ئینِ پاکستان ریاست کا ایک مقدس ڈاکومنٹ۔
پھر آئین کے آرٹیکل 240B کی مسلسل بے توقیری کیوں ؟
آئینِ پاکستان پہ عمل کریں اور صوبائی افسران کو اُن کا حق دیں۔
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK
@PMSPUNJAB@MaryamNSharif@MaryamNSharif Mam Super CM, PMS Officers constitute majority of administrative officers in Punjab. We have been facing worst kind of discrimination and injustice during last 3 years, yet we didn’t complain and endured it and showed grace. 1/n
کیا یہ کھُلا تضاد نہیں ؟
————————-
* ایک طرف کفایت شعاری اور سمارٹ گورننس کے دعوے دوسری طرف کروڑوں کے اخراجات؟
* عوام اور افسران کے درمیان ایک اور دیوار ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر؟
* ایک ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کے اخراجات کا تخمینہ ساڑھے چارکروڑ سے زائد؟
عوامی خزانے پر نئے تجربے کب تک ؟
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK
گورننس ہے یا بچوں کا کھیل؟
———————————-
جب چاہا سیٹ اپ گریڈ کر لی
جب چاہا ڈاؤن گریڈ کر لی
جب چاہا سیکشن 9 کی غلط تشریح کر کے اپنے بچوں کو سینئر پوزیشنز کے کھلونے کھیلنے کیلئے دے دیے۔
جی میں آیا تو گریڈ 22 کے افسر کو گریڈ 21 کی سیٹ دے دی۔
من میں آیا تو کمشنر کو ڈپٹی کمشنر بنا دیا۔
پھر شکوہ کناں ہیں کہ آپ لوگ تلخ بولتے ہیں۔
بُرا نہ مان میری تُند و تیز باتوں کا
تُو میری فِکر میں جلتے ہوئے الاؤ تو دیکھ
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK@CS_Punjab
اعلامیہ اجلاس پنجاب پروونشل مینجمنٹ سروس ایسوسی ایشن (PMSA)
لاہور، 17 جولائی 2026
پنجاب پروونشل مینجمنٹ سروس ایسوسی ایشن (PMSA) کی ایڈوائزری کونسل کا ایک اہم اجلاس آج فلیٹیز ہوٹل لاہور میں منعقد ہوا، جس میں گریڈ 17 سے گریڈ 21 تک کے 100 سے زائد پی ایم ایس افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف میڈیا اداروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔
اجلاس سے جن سینئر افسران نے خطاب کیا ان میں جناب طارق محمود اعوان، جناب رائے منظور ناصر، جناب ظفر حسین نقوی اور صدر PMSA جناب قمر زمان قیصرانی شامل تھے۔
صدر PMSA جناب قمر زمان قیصرانی نے پنجاب میں گورننس سے متعلق مسائل اور پی ایم ایس افسران کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک پر مفصل پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جہاں PAS افسران کی تعداد تقریباً 326 ہے، وہاں PMS افسران کی تعداد 1200 سے زائد ہے، جو پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے انتہائی شفاف، میرٹ پر مبنی مسابقتی امتحان کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں اپنے کیریئر میں مسلسل ناانصافی اور امتیازی رویے کا سامنا ہے جس سے ان میں شدید احساسِ محرومی اور بددلی پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ:
• پروموشن بورڈز بروقت منعقد نہ ہونے اور محدود آسامیوں کی وجہ سے PMS افسران کی ترقی غیر معمولی تاخیر کا شکار ہے۔
• اہم انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں اور تبادلوں میں PAS افسران کو غیر متناسب ترجیح دی جاتی ہے جبکہ PMS افسران کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
• سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ میں امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر GOR-I لاہور میں حالیہ الاٹمنٹس میں تقریباً تمام مکانات PAS افسران کو دیے گئے جبکہ کسی بھی PMS افسر کو الاٹمنٹ نہیں ملی۔
• سرکاری قرضہ سکیموں میں بھی واضح عدم توازن موجود ہے جہاں تقریباً 80 فیصد کیسز PAS اور صرف 20 فیصد PMS افسران کے لیے منظور کیے جاتے ہیں۔
• اجلاس میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ چیف سیکرٹری پنجاب کا طرزِ عمل PMS افسران کے حوالے سے جانبدارانہ محسوس ہوتا ہے، جس سے سروس کے مورال پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اجلاس میں بہتر طرزِ حکمرانی اور انتظامی اصلاحات کے لیے درج ذیل تجاویز پیش کی گئیں:
کیڈر کی نشستوں کی باقاعدہ کیڈرائزیشن کی جائے تاکہ پروموشن کا منصفانہ اور پائیدار ڈھانچہ قائم ہو۔
• پروموشن بورڈز مقررہ اوقات میں باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔
• اہم عہدوں پر تعیناتیاں اور تبادلے مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں اور PMS افسران کو ان کے جائز تناسب کے مطابق نمائندگی دی جائے۔
• مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط، بااختیار اور فعال بنایا جائے۔
• بہتر عوامی خدمت کی فراہمی کے لیے نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں۔
• وفاقی حکومت کی طرز پر صوبہ پنجاب میں سیکرٹری کابینہ کا علیحدہ عہدہ تخلیق کیا جائے تاکہ چیف سیکرٹری کے اختیارات میں مناسب توازن پیدا ہو۔
• چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کا عہدہ وفاقی پلاننگ کمیشن کی طرز پر ایک منتخب عوامی نمائندے کے سپرد کیا جائے۔
• افسران کے پروموشن بورڈز سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے بجائے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے منعقد کیے جائیں تاکہ مکمل غیرجانبداری اور شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
• سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل اور آن لائن کیا جائے تاکہ صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ ہو۔
• سیکرٹریز اور دیگر افسران کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی مؤثر نگرانی کی جائے اور غیر ضروری سرکاری گاڑیوں کو مونیٹائز کیا جائے۔
• عوامی وسائل کے استعمال اور سرکاری اخراجات کی مکمل تفصیلات ایک عوامی آن لائن پورٹل پر دستیاب کی جائیں تاکہ شفافیت اور احتساب کو فروغ ملے۔
• سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور سرکٹ ہاؤسز کی بکنگ کا نظام بھی مکمل طور پر آن لائن کیا جائے تاکہ ہر اہل افسر کو مساوی اور شفاف سہولت میسر آ سکے۔
* شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پی ایم ایس افسران کو اعتماد میں لئے بغیر پی ایم افسران کو متاثر کرنے والے کسی بھی نئے انتظامی تجربے کو کسی طور قبول نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے مشترکہ مطالبہ کیا کہ پنجاب میں حکومت کے گُڈ گورننس اور بہترین پبلک سروس ڈیلیوری کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے صوبائی افسران کے ساتھ مسلسل ناانصافی اور امتیاز کا خاتمہ کیا جائے کیونکہ انصاف اور میرٹ پر مبنی انتظامی تعیناتیاں ہی مؤثر گورننس، عوامی خدمت اور ادارہ جاتی استحکام کی ضمانت ہیں۔
آخر میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پی ایم ایس افسران کے تحفظات دور نہ کرنے کی صورت میں آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے آئیندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ @MaryamNSharif@GovtofPunjabPK
پنجاب کی صوبائی انتظامی ٹرانسفر پوسٹنگ کے فیصلے کون کر رہا ہے ؟
پنجاب کے اصل صوبائی انتظامی افسران کو دیوار سے لگانے کی سازش کون کر رہا ہے ؟
صوبے میں انتظامی بُحران پیدا کرنے کی کوشش کس کے مفاد میں ہے ؟
کُھلی انصافی کر کے میوزیکل چیئر کا کھیل کون کھیل رہا ہے ؟
اپنے چند منظورِ نظر آفیسرز کو ملتان سے فیصل آباد، اور فیصل آباد سے پنڈی، پنڈی سے لاہور۔۔ بال سمیع اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سمیع اللہ کے پاس کون گھُما رہا ہے ؟
اپنے سرکاری ٹینور سے زائد عرصہ پنجاب میں ایک ہی سیٹ پر رہنا کیا آئینی، قانونی اور اصولی لحاظ سے غلط نہیں ؟
پی ایم ایس پنجاب کے افسران اس صورتحال پہ اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہیں اور جلد ہی مشاورت سے آئیندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کریں گے۔
پی ایم ایس آفیسرز پنجاب
@MaryamNSharif
ی ایم ایس ایسوسی ایشن پنجاب – اعلامیہ ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس
—————————————————————
مورخہ 16 اپریل کو پی ایم ایس ایسوسی ایشن پنجاب کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اہم اجلاس دفترِ ایسوسی ایشن میں منعقد ہوا، جس میں بیس کے قریب سینئر پی ایم ایس افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت صدر پی ایم ایس ایسوسی ایشن جناب قمر قیصرانی نے کی۔ اجلاس میں صوبہ بھر کے پی ایم ایس افسران کو درپیش مسائل، بالخصوص ترقیوں (Promotions) میں تاخیر اور انتظامی ناانصافیوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
صدرِ اجلاس نے شرکاء کو آگاہ کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے گریڈ اٹھارہ سے گریڈ انیس اور گریڈ سترہ سے گریڈ اٹھارہ کے پروموشن بورڈز منعقد نہ ہونے کے باعث افسران میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، جس کے پیشِ نظر آئندہ لائحہ عمل پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔
ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس اس متفقہ اعلامیے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
• اجلاس میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود پی ایم ایس افسران کے مذکورہ پروموشن بورڈز منعقد نہیں کیے گئے۔
• شرکاء نے کہا کہ موجودہ چیف سیکرٹری کی جانب سے 1200 سے زائد پی ایم ایس افسران کی نمائندہ تنظیم کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
• اہم انتظامی عہدوں پر جونیئر پی اے ایس افسران کی تعیناتی جبکہ سینئر پی ایم ایس افسران کو او ایس ڈی بنانے یا غیر اہم عہدوں پر لگانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
• وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن آف گڈ گورننس کو ان پالیسیوں کے باعث نقصان پہنچنے کی نشاندہی کی گئی۔
• گریڈ 20 کی آسامیوں پر گریڈ 18 کے افسران اور گریڈ 21 کی آسامی پر گریڈ 22 کے افسران کی تعیناتی کو انتظامی بے ضابطگی قرار دیا گیا۔
• چند سینئر افسران کے مبینہ گٹھ جوڑ اور زائد از ٹینیور اہم عہدوں پر تعیناتیوں پر بھی سخت اعتراض اٹھایا گیا اور فوری تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا۔
• اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر چند دنوں میں مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو گڈ گورننس کو متاثر کرنے والی پالیسیوں اور کرداروں کو عوام کے سامنے لایا جائے گا۔
• قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سخت احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کرنے پر بھی غور کیا گیا۔
• حکومت پنجاب کی کفایت شعاری پالیسی کے پیش نظر جنرل باڈی اجلاس کو وقتی طور پر ملتوی کرنے کی تجویز متفقہ طور پر منظور کی گئی۔
متفقہ مطالبات:
• پی ایم ایس افسران کے پروموشن بورڈز کا فوری انعقاد۔
• پوسٹنگز میں امتیازی سلوک کا خاتمہ اور میرٹ کی بالادستی۔
• ذاتی مفادات کے لیے اور بجٹ میں منظور شُدہ سیٹوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیٹوں کی اپ گریڈیشن اور ڈاؤن گریڈیشن کی پالیسی کا فوری خاتمہ۔
• سول سرونٹس ایکٹ کے سیکشن 9 کےغلط استعمال کے ذریعے (کیونکہ سول سرونٹ ایکٹ وفاقی افسران پر لاگو ہی نہیں ہو سکتا ) جونیئر پی اے ایس افسران کی اعلیٰ گریڈ میں تعیناتیوں کا سدباب۔
• ہاؤس الاٹمنٹ اور سروس لون کی پالیسیوں میں پی ایم ایس افسران کے ساتھ برابری کا سلوک۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پی ایم ایس افسران اپنے جائز حقوق کے حصول اور ایک منصفانہ، شفاف اور مؤثر نظامِ حکمرانی کے قیام کے لیے ہر آئینی و قانونی راستہ اختیار کریں گے۔
(پی ایم ایس آفیسرز ایسوسی ایشن پنجاب )
@MaryamNSharif@CS_Punjab@GovtofPunjabPK
A Black Day- March 18.
—————————————
Today marks a painful chapter in the history of Civil Service. On 18th March 2011, our 73 brave officers under the leadership of our Veteran Officer Rai Manzoor Nasir stood peacefully at Civil Secretariat Lahore to demand their legitimate rights. Instead of dialogue, they faced arrests, FIRs, suspensions, and widespread retaliatory transfers, an unprecedented and unjust response, even targeting our female officers who showed exceptional courage and resilience.
This day reminds us not only of brutality and institutional injustice, but also of courage, dignity, and unwavering resolve. Those 73 officers are our heroes, who chose to stand firm rather than surrender their legitimate rights.
Today, we remember this day as a Black Day… but also as a day of pride.
We pay tribute to their sacrifice and reaffirm our commitment:
We will never step back from our legitimate rights, no matter the cost.
Their courage is our legacy. Their struggle is our strength.
#BlackDay #PMSHeroes #StandForJustice #18March
Injustices to PMS.. A Storm is Brewing
————————————————————-
PSB meetings are repeatedly convened and then postponed again and again. For PMS officers, this has turned into a continuous cat-and-mouse game and yet another “truck ki batti ke peechay” situation.
This persistent delay has created deep resentment, anger, and frustration among PMS officers. A storm is brewing. If this situation is not addressed urgently, it may lead to a serious administrative crisis in Punjab.
The current approach of the Chief Secretary Punjab reflects extreme discrimination and injustice toward PMS officers. We strongly demand to end this sheer injustice and discrimination.
@GovtofPunjabPK@MaryamNSharif@CS_Punjab
A Landmark MoU.
——————————
The PMS Officers Association Punjab (PMSA) announces it with immense pleasure that it has signed a Memorandum of Understanding (MoU) with Hameed Latif Hospital to facilitate quality and discounted healthcare services for PMS Officers and their families across Punjab.
Under this collaboration, PMS Officers will be able to avail preferential and subsidized medical services at one of the leading healthcare institutions in the province. This initiative reflects PMSA’s continued commitment to the welfare, health, and well-being of its members.
PMSA also extends its sincere gratitude to the administration of Hameed Latif Hospital specially Mr Hassaan Khan, COO HL for their cooperation and support in making this initiative possible. We look forward to a long-term and mutually beneficial partnership dedicated to providing the best healthcare facilities to the PMS community and ensure best public service delivery.
ڈپٹی کمشنر نارووال محمد طیب خان کی ہدایات کے مطابق ضلع نارووال میں گراں فروشوں کی شامت،پرائس مجسٹریٹس کی ٹیمیں متحرک۔اے۔سی نارووال کے مختلف پٹرول پمپوں پر چھاپے پٹرول اور ڈیزل کے پیمانوں کی جانچ کی گئی،ناپ تول میں کمی کے مرتکب پمپ مالکان پر جرمانے عائد
@dgprnewsfeed
فزیکل فٹنس ٹیسٹ کے روز
ایس۔ڈی۔ای۔او پیرا کے ساتھ خصوصی گفتگو
مکمل تفصیلات کے لیے گورنمنٹ آف پنجاب کے آفیشل یوٹیوب چینل کو وزٹ کیجیے
https://t.co/s2bwhQtDse
Across Lahore Division, PERA Force held formal command parades in all districts, Sheikhupura, Nankana, Lahore, and Kasur, chaired by the respective Deputy Commissioners in their capacity as Chairpersons of the Enforcement and Regulatory Board of PERA. This clearly reflects that the Force works under district administrations, serving as their dedicated arm to ensure effective enforcement for the welfare of citizens.