آج ماؤں کا عالمی دن ہے۔ آج کا دن میں اپنی ماں سمیت ان تمام ماؤں کے نام کرتی ہوں جو ظلم و جبر کے خلاف سراپا مزاحمت ہیں۔
م��ری ماں جو ایک گھریلو عورت تھیں، آج میرے بھائی سلمان کی جبری گمشدگی کی اذیت نے انہیں ایک مضبوط اور بے خوف آواز بنا دیا ہے۔
#ReleaseSalmanBaloch
جیساکہ آپ سب کو بخوبی علم ہے کہ داد شاہ بلوچ کو 21 اپریل کو ریاستی اداروں نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا، جس کے بعد اب تک ان کا کوئی حال و احوال نہیں۔
ریاستی زندان میں مقید داد شاہ بلوچ کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکٹیویٹ رکھا جا رہا ہے، جو کہ تشویشناک امر ہے۔ اسی دوران ہم نے متعدد بار پولیس اسٹیشن کا رجوع کیا، جہاں ہمیں یہ جواب دیا گیا کہ پولیس اس واقعہ میں ملوث نہیں۔ اگر پولیس اس واقعہ میں ملوث نہیں تو وہ داد شاہ بلوچ کے اکاؤنٹ کو ٹریس کرکے یہ پتا لگائے کہ داد شاہ کہاں اور کس کی تحویل میں ہیں، کیونکہ وہ میرے بھائی کا ذاتی ڈیٹا لیک بھی کر سکتے ہیں اور منفی استعمال بھی کر سکتے ہیں۔
تمام افراد سے دست بستہ اپیل کرتے ہیں کہ اس دوران داد شاہ کے اکاؤنٹ سے کسی بھی میسج کا کوئی جواب نہ دیں۔
#ReleaseDaadShahBaloch
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide
@MaryLawlorhrds@SabihaBaloch_@SammiBaluch@FrontLineHRD@amnestysasia@dohrpk@HRCP87@HRCBalochistan@UN_HRC@paank_bnm
میری والدہ تھانے میں مسلسل الٹیاں کرتی رہیں، ہم بار بار ڈاکٹر کی درخواست کرتے رہے کیونکہ وہ ہائی بلڈ پریشر کی مریضہ ہیں، مگر کسی نے نہ سنی۔ اس کے باوجود ہم پر جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی، ہمیں کئی گھنٹوں تک وکیلوں سے ملنے نہیں دیا گیا اور ایک لاک اپ میں بند رکھا گیا جہاں کوئی بنیادی سہولت موجود نہیں تھی۔ حالانکہ ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں کہ ہم نے پریس کانفرنس سے روکنے پر خود رک کر واپس جانے کا فیصلہ کر لیا تھا، مگر پھر بھی ہمیں زبردستی اٹھا کر تھانے لے جایا گیا۔
میں تمام وکلا جن میں سر جبران ناصر، سر زا��ر بلوچ، سر ��مران بلوچ، سر عامر اور سر سراج موجود ہیں ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے پیچھے ہٹے بغیر جدوجہد جاری رکھی، جس کے نتیجے میں آج ہمیں باعزت رہا کیا گیا۔ تمام ان لوگوں کا بھی شکریہ جنہوں نے اس مشکل وقت میں ہماری آواز بنے۔
لیکن یاد رہے کہ اب بھی میرے بھائی داد شاہ کئی لوگ جبری طور پر لاپتہ ہیں۔ ہمیں ان کی بازیابی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہے، جدوجہد فتح تک۔
#ReleaseDaadShahBaloch
#EndEnforcedDisappearances
داد شاہ کی دوسری بار جبری گمشدگی انتہائی تشویشناک ہے۔ایک طرف ریاست نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کرتی ہے اور دوسری جانب ان کے خاندانوں سے احتجاج کا حق بھی چھین چکی ہے۔پریس کانفرنس کی اجازت نہ دینا اور فوزیہ بلوچ اور ان کی والدہ پر تشدد اور گرفتاری انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔
The terrorist and invading forces are dragging and abducting Baloch women of the Republic of #Balochistan.
She is Fozia Baloch and her mother, being arrested, and abducted because of raising voices against the abduction of Dad Shah Baloch the brother of Fozia.
We will not forgive and forgive Pakistan's war crimes in our country #Balochistan.
My brother, Dad Shah, was forcibly disappeared by law enforcement agencies (LEAs) on 21 April 2026.
On 22 April, I went to the Karachi Press Club and completed the booking for a press conference. I followed their process, asked only for a small space to speak, to tell the world that my brother is missing — that he matters. Still, I was refused a spot.
The Karachi Press Club has always been our only hope. When we were harassed, threatened, and pushed back by Sindh police for protesting, its gates remained open to us. It was one of the few spaces where our voices were allowed to exist without fear.
Today, even that door feels closed.
This is not just about one person. This is about the shrinking of every space for Baloch voices.
We are not asking for favors. We are asking for our right to be heard.
#ReleaseDaadShahBaloch
@FrontLineHRD@MaryLawlorhrds@amnestysasia@BalochWF@BalochYakjehtiC@HRCP87@dohrpk@UN_HRC@press_karachi
Social Media Campaign
Today marks three days since Dad Shah Baloch was forcibly disappeared, and his whereabouts remain unknown. A social media campaign will be launched tomorrow, April 25, against the enforced disappearance of Dad Shah Baloch.
We urge all political and human rights organizations, activists, and concerned individuals to take part in this campaign and raise their voices for the safe release of Dad Shah.
Time: 6:00 PM to 12:00 AM
Date: 25 April 2026
#ReleaseDaadShahBaloch
#EndEnforcedDisappearances
حقیقت پر مبنی خدیجہ بلوچ کی مبینہ قابض پاکستانی ��ورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی صرف ایک انفرادی واقعہ نہیں. بلکہ بلوچ خواتین کی مسلسل گمشدگیوں کے ایک تشویشناک رجحان کا حصہ ہے، جو بلوچ قومی معاشرے میں ایک خطرناک “نارملائزیشن” کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
#ReleaseKhadijaBaloch
On April 22, 2026, Sameena, daughter of Dost Muhammad, and her cousin Qambar Baloch were forcibly disappeared from their home in the Naal area of Khuzdar by Pakistani forces. Their whereabouts remain unknown.
The alarming rise in enforced disappearances of women is deeply concerning.
#EndEnforcedDisappearances
#Balochistan
Last night in Nal, Ustakhli, residents Samina daughter of Dost Muhammad and her cousin Qambar son of Abdul Latif were forcibly disappeared by Pakistani forces and taken to an unknown location.
#SaveBalochWomen
"ہدہ جیل میں خدیجہ نے دوران ملاقات بتایا کہ ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ ایسے الزامات قبول کرے جن سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں۔" - بولان میڈیکل کالج سے جبری لاپتہ خدیجہ بلوچ کے اہلخانہ کی پریس کانفرنس
This is the third time I’ve gone to the police station. I told the SHO that I am an eyewitness, that my brother was taken by CTD or the police. But they still didn’t register an FIR or give me any receipt.They just told me to wait until 9 PM for an update.
#ReleaseDaadShahBaloch
بلوچستان میں خواتین اور بچوں سمیت جبری گمشدگیوں کا سلسلہ حالات کو مزید بگاڑ رہا ہے۔ اگر مسخ شدہ لاشیں پھینکنے سے امن قائم ہونا ہوتا تو 2009-10 میں ہی حالات بہتر ہو چکے ہوتے، مگر آج بلوچستان کی صورتحال نہایت تش��یشناک ہے@SeemaBalochh
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide
موکش کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ایک انقلابی انسان کی سوچ اور افکار کو اپنے اندر قبول کریں، کیونکہ اس کے بغیر یہ صرف چند تقریروں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو کچھ بدلنے کی حقیقی فکر اور عملی سوچ رکھتے ہیں۔��🥀🥀
مسنگ پرسنز کا مسئلہ کسی مذاق یا پروپیگنڈے کا موضوع نہیں بلکہ انسانی حقوق کا ایک سنگین معاملہ ہے۔ ہر لاپتہ فرد کے پیچھے ایک خاندان کی اذیت، انتظار اور بے بسی چھپی ہوتی ہے۔ ظالم ریاست کے ہاتھوں کئی نوجوان لاپتہ ہے روزانہ کئی نوجوانوں کے لاشوں کو مسخ کر کے پھینکتے ہے