@d1ksh4 Haan kabhi kabhi lagta hai jaise boobs ko bhi attention chahiye hoti hai 😂 But main toh sochti hoon agar tum kar rahe ho toh koi zaroor reason hoga... ya nahi bhi toh bhi cute lagta hai.
Grateful to the Sri Lankan team for their decision to continue the Pakistan tour 🇵🇰🇱🇰.
The spirit of sportsmanship and solidarity shines bright.
The ODI matches between Pakistan and Sri Lanka will be played on 14th and 16th November in Rawalpindi.
#PakistanCricket#PAKvSL
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام
(۲ اگست، ۲۰۲۵)
“تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا۔
پانچ اگست کو شروع ہونے والی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک میں جمہوریت اپنی اصل روح کیساتھ بحال نہیں ہو جاتی۔ اب عوام نڈر ہو چکے ہیں، ہر خوف کا بت ٹوٹ چکا ہے- 5 اگست کے بعد 14 اگست کی تاریخ بھی اس سلسلے میں اہم ترین ہے۔ 14 اگست 1947 کو ہم نے بیرونی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی۔ اب ہمیں غلامی کی اس سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا ہے جہاں تمام اداروں کو اپاہج کر کے سارے بنیادی حقوق معطل کر دئیے گئے ہیں۔ جیسے ہمارے آباؤاجداد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کر کے آزادی حاصل کی تھی ہمیں بھی اس کرپٹ نظام سے آزاد ہونا ہے اور غلامی کو ٹھکرانا ہے۔
پیپلز پارٹی اور نون لیگ عاصم منیر کے لیے ویسا ہی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہی ہیں جیسا ق لیگ نے مشرف کے لیے کیا تھا۔ ان کا کردار سیاسی جماعت کا نہیں اسٹیبلشمنٹ کے پولیٹیکل فرنٹ کا ہے۔ اسی آڑ میں کرپشن اور لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
77 سال لگا کر پاکستان میں مشکل سے چند ادارے کھڑے ہوئے تھے- یہاں بار بار مارشل لاء لگتے رہے جس نے اس عمل کو دشوار بنایا مگر پھر بھی ادارے موجود تھے لیکن عاصم منیر کے مارشل لاء نے صرف اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے ان اداروں کو بھی ایک ایک کر کے تباہ کر دیا ہے۔ سب سے پہلے انتخابی فراڈ کر کے عوام کا ووٹ چوری کیا گیا اور چوروں کو ملک پر مسلط کر کے جمہوریت کا خاتمہ کیا گیا۔ پھر میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، ملک میں بدترین سنسر شپ لگائی گئی۔ اور اب عدلیہ کو چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے ایک سرکاری ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ اوپر سے لکھی لکھائی سزائیں ججز کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہیں۔ جج خود اسکا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے جو ہمیں تھما دیا جاتا ہے ہم اسی پر سائن کر کے دے دیتے ہیں۔ اس وقت ملک میں عدلیہ مکمل مفلوج ہے۔ یہاں کینگرو کورٹس چل رہی ہیں جو ہر طرح سے قانون کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں۔ ان عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے۔ یہ عدالتیں قانون کی نہیں صرف عاصم لا کی پیروی کرتی ہیں۔ اسی کے مطابق سب ٹرائل چلیں گے اور سزائیں ہوں گی۔ یہ سب ٹرائل آن ریکارڈ ہیں آج نہیں تو کل سب پر حقیقت عیاں ہو گی کہ کس جج نے انصاف کی پیروی کے بجائے یزیدِ وقت کی پیروی کی۔
راولپنڈی، لاہور، سرگودھا اور فیصل آباد کی عدالتوں کے ذریعے ہمارے پارٹی رہنماؤں، ممبران اسمبلی اور کارکنان کو جھوٹے کیسز میں سزائیں دلوا کر ہماری تحریک کا راستہ روکنے کی ایک اور ناکام کوشش گئی ہے۔ حق پرستی کی پاداش میں سزاؤں کی حق دار ٹھہرنے والی پارٹی لیڈرشپ اور کارکنان کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
سکندر سلطان راجہ نے ہائیکورٹ کی اپیلوں کا انتظار کیے بغیر ہمارے ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دیا۔ تاریخ جب لکھی جائے گی سکندر سلطان راجہ کا نام سیاہ ترین حروف میں درج ہو گا۔ اس شخص نے ڈیڑھ سال میں 17 سیٹوں والی جماعت کو دو تہائی اکثریت دلوانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک کا نظام ان کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے جنھوں نے عوام کا ووٹ اور پیسہ دونوں چرایا۔ جو لوگ آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہوئے ان کو جیلوں میں ڈال دیا گیا تاکہ اس ملک میں کوئی جمہوریت کا نام لیوا نہ ہو۔
ہمارے جو ممبران اسمبلی ناجائز طریقے سے نااہل کیے گئے ہیں ان کی جگہ ضمنی انتخابات میں کسی کو کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ ان لوگوں نے کئی طرح کی مشکلات جھیل کر انتخاب لڑا تھا اور مسلسل تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہے۔ لہذا ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف حصہ نہیں لے گی۔
علی امین کو واضح پیغام دیتا ہوں کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں وفاق کو ایک اور فوجی آپریشن کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ فوج اور عوام کے آمنے سامنے آنے سے فوج کا ادراہ تباہ ہوتا ہے۔ آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے نظام کے مطابق بات چیت سے مسائل حل کریں۔ افغانستان ہمارا مسلمان ہمسایہ ملک ہے۔ ان کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور مسائل پر بیٹھ کر بات کرنی چاہیے-“
" پاکستان میں اس وقت مارشل لاء نہیں “عاصم لاء” نافذ ہے-
ملک میں عاصم منیر کا قانون چل رہا ہے اور آئی ایس آئی اسے تحفظ دے رہی ہے- جو چیز عاصم منیر کو طاقت دیتی ہے وہ اس ملک کا قانون بن جاتا ہے- عاصم منیر اپنی طاقت کے لیے ملک کی ہر چیز کی قربانی دے گا- یہ آرمی چیف فوج کی بدنامی کروا رہا ہے، جیسا کہ یحییٰ خان نے کیا تھا۔
اس وقت سینیٹ ، قومی اسمبلی، وزیراعظم اور صدر سب غیر قانونی ہیں۔ ایک جعلی آئینی عدالت بنا کر ہماری نشستیں کم کی گئیں- جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ ایک جماعت کی نشستیں کسی اور کو دے دی جائیں۔ وہ آئینی عدالتیں جن میں انصاف ملنا چاہیے، آج وہاں عاصم منیر نے اپنے ذاتی نوکر بٹھا رکھے ہیں۔ سکندر سلطان راجہ نے تاریخی الیکشن فراڈ کیا، اور اُسے توسیع دے کر اس دھاندلی کو تحفظ دیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج سات ماہ سے میری اپیلیں نہیں سن رہا، کیونکہ اسے بھی ہدایات عاصم منیر سے مل رہی ہیں۔ اس وقت ملک میں عاصم منیر کا قانون ہے، جیسے پاکستان اس کی ذاتی ملکیت ہو۔
ملک میں عدلیہ، ادارے اور جمہوریت کو منظم طریقے سے تباہ کیا گیا ہے۔ ملٹری کورٹس کو قانونی قرار دے دیا گیا، اور یہ اقدام دراصل عدلیہ کی جانب سے خود اپنے اوپر عدم اعتماد ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مجھے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن میں یہ واضح کر دوں: میں مر جاؤں گا، مگر کبھی عاصم منیر کی بادشاہت کو تسلیم نہیں کروں گا۔ یہ ایک قبضہ گروپ ہے، جس نے ملک پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔
اس وقت پاکستان میں "ڈاکو، ڈفر الائنس" مکمل طور پر قابض ہے۔ چھبیسویں ترمیم سے ججوں کی خودمختاری مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ ججز کے احکامات کی کوئی اوقات نہیں رہ گئی، ایک پولیس والا بھی جج کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیتا ہے۔ آج دورانِ کاروائی جج صاحب نے باہر گیٹ پر منتظر میری فیملی کو اندر بلانے کا حکم دیا اور بارہا کاروائی رکوائی بھی مگر میری فیملی کو اندر نہیں لایا گیا۔ اسکا مطلب ہے کہ پولیس اہلکار کے سامنے بھی جج کے احکامات کی کوئی وقعت نہیں۔ ہمارا انصاف کا نظام مکمل طور پر دفن ہو چکا ہے۔
ملک اس وقت تباہ ہوتا ہے جب نا اہل شخص کو اس پر بٹھا دیا جائے۔۔۔
عاصم منیر ملک اور محسن نقوی کرکٹ سنبھال کر بیٹھ گیا ہے- ان کی اہلیت کیا ہے؟ محسن نقوی کی وجہ سے آج ہماری ٹیسٹ ٹیم نویں نمبر پر پہنچ چکی ہے۔ جب اس طرح کے نااہل بٹھائے جائیں گے، تو کھیلوں سمیت ہر شعبے کا یہی حال ہوگا۔ ملک تباہ تب ہوتا ہے جب نااہل لوگ اہم عہدوں پر قابض کر دئیے جائیں۔ یہ بہت خطرناک ہوتا ہے کہ کسی کو بغیر اہلیت صرف طاقت کے زور پر اداروں پر مسلط کر دیا جائے۔
مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ مجھے 22 گھنٹے سیل میں قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، کتابیں نہیں دی جا رہیں، حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے نہ ہی اخبار دیا جارہا ہے اور نہ ہی ٹی وی دیکھنے کی اجازت ہے۔ یہ نہ صرف مقامی بلکہ عالمی انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ آج جج کے حکم پر 3 گھنٹے کے بعد فقط ایک کتاب مجھے مہیا کی گئی ہے۔ جبکہ میری فیملی نے گزشتہ 1.5 ماہ کے دوران کم از کم 2 درجن کتابیں بجھوائی ہوئی ہیں۔ جب سے جیل سپرنٹینڈنٹ غفور انجم آیا ہے، مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ تمام ٹارچر اس کی سربراہی میں کیا جارہا ہے۔
ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، پاکستان میں اس وقت جو بھی امن کیساتھ کھڑا ہے، امن مارچ کر رہا ہے ہمیں اسکے ساتھ بھرپور یکجہتی دکھانی چاہیے۔
آج سات ماہ ہو گئے، مجھے اپنے بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی۔ یہ اُن کا حق ہے کہ وہ عدالت میں جائیں، اور میں نے خود اپنے بیٹوں کو کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی بنیاد پر عالمی عدالت سے رجوع کریں۔ وہ امریکا میں کسی سے مدد نہیں مانگ رہے، صرف اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ جب صدر ٹرمپ کی حکومت آئی تب بھی میں نے یہی کہا تھا کہ پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے ۔
ہم نے تمام دروازے کھٹکھٹائے، لیکن کہیں سے سنوائی نہیں ہوئی۔ میں نے صرف ایک بار مذاکرات کا کہا تھا، وہ بھی 26 نومبر اور 9 مئی کے کمیشن کے مطالبے کے ساتھ۔ 26 نومبر کو نہتی عوام پر گولیاں چلانے کے پیچھے عاصم منیر ہے۔ میں آج پھر واضح کر رہا ہوں کہ اب بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ گروہ پورا نظام ہتھیا چکا ہے-
بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، علی امین گنڈاپور اور جنید اکبر کو تاکید کرتا ہوں کہ بھرپور طریقے سے تحریک چلائیں۔ تحریک کا مقصد انصاف کا نظام، قانون کی بالادستی اور آئین کا تحفظ ہونا چاہیئے۔ اگر ہم نے سڑکوں پر آواز نہ اٹھائی تو یہ قبضہ گروپ پارلیمانی پارٹی کو بھی آہستہ آہستہ تباہ کر دے گا۔ میں کھڑا ہوں، تو آپ کو بھی کھڑا ہونا ہوگا۔
1/2
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
Former Prime Minister Imran Khan in Conversation with his Family and Lawyers at Adiala Jail - 15 July 2025:
"There is absolutely no question of bowing down, even if I have to spend my entire life in prison. I convey this same message to the people of Pakistan: under no circumstances should you submit to this tyrannical system.
The time for negotiations has passed. What remains now is the time for the nation to rise in protest.
Hardships inflicted upon me in jail have intensified in recent days. The same is true for my wife, Bushra Bibi, who is also facing increasing restrictions. The television in her cell has been shut down. All fundamental human rights and basic prisoner entitlements, both mine and hers, have been suspended. This must be accounted for.
I am fully aware that a certain Colonel and Jail Superintendent Anjum are carrying out these actions at the behest of Asim Munir.
I issue a clear directive to my party: if any harm comes to me while I remain imprisoned, Asim Munir must be held accountable.
Bushra Bibi is being subjected to this cruelty because, during my tenure, after Asim Munir was removed from his position, he sent her a message through Zulfi Bukhari requesting a meeting, which she categorically declined. Since then, he has targeted her with continuous retribution. From day one, it has been his deliberate strategy to break my will by tormenting her.
In the very jail where I am being held under inhumane conditions, terrorists and known murderers of hundreds of Pakistanis enjoy better treatment. A military officer named Rizwan is being held in the lap of luxury, while every form of cruelty is inflicted upon me. No matter what they do, I did not bow before this oppression before, nor will I do so now.
Under the oppressive watch of Maryam Nawaz and Mohsin Naqvi in Punjab, fascism has taken root for the past two years, extinguishing democracy and crushing all political activity.The arrival of elected representatives in Punjab in the form of a political caravan, in such an environment is a welcome development.
At this time, many, including myself, are enduring some of the harshest imprisonments. Therefore, I direct every member of the party to put aside all personal grievances. Publicly airing internal matters or individual concerns before the media is entirely unacceptable. My instruction is firm: whether a senior officeholder or a junior member, no one is to express internal differences on social media, electronic media, print media, or any other platform. Focus exclusively on the protest movement so that fundamental human rights are restored in Pakistan. If any party official fails to participate in this movement, I will make the final decision about them myself, even from within jail.
I instruct all party members and office-bearers to personally retweet my messages on Twitter (now X), and ensure they are shared as extensively as possible.
The party should decide on nominations for the Senate tickets through mutual consultation."
Sometimes, people don’t realize the value of what they have. They ignore it, take it for granted, thinking it will always be there. But later, when life changes & they lose it, they realize how precious it actually was, but all they are left with is regrets and realisations.