اسلام آباد: جےیوآئی کے زیراہتمام سیرتِ رحمۃ للعالمین ﷺ و پیغامِ جمعیت کنونشن آج دوپہر 2 بجے رائل ارینا مارکی، نزد ڈائیو اڈا، مین جی ٹی روڈ پر ہوگا.
قائدِجمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب خصو��ی خطاب فرمائیں گے.
عمران خان کی شفا منتقلی کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ
جمع��ت علما اسلام نے فیصلے کو خوش آئند قرار دے دیا
اچھی بات ہے کہ عمران خان کا علاج ہوگا
مولانا عبدالغفور حیدری صاحب
نئے صوبوں کے حوالے سے صحافی طلعت حسین کی جمعیت علماء اسلام کے حوالے سے غلط بیانی پر صحافی راشد مراد کا تفصیلی وی لاگ اور قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا موقف
کراچی سے گلگت تک، شہر شہر، قریہ قریہ، پھر محبتِ رسول ﷺ کی شمعیں روشن ہونے والی ہیں 💚
حلقاتِ سیرت کا مبارک سفر شروع ہونے جا رہا ہے، ان شاء اللہ ✨
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمد ﷺ سے اُجالا کر دے
⏳ بس 3 دن باقی…
Al Burhan Seerah Circles | Phase 8
#AlBurhan #SeerahCircles #SeerahCirclesPhase8 #Seerah #ProphetMuhammadﷺ
مریض تو ہسپتال جارہاہے،
مگر سیاسی بخار کہیں اور چڑھ رہا ہے،
اقتدار کے ایوانوں میں مکینوں کو خوف ہے کہ آج مریض ہسپتال سے گیا،کل شاید سیاست بھی جیل سے باہر آجائے۔
افغان ایمبیسی کی تقریب میں مولانا فضل الرحمان کا شاندار خطاب ؛ عمار خان یاسر کا تبصرہ
گزشتہ روز اسلام آباد کے موو این پِک ہوٹل میں افغانستان کے سفارت خانے کے زیرِ اہتمام افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے پانچ سال مکمل ہونے پر ایک اہم تقریب منعقد ہوئی۔
تقریب میں پاکستان کے چیدہ چیدہ سیاستدان، قومی و مذہبی رہنما، مختلف ممالک کے سفراء ، صحافی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات شری�� تھیں۔ لیکن اس اجتماع کی ایک خاص بات یہ تھی کہ صرف دو شخصیات نے خطاب کیا۔ افغان سفیر سردار شکیب احمد خان نے مختصرا خیرمقدمی کلمات کہے، اور دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری کی بات کرتے ہوئے افغانستان کا پالیسی بیان دیا جسکے بعد دعوت مولانا فضل الرحمن کو دی گئی۔
مولانا فضل الرحمن نے اپنی گفتگو کی بنیاد اقبال کے ان اشعار پہ استوار کی کہ؛
آسیا یک پیکرِ آب و گِل است
ملتِ افغان در آں پیکر دِل است
از فسادِ او فسادِ آسیا
از کشادِ او کشادِ آسیا
اقبال نے افغانستان کو ایشیا کے جسم میں دل قرار دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان بھی خطے میں ایک غیر معمولی جغ��افیائی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان مل کر مشرق و مغرب کے درمیان ایک اہم پل بن سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ہو، وسطی ایشیا ہو یا جنوبی ایشیا، دونوں ممالک کی جغرافیائی حیثیت انہیں خطے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کا موقع دیتی ہے۔
مولانا نے زور دیا کہ افغانستان اور پاکستان، دونوں کو اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے ایک مشترکہ مستقبل کی بنیاد رکھنی چاہیے۔ پاکستان افغانستان کا سہارا بنے اور افغانستان پاکستان کا سہارا۔
انہوں نے اس تعلق کو صرف دو پڑوسی ممالک تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے پوری امتِ مسلمہ کے مستقبل سے جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ جیسے اہم مسلم ممالک باہمی تعاون کی طرف بڑھیں تو مسلم دنیا کے دوسرے ممالک بھی اس سفر میں شریک ہو سکتے ہیں۔
مولانا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ممالک عالمی طاقتوں پر اپنا انحصار کم کریں، اپنی قوت اور وسائل کو مجتمع کریں اور اپنے مستقبل کے فیصلوں میں زیادہ خود انحصار بنیں۔
انہوں نے پاکستان کی طرف سے افغانستان کے عوام کو یہ پیغام بھی دیا کہ دونوں ممالک صرف ہمسائے نہیں بلکہ برادر اسلامی ممالک ہیں۔ جو مشکلات موجود ہیں، انہیں مکالمے، تفاہم اور مسلسل بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ دونوں طرف یہ خواہش موجود ہے کہ ��علقات بہتر ہوں۔
میرے خیال میں مولانا فضل الرحمن کا یہ خطاب صرف افغانستان یا پاکستان کے تعلقات پر ایک سیاسی گفتگو نہیں تھی۔ اس میں ایک ایسے سیاستدان کی سوچ نظر آتی ہے جو پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو صرف موجودہ اختلافات کی نظر سے نہیں بلکہ تاریخ، جغرافیہ، دین اور مستقبل کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
اور شاید آج سب سے زیادہ ضرورت بھی اسی سوچ کی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسائل یقیناً ہیں، اختلافات بھی ہیں، لیکن مستقل کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔ دونوں ملک اگر سنجیدگی سے بیٹھ کر اپنے اختلافات کو حل کریں، ایک دوسرے کے تحفظات کو سمجھیں اور باہمی تعاون ک�� راستہ اختیار کریں تو یہ صرف دونوں ملکوں کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئی سمت کا آغاز ہو سکتا ہے۔
مولانا کا یہ خطاب اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس نے ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے رکھا ہے: کیا پاکستان اور افغانستان اپنی جغرافیائی، تاریخی اور دینی قربت کو اختلاف کی وجہ بنانے کے بجائے اپنے مشترکہ مستقبل کی طاقت بنا سکتے ہیں؟
جےیوآئی خیبرپختونخوا کی جنرل کونسل کا اجلاس 22 اگست کو مفتی محمود مرکز، جبکہ ورکرز کنونشن 23 اگست کو کے کے کلب پشاور میں صبح 10 بجے منعقد ہوگا،
قائدجمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان مدظلہ خصوصی خطاب فرمائیں گے. ان شاء اللہ
رعب اور دباؤ نہیں چلے گا ۔
کردارکشی کرنے والے دیہاڑی دار کبھی اپنے محکمے کے آقاؤں سے یہ پوچھنے کی جرأت کیوں نہیں کرلیتے کہ اگر یہ الزامات اور پروپیگنڈا سچا ہے جو ان کے ذریعے مولانا صاحب پر لگ رہا ہے ۔
تو ہم سے اتنی دیہاڑیاں کیوں لگوا رہے ہو ۔ آپ تو اشرافیہ ہیں طاقتور یہ جو مولانا کے جرائم گنوائے جارہے ہیں یہ تو معمولی نہیں ۔
پھر تو کیس بننا چاہئے
پھر کاروائی ہونی چاہئے
پھر عملی قدم ہونا چاہئے
پھر کوئی فیصلہ کن اقدام ہونا چاہئے
لیکن آپ جانتے ہیں یہ کرنے کی ان میں اخلاقی جرأت تک ہی نہیں ۔ کیوں کہ وہ سارے کا سارا جھوٹ بول رہے ہیں۔
وہ اسی لئے بازاری زبان کے استعمال پر اتر ائے ہیں
ان کے پاس دلیل اور ثبوت کا نام ونشان تک نہیں
اسی لئے وہ ہر مکار کی طرح مکروفریب اور کردارکشی سے کام لے رہے ہیں۔
بدقسمتی سے جب دلیل، ثبوت اور حقائق کمزور پڑ جائیں تو بعض لوگ بازاری زبان، بہتان تراشی اور نفرت انگیز مہم جوئی کا سہارا لیتے ہیں۔
مگر مہذب معاشروں میں اختلاف کا معیار الزام تراشی نہیں بلکہ دلیل، ��واہد اور آئین و قانون ہوتے ہیں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ جھوٹ کو بار بار دہرانے سے وہ سچ نہیں بن جاتا۔ سچ کی بنیاد ہمیشہ حقائق، ثبوت اور قانون پر ہوتی ہے، نہ کہ شور، پروپیگنڈے یا کردارکشی پر۔
#عوام_مولانا_کے_سنگ
#حق_کی_آواز_جمعیت
#نکے_دا_پروپیگنڈا
#شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ
#ذخائر_کے_چور