عمران خان کو ابھی تک شفا ہسپتال نہ منتقل کرنے پر اور جب میاں ساب جیل سے شریف میڈیکل میں ایڈمٹ ہوے تھے اس پر حامد میر نے ن لیگ کی ٹھیک ٹھاک چھترول کر دی لیکن کیا ہی اچھا ہو اگر یہ سب باتیں وہ اپنے شو کیپٹل ٹاک میں بھی کریں
جس کا نام میڈیا پر لینے پر بھی پابندی ہے، جس کی سیاست پر بھی سرخ لکیر لگا دی گئی تھی، اس کے ہسپتال پہنچنے کا اپڈیٹ جاننے کے لئے پورا پاکستان اور عالمی میڈیا بے چین ہے!
وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ
@ImranKhanPTI
شفا ہسپتال سے ینگ ڈاکٹروں نے ویڈیو بناکر بھیجی ہے!
ساتھ میں آپ سب کے لیے پیغام بھی
آپ لوگ مرشد کی فکر نہ کریں، بس ایک بار وہ ہمارے شفا (ہسپتال) میں داخل ہو جائیں تو انشاء اللہ ہم بھرپور خیال رکھیں گے۔ انشاء اللہ خان صاحب 3 سال پہلے سے زیادہ تندرست ہو کر یہاں سے رخصت ہوں گے۔ ❤️🙏
سپین کا بادشاہ فاتح ٹیم کا وطن واپسی پر شاہی محل میں استقبال کر رہا سب سے ہاتھ ملایا مگر لامین یمال واحد کھلاڑی جسے باد ای نے گلے لگا لیا شاہی خاندان نے کل بھی اس سے بہت محبت دیکھائی
پانچ ہزار پولیس کی موجودگی میں مجھ پر FIR دی گئی
میں آیا ہوں، میں نے آ کے پولیس پہ فائرنگ کی ان کا سب انسپکٹر اغوا کیا ہے اغوا کر کے میں چلا گیا آگے پھر پولیس کا ناکا لگا ہوا تھا،میرا پھر پولیس سے مقابلہ ہوا انہوں اپنا سب انسپکٹر بازیاب کروا لیا۔
ڈپٹی اپوزیشن لیڈر حافظ فرخت
ن لیگ کہتی ہے کہ تحریک انصاف کو باجوہ اور فیض نے اقتدار میں لایا۔ ان کے بیانات آج بھی ریکارڈ پر ہیں کہ ثاقب نثار کے چیف جسٹس بننے پر وہ کیسے خوشیاں منا رہے تھے اور باجوہ کو بھی انہوں نے ہی آرمی چیف لگایا۔ سب جانتے ہیں کہ باجوہ کے سسر کے گھر کون ساری رات بیٹھ کر ڈیلز کرتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ جو ن لیگ پر احسان کرتا ہے اور ریٹائر ہوتے ہی اسی پر اپنے کالے کرتوت دھر دیے جاتے ہیں۔
نو مئی کی رٹ تو لگائی جاتی ہے لیکن یہ بتائیں کہ پاکستانی آرمی چیف کا طیارہ بھارت میں لینڈ کروانے کی سازش کس نے کی؟ کارگل کے شہیدوں کا سودا کس نے کیا، اجمل قصاب کو پاکستانی کس نے قرار دیا اور جس بیان کا استعمال عالمی عدالت میں پاکستان کے خلاف ہوا؟ وہ کون تھا جس نے کلنٹن کے پاس جا کر اپنی فوج کا سودا کیا تھا؟ ان سب کا جواب ن لیگ ہے اور ایسے کرتوتوں والی ن لیگ آج 9 مئی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتی ہے۔
🚨 انمول پنکی کا انکشاف
مجھ سے زبردستی بیانات دلوائے جا رہے ہیں کہ آپ کہیں کہ آپ بنی گالا میں سامان دے کر آتی رہی ہو
یہ بے شرم فیصلہ ساز اس قدر گر چکے ہیں کہ اب دوبارہ سے عمران خان کے خلاف اس قسم کی گھناؤنی سازشیں کررہے ہیں
گندگی کا دوسرا نام ن لیگ:
ایک دن سینیٹ میں مولانا سمیع الحق نے شریعت بل پر دھواں دھار تقریر کی اور نواز شریف کی حکومت گرانے کی دھمکی دیتے ہوئے آئی جے آئی سے نکلنے کا اعلان کر دیا۔
اگلے دن ملک کے ایک بڑے قومی اخبار کے فرنٹ پیج پر ایک خبر شائع ہوئی جس میں اسلام آباد کی رہائشی “میڈم طاہرہ” کا انٹرویو تھا، جو اسلام آباد میں ایک قحبہ خانہ یا عیاشی کا اڈا چلاتی تھیں۔
میڈم طاہرہ نے اپنے انٹرویو میں دھانسو قسم کے انکشافات کیے۔ انہوں نے مبینہ طور پر کئی سیاستدانوں کا نام لیے بغیر انہیں اپنے “مستقل گاہک” قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ مولانا سمیع الحق ان کے مستقل گاہکوں میں سے ایک ہیں۔
یہ انٹرویو پورے ملک میں ہلچل کا باعث بن گیا۔ تفصیلات کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ عام شخص کو یہ سب سچ محسوس ہوا۔ مولانا سمیع الحق پر شدید تنقید شروع ہو گئی اور انہیں سینیٹ میں آ کر روتے ہوئے حلف دے کر اپنی بے گناہی ثابت کرنا پڑی، مگر “نقصان ہو چکا تھا”۔
کچھ عرصے بعد وہ سینیٹ کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے اور دلبرداشتہ ہو کر سیاست چھوڑ کر مدارس کی انتظامیہ پر توجہ دینے لگے، یوں نواز شریف پر شریعت بل لانے کا دباؤ بھی ختم ہو گیا۔
یہ سوال برقرار رہا کہ میڈم طاہرہ کون تھیں، کہاں سے آئیں اور کہاں چلی گئیں، کسی کو معلوم نہ ہو سکا۔
لیکن کچھ عرصے بعد ایک خاتون نواز شریف کے گھر میں کلثوم نواز کی خدمت پر مامور ہوئیں، جن کا نام بھی طاہرہ اورنگزیب تھا۔
جی، آپ ٹھیک سمجھے… مریم اورنگزیب کی والدہ۔
اتنے بڑے انکشاف کے بعد اس کے مبینہ عیاشی کے اڈے کے خلاف کیا کارروائی ہوئی، اس کا بھی کچھ علم نہیں۔
یہ انٹرویو کس اخبار میں چھپا تھا؟
یہ “عظیم سعادت” میر شکیل الرحمان کے اخبار “دی نیوز” کو حاصل ہوئی، اور جس ٹیم نے اس انٹرویو کا انتظام کیا، اس کی قیادت کامران خان کر رہا تھا۔
مخالفین کی کردار کشی کے ذریعے اپنے مقاصد کی تکمیل کا یہ الزام نواز شریف پر ایک پرانا سیاسی حربہ سمجھا جاتا ہے—چاہے وہ بینظیر اور نصرت بھٹو کی مبینہ تصاویر ہوں، سمیع الحق کے خلاف میڈم طاہرہ کا انٹرویو، 1997 میں جمائما کے خلاف 397 ٹائلوں کی سمگلنگ کا مقدمہ، ریحام خان کی کتاب، یا عائشہ گلالئی کے بعد عدت کیس وغیرہ کے الزامات۔
نون لیگ کی مریم اورنگزیب، سینیٹر میڈم طاہرہ اورنگزیب کی بیٹی ہیں اور آج کل مملکتِ خداداد میں وزارتِ اطلاعات کی وزیر ہیں۔ واہ ن لیگ واہ۔
پتہ نہیں نواز شریف کی تربیت میں کمی ہے یا جینز میں ایسی حرکات شامل ہیں، جو انہیں انسانیت سے نیچے گرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
"گندگی کا دوسرا نام ن لیگ:
ایک دن سینیٹ میں مولانا سمیع الحق نے شریعت بل پر دھواں دھار تقریر کی اور نواز شریف کی حکومت گرانے کی دھمکی دیتے ہوئے آئی جے آئی سے نکلنے کا اعلان کر دیا۔
اگلے دن ملک کے ایک بڑے قومی اخبار کے فرنٹ پیج پر ایک خبر شائع ہوئی جس میں اسلام آباد کی رہائشی “میڈم طاہرہ” کا انٹرویو تھا، جو اسلام آباد میں ایک قحبہ خانہ یا عیاشی کا اڈا چلاتی تھیں۔
میڈم طاہرہ نے اپنے انٹرویو میں دھانسو قسم کے انکشافات کیے۔ انہوں نے مبینہ طور پر کئی سیاستدانوں کا نام لیے بغیر انہیں اپنے “مستقل گاہک” قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ مولانا سمیع الحق ان کے مستقل گاہکوں میں سے ایک ہیں۔
یہ انٹرویو پورے ملک میں ہلچل کا باعث بن گیا۔ تفصیلات کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ عام شخص کو یہ سب سچ محسوس ہوا۔ مولانا سمیع الحق پر شدید تنقید شروع ہو گئی اور انہیں سینیٹ میں آ کر روتے ہوئے حلف دے کر اپنی بے گناہی ثابت کرنا پڑی، مگر “نقصان ہو چکا تھا”۔
کچھ عرصے بعد وہ سینیٹ کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے اور دلبرداشتہ ہو کر سیاست چھوڑ کر مدارس کی انتظامیہ پر توجہ دینے لگے، یوں نواز شریف پر شریعت بل لانے کا دباؤ بھی ختم ہو گیا۔
یہ سوال برقرار رہا کہ میڈم طاہرہ کون تھیں، کہاں سے آئیں اور کہاں چلی گئیں، کسی کو معلوم نہ ہو سکا۔
لیکن کچھ عرصے بعد ایک خاتون نواز شریف کے گھر میں کلثوم نواز کی خدمت پر مامور ہوئیں، جن کا نام بھی طاہرہ اورنگزیب تھا۔
جی، آپ ٹھیک سمجھے… مریم اورنگزیب کی والدہ۔
اتنے بڑے انکشاف کے بعد اس کے مبینہ عیاشی کے اڈے کے خلاف کیا کارروائی ہوئی، اس کا بھی کچھ علم نہیں۔
یہ انٹرویو کس اخبار میں چھپا تھا؟
یہ “عظیم سعادت” میر شکیل الرحمان کے اخبار “دی نیوز” کو حاصل ہوئی، اور جس ٹیم نے اس انٹرویو کا انتظام کیا، اس کی قیادت کامران خان کر رہا تھا۔
مخالفین کی کردار کشی کے ذریعے اپنے مقاصد کی تکمیل کا یہ الزام نواز شریف پر ایک پرانا سیاسی حربہ سمجھا جاتا ہے—چاہے وہ بینظیر اور نصرت بھٹو کی مبینہ تصاویر ہوں، سمیع الحق کے خلاف میڈم طاہرہ کا انٹرویو، 1997 میں جمائما کے خلاف 397 ٹائلوں کی سمگلنگ کا مقدمہ، ریحام خان کی کتاب، یا عائشہ گلالئی کے بعد عدت کیس وغیرہ کے الزامات۔
نون لیگ کی مریم اورنگزیب، سینیٹر میڈم طاہرہ اورنگزیب کی بیٹی ہیں اور آج کل مملکتِ خداداد میں وزارتِ اطلاعات کی وزیر ہیں۔ واہ ن لیگ واہ۔
پتہ نہیں نواز شریف کی تربیت میں کمی ہے یا جینز میں ایسی حرکات شامل ہیں، جو انہیں انسانیت سے نیچے گرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔"
منقول
اقرارالحسن نے عمران خان اور بشری بی بی پر انتہائی گندی اور غلیظ گفتگو کی اور اس کا جواز یہ پیش کیا کہ سیاستدان پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے
کیا ہمیں یہ سوال پوچھنے کا حق ہے کہ اقرار الحسن ہر چیز پر تو کلمہ پڑھتے ہیں وہ کلمہ پڑھ کر سب کو بتائیں کہ تیسری شادی سے پہلے ان کے عروسہ خان سے غیر ازدواجی تعلقات نہیں تھے؟
عروسہ خان کو ساتھ بٹھا کر کلمہ پڑھ کر اقرار اور عروسہ خان بھی بتائیں شادی سے پہلے جب وہ ڈیلی پاکستان میں کام کرتی تھیں تو اپنے کم از کم دو کولیگز کو اقرار کیساتھ ملاقاتوں کا نہیں بتایا اور ان ملاقاتوں کے دوران ہونے والے قصے آ کر اپنے دوستوں کو نہیں سناۓ اور نہیں بتایا کہ اقرار الحسن کے کیسے ساری دنیا سے نرالے شوق ہیں
عروسہ خان کو ڈیلی پاکستان میں کام کے دوران جو گفٹ آیا وہ کیا تھا عروسہ نے اس ڈبے کو کھولنے کا اپنے کولیگ کو کہا تو اس میں کیا نکلا تو عروسہ نے دوستوں کو کیا بتایا کہ وہ کس نے بیجھا
میں سمجھتا ہوں یہ تمام سوالات انتہائی غلیظ اور زاتی نوعیت کے ہیں لیکن یہ سلسلہ اقرارالحسن نے شروع کیا ہے
ap k name k sath syeda likha hy ab me ap ko kiya bolo asy karo khud hi apni tarbiyat py lanat do please please kio k ap jasi roz kasi na kasi k bistar ki zinat banti hin lanat hy ap ki tarbiyat py mutarma
زرائع کے مطابق یہ وڈیو اسوقت کی ہے جب مانیکا بشری پنکی کی CV نچن یاہو کو جمع کروا رہا تھا۔
یہی دیکھ کر نچن یاہو دم کروانے گیا اور ایکدم کر کے عدت میں شدت کی