🌹🌷کسی کو اتنا پیار دو کہ گنجائش نہ چھوڑو، اگر وہ پر بھی تمہارا نہ بن سکے تو اسے چھوڑ دو کیونکہ وہ محبت کا طلبگار ہی نہیں بلکہ وہ ضرورت کا پجاری ہے۔🌼🌷
گورنر خیبرپختونخوا کے مطابق پی ٹی آئی کے پی میں مسلسل تیسری بار دہشتگردوں کے ووٹ اور سپورٹ سے اقتدار میں آئی ہے ،
ایتھے رکھ ، یہ بات آج تک ہمیں کسی اور نے نہیں بتائی تھی 😎
پاکستان کا مستقبل بھٹو کی تیسری نسل یا زرداری کی دوسری نسل یا نواز شریف کی دوسری نسل یا مفتی محمود کی دوسری نسل یا ولی خان کی تیسری نسل میں نہیں ہے کیونکہ اس نسل کو عوام رد کر چکی ہے، اس نسل کا واحد کمال اور ٹیلنٹ موروثیت اور فارم 47 ہے اور اثاثے وہ ہیں جو پانامہ، پنڈورا، سوئس اور دوبئی لیکس کا حصہ بنتے ہیں اور منی ٹریل کا پتہ نہیں۔
پاکستان کا مستقبل مڈل کلاس کے سہیل آفریدی جیسے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے، شوکت یوسفزئی جیسی مڈل کلاس سے آئ پرانی نظریاتی لیڈرشپ میں ہے، خواتین کیلئے عمران خان کی بہنوں جیسی رول ماڈلز میں ہے، تین سال سے جیل میں قید سیاسی قیدیوں میں ہے، چار سال سے فاشزم سے تکالیف اور مشکلات برداشت کرنے والے سیاسی ورکرز اور لیڈرز میں ہے، چند صحافیوں جنکا ضمیر زندہ ہے، کی سچ اور حق کی آواز میں ہے، اور سب سے بڑھ کر جیل میں بیٹھے مُرشد کے ہاتھوں میں ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر قدرت کے ہاتھوں میں ہے، اسکے بعد کسی کے پلے کیا بچتا ہے؟ شاید چار دن کی غیر قانونی طاقت؟
Everyone can see horizon, few can see beyond…..
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
اسلام آباد میں ذہین ترین گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کی خودکشی،درخت سے جھولتی لاش نے مجھے ہلا کر رکھ دیاہے، میرے اندر اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ تصویر یہاں لگا سکوں ۔۔۔اس ذہین بچی کا یہ لاش اس بدبودار ،استحصالی نظام،عدلیہ،پارلیمنٹ اور نظام حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے،ایک غریب مخنت کش،دودھ فروش باپ کی ذہین ترین گولڈ میڈلسٹ طالبہ ان انسانی سمگلروں،جعل سازوں، اس بدبودار نظام کی وجہ سے خودکشی پر مجبور ہوئی ۔۔۔
باپ نے پلاٹ فروخت کرکے21 لاکھ فراہم کئے ماں نے زیور بنک میں رکھوا کر 70 لاکھ پورے کئے تاکہ ذہین بیٹی کی بیرون ملک تعلیم کا خواب پورا کیا جاسکے لیکن انسانی سمگلروں، جعل سازوں نے سب کچھ لوٹ لیا،
اگر حکمران اسلام آباد اور اٹک کو کنٹینرز سے بند کرنے سے فارغ ہوگئے ہوں، بیرونی دوروں سے فرصت ملی ہو، ٹرمپ کی تعریفیں مکمل ہوچکی ہوں اور پروٹوکول اجازت دے تو ریاست پر قابض اشرف المخلوقات ذرا ان غریب درماندہ پسے ہوئے مخلوق کی بھی خبر لیں۔
اے اللہ ہمیں معاف فرما،ہم اس ظلم مَیں شریک نہیں، ہم ان ظالموں کے سہولت کار نہیں۔۔۔ہم۔ان سے برات کا اعلان کرتے ہیں۔۔
🚨ایک خاتون نے اردو زبان اور آداب سیکھنے کے لیے ایک استاد کی خدمات حاصل کیں استاد نے کئی ماہ کی محنت کے بعد خاتون سے کہا کہ میں نے آپ کو جو تربیت دی ہے، کل اس کا امتحان ہوگا۔ میں نےایک معروف اہل زبان شاعر کو چائے پر بلایا ہےآپ کل ان کی میزبانی کیجیے گا اور یاد رہے کہ معزز مہمان نہایت خوش گفتار اور شائستہ اطوار کے مالک ہیں لہٰذا اب میری عزت آپ کے ہاتھ ہے۔ خاتون نے استاد محترم کو یقین دلایا کہ وہ نہایت خوش خلقی اور شائستگی کا مظاہرہ کریں گی۔ اگلے روز مہمان تشریف لائے استاد محترم نے تعارف کے فرائض انجام دئیے میزبان خاتون نے نہایت تپاک سے استقبال کیا خیریت دریافت کی مہمان نے استفسار کیا
محترمہ آپ کے شوہر نامدار کیا شغل فرماتے ہیں؟
خاتون نے جواب دیا حضور! ان کی وسیع زمینداری ہےآج بھی اسی سلسلے میں چند حل طلب امور کی انجام دہی کے لیے گئے ہوئے ہیں ابھی تشریف لاتے ہی ہوں گے
مہمان نے مزید استفسار کیا آپ کے آنگن کے پھول نظر نہیں آرہے
خاتون نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے ایک بہت نیک اطوار بٹیا رانی عطا کی ہے میں ابھی اسے آپ کی قدم بوسی کے لیے بلاتی ہوں
خاتون نے بیٹی کو آواز دی گڑیا بیٹا یہاں آئیے چچا جان کو آداب کیجیے
کچھ دیر گزر گئی نہ جواب آیا اور نہ گڑیا آئی
خاتون نے پھر آواز دی: گڑیا بیٹا! جلدی آئیے، چچا حضور آپ کا انتظار کر رہے ہیں
پھر جواب ندارد
خاتون کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا گڑیا! فوراً باہر آؤپھر خاموشی پیمانہ چھلک پڑا
نی گڈو کتھے مر گئی ایں؟
باہر آ کے مر ۔۔ تیرے پیو دا نوکر اڈیکن ڈیا اے اور پھر گڑیا دوڑ کے آ گئی💯🤪👍
پاکستانی تاریخ کا ایک stand alone fact یہ ہے کہ شہباز شریف پاکستان کا اب تک سب سے نااہل، بزدل ، چابلوس ، قومی اور شخصی عزت نفس سے عاری اور احساس کمتری کا مارا حُکمران ثابت ہوا ہے۔
وسیم ملک
کینڈا
اس سے آپ شریف خاندان کی میڈیا اور پرسیپشن مینجمنٹ کا اندازہ لگائیں کہ انہوں نے لفافوں کے ذریعے شہبازشریف کو most able and competent CM مشہور کیا تھا۔ جرنیل اتنے متاثر تھے کہ ہمیشہ اس کو وزیراعظم انسٹال کرنا چاہتے تھے۔ جب انسٹال کیا تو پتہ چلا اس روبوٹ کی تو بیٹری ہی نہيں ہے۔
حیرت ہوتی ہے جب نظام کا حصہ بلکہ یہ کہیں کے نظام کے منہ بولے بچے اور بچیاں بھی۔ نظام پر تنقید کرتے ہیں۔ یہ لاش نہ جھولتی اگر اس بچی کو کوئ امید ہوتی انصاف ملنے کی۔
ہو سکتا ہے اس بچی نے 26 نومبر کے بعد آپکا پروگرام دیکھا لیا ہو جس میں آپ لاشوں کا شہیدوں کا مذاق اڑاتی تھیں۔ پی ٹی آئی سے ثبوت مانگتی تھیں۔ کہ اگر شہید ہوئے ہیں تو لاشیں لاؤں۔ لگتا ہے بچی آپ سے ڈرتی تھی۔ کہ کہیں اس کے موت کے بعد اس کے والدین سے ثبوت لاش یا ثبوت نہ مانگو۔ اس لئے وہ ایسی جگہ لٹکی کہ تصویر پوری دنیا میں چلی گئی۔ اب آپ اس کے والدین سے ثبوت تو نہیں مانگیں گی۔
تو براہ مہربانی کچھ شرم کیا کریں آپ اس نظام کا حصہ ہیں۔ خون چوسنے میں اس نظام کی مددگار۔ انکو شیلڈ فراہم کرنے والی۔ اور اس کے خلاف اگر کوئی اٹھے تو اسے دبانے والی۔
یاد ہے مظہر عباس نے جب کہا کے برطانیہ کچھ پاکستانیوں کو نکال رہا ہے تو ایک ڈائین کی طرح آپ نے کہا ارے ! یہ تو بہت اچھا ہو جائے گا۔ کوئی دل رکھنے والا انسان وہ حرکت کر سکتا ہے جو آپ نے کی۔
چلیں اب شروع ہو جائیں عورت کارڈ کھیلنا۔ یا کتا کتی کتے کی دم یا دوسری گالیاں دے کر اپنے آپکو کو مزید ایکسپوز کریں۔ کیونکہ دلیل آپکے پاس ہے نہیں۔
جوان نسل کے لیے عمل کا وقت:
پاکستان سے تین بھیانک اور الم ناک کہانیاں عالمی ضمیر کو ہلا رہی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی نوجوان ( GEN ZEE ) اپنے مستقبل کے لیے کچھ کریں، ابھی عمل کریں۔
١. اسلام آباد میں ایک گولڈ میڈلسٹ طالبہ نے خود کو پھانسی دے دی جب اس کے ساتھ فراڈ ہوا اور وہ مزید تعلیم کے لیے بیرون ملک نہیں جا سکی اور اس کا مستقبل تاریک ہو گیا۔
٢. ایک ماں نے اپنے چھوٹے بچوں کو گولی مارنے کے بعد خود کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ ایک بچہ مر گیا، لڑکی شدید زخمی ہوئی۔
٣. ایک طالب علم نے شدید مایوسی اور ڈپریشن میں خودکشی کر لی۔
ایسے واقعات روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہو رہے ہیں۔
پاکستانیوں کو لگتا ہے کہ ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور کوئی انہیں بچانے والا نہیں ہے۔
یہ وقت ہے کہ نوجوان سوچیں اور نظام کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج میں شامل ہو جائیں، صرف اپنے لیے، اپنے خاندانوں اور اپنے مستقبل کے لیے۔
اگر وہ آگے نہیں آئے تو دس سال میں پاکستان میں 30 کروڑ لوگ ہوں گے جو ایک دوسرے پر حملہ آور، آدم خور، حرام خور، لوٹنے والے اور قاتل بن جائیں گے۔ افرا تفری اور نفسہ نفسی کا راج ہوگا -
اب جو اشرافیہ کنٹرول میں ہے وہ دور دراز ساحلوں اور دنیا بھر کے محفوظ گھروں سے ہاتھ میں شراب لیے ہنسے گی۔
پولیس ایکٹ پاس ہو کر اس پر عمل بھی ہو جانا چاہیئے تھا ۔ جب آپ کو معلوم ہے کہ آپ کا مقابلہ لاقانونیت سے ہے تو اس کا سدباب بھی صوبائی حکومت کو کرنا چاہیئے تھا
اب وقت ہے کہ صوبائی حکومت صوبے میں اپنی رٹ ثابت کرے ۔ مقابلہ تو پہلے سے آن ہے
لانگ مارچ کا کیا ہوگا؟
کشمیری مہینوں سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ کبھی سنا کہ کسی نے کہا ہو کہ آگے بڑھو ، ڈی چوک جاؤ ، اڈیالہ جاؤ ، مظفر آباد جاؤ ؟ کیا کبھی انہوں نے اپنی قیادت کو بزدل ، غدار ، چور اور نالائق کہا ؟ نہیں ! یہ کشمیر رابطہ کمیٹی کے پاس ایڈوانٹیج ہے۔ یہاں گھنٹہ نہیں لگاتے انسان کو مشکوک کرتے ہوئے۔ یہاں قصور دوطرفہ ہے۔ کشمیریوں کی قیادت نے اپنا آپ منوایا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت ویسی استقامت نہیں دکھا سکی۔ کشمیر کے عوام حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہیں باشعور کارکن ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ بندوق کی طاقت سے نہیں لڑ سکتے۔ یہاں آج بھی ہزاروں لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ سہیل آفریدی یا کوئی اور شخص پچاس ساٹھ ہزار نہتے لوگ ساتھ لیکر مسلح اور ظالم فوج سے لڑ سکتا ہے۔
رابطہ کمیٹی والا کام تحریک انصاف کرسکتی ہے۔ لوگوں کو شہید کروانےاور منتشر ہونے کی بجائے وقتی پسپائی اختیار کرلی جائے اور پھر اکٹھے ہوجائیں۔ ایک جگہ آپریشن شروع ہو تو وہاں سے واپس لوٹ جائیں۔ رابطہ کمیٹی کے پاس صرف راولا کوٹ ہے۔ تحریک انصاف کے پاس پشاور ، سوات ، خیبر ، لکی بہت سارے لانچنگ پیڈز ہیں۔
اسکے علاوہ پھر آپشن یہ ہے کہ لانگ مارچ صوابی سے اٹک داخل ہونے کی کوشش کرے۔ آگے فوج شیلنگ کرے ، کچھ لوگوں کو شہید کردے اور پھر لانگ مارچ منتشر ہوکر ختم ہوجائے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ لانگ مارچ پختونخواہ کی حدود کے اندر سڑکیں بند کرکے بیٹھ جائے۔ پنجاب سے رابطہ سڑکیں بلاک کردے تاوقتیکہ کہ نہایت بنیادی مطالبات یعنی عمران خان سے ملاقاتیں ، بزرگ کارکنان ، اراکین اسمبلی اور عمران خان کی بہنوں کی رہائی نہ ہوجائے۔ دوسرا آپشن قدرے زیادہ محفوظ ہے۔ لیکن اس میں بھی فوج وہی آپشن استعمال کرسکتی ہے جو فوج نے کشمیر ، مریدکے یا پھر ڈی چوک میں کیا۔ یعنی شیلنگ ، فائرنگ اور قتل عام۔یہاں ایک اور مسئلہ بلکہ شاید سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سب سے بڑے صوبے میں کسی بھی قسم کی تحریک کا وجود نہیں ہے۔ جب تک ہر جگہ سے لوگ نہیں اٹھیں گے کچھ بھی فیصلہ کن نہیں ہوگا۔
باقی صورتحال وہی ہے۔ فوج پر عوامی ، ملکی ، بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ فوج ہر گزرتے دن کسی نئی مصیبت میں پھنستی ہے اور نئے طریقے سے ذلیل ہوتی ہے۔ لانگ مارچ فوج کے لیے درد سر بنا ہوا ہے اور فوج جلد از جلد اس پر کریک ڈاون کرکے اسے ختم کرنا چاہتی ہے۔ لیکن تحریک انصاف پچھلے تین ہفتوں سے لگاتار لانگ مارچ کو یا اسکی خبر کو جاری رکھے ہوئے ہے اور ابھی تک اسے فوج کی زد سے بچا کر رکھا گیا ہے۔ جتنا اسے کسی آپریشن سے یا کسی انجام سے بچا کر رکھا جائے گا یہ اپنا دباؤ برقرار رکھے گا اور فوج کے اعصاب کو بالآخر چٹخا دے گا۔
ثاقب چڈھڑ سے لوٹ مار مچانے کے بعد اب پاکستانی ٹی وی اداکارہ مومنہ اقبال نے وی لاگنگ شروع کر دی ہے ۔۔
خیر سے فضاعلی سے بھی زیادہ پرجوش لگ رہی ہیں ۔۔ باقی سب چھوڑیں محترمہ کے چونچلے چیک کریں ۔۔
شرمانا چیک کریں ادائیں چیک کریں ۔۔۔
لگتا ہے یہ خصوصی وی لاگ ثاقب چڈھر کیلے فلماۓ گئے ہیں۔۔
🚨عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کی بیرک میں رات گئے مبینہ طور پر قوم لوط والی حرکات ہوتی ہے، دونون رہنماؤں نے جیل سپریڈنٹ کو متعدد بار آگاہ کیا
صحافی شاکر اعوان پٹواری قوم لوط تو کیا عذاب نازل کیوں نہیں ہونگے🤕🤨
11 نہیںں بلکہ 13 اکتوبر کا صوابی طے کرے گا کہ پاکستان کا مستقبل کیا ہے۔ اگر سہیل آفریدی کوئی ٹھوس جارحانہ مگر عملی لائحہ عمل دینے میں کامیاب رہے تو تمام سازشوں کو زبردست جھٹکا لگے گا۔ اگر پھر مزید کوئی تاریخ دی گئی تو یہ لانگ مارچ اور خان کی رہائی دونوں کیلئے تباہ کن ہونگے
امید کرتا ھوں آج سہیل آفریدی نے پی ٹئ آئی رھنماوں کو خاموش کروا دیا ھو گا ۔۔خان سے ملاقات کے بغیر کوی معاہدہ قبول نہیں ۔۔صرف اور صرف اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کے پاس مزاکرات کرنے یا نا کرنے کا اختیار ھے