کراچی والوں, آپ لوگو کا شکریہ❤️
آپ لوگ میر رضا کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور بہت جلد انصآف مل جائیگا!
اب آپ لوگ نے ہر پاکستانی کے لیے احتجاج کرنا ہوگا, یہ سلسلہ برقرار رکھنا چاہیے!!
یہی احتجاج ہی آزادی کا راستہ ہے
سردار امان خان کا سکیورٹی اہلکاروں کو پیغام!!
یہ جو سپاہی پورے ملک, KP , بلوچستان یا کشمیر میں اپنے ہی لوگوں پر بندوق تان رکھے ہوئے ہیں,تمھاری مثال ایک طوائف سے بھی نیچے گر گئی ہے! تم لوگ طوائفوں سے زیادہ بد کردار ہوچکے ہو!
@KaliwalYam قیادت ساری سہولت کاری میں لگے ہوئے ہیں ، 27 ستمبر تک کتنے دن کتنے گھنٹےکتنے منٹس ہیں ۔ ساری سہولت کاری ہو رہی ہے ۔ خان کو مزید جیل میں رکھنے کی ۔ یا کچھ چھپایا جا رہا ہے ۔معاملات کو ٹھنڈا کرنا چاہ رہے ہیں ۔
3 سال مکمل: ایک طرف عمران خان نے بہادری سے جیل کاٹ کر اسٹیبلشمنٹ کا غرور خاک میں ملا دیا۔
دوسری طرف عاصم منیر اور انکے ساتھیوں نے خان کو توڑنے کے چکر میں عدلیہ، میڈیا، پارلیمان، اداروں، آئین، معیشت، امن و مان، قومی یکجہتی اور انسانی حقوق سمیت سب کچھ تباہ کر دیا مگر بات نہیں بنی۔
تابش ہاشمی کا مستقبل روشن ہے۔ پروگرام شروع بھی ہوتے ہیں ختم بھی ہوتے ہیں مگر آپکا کردار اور صلاحیتیں ہمیشہ آپکے ساتھ رہتی ہیں۔ میں نے تابش کو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید نکھرتے دیکھا ہے۔بے فکر رہیے انکا سفر جاری رہے گا۔
تابش ہاشمی کی ایک دن کی زندگی جرنیلوں، شریفوں، زرداریوں، انصار عباسیوں، سہیل وڑائچوں، ایم ایفوں، ابصار عالموں، راویوں اور عسکری راتب خوروں کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے!
قائد اعظم کے الفاظ بار بار شئر کئیے جائنگے!!
جرنیلو کو اپنے فرائض یاد دلا سکے, تمھارے فرائض ہے بیرونی دشمن سے پاکستان کو بچانا, تم نے منتخب حکومت کو امریکہ کے کہنے پر گھر بھیج کر اپنی حلف و فرائض سے روگردانی کی ہے!!
پہلے اپنے فرائض نبھائے, تمھارا کوئی کام نہیں سیاست میں!!
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس پر کورممبر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سردار عمر نذیر کشمیری ردعمل دیتے ہوئے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اپنا موقف پیش کیا۔
اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات کی تصدیق کی ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، جب ان سے کسی کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ پچھلی دفعہ جب آنکھ کا مسئلہ آیا تو ایسے ہی تردید کی جاتی رہی اوراس کو ڈس ٹریکشن کہا گیا لیکن پھر بینائی کے شدید متاثر ہونے کی خبر کی تصدیق ہوگئ۔
جب ملاقات ہی نہیں ہوئ، قابل اعتماد معالجین تک رسائی ہی میسر نہیں تو تردید،جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دینے کے بجائے کیوں نہ تمام تر قیادت عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ہر فورم کا استعمال کریں۔ اگر ”متعلقہ لوگ” اتنے ہی قابل بھروسہ اور ہمدرد ہیں تو ان کی آنکھ کیسے ضائع ہوگئی؟ ابھی تک علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟ اور اب تسلی دینے کے بجائے ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات کیوں نہیں کروائ جا رہی؟
یہاں جعلی پلیٹ لیٹس رپورٹس پر طوفان کھڑا کیا جاتا ہے لیکن ان کی بینائی کے معاملے پر اتنی شدید غفلت کے بعد اب مزید ایسی خبروں پر خاموشی مجرموں کی سہولت کاری ہے۔ جیسے پچھلی دفعہ آٹھ فروری کے ایونٹ کا انتظار کرتے ہوئے دو ہفتے ضائع کیے گئے اس دفعہ بے شک پانچ کی تیاری جاری رکھیں لیکن فوری طور پر قیادت و صوبائی حکومت ہر آئینی قانونی اور عوامی فورم استعمال کرے۔ تصدیق کی وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں۔