“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
آپ کو بتایا جاتا ہے کہ وہاں فیملی سسٹم تباہ ہوچکا ، وہاں باڈی کاونٹ درجنوں میں چلتا ہے ، وہاں لڑکیاں لڑکے ہر وقت نشے کرکے دنیا و ما فیہا سے بے خبر پڑے رہتے ہیں ، وہاں بڈھوں کو اولڈ ہومز میں چھوڑ آتے ہیں ، اولاد کو پتہ ہی نہیں وہ کس کس باپ میں سے ہیں ، والدین کو اولاد کی پرواہ نہیں۔ آپ نے مغرب سے متعلق سب ایسا ہی سنا ہ�� نا؟
آپ نے جو سنا ہے وہ سب بکواس ہے۔ مڈل کلاس آدمی ہفتے میں بس پانچ دن آٹھ گھنٹے کام کرتا ہے۔ سردیاں ہیں تو گھروں میں ہیٹ ہر وقت آن رہتی ہے۔ زیادہ تر مغربی ممالک میں ایک دن کی آمدن سے دس کلو کا آٹے کا تھیلا ، تین چار کلو گوشت ، چار پانچ بوتلیں دودھ ، دس بیس ڈائپرز ، گاڑی میں دس لیٹر تیل ، سبزیاں ، فروٹ کچھ ہلکی پھلکی گروسری سب آجاتا ہے۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ ایک دن کی آمدن سے پانچ چھ دن کا کھانا پینا کام پر جانا آنا سب ہوجاتا ہے۔ اور ابھی نسبتا بہت مہنگائی ہے۔ آپ کے ہاں مزدور کی دیہاڑی میں سے آدھ کلو بکرے کا گوشت نہیں آتا۔ بلکہ یہاں سکلڈ لیبر عام فیکٹری ، سٹور یا کسی چھوٹے موٹے دفتر کے ورکر سے زیادہ پیسے کماتے ہیں۔
یہاں پولیس سے ڈر نہیں لگتا ، بلکہ برطانیہ وغیرہ میں تو پولیس کو ہتھ چھٹ لونڈوں سے ڈر لگتا ہے۔ امریکہ میں بہرحال پولیس طاقتور ہے۔ عدالت ، پٹواری ، یونین کونسل ، ان کا کبھی منہ نہیں دیکھنا پڑتا آن لائن ہر چیز مینج ہوجاتی ہے۔ اگر آپ کام کاج نہیں کرسکتے خدانخواستہ کسی بیماری یا معذوری کا شکار ہوگئے تو حکومت آپ کے سر پر آکر کھڑی ہوجاتی ہے۔ علاج معالجہ تعلیم سب مف�� ہے۔ سکولوں میں سب بچوں کو کھانا ملتا ہے۔ ہر پروفیشن، ہر ورک پلیس ہر چیز کے لائبل لاز ہیں ۔ جہاں کسی کی غفلت سے آپ کا نقصان ہوگا آپ کو معاوضہ ملے گا۔ یہاں پیٹ چیرا بچہ باہر بھی نہیں ہوتا۔ خیر آگے چلیں۔
ہفتے میں دو دفعہ کچرا اٹھایا جاتا ہے ، ہر اشارے پر سگنلز ہیں ، جگہ جگہ پارکس ہیں ، وہاں گھاس کٹی ہوئی ملتی ہے ، درخت تراشے ہوئے ملتے ہیں۔ بڑے شہروں میں پانچ پانچ منٹ کی واک پر میٹرو ، ٹیوب یا سب وے ہیں۔ چھوٹے شہروں میں دس دس منٹ کے واک کے اندر بس سٹاپ ہیں۔ پندرہ بیس سال پرانی گاڑی دو ہفتے کی آمدن سے آجاتی ہے۔ وہی وہی چھ سات آٹھ ماڈل جاپانی گاڑیاں جو آپ تیس تیس لاکھ میں لیتے ہیں۔ جم ہیں ، سپورٹس گراونڈز ہیں ، نوکریوں کے مواقع ہیں۔ سسٹم ہے۔
آپ کا بھی قصور نہیں ہے۔ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ زندگی کیا ہے۔ آپ یہ سوچ ہی ��ہیں پاتے کہ آپ کو ذلیل کرنے والے حکمرانوں کو آپ سے خوفزدہ ہونا ہے۔ آپ کے دماغ میں یہ بات نہیں آتی کہ اگر آپ کے لیے یہ ملک اور اسکی حکومتیں بہترین تعلیم ، بہترین صحت کی سہولیات ، گالف کلب ، سوئمنگ پولز پیدا نہیں کرسکتے تو آپ کے ٹیکس کے پیسوں سے انہیں یہ سب عیاشیاں لینے کا کوئی حق نہیں۔
آپ کو صبر شکر کا سبق تو پڑھا دیا گیا ہے۔ لیکن آپ کو یہ نہیں بتایا گیا کہ صبر اور شکر اللہ کی طرف سے آئی آزمائش پر یا مشکل پر کرنا ہے۔ کسی انسان یا کسی خدا بنے فرعون کی طرف سے آزمائش آئے تو اس شخص کو ادھیڑ کر رکھ دینا ہے۔ آپ اسلام کے قلعے کا چورن منہ میں ڈالے بیٹھے ہیں۔ آپ جیسے ستاون مزید اسلامی ممالک کے بچوں کو بھی یہی والی پڑیا دی جاتی ہے۔ آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ جغرافیائی طور پر بڑا اہم ملک ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ مطالعہ سوڈان یا مطالعہ چاڈ میں یہ لکھا ہوگا کہ سوڈان لٹ گیا چاڈ برباد برباد ہوگیا مر گیا؟ نہیں ، یہی والی پھکی جو آپ روز کھاتے ہیں۔
ملک پہاڑوں کی اونچائیوں یا دریاؤں کی لمبائیوں سے نہیں بنتے۔ ملک رقبے کے اعتبار اور آبادی کے اعتبار کے پیمانوں پر بھی نہیں چلتے۔ ملک نظام بناتے ہیں، ملک عوام بناتے ہیں ، ملکی کی ترقیوں کے پیمانے وہاں کے شہریوں کی حالت زار ہوتی ہے۔ انکو ملنے والی سہولیات ہوتی ہیں۔ انکا لائف سٹائل ہوتا ہے۔ آپ دنیا کے ایک برباد ہوتے ملک میں ، نہایت بدترین حالات میں ، بغیر کسی سسٹم کے اپنے کٹے ہوئے دھڑوں کیساتھ زندگیاں گھسیٹ رہے ہیں۔ اپنے لیے اپنی حالات پر رحم کریں ورنہ ہر گزرتا دن آپ کے لیے اذیت اور مصیبت کا باعث ہوگا۔
سہیل آفریدی کا چہرہ دیکھا ؟ جس وقت وہ جلسے میں تقریر کرتے ہوئے کہہ رہا تھا نام ہے عمران احمد خان نیازی۔ نہیں تم نے نہیں دیکھا۔ اگر تم وہ دیکھ لیتے تو اسکی تاب نہ لاتے ہوئے مر جاتے۔ غصہ اسکی آنکھوں سے ابل رہا تھا۔ اس کا چہرہ اسکے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے سرخ تھا۔ کیا اسکی یہ حالت تمہارے خوف سے تھی؟ نہیں یہ صاف صاف تمہاری نفرت تھی۔ لیکن افسوس تم چہرے نہیں پڑھ سکتے۔ تم جذبات نہیں پرکھ سکتے۔
عمران خان نے سرخ آنکھوں والے ، کالے بالوں والے ، تیس چالیس سال کے نوجوان تمہارے سامنے لاکھڑے کیے ہیں۔ تم نے یقیننا سہیل آفریدی کے پیچھے کھڑے لوگ بھی نہیں دیکھے۔ کبھی دیکھنا۔ کالے سر اور نوجوان۔ جلسے کی ویڈیوز اور تصاویر دیکھنا۔ جتنے سر دیکھو گے کالے سر دیکھو گے۔ یہ کالے سر تمہاری موت کا پیغام ہیں۔ ��عنی تم نے اس نسل سے جنگ چھیڑ لی ہے جو جس وقت تمہاری عمر کو پہنچے گی تو اس وقت تک تمہاری ہڈیوں کا چورہ بن گیا ہوگا۔ تم نے جن اپاہجوں پر جواء لگایا وہ خود تمہاری بیساکھیاں تھامے کھڑے ہیں۔ جن سے تم نے دشمنی لگالی ہے وہ تم سے آدھی عمر کے۔
آج سے بیس سال بعد عاصم منیر، نواز شریف ، آصف زرداری ، عاصم ملک ، ندیم ��نجم یہ سب یا تو مر چکے ہوں گے یا پھر کسی ہسپتال کے کمرے میں بے سدھ پڑے ہوں گے۔ لیکن عمران خان کے مراد سعید ، سہیل خان ، عمران خان کے کالے سروں والے وارث ابھی ساٹھ کے بھی نہیں ہوئے ہوں گے۔ ہک ہا کیسی بدترین شکست کا سامنا کرے گی یہ فوج۔ کیسے تار تار ہوں گے یہ چھوٹے چھوٹے فرعون۔ کس قدر نفرت ، کس قدر تضحیک۔ ہائے ہائے وحشت۔
اتنے طاقتور بنو کہ دشمن تمہارے ٹویٹ کرنے سے ڈریں
اتنے طاقتور بنو کہ دشمن تمہیں جیل میں ڈال کر تمہاری ملاقات کروانے سے ڈریں
اتنے طاقتور بنو کہ دشمن تمہیں عدالتوں میں پیش کرنے سے ڈریں
اتنے طاقتور بنو کہ دشمن تمہاری تصویر کو میڈیا پر چلانے سے ڈریں
اتنے طاقتور بنو کہ دشمن تمہارا نام لینے پر پابندی لگا دیں
اتنے طاقتور بنو کہ تمہیں قابو کرنے کیلئے دشمن سارے ملک کا آئین ہی بدل ڈالیں لیکن تم پھر بھی قابو نہ آسکو
نام ہی کافی ہے عمران احمد خان نیازی
“I am deeply saddened to hear about the passing of Lady Annabel Goldsmith. My family shared this heartbreaking news with me today while I am in prison.
Annabel was a wonderful grandmother to my sons and an exceptionally kind and compassionate person. During my visits to London, I would stay with her along with my sons. She became like a mother to me, especially after losing my own mother in 1985.
Her passing is a profound loss. My heartfelt thoughts are with all her children and grandchildren. She will be dearly missed by all of us. If I were not in prison, I would have attended her funeral along with my sons, Sulaiman and Kasim”
Illegaly incarcerated Imran Khan's message from Adiala Jail (October 21, 2025)
فیلڈ مارشل صاحب ٹک ٹک ٹک ٹک ۔۔۔۔
سیاق و سباق کو چھوڑیے۔ جس روز آپ تشریف لائے اس روز صحافی ٹھنڈی ٹھار دلبہار کھوئے ملائی والی ہوائیں چل�� رہے تھے۔ تمام برائیوں کا ملبہ قمر جاوید باجوہ پر ڈالا جا چکا تھا۔ لوگوں کو امید تھی کہ نیا آنے والا بندہ قمر جاوید باجوہ کا گند اٹھانے سے انکار کردے گا۔ تحریک انصاف کے اندر بھی شاید یہی سوچ پائی جاتی تھی۔ اگرچہ آپ کا دورہ ایران والا کرتب ، آپ کا ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا جانا ، آپ کی شریف خاندان سے قربت یہ سب بہت سارے لوگوں کو معلوم تھی لیکن بہرحال آپ کا کوئی نا کوئی مثبت امیج ضرور تھا۔ عوامی نفرت بلکہ اس وقت نفرت کم تنقید زیادہ تھی اس کا رخ بھی مخصوص جرنیلی ٹولے کی جانب زیادہ تھا آپکے محکمے کی جانب کم تھا۔
فیلڈ مارشل صاحب ، آپ نے تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کروائی۔ پھر آپ نے تحریک انصاف کو اسمبلیاں تحلیل کرنے سے روکا۔ لیکن آپ کی پیش نہیں چلی۔ اندازہ ہونا شروع ہوگیا کہ آپکی ترجیحات بھی خالصتا سیاسی ہیں۔ پھر آپ پر کیچڑ کے کچھ مزید چھینٹے گرے جب آپ نے اپنے سالے کو نگران وزیراعلی پنجاب بنوا دیا۔آپ کے سالے کی نگرانی میں زمان پارک پر حملے ہوتے رہے۔ آپ عمران خان پر مقدمات بنواتے رہے۔ آپ کا دامن کانٹوں سے بھرنا شروع ہوگیا۔ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد آپ نے الیکشن ملتوی کروا کے کچھ تنقید سمیٹی۔ اس تنقید میں آپ کی سیاسی کٹھ پتلیاں بھی آپکی حصے دار تھیں۔
پھر آپ نے نو مئی کو عمران خان کو احاطہ عدالت سے گرفتار کروایا اسکے بعد آپ ننگے ہوکر سامنے آئے۔ آپ کا دامن کیچڑ یا کانٹوں کی بجائے خون کے چھینٹوں سے بھرنا شروع ہوگیا۔ آپ نے تنقید کی بجائے نفرت سے جھولیاں بھرنا شروع کردیں۔ ہر گزرتا دن آپ کو داغدار کرتا چلا گیا۔ ہزاروں لوگوں کے گھر توڑے گئے ا، انہیں گرفتار کیا گیا۔ سیاستدانوں کو ��ہنوں بیٹیوں اور نابالغ بچوں کے نام پر بلیک میل کیا گیا ، صحافی لاپتہ کردیے گئے، یہ آپ کے جبر کی اور طاقت کی انتہاء تھی۔ آپ کا خیال تھا آپ کا یہ وار آپ کے لیے سب اچھا کردے گا۔ بہت کچھ ہوا۔ آپ کا اچھا کچھ نہ ہوا۔
پھر تو آپ کی تنزلی کو پہیے لگ گئے۔ ایس آئی ایف سی بنائی وہ ناکام، ریڈ لائن لگائی وہ ناکام ، تحریک انصاف کو ختم کرنے کا منصوبہ ناکام ، عمران خان کو جیل میں ڈال کر توڑنے کا منصوبہ ناکام ، تحریک انصاف کو عدالتوں سے کنٹرول کرنے کا منصوبہ ناکام۔ آپ ناکامیاں سمیٹتے چلے گئے۔ آپ اور آپ کا محکمہ نفرت کا نشان بنتا چلا گیا۔ آٹھ فروری ، چھبیس نومبر ، سانحہ مریدکے ، اسرائیل سےقربت ، معاشی ناکامیاں ، سفارتی ناکامیاں ، سیاسی ناکامیاں آپ کر ہر طرف سے منہ کی کھانی پڑی۔
فیلڈ مارشل صاحب آپ جس جگہ نومبر 2022 کو کھڑے تھے یا آٹھ مئی 2023 تک کھڑے تھے آپ اور آپ کا محکمہ اس سے بہت نیچے گر چکا ہے۔ آپ کی مقبولیت صفر ہوچکی ہے۔ آپ نفرت کا نشان بن چکے ہیں۔ ہر گزرتا دن آپ کے لیے نئے مسائل لیکر آتا ہے۔ آپکی ہر نئی مس مینجمنٹ آپ کی نفرت کا پیمانہ مزید بلند کردیتی ہے۔ ہر گزرتا دن آپ کے بوجھ میں اضافہ کررہا ہے۔ آپ ک�� ہاتھوں سے ریت پھسل رہی ہے۔ وقت کی ریت۔ گرفت کی ریت۔ خوف سے دبانے کی ریت۔ آپ کی گھڑی پہلے دن سے ٹک ٹک ٹک آپ کے اقتدار کے باقی رہتے وقت کو گن رہی ہے۔
فیلڈ مارشل صاحب ، اگر شرم آپ کو نہیں آتی تو جلدی ہمیں بھی کچھ خاص نہیں۔ آپ کی حرکتوں کا یہی تسلسل آپ کا بوجھ ایک دن اتنا زیادہ کردے گا کہ آپ اسے اٹھا نہ پائیں گے۔ آپ کو ضیاء الحق بننا ہے۔ آپ کو مشرف کے انجام سے دوچار ہونا ہے۔ آپ کو آصف نواز ، کاکڑ ، کیانی ، راحیل شریف ��ننا ہے۔ آپ نے ایک دن یہاں سے چلے جانا ہے۔ آپ رفتہ رفتہ رفتہ کمزور سے کمزور ہوتے چلے جارہے ہیں۔
فیلڈ مارشل صاحب آپ جیت نہیں سکتے۔ ہم ہار نہیں سکتے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
- 15 اکتوبر 2025
“ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز سے ثابت ہے۔
مجھے اس بات کی بھی بہت تکلیف اور افسوس ہے کہ قتلِ عام کے جتنے بھی واقعات ہوئے نہ ہی ان پر کوئی جوڈیشل کمیشن بنا نہ ہی انکوائری ہوئی اور نہ ہی ذمہ داران کو سزا سنائی گئی۔ میں چاہتا ہوں کہ مریدکے قتلِ عام پر جوڈیشل کمیشن بنا کر آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں تعداد کے حوالے سے شدید ابہام پایا جاتا ہے جیسا کہ مریدکے واقعے میں سرکاری اطلاعات کے مطابق 4 مظاہرین جان سے گئے جبکہ متاثرہ فریق کے ��طابق حقیقی تعداد 400 سے 600 تک ہے۔
قتلِ عام کی جوڈیشل انکوائری میں ظلِ شاہ کے قتل میں ملوث آئی جی پنجاب عثمان انور سمیت آئی جی اسلام آباد ناصر رضوی کو ضرور شاملِ تحقیقات کیا جائے کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں یہ بھی حصے دار ہیں۔
میں تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں ہمارے کارکنان اور عوام بعد از نمازِ جمعہ مریدکے قتلِ عام کیخلاف احتجاجاً نکلیں۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اس بربریت کیخلاف آواز اٹھائیں اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں۔ اس ظلم اور بربریت کا راستہ نہ روکا گیا تو باری باری سب اس کی زد میں آئیں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی باعثِ تشویش ہے۔ دو مسلم ہمسایہ ممالک کے درمیان لڑائی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کو لڑائی کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا بہتر ہے۔ جس طرح یہاں تین نسلوں سے مقیم افغان پناہ گزینوں کو دہائیوں کی مہمان نوازی کے بعد دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا ہے، وہ بھی افسوسناک ہے۔ افغانستان ہمارا مسلم ہمسایہ ملک ہے۔ دہشتگردی سے متعلق معاملات بات چیت سے حل کیے جائیں۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ ڈکٹیٹرز کبھی بھی امن نہیں لاسکتے- کیونکہ ملٹری ڈکٹیٹرز کو Military Solution کے علاوہ کوئی حل نظر نہیں آتا- یحیٰی خان سمیت تمام ڈکٹیٹرز کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں- یہ معاملات سیاستدان معاملہ فہمی سے حل کرتے ہیں۔ اگر ان سے نہیں ہوتا تو مجھے پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ دیرپا امن کے قیام اور افغانستان سے تنازعے کے حل کے لیے میں اپنا کردار ادا کروں۔
ملکی حالات سے مایوس ہو کر پہلے ہی تیس لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ملک سے تیزی سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا انخلاء جاری ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری آنا تو دور کی بات ملک کے اندر سے بھی سرمایہ تیزی سے باہر جا رہا ہے۔ جب تک ملک میں امن نہیں ہوگا سیاسی استحکام نہیں آسکتا۔ اور سیاسی استحکام کی عدم موجودگی میں معاشی استحکام ممکن نہیں-
ملک میں لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنے ملک میں رہتے ہوئے ہی غیر محفوظ ہیں۔ کسی کو یہ نہیں پتہ کون کب سڑک پر مارا جائے یا اٹھا لیا جائے۔ آزادی اظہار پر شدید ق��غن ہے، میڈیا کو بولنے کی آزادی نہیں، جس طرح علیمہ خان پر بےجا مقدمہ بنایا گیا ایسا کسی کے بھی ساتھ ہوسکتا ہے۔”
#حق_کی_جیت_ہو_گی
"ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز سے ثابت ہے۔
مجھے اس بات کی بھی بہت تکلیف اور افسوس ہے کہ قتلِ عام کے جتنے بھی واقعات ہوئے نہ ہی ان پر کوئی جوڈیشل کمیشن بنا نہ ہی انکوائری ہوئی اور نہ ہی ذمہ داران کو سزا سنائی گئی۔ میں چاہتا ہوں کہ مریدکے قتلِ عام پر جوڈیشل کمیشن بنا کر آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں تعداد کے حوالے سے شدید ابہام پایا جاتا ہے جیسا کہ مریدکے واقعے میں سرکاری اطلاعات کے مطابق 4 مظاہرین جان سے گئے جبکہ متاثرہ فریق کے مطابق حقیقی تعداد 400 سے 600 تک ہے۔
قتلِ عام کی جوڈیشل انکوائری میں ظلِ شاہ کے قتل میں ملوث آئی جی پنجاب عثمان انور سمیت آئی جی اسلام آباد ناصر رضوی کو ضرور شاملِ تحقیقات کیا جائے کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں یہ بھی حصے دار ہیں۔
میں تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں ہمارے کارکنان اور عوام بعد از نمازِ جمعہ مریدکے قتلِ عام کیخلاف احتجاجاً نکلیں۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اس بربریت کیخلاف آواز اٹھائیں اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں۔ اس ظلم اور بربریت کا راستہ نہ روکا گیا تو باری باری سب اس کی زد میں آئیں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی باعثِ تشویش ہے۔ دو مسلم ہمسایہ ممالک کے درمیان لڑائی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کو لڑائی کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا بہتر ہے۔ جس طرح یہاں تین نسلوں سے مقیم افغان پناہ گزینوں کو دہائیوں کی مہمان نوازی کے بعد دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا ہے، وہ بھی افسوسناک ہے۔ افغانستان ہمارا مسلم ہمسایہ ملک ہے۔ دہشتگردی سے متعلق معاملات بات چیت سے حل کیے جائیں۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ ڈکٹیٹرز کبھی بھی امن نہیں لاسکتے- کیونکہ ملٹری ڈکٹیٹرز کو Military Solution کے علاوہ کوئی حل نظر نہیں آتا- یحیٰی خان سمیت تمام ڈکٹیٹرز کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں- یہ معاملات سیاستدان معاملہ فہمی سے حل کرتے ہیں۔ اگر ان سے نہیں ہوتا تو مجھے پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ دیرپا امن کے قیام اور افغانستان سے تنازعے کے حل کے لیے میں اپنا کردار ادا کروں۔
ملکی حالات سے مایوس ہو کر پہلے ہی تیس لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ملک سے تیزی سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا انخلاء جاری ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری آنا تو دور کی بات ملک کے اندر سے بھی سرمایہ تیزی سے باہر جا رہا ہے۔ جب تک ملک میں امن نہیں ہوگا سیاسی استحکام نہیں آسکتا۔ اور سیاسی استحکام کی عدم موجودگی میں معاشی استح��ام ممکن نہیں-
ملک میں لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنے ملک میں رہتے ہوئے ہی غیر محفوظ ہیں۔ کسی کو یہ نہیں پتہ کون کب سڑک پر مارا جائے یا اٹھا لیا جائے۔ آزادی اظہار پر شدید قدغن ہے، میڈیا کو بولنے کی آزادی نہیں، جس طرح علیمہ خان پر بےجا مقدمہ بنایا گیا ایسا کسی کے بھی ساتھ ہوسکتا ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(15 اکتوبر، 2025)
"خیبر پختونخوا حکومت میں تبدیلی کا عمل احسن طریقے سے مکمل ہونے پر اپنے تمام ممبران اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خیبرپختونخوا کے اراکین نے جس طرح نظرئیے پر ڈٹ کر، بنا کسی اگر مگر کے میرے نامزد کردہ وزیر اعلیٰ کو ووٹ دئیے ہیں، وہ قابلِ ستائش ہے۔ میں علی امین گنڈاپور کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بغیر کسی تردد کے ایک نہیں تین مرتبہ استعفیٰ دیا۔ یہ ہموار ٹرانزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے نظرئیے کا بول بالا ہے۔
سہیل آفریدی کو خصوصی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ میرا اوپننگ بیٹسمین ہے لہٰذا اسے کھل کر کھیلنا چاہیئے۔
پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس سے منسلک لوگوں کو صرف اس لیے غدار کہہ دینا کہ وہ کسی پالیسی سے متفق نہیں انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اس بنیاد پر غداری کے سر��یفیکیٹ بانٹنے اور ریاست مخالفت کا لیبل لگانے والوں کی دکان بند ہونی چاہیے۔
بطور سیاستدان ایسی کسی بھی پالیسی پر تنقید کرنا میرا حق ہے جو عوام کے مفاد ، ملکی سالمیت اور جمہوریت کے خلاف ہو۔ ایسی ہر پالیسی کی مخالفت کی ہے اور کرتا رہوں گا جو ملکی مفاد کے خلاف ہو۔خیبرپختونخوا میں عوام ��ے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے اور ہم ڈی جی آئی ایس پی آر کو نہیں خیبرپختونخوا کی عوام کو جوابدہ ہیں۔ اس لیے ہم پاکستان اور صوبے کی عوام کے مفاد کے خلاف کبھی نہیں جائیں گے۔
میری فوج سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ فوج بھی میری ہے، ملک بھی میرا ہے اور عوام بھی میری ہے۔ میرے اپنے خاندان کے کئی لوگ فوج سے تعلق رکھتے ہیں- 1965 کی جنگ میں ہمارے زمان پارک کے 8 میں سے 7 گھروں سے میرے خاندان کے لوگ فوج میں تھے اور ملک کا دفاع کر رہے تھے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب دہشتگردی کی جنگ میں فوج کے سپاہیوں کا خون بہتا ہے مگر اس کے باوجود بد امنی قائم رہتی ہے اور دونوں طرف ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں۔
تاریخ سے ثاب�� ہے کہ صرف ملٹری آپریشنز دہشتگردی کا حل نہیں ہیں۔ ہمارا اصولی موقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ اس میں “کولیٹرل ڈیمج” کے نام پر معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں، اور وہ اپنے علاقوں سے دربدر ہوتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے بڑے بڑے آپریشن کر کے دہشتگردی ختم کرنے کی کوشش میں ہیں مگر یہ ناسور ختم نہیں ہو رہا۔ ہر سال بہت سا قیمتی خون بہہ رہا ہے، کبھی فوج اور پولیس فورسز کے اہلکاروں کی شہادتیں ہوتی ہیں تو کبھی معصوم شہری دہشتگردی کے واقعات میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ہمیشہ کہا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے بند کمروں کے فیصلوں کی بجائے ایک موثر، سیاسی بصیرت پر مبنی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سیاسی نمائندوں اور خیبرپختونخوا حکومت کی موجودگی اور مشاورت کے بغیر بنائی گئی کوئی بھی پالیسی قابل قبول نہیں۔ دہشتگردی کے خلاف پالیسی بناتے ہوئے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے بات کی جائے چاہے وہ مقامی قبائل ہوں یا خیبرپختونخوا حکومت، وفاقی حکومت یا افغان حکومت۔ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے بغیر دہشتگردی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت ��رتا ہوں کہ دہشتگردی کے خلاف تمام فریقین کے ساتھ بات کر کے موثر اور جامع حکمت عملی بنائیں تاکہ صوبے میں موثر اور دیرپا امن قائم ہو اور نتیجتاً معیشت بحال ہو۔
ہر جمہوری معاشرے میں عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہوتا ہے۔ نہتے لوگوں پر تشدد کرنا اور سیدھی گولیاں چلانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ تحریک لبیک کے ساتھ جو ظلم ہوا، تحریک انصاف تین سال سے یہی ظلم برداشت کر رہی ہے۔ 26 نومبر کو ڈی چوک میں بھی ایسے ہی خون کی ہولی کھیلی گئی جب ہمارے نہتے کارکنان پر سنائپرز سے گولیاں چلوائی گئیں۔ میں مریدکے سانحے میں بیہمانہ تشدد اور نہتی عوام کو گولیاں مارنے کی پر زور مذمت کرتا ہوں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (14 اکتوبر، 2025)
بلآخر آج فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر ��ے اقبال جرم کر لیا کہ پختونخواہ میں جان بوجھ کر دہشت گردوں کو جگہ دی گئی۔ اس اقبالی بیان کے بعد فوج کی موجودہ اور سابق قیادت بشمول پروپیگنڈا سیل آئی ایس پی آر کو ہمارے ہر شہری اور جوان کی شہادت کی وجہ بننے پر سخت سے سخت سزا دینی چاہئے۔
اکتوبر ۲۰۲۱ میں فوجی قیادت کی جانب سے بہت کوشش کی گئی کہ اپنے پیش کیے، مذاکرات کے نام پر آبادکاری کے منصوبے کی منظوری لی جائے اور نئی جنگ کی خواہش کا سارا ملبہ عمران خان پر ڈال دیا جائے لیکن ہم نے دلائل سے بات کی اور وزیراعظم نے آپ کا منصوبہ مسترد کردیا۔
رجیم چینج کے اگلے مہینے پی ڈی ایم کو اس منصوبے پر بریفنگ دی گئی، وینٹی لیٹرحکومت کی بحث کی مجال۔ حکومتی وزراء بشمول وزیر داخلہ نے باہر آ کر اس منصوبے کے حق میں ٹویٹس کیے، بیانات دیے اور عسکری سرپرستی میں افغانستان وفد بھیجا گیا۔
⁃وفد کی خبر ملتے ہی پانچ سوال کیے کہ ۸۰ شہدا کی قربانی دینے کے بعد پھر کیوں امن برباد کر رہے ہیں؟ کس مینڈیٹ کے تحت اس وفد کو بھیجا گیا کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ وغیرہ۔
⁃اگست ۲۰۲۲ میں افغانستان سے ان کو لانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے میں آواز اٹھاتا ہوں، ڈی جے صاحب آپ کا ہی ادارہ فون کرکے کہتا ہے ”stay out of it“ جواب دیا کہ ۸۰ ہزار شہدا کے بعد اپنا امن تباہ نہی�� ہونے دوں گا۔آج جس طرح انسانی جانوں پر آپ بیانیہ بنا رہے تھے بالکل اسی طرح آپ کے ادارے نے پریس ریلیز جاری کی کہ دہشت گردی کی واپسی کی خبر جھوٹ ہے، وزیر داخلہ نے بھی اس کو پروپیگنڈا قرار دیا۔
⁃میں نے عوامی تحریک چلائی، مجھے آپ ہی کے ادارے نے فون کیا کہ ۴۸ گھنٹے دیجئے واپس چلے جا��یں گے اور حیران کن طور پر آپ کے زیر سایہ وہ سوات سے نکل گئے۔
⁃دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تھے کہ میں نے پھر احتجاج کی کال دی پھر آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کا فون آیا کہ سوات سے نکل تو گئے ہیں اب ملک کے ٹھیکدار تو نہ بنو۔لیکن میں امن کا ٹھیکدار بنا اور آخری بندہ نکالنے تک سڑکوں پر رہا۔ امن قائم ہوگیا میری زندگی عذاب بنا دی گئی، یہ بھی تفصیلاً بتا چکا ہوں۔
⁃پھر دوبارہ کوشش کی گئی اور اس دفعہ ساتھ ہی ان کو پھیلایا بھی جانے لگا، جیسے آج ہو رہا ہے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی ایس پی آر اکٹھے مجھے ریاست دشمن قرار دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔
⁃طالبان غصہ آپ غص��۔۔ وہ اس لیے غصہ کہ آپ نے ان کو لانے اور آباد کرنے کا وعدہ کر رکھا تھا۔ آپ اس لیے غصہ کہ ریاست تو ہم ہیں، ہم نے نئی جنگ کا فیصلہ کیا ہے تو یہ کون ہے راستے میں رکاوٹ بننے والا؟ منت کی جھولی پھیلا کر التجا کی کہ نہ کریں یہ، ہمارے اپنے لوگ اس کا ایندھن بنیں گے ہمارے جوان شہید ہوں گے لیکن ”آپ” نہیں مانے۔۔!
⁃پھر ہم نے پنڈی میں مظاہرے کی کال دی اور وہ دیکھتے ہی آپ نے ان کو گاڑیوں میں بٹھا کر واپس بھجوایا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس دفعہ لائیں گے لیکن پہلے آپ کو ٹھکانے لگائیں گے۔ اسی عزم کا اظہار آپ کے بھائیوں نے بھی کیا کہ برف پگھلے گی تو آئیں گے اور پہلے آپ کا بندوبست کریں گے۔ ۲۴ اپریل ۲۰۲۳ کو سوات سی سی ڈی تھانے پر حملہ کرنے والے اسی مقصد سے آئے تھے، میں نہیں ملا تو تھانے پر حملہ کردیا۔
⁃واضح تھا کہ اب جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے گا لہذا میں نے وہاں امن تحریک کی کال دی اور اس کے اگلے ہی روز مجھے زندہ یا مردہ پکڑنے کا حکم صادر ہوا،تب تک ۹ مئی کا فالس فلیگ نہیں ہوا تھا تو آپ کو میں کس جرم میں مطلوب تھا؟
⁃نگران حکومت میں جنوبی اضلاع سے ان کو آباد کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ان کو مقامی آبادی کے بیچوں بیچ لا کر بسایا گیا۔
⁃ابھی سیلاب کے دنوں میں جب قوم سیلاب سے نمٹنے میں مصروف تھی ان کو باجوڑ سے کاٹلنگ اور دیر سوات کے پہاڑوں پر پہنچانے کا بھی کام بخوبی نبھایا جا رہا تھا۔آئی ایس آئی مقامی انتظامیہ کو ان کے روٹس بتا کر اس رات اپنے دفتر یا پولیس اسٹیشن کی لائٹس بند کرکے نہ نکلنے کا حکم دیتی رہی۔
تفصیلات بہت ہیں کیا کیا ب��اؤں آپ کی آج کی حواس باختہ گفتگو سے بیرونی طاقتوں سے کی گئیں کمٹمنٹس کا دباؤ اور طاقت کو طول دینے کے لیے ان کمیٹمنٹس کی جلد از جلد تکمیل کی جھنجھلاہٹ تو واضح ہے۔ پھر تم جنازوں پر جذباتی بیانیے بناو، جھوٹ بولو، مگرمچھ کے آنسو بہاؤ مگر یہ میری قوم تمہاری حوس کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے تھک چکی ہے۔ یہ میرے لوگ تمہاری طاقت کو دوام دینے کے لیے بہت بلی چڑ چکے۔ میرے ہر پاکستانی شہری، ہر جوان کا خون تمہارے ہاتھوں پر ہے، مزید ہم غریبوں کے بچے تمہاری جنگوں کا ایندھن کیوں بنیں؟
جن قدموں سے لے کر آئے ہو، ان ہی پیروں واپس بھجوا دو۔ جیسے پھیلایا ہے ویسے سمیٹ بھی لو۔
بہت ہوگئی یہ اداکاریاں تمہاری ریاکاریاں!
“2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔
لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟”
ناحق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا جیل سے پیغام
(9 اکتوبر، 2025)
یہ معلومات واقعی بہت مفید ہے اور بہت سے لوگ اسے نہیں جانتے۔
ہر ٹائر کی رفتار کی حد ہوتی ہے اور اس کی ایک مدتِ معیاد بھی ہوتی ہے جو اس پر لکھی ہوتی ہے۔ یہ معلومات ٹائر کی دیوار پر درج ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر، اگر آپ کو ٹائر پر "1423" لکھا ہوا ملے، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ٹائر سال 2023 کے چودھویں ہفتے میں بنایا گیا ہے۔
ٹائر کی معیاد عام طور پر 2 سے 4 سال ہوتی ہے، اس کے بعد اسے تبدیل کر دینا چاہیے۔
ہر ٹائر کی رفتار کی ایک حد ہوتی ہے جو ایک حرف سے ظاہر ہوتی ہے:
حرف "L" کا مطلب ہے کہ ٹائر کی زیادہ سے زیادہ رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
حرف "M" کا مطلب ہے 130 کلومیٹر فی گھنٹہ۔
حرف "N" کا مطلب ہے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ۔
حرف "P" کا مطلب ہے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ۔
حرف "Q" کا مطلب ہے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ۔
حرف "R" کا مطلب ہے 170 کلومیٹر فی گھنٹہ۔
حرف "T" کا مطلب ہے 190 کلو میٹر فی گھنٹہ-
اور حرف "H" کا مطلب ہے کہ ٹائر 210 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار برداشت کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اکثر ٹائر تیز رفتاری کے دوران پھٹ جاتے ہیں، کیونکہ وہ مقررہ رفتار سے زیادہ دباؤ برداشت نہیں کر سکتے۔
لہٰذا، ہمیشہ اپنے ٹائر پر درج حرف چیک کریں اور رفتار کا خیال رکھیں تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس، عدالت میں تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ حالانکہ چند ہفتے قبل اس کیس کے مرکزی سرکاری گواہ کو عدالت میں جھوٹا ثابت کر دیا گیا تھا، اسکے بعد کیس بوگس ثابت ہو چکا، اس کے بعد میرے سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر احمد اور ڈپٹی ملٹری سیکرٹری کرنل ریحان نے بھی تصدیق کی کہ قوائد کے عین مطابق تحفے کی دستاویزات مکمل تھیں۔ تمام وکلاء کی رائے بھی یہی تھی کہ یہ کیس جج کی طرف سے اسی وقت خارج کر دیا جانا چاہیے تھا، اس سب کے باوجود بدنیتی پر مشتمل یہ کیس ابھی تک چلایا جا رہا ہے۔
اسی طرح میرے خلاف دوسرا جھوٹا مقدمہ سائفر کیس، جو کہ پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین کیس ہے، اور جس پر قومی خزانے سے عوام کے کروڑوں خرچ کیے گئے، ہائی کورٹ میں اتنا کمزور ثابت ہوا کہ بنیادی طور پر یہ ٹرائل کورٹ میں ہی قائم نہیں رہنا چاہیے تھا۔
تیسرا بڑا مقدمہ القادر یونیورسٹی کے خلاف بنایا گیا۔ القادر ایک فلاحی تعلیمی ادارہ ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو بیک وقت سائنسی و مذہبی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ یہ ادارہ سپریم کورٹ میں فنڈز آنے سے ایک سال قبل قائم کیا گیا تھا- ایک فلاحی ادارے پر بھونڈے سوالات اٹھا کر بے بنیاد کیس قائم کیا گیا جو کہ ٹرائل کورٹ میں ہی ختم ہو چکا تھا۔ اس کیس کے حوالے سے ہم جنوری سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ��اریخ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس ڈوگر نے 10 ماہ بعد 16 اکتوبر کو اس کی سماعت مقرر کی ہے۔
توشہ خانہ 2 میں جج ارجمند کی جلد بازی کا مقصد بھی یہی ہے کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا دے دی جائے تاکہ اس کے بعد القادر کیس میں ضمانت ہو بھی جائے تو بھی میری رہائی ممکن نہ ہوسکے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ بارہ سالوں میں توشہ خانہ سے متعلق تین کیسز اسی جج کے پاس رہے ہیں۔ قانوناً توشہ خانہ سے گاڑیاں گھر نہیں لی جائی ج سکتیں، مگر نواز شریف نے خلافِ قانون توشہ خانہ سے بلٹ پروف مرسڈیز نکلوائی، آصف زرداری نے توشہ خانہ سے ناجائز طور پر 3 گاڑیاں نکلوائیں اور مریم نواز نے توشہ خانہ سے گاڑی نکلوانے کے بعد اسے ٹیکس ریٹرن میں دکھایا اور نہ کہیں ڈیکلیئر کیا۔ یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے اور ان تینوں کیسز کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں مگر ان تینوں کے کیسز لگائے ہی نہیں جارہے جبکہ شفاف طریقے سے حاصل کئے گئے تحائف کے خلاف سیلیکٹو ٹرائل ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔
القادر ٹرسٹ کے کیس میں چونکہ زلفی بخاری نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دینے سے مسلسل انکار کیا، اس لئے انتقام کی سیاست کے تحت پاکستان میں موجود ان کی جائیداد کو نیلام کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ یہی لاقانونیت عاصم لاء ہے۔ اس وقت ملک میں عاصم لاء فیصلوں کی بنیاد ہے کہ اسکے حق میں یا خلاف گئے تو آپ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔
جب آپ عاصم لاء کے ساتھ ہوتے ہیں تو آپ پر کرامات ہوتی ہیں، آپ کا گندم کا اتنا بڑا اسکینڈل بھی ہو تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، آپ توشہ خانہ سے گاڑیاں بھی لے نکلتے ہیں، تو بھی آپ پر کوئی کیس نہیں بنتا۔ شوگر مافیا ہو یا لینڈ مافیا، عاصم لاء کی چھتری تلے ہیں تو آپ کسی قانون کی پکڑ میں نہیں آتے لیکن اگر آپ عاصم لاء کے خلاف جاتے ہیں تو آپ پر بےبنیاد من گھڑت کیس بنائے جاتے ہیں، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، آپ اور آپ کے خاندان پر ہر وہ ظلم کیا جاتا ہے جو اس ملک کی تاریخ میں کسی کے ساتھ نہیں ہوا۔
میں اپنے پاکستانیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بنیادی اخلاقی اور عدالتی اقدار کی دھجیاں بکھر گئی ہیں۔ اگر آپ آج اپنے حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے نہیں اٹھیں گے تو آنے والا وقت تباہ کن ہوگا۔ ناانصافی اور فسطائیت کے باعث معیشت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ پچھلے تین سالوں میں تیس لاکھ سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ موجودہ نااہل اور جعلی حکومت کی پالیسیوں نے معیشت کو آگے ہی شدید نقصان پہنچایا ہے، ٹیکسٹائل ملیں اپنی برآمدات بند کر رہی ہیں اور غریب عوام تیزی سے غربت کی لکیر کے نیچے جا رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کا پیغام دیتا ہوں کہ "تیاری پکڑیں"۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (یکم اکتوبر، ۲۰۲۵)
“اپنی پارٹی اور پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ
تیاری پکڑیں!!
پشاور جلسے کی کال پر خیبرپختونخوا کے علاوہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، آزاد کشمیر اور ��لگت بلتستان سے بھی عوام کی بھرپور شرکت پر پوری قوم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ جبر کے اس ماحول میں لوگوں کا نکلنا خوش آئیند ہے”
ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (29 ستمبر، 2025)
3/3
“میں عاصم منیر کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر کرکٹ کی بہتری مقصود ہے تو محسن نقوی کو ہٹا کر کسی قابل شخص کو اس عہدے پر تعینات کیا جائے جس کو کرکٹ کی سمجھ ہو۔ جب سے پی سی بی کی سربراہی محسن نقوی کو سونپی گئی ہے، کرکٹ کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔
2021 میں اسی پاکستانی ٹیم نے 10 وکٹوں سے بھارت کو شکست دی تھی لیکن اب ٹیم مسلسل ہار رہی ہے کیونکہ اس کی باگ دوڑ محسن نقوی جیسے شخص کے ہاتھ میں دے کر پاکستان کرکٹ کو غیر مستحکم کر دیا گیا ہے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں جاری “ملٹری سٹائل ٹرائل” کے دوران گفتگو (29 ستمبر، 2025)
1/3
اس کا جواب یہ ہے کہ باقی قیدیوں کے برعکس میرے کمرے کا دروازہ تک نہیں کھولا جاتا۔کسی کو مجھ سے بات تک کرنے کی اجازت نہیں۔ کئی کئی روز تک بجلی، اخبار اور ملاقات بند کر دی جاتی ہے۔ جب چھبیسویں آئینی ترمیم مسلط کی جا رہی تھی تھی تب تو مجھے مسلسل 3 ہفتے کے لیے ��یک چھوٹے سے کمرے میں قید تنہائی میں رکھا گیا۔ 7 ماہ سے ٹی وی بند ہے حالانکہ باقی قیدیوں کو یہ سہولت میسر ہے۔ جب چاہے اخبار بھی بند کر دیتے ہیں۔ بچوں سے فون پر بات نہیں کروائی جاتی۔ بشرٰی بیگم اور میں دونوں قید تنہائی میں ہیں۔ ذہنی تشدد اور کیا ہوتا ہے کہ کسی کو قید تنہائی میں ڈال کر اسے عام قیدیوں کی سہولت بھی نہ دی جائے۔ میری بہنوں اور وکلاء تک سے ملاقات بند کر دی جاتی ہے۔ آج کل جیل ٹرائل کی وجہ سے ملاقات ہو رہی ہے، اور لگتا ہے کہ عنقریب یہ بھی بند کر دی جائے گی، یہ سب قانون اور جیل مینوئیل کے بھی خلاف ہے”-
ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں جاری “ملٹری سٹائل ٹرائل” کے دوران گفتگو (29 ستمبر، 2025)
2/3
“میرے پاس FIA کی ٹیم نے آ کر سوال کیے کہ میں ان سب موضوعات پر کیوں بات کرتا ہوں:
نمبر ۱: “ریاست مخالف” ٹویٹس
نمبر ۲: : افغانستان اور خارجہ پالیسی
نمبر ۳: عاصم لاء
نمبر ۴: سقوط ڈھاکہ اور عاصم منیر کو یحیٰی خان سے تشبیہ دینا
نمبر ۵: جیل میں ذہنی تشدد
پہلا سوال کیا گیا کہ آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے "اینٹی سٹیٹ” چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں ملک کا سابق وزیراعظم اور اسی فیصد پاکستانیوں کا نمائندہ ہوں۔ میں ہر وہ بات کروں گا جو میرے لوگوں کے مفاد میں ہو گی۔ مجھے پورا اختیار حاصل ہے کہ میں اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھاؤں۔ نہ یہ اختیار کوئی مجھ سے چھین سکتا ہے، نہ کوئی مجھے ملک و قوم کے مفاد کے حوالے سے بات کرنے سے روک سکتا ہے!
مجھ سے دوسرا سوال کیا گیا کہ میں افغانستان اور خارجہ پالیسی کے بارے میں بار بار بات کیوں کرتا ہوں؟
میرا جواب یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے دوران دانشمندانہ پالیسی اپنا کر پاکستان خصوصاْ قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ امن قائم ہوا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر آپریشن کے ذریعے حالات کو مزید بگاڑ کی طرف بڑھتے دیکھ کر میں خاموش رہ کر اپنے لوگوں کو آگ میں جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دوران افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ افغانستان کی NDS اس وقت انڈیا کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کر رہی تھی اور وہ پاکستان کے خلاف تھے- ہم نے ان سے بھی مذاکرات کیے- میں افغانستان گیا اور اشرف غنی کو قیام امن کی خاطر پاکستان بلایا جس سے قبائلی علاقوں کا امن بحال ہوا اور وہاں ایک عرصے بعد استحکام کا ماحول قائم ہونے لگا تھا۔ اس وقت آئی ایس آئی کی بھی یہی پالیسی تھی۔ لیکن جیسے ہی عاصم منیر چیف بنا اس نے پاکستان دوست افغان حکومت کو دھمکیاں دیں اور جان بوجھ کر حالات خراب کیے۔ صرف یہی نہیں، تین نسلوں سے یہاں رہنے والے افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کیا اور وہاں ڈرون حملے کیے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے اور خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کا امن برباد ہوا۔ جب تک یہ خطے کے چاروں فریقین یعنی افغان حکومت اور افغان عوام ، پاکستان کی حکومت اور خیبر پختونخوا کے لوگ مل کر نہیں بیٹھیں گے، امن نہیں آئے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ملٹری آپریشنز سے جتنا مرضی زور لگا لیں امن قائم نہیں ہوتا-
تیسرا سوال کیا گیا کہ “عاصم لاء کیا ہے”؟
تو میرا جواب ہے کہ ملک میں جو بھی بربادی ہے وہ عاصم لاء کے تحت ہے اور یہ کوئی پراپیگنڈا نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی بات ہے۔ سب سے پہلے مجھے رینجرز نے احاطہ عدالت سے اغواء کیا اور نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا۔ نو مئی کا آپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا ورنہ چند گھنٹوں میں تحریک انصاف کے دس ہزار لوگ گرفتار نہ کیے جات��۔ سی سی ٹی وی بھی اصل مجرموں سے توجہ ہٹانے کے لیے غائب کی گئی۔ اس کے بعد جو پریس کانفرنس کرتا اس کو آزادی مل جاتی اور جو تحریک انصاف کا ساتھ دیتا رہتا اس کو ہراساں کی جانے کی کوئی کوشش چھوڑی نہیں جاتی۔ اس منصوبے کو استعمال کر کے نا صرف تحریک انصاف کو کچلا گیا بلکہ انسانی حقوق کی بھی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔اس کے بعد عوام نے ہمیں دو تہائی مینڈیٹ دیا جسے چوری کر کے ان ��وروں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا جن کی کرپشن کی داستانیں آئی ایس آئی خود مجھے سناتی تھی۔ پھر جس الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگناچاہیے تھا اسے نو ماہ کی ایکسٹینشن دے دی گئی۔ فارم 47 ایوان کے ذریعے چھبیسویں ترمیم منظور کروائی گئی اور ایسے ضمیر فروش ججز کو اوپر لایا گیا جن سے انصاف کی کوئی امید نہیں بچی۔ ہر ادارے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
وہ آئی ایس آئی جو تحریک انصاف دور میں افغانستان کے ساتھ امن کے لیے کام کر رہی تھی، اب محض عاصم منیر کی ذاتی مافیا بن کر رہ گئی ہے، جس کی واحد ڈیوٹی کسی بھی طریقے سے تحریک انصاف کو کچلنا ہے۔ یہ سب عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے -
مجھ سے چوتھا سوال کیا گیا کہ سقوط ڈھاکہ کا حوالہ کیوں دیا اور عاصم منیر کو یحییٰ خان سے تشبیہہ کیوں دیتا ہوں؟
میرا جواب ہے کہ مجیب الرحمٰن اور یحیٰی خان کے بارے میں جو بھی میں کہتا ہوں وہ حمود الرحمان کمیشن میں درج ہے اور تاریخ کا حصہ ہے کہ کیسے یحیٰی خان نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے مجیب الرحمان کی اکثریتی پارٹی کو حکومت دینے کی بجائے ان پر ملٹری آپریشن شروع کر دیا اور ملک توڑ دیا۔ ایک دن مجیب الرحمٰن سے مذاکرات ہو رہے تھے اور اگلے ہی دن بنگالیوں پر آپریشن لانچ کر دیا۔ آج کل وہی یہاں ہو رہا ہے، جو کام یحیٰی خان نے 1971 میں ک��ا وہی سب عاصم منیر بھی کر رہا ہے، جس سے ملک میں قانون اور آئین کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔
مجھ سے پانچواں سوال کیا گیا کہ میں یہ کیوں کہتا ہوں کہ مجھ پر ذہنی تشدد ہو رہا ہے؟
27 ستمبر کو پشاور جلسہ جمہوریت کی بحالی ا��ر قانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے امن اور انسانی حقوق کی تکریم بحال کروانے کے لیے ہو گا۔
میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے جھیل رہا ہوں تاکہ میری قوم کو حقیقی آزادی مل سکے۔ ملک بھر سے شہری ہفتے کے دن پشاور جلسے میں شرکت کریں اور ظلم کے خلاف اعلان بغاوت کریں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(25 ستمبر، 2025)