ایک عورت اس وقت تک کھانا نہیں کھاتی تھی جب تک اس کا شوہر نہ آ جاتا۔ سارے محلے والے اس کی تعریفیں کرتے تھے ۔
ایک دن ایک عورت نے پوچھا : "بہن کیسے بھوک برداشت کرلیتی ہو؟"
اس عورت نے جواب دیا : "کیا کروں وہ آ کر پکاتے ہیں تو کھاتی ہوں"
آج مجھے اپنے اشرف المخلوقات ہونے پر شرمندگی محسوس ہوئی جب میں نے ابنِ خلدون کی یہ بات پڑھی کہ
"پرندے کا دماغ صرف 2 گرام ہے اور وہ آزادی کی تلاش میں ہے۔ کچھ لوگوں کے سر کا وزن 5 کلو ہے اور وہ ذلت اور غلامی کی تلاش میں ہیں..!! "
ابنِ خلدون تاریخ کے بڑے دماغوں میں سے ایک دماغ تھا اس نے ایک اور عجیب بات بھی کہی کہ
"اگر مجھے ظالم حکمرانوں اور غلاموں میں سے کسی ایک کو مٹانے کا اختیار ملے تو میں غلاموں کو مٹا دوں گا کیونکہ یہ غلام ہی ہیں جنہوں نے ظالم حکمران پیدا کیئے ہیں.
سوچ کی غلامی ملک و قوم کو تباہ کر دیتی.!
(مستعار)
آج - 12؍اکتوبر اردو کے جدید شعرا میں ایک اہم نام، جن کی نظمیں داخل اور خارج کا حسین امتزاج ہیں اور مقبول و معروف شاعر ”مصطفیٰ_زیدؔی صاحب“ کا یومِ وفات ہے۔
نام سیّد_مصطفیٰ_حسین_زیدی اور تخلص زیدؔی ہے۔ شروع میں تیغؔ الٰہ آبادی تخلص کرتے تھے۔
10؍اکتوبر 1929ء کو الٰہ آباد، (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ اوائل طالب علمی ہی سے شاعری کا شوق پید ا ہوگیا تھا۔ انٹرمیڈیٹ اور بی اے کے امتحانات امتیاز کے ساتھ پاس کیے۔ ایم اے (انگریزی) کا امتحان 1952ء میں گورنمنٹ کالج، لاہور سے پاس کیا۔ دوران تعلیم ان کی غیر معمولی قابلیت کے اعتراف میں انھیں کئی گولڈ میڈل اور تمغے ملے۔ 1956ء میں سول سروس کے امتحان میں کامیاب ہوئے۔مختلف شہروں میں ڈپٹی کمشنر رہے۔ حکومت پاکستان نے اعلی کارکردگی کے صلے میں انھیں ’’تمغائے قائد اعظم ‘‘ عطا کیا۔
مصطفی زیدؔی 12؍اکتوبر 1970ء کو کراچی، پاکستان میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ ان کا پہلا مجموعہ شاعری ’’روشنی‘‘ کے نام سے قیام پاکستان سے قبل شائع ہوا۔
ان کے دیگر شعری مجموعوں کے نام یہ ہیں:👇
’زنجیریں‘، ’شہرِ آذر‘، ’موج مری صدف صدف‘، ’گریباں‘، ’قباے ساز‘، ’کوہِ ندا‘۔
👈 بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:240
✧◉➻══════════════➻◉✧
💐 معروف شاعر مصطفےٰ زیدؔی کے یومِ وفات پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ عقیدت... 💐
اب جی حدود سود و زیاں سے گزر گیا
اچھا وہی رہا جو جوانی میں مر گیا
---
دنیا تمام چھٹ گئی پیمانے کے لیے
وہ مے کدے میں آئے تو پیمانہ چھٹ گیا
---
ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہے
اپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا
---
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
ہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ
---
میں اسی کوہِ صفت خون کی اک بوند ہوں جو
ریگ زارِ نجف و خاک خراساں سے ملا
---
اک رشتۂ وفا تھا سو کس نا شناس سے
اک درد حرزِ جاں تھا سو کس کے صلے میں تھا
---
تیرا وعدہ تھا کہ اس ماہ ضرور آئے گی
اب تو ہر روز گزرتا ہے مہینے کی طرح
---
وہ جن کے در ناز پہ جھکتا تھا زمانہ
آتے تھے بڑی دور سے چل کر اسی گھر میں
---
تری تلاش میں ہر رہنما سے باتیں کیں
خلا سے ربط بڑھایا ہوا سے باتیں کیں
---
وہی اقرار میں انکار کے لاکھوں پہلو
وہی ہونٹوں پہ تبسم وہی ابرو پہ شکن
---
قدم قدم پہ تمنائے التفات تو دیکھ
زوالِ عشق میں سوداگروں کا ہات تو دیکھ
---
''زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے''
وہ خود اگر کہیں ملتا تو گفتگو کرتے
---
کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی رازداں نہیں ہے
فقط ایک دل تھا اب تک سو وہ مہرباں نہیں ہے
---
کسی تو کام زمانے کے سوگوار آئے
تجھے جو پا نہ سکے زیست کو سنوار آئے
---
وہ عہد عہد ہی کیا ہے جسے نبھاؤ بھی
ہمارے وعدۂ الفت کو بھول جاؤ بھی
---
فن کار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھی
وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی
✦•──┈┈┈┄┄╌╌╌┄┄┈┈┈──•✦
مصطفیٰ زیدؔی
محسن نقوی کا بہت ہی خوبصورت ترین نعتیہ کلام ایک بار ضرور پڑھیے ♥️
چہرہ ہے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہ
آنکھیں ہیں کہ بحرینِ تقدس کے نگیں ہیں
ماتھا ہے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے
عارِض ہیں کہ ”والفجر“ کی آیت کے اَمیں ہیں
گیسو ہیں کہ ”وَاللَّیل“ کے بکھرے ہوئے سایے
ابرو ہیں کہ قوسینِ شبِ قدر کھُلے ہیں
گردن ہے کہ بَر فرقِ زمیں اَوجِ ثریا
لب، صورتِ یاقوت شعاعوں میں دُھلے ہیں
قَد ہے کہ نبوت کے خد و خال کا معیار
بازو ہیں کہ توحید کی عظمت کے عَلَم ہیں
سینہ ہے کہ رمزِ دلِ ہستی کا خزینہ
پلکیں ہیں کہ الفاظِ رُخِ لوح و قلم ہیں
باتیں ہیں کہ طُوبیٰ کی چٹکتی ہوئی کلیاں
لہجہ ہے کہ یزداں کی زباں بول رہی ہے
خطبے ہیں کہ ساون کے امنڈتے ہوئے دریا
قِرأت ہے کہ اسرارِ جہاں کھول رہی ہے
یہ دانت، یہ شیرازۂ شبنم کے تراشے
یاقوت کی وادی میں دمکتے ہوئے ہیرے
شرمندۂ تابِ لب و دندانِ پیمبرﷺ
حرفے بہ ثنا خوانی و خامہ بہ صریرے
یہ موجِ تبسم ہے کہ رنگوں کی دھنک ہے
یہ عکسِ متانت ہے کہ ٹھہرا ہوا موسم
یہ شکر کے سجدے ہیں کہ آیات کی تنزیل
یہ آنکھ میں آنسو ہیں کہ الہام کی رِم جھم
یہ ہاتھ، یہ کونین کی تقدیر کے اوراق
یہ خط، یہ خد و خالِ رُخِ مصحف و انجیل
یہ پاؤں،یہ مہتاب کی کرنوں کے مَعابِد
یہ نقشِ قدم، بوسہ گہِ رَف رَف و جبریل
یہ رفعتِ دستار ہے یا اوجِ تخیل!
یہ بندِ قبا ہے کہ شگفتِ گُلِ ناہید
یہ سایۂ داماں ہے کہ پھیلا ہوا بادل
یہ صبحِ گریباں ہے کہ خمیازۂ خورشید
یہ دوش پہ چادر ہے کہ بخشش کی گھٹا ہے
یہ مہرِ نبوت ہے کہ نقشِ دلِ مہتاب
رخسار کی ضَو ہے کہ نمو صبحِ ازل کی
آنکھوں کی ملاحت ہے کہ روئے شبِ کم خواب
ہر نقشِ بدن اتنا مناسب ہے کہ جیسے
تزئینِ شب و روز کہ تمثیلِ مہ و سال
ملبوسِ کہن یوں شکن آلود ہے جیسے
ترتیب سے پہلے رُخِ ہستی کے خد و خال
رفتار میں افلاک کی گردش کا تصور
کردار میں شامل بنی ہاشم کی اَنا ہے
گفتار میں قرآں کی صداقت کا تیقُّن
معیار میں گردُوں کی بلندی کفِ پا ہے
وہ فکر کہ خود عقلِ بشر سَر بگریباں
وہ فقر کہ ٹھوکر میں ہے دنیا کی بلندی
وہ شکر کہ خالق بھی ترے شکر کا ممنون
وہ حُسن کہ یوسفؑ بھی کرے آئینہ بندی
وہ علم کہ قرآں تِری عِترت کا قصیدہ
وہ حِلم کہ دشمن کو بھی امیدِ کرم ہے
وہ صبر کہ شبیرؑ تری شاخِ ثمردار
وہ ضبط کہ جس ضبط میں عرفانِ اُمُم ہے
محسن نقوی
جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا
صحنِ گل چھوڑ گیا، دل میرا پاگل نکلا
جب اسے ڈھونڈنے نکلے تو نشاں تک نہ ملا
دل میں موجود رہا، آنکھوں سے اوجھل نکلا
اک ملاقات تھی جو دل کو صدا یاد رہی
ہم جسے عمر سمجھتے تھے، وہ اک پل نکلا
وہ جو افسانۂ غم سن کے ہنسا کرتے تھے
اتنا روئے ہیں کہ سب آنکھ کا کاجل نکلا
ہم سکون ڈھونڈنے نکلے تو پریشان رہے
شہر تو شہر ہے، جنگل بھی نہ جنگل نکلا
کون ایوب پریشان ہے تاریکی میں
چاند افلاک پہ، دل سینے میں بے کل نکلا
ایوب رومانی
محسن نقوی کا نعتیہ کلام جسے بار بار پڑھنے کو دل کرتا ہے، اک بار آپ بھی ضرور پڑھیں ♥️
چہرہ ہے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہ
آنکھیں ہیں کہ بحرینِ تقدس کے نگیں ہیں
ماتھا ہے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے
عارِض ہیں کہ ”والفجر“ کی آیت کے اَمیں ہیں
گیسو ہیں کہ ”وَاللَّیل“ کے بکھرے ہوئے سایے
ابرو ہیں کہ قوسینِ شبِ قدر کھُلے ہیں
گردن ہے کہ بَر فرقِ زمیں اَوجِ ثریا
لب، صورتِ یاقوت شعاعوں میں دُھلے ہیں
قَد ہے کہ نبوت کے خد و خال کا معیار
بازو ہیں کہ توحید کی عظمت کے عَلَم ہیں
سینہ ہے کہ رمزِ دلِ ہستی کا خزینہ
پلکیں ہیں کہ الفاظِ رُخِ لوح و قلم ہیں
باتیں ہیں کہ طُوبیٰ کی چٹکتی ہوئی کلیاں
لہجہ ہے کہ یزداں کی زباں بول رہی ہے
خطبے ہیں کہ ساون کے امنڈتے ہوئے دریا
قِرأت ہے کہ اسرارِ جہاں کھول رہی ہے
یہ دانت، یہ شیرازۂ شبنم کے تراشے
یاقوت کی وادی میں دمکتے ہوئے ہیرے
شرمندۂ تابِ لب و دندانِ پیمبرﷺ
حرفے بہ ثنا خوانی و خامہ بہ صریرے
یہ موجِ تبسم ہے کہ رنگوں کی دھنک ہے
یہ عکسِ متانت ہے کہ ٹھہرا ہوا موسم
یہ شکر کے سجدے ہیں کہ آیات کی تنزیل
یہ آنکھ میں آنسو ہیں کہ الہام کی رِم جھم
یہ ہاتھ، یہ کونین کی تقدیر کے اوراق
یہ خط، یہ خد و خالِ رُخِ مصحف و انجیل
یہ پاؤں،یہ مہتاب کی کرنوں کے مَعابِد
یہ نقشِ قدم، بوسہ گہِ رَف رَف و جبریل
یہ رفعتِ دستار ہے یا اوجِ تخیل!
یہ بندِ قبا ہے کہ شگفتِ گُلِ ناہید
یہ سایۂ داماں ہے کہ پھیلا ہوا بادل
یہ صبحِ گریباں ہے کہ خمیازۂ خورشید
یہ دوش پہ چادر ہے کہ بخشش کی گھٹا ہے
یہ مہرِ نبوت ہے کہ نقشِ دلِ مہتاب
رخسار کی ضَو ہے کہ نمو صبحِ ازل کی
آنکھوں کی ملاحت ہے کہ روئے شبِ کم خواب
ہر نقشِ بدن اتنا مناسب ہے کہ جیسے
تزئینِ شب و روز کہ تمثیلِ مہ و سال
ملبوسِ کہن یوں شکن آلود ہے جیسے
ترتیب سے پہلے رُخِ ہستی کے خد و خال
رفتار میں افلاک کی گردش کا تصور
کردار میں شامل بنی ہاشم کی اَنا ہے
گفتار میں قرآں کی صداقت کا تیقُّن
معیار میں گردُوں کی بلندی کفِ پا ہے
وہ فکر کہ خود عقلِ بشر سَر بگریباں
وہ فقر کہ ٹھوکر میں ہے دنیا کی بلندی
وہ شکر کہ خالق بھی ترے شکر کا ممنون
وہ حُسن کہ یوسفؑ بھی کرے آئینہ بندی
وہ علم کہ قرآں تِری عِترت کا قصیدہ
وہ حِلم کہ دشمن کو بھی امیدِ کرم ہے
وہ صبر کہ شبیرؑ تری شاخِ ثمردار
وہ ضبط کہ جس ضبط میں عرفانِ اُمُم ہے
محسن نقوی
یورپ کے ترقی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ انہوں نے پہلے گناہ اور جرم میں فرق سمجھا ۔
پھر گناہ پہ سزا کا اختیار فرد سے چھین کر خدا کو واپس کیا اور جرم پر سزا کا اختیار ریاست کو ۔
ہم نے ہر دکھ کو محبت کا تسلسل سمجھا
ہم کوئی تم تھے جو دنیا سے شکایت کرتے
ہم نے سوکھی ہوئی شاخوں پہ لہو چھڑکا تھا
پھول اگر اب بھی نہ کھلتے تو قیامت کرتے
کی محبت تو سیاست کا چلن چھوڑ دیا
ہم اگر عشق نہ کرتے تو حکومت کرتے
تیرے دل میں کیسی گرہ پڑی
تجھے اس سے اتنا حسد ہے کیوں
جو نبی کی آنکھ کا نور ہے
جو علی کی روح کا چین ہے
کبھی دیکھ اپنے خمیر میں
کبھی پوچھ اپنے ضمیر سے
وہ جو مٹ گیا وہ یزید تھا
جو نہ مٹ سکا وہ حسین ہے
محسن نقوی
آپ کی پیدائش کے پانچ منٹ بعد، وہ آپ کا نام، قومیت، مذہب اور فرقے کا فیصلہ کر دیں گے - اور آپ اپنی باقی کی تمام زندگی دوسروں کی عطا کی ہوئی ان چیزوں کا دفاع کرنے میں گزار دیں گے جن کا آپ نے خود انتخاب ہی نہیں کیا۔