یہ سارا سکرپٹ اب پی ٹی آئی کو قابو کرنے کے لئے بنایا جا رہا ہے فوج ہر وہ گندا کام کر گزرے گی جس سے انکے مقاصد حاصل ہوں ،
کارکن اتنا بیوقوف تھا کے اپنی تمام شناختی علامت ساتھ لے کر آیا تھا
نوٹ: یہ ڈفر ڈفر ہی رہیں گے
شہید محمد حسین کی ذہنی حالت ظلے شاہ جیسی تھی انتہائی معصوم انسان تھا، ریاستی دہشتگردوں اور پیشہ ور قاتلوں نے اپنے غلیظ، گھٹیا اور پاکستان مخالف عزائم کی تکمیل کے لیے پاکستان کے ایک اور بیٹے کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا لیا۔
#FascismUnderAsimLaw#PakistanUnderMartialLaw
حاسدین کا پروپیگنڈا تھا پاکستان ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت پیچھے ہے لیکن دو طاقتور ترین وزراء نے ان حاسدین کو منہ توڑ جواب دیا ہے الحمدللہ اب دیگیں، چادریں اور نذرانے آن لائین ہوں گے!!
بلوچستان میں گزشتہ شب 2 بجے ایک پاکستانی فوجی فضائی حملے نے سوراب کے گاؤں گواندھن کو نشانہ بنایا، جس سے مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے اور 28 بلوچ شہری شہید ہو گئے، جن میں 9 بچے، 7 خواتین اور 12 مرد شامل ہیں، جبکہ 17 افراد زخمی ہوئے۔
#FascismUnderAsimLaw#PakistanUnderMartialLaw
Press and the nation rise and fall together because media acts as the 4th pillar of the state. @CMShehbaz like it or not but this BBC report points towards the collapse of independent media which is 4th pillar. Is it the collapse of just one pillar or the whole system?
جسٹس مسرت ہلالی آج ریٹائر ہو گئی ہے، مسرت ہلالی کے نام میں ہلالی ہے لیکن اس نے حرامی پن کی انتہا کی ہے،
مسرت ہلالی کے ہر فیصلے میں حرامی پن کی انتہا رہی ہے، مسرت ہلالی نے بہت لوگوں کے گھر اجاڑے ہیں،
ڈاکٹر شہباز گل
پہلی ہی ملاقات میں ایک بزرگ شخصیت نے عمران خاں سے پوچھا: زندگی میں آپ کی اولین ترجیح کیا ہے۔ بلا تامل انہوں نے جواب دیا: صرف پاکستان کی بجائے عالم اسلام کے لئے جدوجہد۔امریکہ سمیت مغربی مملک نے ادراک کر لیا۔خان کی قوم نہ کر سکی۔اس کی غلطیاں اپنی جگہ اور ناچیز سمیت کئی لوگ ان کی نشان دہی کرتے رہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کا عمل کیا ہے اور شخصیت کیا ۔ 1992 میں اس وقت خان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا جب اس کی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں سمیت کرہ ارض پر کسی ایک شخص کو بھی اس کی امید نہیں تھی۔ شوکت خانم ہسپتال! اولین اجلاس میں 20 ڈاکٹروں میں سے 19 نے کہا: ہسپتال نہیں بن سکتا۔ ایک نے کہا: بن سکتا ہے، چل نہیں سکتا۔ ایک بے مثال ہسپتال، پھر دوسرا اور تیسرا۔ میانوالی
کی نمل یونیورسٹی ۔اتفاق سےاول دن سے یہ خاکسار اس کی کاوش کا گواہ ہے۔دوسرےتو کیا، Construction Company تپتے پہاڑوں کے دامن میں زیر تعمیر عمارت کو چھوڑ کر بھاگ گئی تھی۔ سیاست کی تگ و تاز کے طویل عرصے میں کبھی وہ مایوسی کا شکار نہیں ہوا۔ ایک ارب درختوں کے جنگل اور صحت کارڈ ایسے منصوبے وہی بروئے کار لا سکتا تھا۔ شریفوں اور زرداریوں سے اس کا کیا مقابلہ۔ پاکستان نہیں، وہ عالم اسلام کامقبول ترین رہنما ہے۔ فرسودہ نظام کے خلاف بغاوت اس نے پیدا کر دی ہے۔ ہزار حربوں اور عالمی قوتوں کی پشت پناہی کے باوجود یہ بغاوت تحلیل نہیں ہو رہی۔ ایک آدمی اس سے بڑھ کر کیا کر سکتا تھا، 42 برس کی عمر میں جس نے سیاست میں قدم رکھا ۔ مسئلہ اس کا یہ بھی تھا کہ مزاج سیاسی نہ رکھتا تھا۔ جوڑ توڑ سے ناآشنا ۔امید ہے کہ اسیری کے اذیت ناک برسوں میں بہت کچھ اس نے سیکھ لیا ہو گا۔ گھمبیر حالات میں اس کے تمام حریف بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ انشاء اللہ وہ آزاد ہو گا اور تاریخ کے ایک نئے عہد کا آغاز ہو جائے گا۔ اہم ترین یہ ہے کہ حقیقی آزادی کے لئے دوسروں کو بھی شریک ہونا ہو گا، سبھی کو۔ کوئی بھی لیڈر اپنی جنگ تنہا نہیں جیت سکتا۔ ابرہام لنکن، ڈیگال اور قائداعظم محمد علی جیسے جلیل القدر رہنما بھی نہیں۔
دل کا اجڑنا سہل سہی پر بسنا سہل نہیں ظالم
بستی بسنا کھیل نہیں ہے، بستے بستے بستی ہے۔
حرف آخر یہ کہ مولوی حضرات اور نام نہاد لبرل ضرور اس کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ جس طرح کہ مذہبی جوش و خروش سےقائد اعظم کی مزاحمت کرتے رہے۔
ایک اکیلا صحافی پنجاب پولیس کے ڈنڈوں اور گھونسوں کا سامنا کر رہا ہے ذرا سوچیئے کہ کیا اتنی مار پٹائی پولیس والے اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں؟ یہ چند سیکنڈ کی ویڈیو اس پنجاب کی تصویر دکھا رہی ہے جس کی گورننس کو ایک مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے اگر پنجاب میں یہ حال ہے تو باقی صوبوں میں صحافیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہو گا؟