اگر سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا ہوتا تو آمریت کے ادوار میں سمجھوتے کرنا مشکل نہ تھا، مگر مولانا فضل الرحمٰن نے ہر دور میں آئینی، جمہوری اور سیاسی جدوجہد کو ترجیح دی۔ یہی فیصلے کسی بھی سیاسی قیادت کے طرزِ عمل اور اصولی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔
#مولانا_کے_سنگ#سرحد_یا_سیاست
#ہائبرڈ_راج_نامنظور
#معدنیات_کی_لوٹ
#ڈالر_کی_جنگ
جمعیت علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ اور صوبائی امراء و نظما کے مشترکہ اجلاس کے اہم فیصلے
جمعیت علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ اور صوبائی امراء اور نظما کا اہم اجلاس مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا
اجلاس میں طویل غور وخوض کے بعد درج ذیل فیصلے ہوئے
جمعیت علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس عمومی کا دوروزہ دستوری اجلاس 19،20 ستمبر 2026 کو ہوگا ۔
چاروں صوبوں میں ورکرز کنونشن کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا جس سے مولانا فضل الرحمان اور دیگر مرکزی وصوبائی قائدین خطاب کریں گے ۔
جمعیت علماء اسلام پنجاب کے زیراہتمام ستمبر ،اکتوبر اور نومبر 2026 میں بڑے اجتماعات کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ۔ان اجتماعات سے مولانا فضل الرحمن اور مرکزی وصوبائی قائدین خطاب کریں گے
مرکزی مجلس عاملہ نے قصور میں ہونے والے عظیم الشان تحفظ مدارس دینیہ و عوامی حقوق کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن کی تقریر اور بیانیے کی مکمل حمایت کی ۔
مارچ 2027 میں جمعیت علماء اسلام پاکستان کی سر پرستی اور نگرانی میں صوبہ سندھ کی جمعیت کے زیر اہتمام امن عالم کانفرنس سکھر کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ۔اس اجتماع میں لاکھوں کی تعداد میں عوام شریک ہونگے ۔جبکہ پاکستان سمیت عالم اسلام کے ممتاز اسلامی اسکالرز و دیگر زعماء شریک ہونگے ۔
جاریکردہ۔ مرکزی میڈیا سیل جےیوآئی پاکستان
مولانا فضل الرحمٰن مسلسل اس مؤقف پر قائم ہیں کہ ایک مضبوط اور مستحکم ریاست کی بنیاد آئین کی بالادستی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور تمام اداروں کے اپنے اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں رہ کر کام کرنے سے استوار ہوتی ہے۔ جب قومی ترجیحات درست ہوں، آئین کو مقدم رکھا جائے اور عوام کی رائے کا احترام کیا جائے تو سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی اعتماد بھی بحال ہوتا ہے۔
#مولانا_کے_سنگ
#سرحد_یا_سیاست
#ہائبرڈ_راج_نامنظور
#معدنیات_کی_لوٹ
#ڈالر_کی_جنگ