#پچیس_مئی_یوم_فسطایت
۲۵ مئی ۲۰۲۲ کے بعد جو محافظوں سے بھروسہ ٹوٹنے کا سلسلہ شروع ہوا وہ بدقسمتی سے آج تک چل رہا ہے۔ روز ہی اپنے ریکارڈ توڑتے ہیں فسطائیت کے۔ پتہ نہیں جیتے کس طرح ہیں وہ اپنے آپ کے ساتھ - حیرت اس بات کی بھی ہے کہ ان کے خاندان والے ان کو نہیں سمجھاتے۔ اپنی آخرت تو تباہ کر ہی لی ہے، اب تو اپنا انجام شاید دنیا میں بھی دیکھ کر جائیں گے وہ لوگ۔ انسان کو انسان نہیں سمجھا انہوں نے اور اپنے ہی ملک کے شہریوں پر ظلم کیا، مائوں، بہنوں اور بچوں تک کا خیال نہیں کیا۔ سچ مانیں تو ایسی طاقت کے استعمال پر ان سب کو شرمندہ زیادہ ہونا چاہیے۔ ان کی سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ وہ اس ظلم کے بوجھ تلے ساری زندگی جییں گے اور ہر روز اللہ کے عذاب کے ڈر میں رہیں گے۔
یہ تو بلکل Bollywood فلم کا سین لگ رہا ہے جیسے ڈاکو کسی دوکان میں داخل ہو کر بدمعاشی کریں
یہ کہاں سے FIA کا عملہ ہے؟ قانون نافذ کرنے والے ادارے کا یہ طریقہ ہے؟
ہر پاکستانی کو چاہئے کہ آئین پر چلے اور بدمعاشی کا ڈٹ کر مقابلہ کرے۔ کسی بدمعاش کے آگے نہ جھکے
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
احسن چٹھا تم مجھے جتنی گالیاں دو گے میں تمہیں اتنی دعائیں دوں گا تم میری ماں بہن کو گالیاں دو گے میں اتنی تمہاری ماں بہن کی عزت کروں گا کیونکہ میرے نبی پاک نے وعدہ کیا کہ عاجزی سے اگر تمہارا کچھ جاتا ہے تو روز قیامت تمہیں میں واپس کر دوں گا
واہ، سبحان اللہ! محترم عباسی صاحب اور چوہدری صاحب، آپ دونوں نے خوب موضوع چھیڑا ہے، اور اچھی بات یہ ہے کہ آگ اور پانی کا ملاپ ایک ہی جگہ ہو گیا۔
ذرائع ابلاغ پر عدم برداشت یقیناً ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، لیکن میری ناقص معلومات کے مطابق نہ تو تحریک انصاف کا کوئی عہدیدار گالم گلوچ کا علمبردار ہے اور نہ ہی میں نے جماعت میں ایسے رویے کے لیے کبھی گنجائش دیکھی ہے۔
البتہ اس کے برعکس، آپ جتنے بھی گالیاں اور غلاظت پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دیکھ لیں، تقریباً سب ہی نون لیگ کے پیڈ سوشل میڈیا گینگ کا حصہ نظر آتے ہیں، اور حیرت یہ کہ ان میں سے اکثر کو مریم نواز فالو بھی کرتی ہیں۔ یہ اکاؤنٹس نہ صرف گالم گلوچ کرتے ہیں بلکہ مخالفین کو دھمکیاں بھی دیتے ہیں، جس کا ایک متاثرہ میں خود ہوں۔ اس سے بھی بڑھ کر، یہی اکاؤنٹس صبح و شام کفر کے فتوے بانٹتے پھرتے ہیں۔
عباسی صاحب، میں تو ایک گناہ گار انسان ہوں اور شاید دین کے بارے میں آپ جتنا نہ جانتا ہوں، لیکن کیا آپ اس بات پر روشنی ڈال سکتے ہیں کہ کسی مسلمان کو کافر کہنا کتنا بڑا گناہ ہے؟ آپ نے اس موضوع پر کتنے کالم اور رپورٹیں لکھیں؟ میں جب حکومت میں بھی تھا تو یہی اکاؤنٹس، جنہیں مریم نواز فالو بھی کرتی ہیں ،صبح شام گالیاں دیتے رہے اور کفر کے فتوے لگاتے رہے، مگر کبھی آپ کو ان کی نفی کرتے نہیں دیکھا۔
چوہدری صاحب، میں تو ایک ادنیٰ سا انسان ہوں؛ نہ کبھی جماعت کا عہدیدار رہا اور نہ ہی وزارتِ اطلاعات کا وفاقی وزیر۔ لیکن حضور، آپ کے وقت سے لے کر اب تک تحریک انصاف کا آفیشل سوشل میڈیا مزید نکھرا تو ضرور ہے، مگر کبھی گالی گلوچ پر نہیں اترا۔ تنقید کرنا اور فسطائیت کے خلاف بیانیہ بنانا کچھ لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہو سکتا ہے، لیکن بہر صورت یہ ایک جمہوری حق بھی ہے۔
ویسے چلتے ہوئے دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اول یہ کہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا شاید واحد جزو ہے جس نے بے پناہ ظلم سہا، مگر نہ پریس کانفرنس کی اور نہ مخالفین سے جا ملا؛ بہت مجبوری ہوئی تو گمنامی اختیار کر لی۔ میری ناقص رائے میں بالعموم یہی سوشل میڈیا والے دراصل عمران خان کی مزاحمتی تحریک سے جڑے ہوئے ہیں، باقی سب نہایت نرم چارہ نکلے۔
دوئم، دنیا اور سوشل میڈیا کی دنیا آئینہ نما ہے؛ اس میں منافقت چھپتی نہیں، لمحوں میں عیاں ہو جاتی ہے۔ انسان کو احتیاط کرنی چائیے، کچھ کرنے کو نہ ہو تو گاجریں کھائیں، فارغ وقت بھی خوب کٹتا ہے۔
#EndUnlawfulDetentionOfKhan
Imran Khan has the utmost trust in the Nation!
When the following two things happen, nation will rise and achieve the goal of releasing IK from jail & Haqeeqi Azaadi.
1) Leadership announces strategy
2) People trust leadership to lead from front