"آج آپ سے ایک وعدہ لینا ہے،ہم جہاں بھی گئے یہی مطالبہ تھا کہ ہمیں ڈی چوک دوبارہ جانا ہے لیکن آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ آج چیف منسٹر صاحب جو بھی اعلان کرے گا،جس دن کا وہ اعلان کرے گا،آپ نے اس کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔
آپ نے اپنے ایم پی اے ایم این ایز کے لیے نہیں نکلنا عمران خان کے لیے نکلنا ہے۔ اور نظر رکھنی ہے کون ہے جو عمران خان کے نام پر فائدے اٹھا رہا لیکن احتجاج پر نہیں نکلا ۔ @JunaidAkbarMNA
تابش ہاشمی کا مستقبل روشن ہے۔ پروگرام شروع بھی ہوتے ہیں ختم بھی ہوتے ہیں مگر آپکا کردار اور صلاحیتیں ہمیشہ آپکے ساتھ رہتی ہیں۔ میں نے تابش کو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید نکھرتے دیکھا ہے۔بے فکر رہیے انکا سفر جاری رہے گا۔
"میڈیا پر آرہا تھا کہ اس سٹریٹ موومنٹ کے ایک ایک پروگرام پر چودہ کروڑ خرچ آرہا، میں نے گاڑی کا پٹرول تو صرف اٹھارہ ہزار کا ڈلوایا ، باقی یہ چھوٹے سے سپیکر کوئی لے آیا آئیندہ یہ بھی میں اپنے ساتھ لے کے آؤنگی باقی آپ کا کوئی خرچ ہوا؟ یہ پیسوں پہ آئے لوگ نہیں یہ اپنے جزبے سے اپنے ملک کی محبت میں نکلنے والے لوگ ہیں"۔@Aleema_KhanPK
#زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو
ڈی سی لاہور کیپٹن ریٹائرڈ علی اعجاز جلسے کی اجازت کے سلسلے میں سب سے بڑی عوامی ��ماعت کے نمائندوں سے مل رہے ہیں۔ صرف ڈی سی کی باڈی لینگویج اور کرسی پر جھولے بہت کچھ بتا رہے ہیں۔
تنخواہ دار سرکاری ملازمین کا رویہ کیا ایسا ہونا چاہیے؟
پارٹی کی تاریخ میں پہلی بار عمران خان صاحب سے نو ماہ سے رابطہ منقطع ہے۔ وہ فیصلے اور تنازعوں کے حل جو منٹوں میں خان صاحب کی ہدایت پر ہو جاتے تھے اب طویل بحث میں الجھ جاتے ہیں۔ اس دوران ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پارٹی کو سازشوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پارٹی کے اندر سے ناکام کوششیں کرائی گئیں جنکا پارٹی کے اندر عمران خان صاحب کے سینئر ترین ساتھیوں نے مقابلہ کیا۔ انکا شکرگزار ہوں۔ ایک حملہ سوشل میڈیا کا ہے جس میں تین عناصر شاملُ ہیں: ایک وہ جو پارٹی کے مخالفین کی میڈیا ٹیم کا باقاعدہ حصہ ہیں، دوسرے وہ جو پارٹی کے اندر عہدوں کے خواہشمند ہیں اور کسی نہ کسی کو راستے کی دیوار سمجھتے ہیں، تیسرے وہ جو خلوص دل سے عمران خان صاحب کی رہائی اور پارٹی کی کامیابی چاہتے ہیں۔ یہ تیسرا عنصر جوشیلے نوجوانوں اور واقعات نہ جاننے والے بزرگوں پر مشمتمل ہے۔ لائحہ عمل دو کا نعرہ آسان ہے، کامیاب لائحہ عمل کو سمجھنے اور اپنانے کیلئے عقل اور سمجھ درکار ہیں۔ انقلاب ایک ٹرک اور بیس تیس ہزار کا نام نہیں۔ ہم سب چاہتے ہیں عمران خان صاحب آج ہی ہمارے ساتھ ہوں۔
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
Disgusting behaviour by the Argentinians at the end, especially Paredes.
Just a bunch of nasty violent thugs, and a disgrace to football. Never been so happy to see a team lose.
محرم پر اپنے گاؤں راجن پور فاضل پور گیا تو وہاں بڑی تعریف سنی کہ مریم نواز نے فاضل پور میں ہسپتال بنایا ہے ، میں بھی نکل پڑا کہ شکر ہے اچھا ہسپتال بنا تو جا کر دیکھنا چاہیے ؛ وہاں گیا تو فاضل پور کے پرانے THQ پر مریم نواز ہسپتال کا بورڈ لگا ہوا تھا ، میں نے پوچھا کیا یہی نیا ہسپتال ہے؟ جو ساتھ گئے تھے وہ بولے ہاں جی یہی بنایا ہے اور دیکھیں بورڈ بھی نیا لگا ہوا ہے 🤦��♂️
عمران خان کو جیل میں ڈال کر تم نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک جیل خانہ ہے ۔۔ تمہیں عمران خان کو باہر لانا ہوگا ۔۔
عمران خان اس ملک کی سیاست کا محور ہیں۔ وہ اس ملک کو اکٹھا رکھنے والی شخصیت ہیں۔ اس وقت پورے پاکستان کے لوگ عمران خان کی جانب دیکھ رہے ہیں- @salmanAraja
#PAKWatch🇵🇰: Aleema Khan on the ILLEGAL TREATMENT of her brother, IMRAN KHAN:
"It is Imran Khan's right to receive treatment from doctors of his own choosing, and the solitary confinement must end."
FREE CAPTAIN PAKISTAN.
“ہم عمران خان کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے، ہم بہنیں تو نہیں چھوڑیں گی، عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے اس پر ہمارا احتجاج کرنا ضروری ہے، عمران خان کا علاج اور ان کی قیدتنہائی کے خ��تمے کی ڈیمانڈ ہم فروری سے کررہے ہیں، ہم ایک آئینی اور قانونی چیز مانگ رہے ہیں، یہ عمران خان کا حق ہے کہ ان کا علاج ا�� کی مرضی کے ڈاکٹرز سے ہو، قید تنہائی کا خاتمہ ہو۔۔”
- @Aleema_KhanPK
#FreeImranKhan