے
قُرآن میں احکامات دو طرح کے ہیں
ایک مُحکمات
اور دوسرے مُتشابہات۔
ضروری ہے کہ مُتشابہات کو مُحکمات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے
جن آیات میں یشا ء اور تشاء آتا ہے
ان کا ترجمہ آپکے ہاں مُتشابہات و مُحکمات کے عام اُصول کے تحت نہیں کیا جاتا
اس لئے انڈیا اور پاکستان کےمسلمان خدا کے تصور کو غلط سمجھتے ہیں۔
اس کا عربی مفہوم یہ ہے کہ *جو چاہتا ہے اللہ اسے عزت دیتا ہے*
*اور جو چاہتا ہے اللہ اسے ذلت دیتا ہے*۔
*جو چاہتا ہے اللہ اسے ہدایت دیتا ہے*۔
انہوں نے کہا اس آیت کو آپ ایک اور آیت کے مطابق دیکھیں جو مُحکمات میں سے ہے
جس کا مطلب ہے کہ *انسان کو وہی کچھ ملتا ہےجس کے لئے وہ کوشش کرے*۔
میں نے پھر ��ودا سا سوال کیا کہ
میں نے تو ہمیشہ عُلماء سے یہی سُنا ہے کہ اللہ توفیق دے تو ہی مُجھ سے کوئی نیکی ہو سکتی ہے۔
کانفرنس روم میں قہقہہ گُونجا
پھر پروفیسر صاحب نے سورہ رعد کی آیت پڑھی کہ
*اللہ لوگوں میں کُچھ نہیں بدلتا جب تک وہ خود میں تبدیلی نہ لائیں*۔
میں پروفیسر صاحب کا جُملہ مُکمل ہونے سے پہلے بول پڑا کہ
یہ سب جو میں اس کانفرنس میں دو دن سے سُن رہا ہوں
اُس اسلام سے بالکُل مُختلف ہے جو میں آج تک عُلماء سے سُنتا آیا ہوں۔
اس پر پروفیسر صاحب نے سورہ بقرہ کی آیت پڑھی
*اور جب اُن سے کہا جائے اللہ کے اُتارے پر چلو تو کہیں گے ہم تو اُس پرچلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ چاہے اُن کے باپ دادا نہ کُچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت*
کہنے لگے قرآن اللہ نے میرے اور تُمہارے لیے ہی اُتارا ہے
اسے خود پڑھتے اور سمجھتے کیوں نہیں
میرے یا کسی بھی مولوی کے محتاج کیوں ہوتے ہو۔
قرآن عین انسانی عقل کے مُطابق بات کرتا ہے۔
��یں نے پھر سوال کیا کہ مُجھے تو آج تک علماء نے یہی بتایا ہے کہ
ایمان اور استدلال یعنی ریزن (reason) الگ الگ چیزیں ہیں
اور ریزنگ بھٹکا دیتی ہے۔
اس بار پروفیسر صاحب نے انڈین اور پاکستانی عُلماء کی کم علمی اور تنگ نظری کی وجوہات پر بات کی
اور سورہ انفال کی ایک آیت پڑھی کہ
*اللہ کی نظر میں وہ جانوروں سے بھی بد تر ہیں جو گُونگے بہرے بنے رہتے ہیں اور استدلال نہیں کرتے۔*
*بس پھر میں جیسے گُونگا ہو گیا۔*
*میرے سامنے سےجیسے اندھیرے چھٹ گئے۔*
میں نے بڑے خلوصِ دل سےکلمہ پڑھا کہ واقعی میرا خدا تو بالکل ویسا ہے
جیسا ایک خالق کو ہونا چاہیے ۔
کانفرنس کے اختتام پر پروفیسر صاحب نے قرآن کی انگلش ترجُمے والی کاپی گفٹ کی ۔
ہر آیت مُجھے خود سے مُکالمہ کرتی سنائی دیتی۔
کچھ عرصہ بعد ایک نو مسلم گورے سےکینیڈا کی ایک یونیورسٹی میں ملاقات ہوئی۔
وہ اسلام کی پہلی دو صدیوں کے حوالے سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔
اُس کے ساتھ مل کر کُچھ سال اسلام کی ابتدائی ��ُٹھان
اور پھر اس میں فرقے بنتے ٹُکرے ہوتے تاریخ کی نظر سے دیکھا۔
یہ بھی دیکھا کہ کیسے لوگ قُرآن جیسا خزانہ چھوڑ کر روایات کی تلاش میں دہائیوں تک بھٹکتے پھرے۔
آج شیعہ کروڑوں میں ہیں
اور کروڑوں ہی سنّی
کہیں مالکی ہیں
کہیں حنبلی اور کہیں شافعی۔
ہر فرقے میں مزید تقسیم اور فرقے در فرقے ہیں۔
افسوس کہ ایسے لوگ کہیں مُشکل سے نظر آتے ہیں
جو وہابی ہوں نہ دیو بندی،
بریلوی ہوں نہ اہل حدیث
جن کا دین صرف اسلام ہو۔
جو قرآن و سُنّت میں استدلال کریں۔
سورہ یونس کی سویں آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ *عقل کا استعمال اور استدلال ایمان کی بُنیادی شرط ہے* ۔
اب میں فرقوں میں بٹے اپنی اپنی انا میں مدہوش مُسلمانوں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ
کیا یہ دُنیا بھر میں ہوتی اپنی ذلّت کو نہیں دیکھتے
کیا یہ اب بھی نہیں جان پائے کہ اللہ کی رسی چھوڑ کر یہ ٹُکروں میں بٹ چُکے ہیں۔
شاید دل مُردہ ہونے سے اپنی ذلّت کا احساس ہی نہ ہوتا ہو۔
جاری ہے