سوراب، گدر میں پاکستانی فوج کی جیٹ بمباری سے تباہی کے مناظر اور میزائلوں کے باقیات
عام آبادی پر بمباری سے 27 افراد جانبحق و زخمی ہوگئے تھے جن میں خواتین و بچے بھی شامل تھیں۔
معصوم بچوں کی لاشوں ہر ناچتی پنجابی قوم کو بس اتنا عرض کرنا ہے کہ بلوچ اہنا بدلہ 100 سال تک نہیں بھولتا اگر اس کے جواب میں کل پنجاب میں کچھ ہوا تو مذمت کروانے مت آنا اسی طرح ناچتے رہنا
" درد کی کوئی سرحد نہیں ہوتی"
غزہ کے ملبے میں دبے معصوم خواب ہوں یا بلوچستان کی وادیوں گھروں چوک چوراہوں جھونپڑیوں میں بکھری ہوئی لاشیں۔۔۔ درد ہر جگہ ایک ہی زبان بولتا ہے۔ کسی ماں کی گود اجڑتی ہے، کسی بہن کی آنکھ اپنے بھائی کی راہ تکتی رہتی ہے، اور کسی بچے کے ہاتھ میں کھلونے کے بجائے خوف رہ جاتا ہے۔ یہ صرف گھروں کے اجڑنے کا دکھ نہیں، یہ انسانیت کے زخمی ہونے کا نوحہ ہے۔ کاش دنیا ان آنسوؤں کی آواز سن سکے، کاش ہر مظلوم کے لیے امن، انصاف اور جینے کا حق صرف ایک خواب نہ رہے۔
Bombing one’s own country with fighter jets cannot contain an insurgency in dispersed, non-concentrated terrain such as Balochistan’s mountains and deserts. Civilian deaths as collateral damage are counterproductive, as they radicalize populations and fuel further recruitment. The Pakistani state has repeated this same cycle of kinetic violence for more than five decades without resolving the underlying conflict. Devolution of power through inclusive and real-time democracy is the only solution.
جناب۔ @PakSarfrazbugti ٹیوٹر سرداروں کا آپ سے ایک سوال ہے
بلوچ راجی مچی کے دوران جب نہتے مظاہرین پر تشدد ہوا، جانیں ضائع ہوئیں اور بنیادی حقوق پامال کیے گئے تو عدالتیں کہاں تھیں؟
جناب۔ @PakSarfrazbugti ٹیوٹر سرداروں کا آپ سے ایک سوال ہے
بلوچ راجی مچی کے دوران جب نہتے مظاہرین پر تشدد ہوا، جانیں ضائع ہوئیں اور بنیادی حقوق پامال کیے گئے تو عدالتیں کہاں تھیں؟
گزشتہ سات دہائیوں سے بلوچستان میں جاری مسلح جدوجہد کے بعد ڈاکٹر مہرنگ بلوچ نئی بلوچ نسل کے لئے پرامن جدوجہد کا استعارہ بن کر اُبھری تھی لیکن ایک جھوٹے اور بےبنیاد مقدمے میں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور دیگر BYC رہنماؤں کو عمر قید سُنا کر ریاست پاکستان نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار دی ہے
دو سالہ قانونی جدوجہد کے بعد بالآخر بلوچستان کے فرزند، شہید شبیر بلوچ، کو عدالت سے انصاف مل گیا۔ گوادر شہر میں دورانِ ڈیوٹی بی وائے سی کے مشتعل مظاہرین نے ماہ رنگ لانگو کی قیادت میں انہیں پتھر مار مار کر شہید کیا تھا۔ آج عدالت کی جانب سے ماہ رنگ لانگو اور ان کے ساتھیوں کو سزا سنائے جانے کے بعد حکومت بلوچستان کا یہ مؤقف درست ثابت ہوا کہ پرامن احتجاج کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے، تشدد کو فروغ دینے اور ریاستی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر دراصل دہشت گردی کے سہولت کار ہیں۔ حکومت بلوچستان شہید شبیر بلوچ کے قاتلوں کو سزا ملنے پر ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کرتی ہے اور انہیں یقین دلاتی ہے کہ شہید کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ بلوچستان میں دہشت گردوں، ان کے ہمدردوں، سہولت کاروں اور حمایتی عناصر کے خلاف ریاستی جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔
یہاں عورت فقط اک جسم ہے
اک لوتھڑا ہے
بے حیائی کا لبادہ ہے
خیالوں میں ، مقاصد میں غلاظت کلبلاتی ہے
ابھی دور زراعت سے نہیں آگے بڑھے ہیں ہم
کہاں انساں سمجھتے ہیں
کھلونا جان کر کھیلیں
کچل کر جان سے ماریں
یہ آئے دن کے منظر ہیں
ابھی تاریک راتوں کا بسیرا ہے
نہیں روشن سویرا ہے
لالہ رخ
قابض پاکستانی فوج کی کوئٹہ ایگل اسکواڈ کی فائرنگ سے جانبحق ہونے والے نوجوان محمد خالد کے والد اپنے جواں سال بیٹے کی لاش دیکھ کر غم سے نڈھال ہوگئے۔ اس وقت #بلوچستان میں، ایگل اسکواڈ جس کا دل جو چاہے جس کو مارے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ بلوچ نسل کشی کی انتہا ہے۔
#Balochistan
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایشیئن ہیومن رائٹس کمیشن نے 14000 لاپتہ بلوچوںکی لسٹ پیش کی ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کادعویٰ ہے انکے پاس 40 ہزار سے زائد لاپتہ بلوچوںکی فہرست ہےایمنسٹی انٹرنیشنل سے لیکر تمام عالمی ادارے جبری گمشدگیوں کے پیچھےخفیہ اداروں کا ہاتھ مانتےہے
#Balochistan #EndEnforcedDisappearances
آج میرے والد شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی یوم پیدائش ہے۔
انہوں نے میری صرف ایک والد کی طرح نہیں بلکہ ایک استاد کی طرح تربیت کی۔ بابا کے ساتھ گزارا ہر لمحہ ایک سبق تھا، ایک رہنمائی تھی، جس نے مجھے زندگی کے ہر موڑ پر مضبوط بننا سکھایا۔ انہوں نے ہمیں سر جھکا کر جینے کے بجائے سر اٹھا کر حق کے لیے کھڑا ہونا سکھایا۔
آج بھی ان کی سوچ، ان کا حوصلہ، اور ان کا خواب میرے ساتھ ہے۔
ان کا ادھورا مشن اب میری ذمہ داری ہے جو انکے بتاۓ ہوۓ راستہ پر چلتے ہوۓ پورا کروں گا۔
ان شااللہ
سالگرہ مبارک بابا ❤️
مجھے ایک سال سے تنہائی کی قید میں رکھا گیا ہے اور میں نے اپنی 30ویں سالگرہ بھی یہیں گزاری، یہاں کی خاموشی ایک بوجھ کی طرح محسوس ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ انسان پر حاوی ہوتی جاتی ہے، جیل میں مجھے اور دو اور کمیٹی کارکن خواتین کو دوسری خواتین سے الگ رکھا گیا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ چونکہ ہم سیاسی قیدی ہیں، اس لیے ہمیں کسی سے بات چیت کی اجازت نہیں، ماہرنگ بلوچ کا دی گارڈین میں آرٹیکل
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan