تاک میں دشمن بھی تھے اور پشت پر احباب بھی
پہلا پتھر کس نے مارا، یہ کہانی پھر سہی
کیا بتائیں پیار کی بازی وفا کی راہ میں
کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی
مسرور انور
ھم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
کس نے توڑا دل ھمارا یہ کہانی پھر سہی
دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے
نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی
نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں
ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی