@SajidShaikh2002@enkidureborn جو پوسٹ کی گئ ہے اس کا جواب تو تیرے پاس ہے نہیں۔ پھدو تو پوری قوم بنی ہوئی تھی۔ اب قوم کو سب نظر آرہا ہے۔ تو مگر اب بھی پھدو ہی بنے رہنا کیونکہ تجھے پھدو بنے رہنا سوٹ کرتا ہے۔
@siasatpk@AzamNazeerTarar حالات جب بھی بدلیں گے اس اعظم رفیق تارڑ کو آرٹیکل سکس کے زمرے میں ضرور لایا جائے گا کیونکہ یہی وہ بدبخت ، خبیث، اور بدبودار لعنتی ہے جس نے آئین کی شکل بگاڑنے میں ہر طرح کی قانون سازی میں پوری طرح سہولت کاری کی ہے۔
@chsandhilaa کروڑوں فرعون مرے ہونگے تب کہیں جا کر نواز، شہباز خاندان اور نون لیگ جیسی گھٹیا جماعت معرضِ وجود میں آئی تھی۔کرہ ارض پر اس وقت ایسی بدبودار، لعنتی، گندی اور نیچ نسل جماعت اور ایسے کراہیت سے بھرپور اور ان کے لعنتی کردار لیڈران سے بڑھ کر کوئی موجود نہیں ہے۔
یہ ایک تاریخی کلپ ہے جس میں اسٹیبلشمنٹ کی لاڈلی اور سب کی ماں سچ بولتی دکھائی دے رہی ہیں۔ قیامت خیز مہنگائی میں قیامت کی تقریبا سب نشانیاں پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
سرکار کا وژن سلامت رہے باقی تو سب فانی ہے
#نااہل_حکمران_عوام_پریشان#خان_کا_قرض_مزاحمت_فرض
@kirannaz_KN@shazbkhanzdaGEO سب کو اخلاقیات جب ہی یاد آتی ہیں جب پی ٹی آئی والے ان سے تھوڑا بھی سوال کرلیں، اپنی باری پر طوفان اٹھا دیں دوسروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے اپنی اخلاقیات کا جنازہ بھی نہیں پڑھتے آپ میڈیا پرسنز۔ یقین کرو باری سب کی آئیگی، ہوا کسی کی نہیں۔
@Wassikhan158224@iqrarulhassan اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ان موضوعات پر کوئی بات بھی نہیں کرتا حالانکہ جانتا سب ہے۔ الیکشن کی رات ARY پر لائیو ٹرانسمشن کررہا تھا۔ سارا مینڈیٹ اس کے سامنے چوری ہوا ہے لیکن اس پر اب اسکی چوں بھی نکلتی۔اور چلا ہے نوجوانوں کی نئی قیادت پیدا کرنے۔
@iqrarulhassan جس شہر کراچی میں میں تم رہتے ہو اس شہر کے قائد تحریک الطاف حسین بھائی یہ کام تمھاری پیدائش سے پہلے ہی کر چکے ہیں۔ الطاف حسین پاکستان کے وہ پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے عملی طور پر نوجوانوں اور پڑھے لکھے متوسط طبقے کی نئی قیادت متعرف کرائی۔اور نوجوانوں کو قومی صوبائی اسمبلی میں پہنچایا
"ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز سے ثابت ہے۔
مجھے اس بات کی بھی بہت تکلیف اور افسوس ہے کہ قتلِ عام کے جتنے بھی واقعات ہوئے نہ ہی ان پر کوئی جوڈیشل کمیشن بنا نہ ہی انکوائری ہوئی اور نہ ہی ذمہ داران کو سزا سنائی گئی۔ میں چاہتا ہوں کہ مریدکے قتلِ عام پر جوڈیشل کمیشن بنا کر آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں تعداد کے حوالے سے شدید ابہام پایا جاتا ہے جیسا کہ مریدکے واقعے میں سرکاری اطلاعات کے مطابق 4 مظاہرین جان سے گئے جبکہ متاثرہ فریق کے مطابق حقیقی تعداد 400 سے 600 تک ہے۔
قتلِ عام کی جوڈیشل انکوائری میں ظلِ شاہ کے قتل میں ملوث آئی جی پنجاب عثمان انور سمیت آئی جی اسلام آباد ناصر رضوی کو ضرور شاملِ تحقیقات کیا جائے کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں یہ بھی حصے دار ہیں۔
میں تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں ہمارے کارکنان اور عوام بعد از نمازِ جمعہ مریدکے قتلِ عام کیخلاف احتجاجاً نکلیں۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اس بربریت کیخلاف آواز اٹھائیں اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں۔ اس ظلم اور بربریت کا راستہ نہ روکا گیا تو باری باری سب اس کی زد میں آئیں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی باعثِ تشویش ہے۔ دو مسلم ہمسایہ ممالک کے درمیان لڑائی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کو لڑائی کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا بہتر ہے۔ جس طرح یہاں تین نسلوں سے مقیم افغان پناہ گزینوں کو دہائیوں کی مہمان نوازی کے بعد دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا ہے، وہ بھی افسوسناک ہے۔ افغانستان ہمارا مسلم ہمسایہ ملک ہے۔ دہشتگردی سے متعلق معاملات بات چیت سے حل کیے جائیں۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ ڈکٹیٹرز کبھی بھی امن نہیں لاسکتے- کیونکہ ملٹری ڈکٹیٹرز کو Military Solution کے علاوہ کوئی حل نظر نہیں آتا- یحیٰی خان سمیت تمام ڈکٹیٹرز کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں- یہ معاملات سیاستدان معاملہ فہمی سے حل کرتے ہیں۔ اگر ان سے نہیں ہوتا تو مجھے پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ دیرپا امن کے قیام اور افغانستان سے تنازعے کے حل کے لیے میں اپنا کردار ادا کروں۔
ملکی حالات سے مایوس ہو کر پہلے ہی تیس لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ملک سے تیزی سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا انخلاء جاری ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری آنا تو دور کی بات ملک کے اندر سے بھی سرمایہ تیزی سے باہر جا رہا ہے۔ جب تک ملک میں امن نہیں ہوگا سیاسی استحکام نہیں آسکتا۔ اور سیاسی استحکام کی عدم موجودگی میں معاشی استحکام ممکن نہیں-
ملک میں لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنے ملک میں رہتے ہوئے ہی غیر محفوظ ہیں۔ کسی کو یہ نہیں پتہ کون کب سڑک پر مارا جائے یا اٹھا لیا جائے۔ آزادی اظہار پر شدید قدغن ہے، میڈیا کو بولنے کی آزادی نہیں، جس طرح علیمہ خان پر بےجا مقدمہ بنایا گیا ایسا کسی کے بھی ساتھ ہوسکتا ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(15 اکتوبر، 2025)
@Ayshakhan000@RealWaqarMaliks اچھا جی ی ی ی۔۔۔۔ دنیا کی کسی جمہوری ملک میں کوئی فوج اپنا کام چھوڑ کر سیاست میں مداخلت بھی نہیں کرتی۔ اور فوج کا کوئی 21/22 گریڈ کا سرکاری افسر جو ہمارا نوکر ہے کسی سیاسی جماعت کے خلاف یوں پروپیگنڈا بھی نہیں کرتا۔ اب فوج کی لڑائی پی ٹی آئی سے نہیں بلکہ 24 کروڑ عوام سے ہے۔
@iqrarulhassan یہی بات تم پر بھی صادق آتی ہے کہ پہلے تو تم کو بھی اینکر اور سلجھا ہوا صحافی کہتے رہے ہیں۔ لوگوں کو شک نہیں بلکہ اب پکا یقین ہے کہ خان کے معاملے پر تم کو ہڈی ڈالی جا چکی ہے اور تم نے یو ٹرن لے لیا ہے۔
@Arslanjutt16600@iqrarulhassan تمام کنجروں کے پیٹ میں بس عمران خان کی مذمت نہ کرنے کے مڑور اٹھے ہوئے ہیں لیکن کسی کنجر کو یہ ہمت نہیں ہورہی کہ وہ موجودہ حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ سے یہ پوچھیں کہ وہ کون سے معاہدے پر امریکہ میں دستخط کرکے آئے ہیں؟ وہ دستاویزات پبلک کیوں نہیں کررہے؟جس میں وہ شروع دن سے آن بورڈ تھے۔
@FarhanKVirk خادم اسرائیل و نیتن یاہو جنرل عاصم منیر اور شہباز شریف سے قوم پوچھ رہی ہے اگر معاہدے کا علم ہی نہیں تھا تو معاہدہ قبول کیوں کیا؟ پہلے دن سے ٹرمپ کا ساتھ کس لئے دیا؟